وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر

اتوار 06 مئی 2018 پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر

پاکستان کے شمالی علاقے اپنے قدرتی حسن کی بناء پر سیاحت کی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔ اندون اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دیکھنے آتے ہیں۔ موسم سرما میں محدود راستوں اور موسم کی سختی کی بناء￿ پر سیاح مری کی برف باری دیکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مہم جو قسم کے ہّمت والے سیاح ہی موسم سرما میں مری کے علاوہ دوسرے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ گرمیوں کا آغاز شدت سے ہوتاہے، ساتھ شمالی پاکستان دیکھنے کا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح، ٹریکر، کوہ پیما اور بائیکرز اس سیزن میں پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے سال بھر انتظار کے بعد اب آنے کو تیار ہیں۔ پاکستان سے بھی تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی ا?مد شروع ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر خاندان مری سے کاغان تک کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہائش، سیر و تفریح، شاپنگ وغیرہ کی سہولیات بہتر ہیں۔ یہ پنڈی سے نزدیک ترین علاقہ ہے، جہاں اکثر لوگ اپنی فیملی سمیت آسانی سے جاتے ہیں۔ ایوبیہ کی چیئر لفٹ اور وہاں کے بندر، بچوں کی پسندیدہ ترین چیزیں ہیں۔ مری کو ملکہ? کوہسار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں تمام شمالی علاقوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

وادء کاغان مشہور وادی ہے۔ اس کا راستہ بالا کوٹ سے جاتا ہے۔ پنڈی سے بالاکوٹ جانے کے لیے ایبٹ آباد، مری اور مظفرآباد سے راستے جاتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے راستے میں مانسہرہ، عطر شیشہ، بیسیاں چوک اور شوہال وغیرہ آتے ہیں، جب کہ مری کیراستے میں باڑیاں، چھانگلہ گلی، کوزہ گلی، ایوبیہ، نتھیا گلی، ٹھنڈیانی اور گڑھی حبیب اللہ کے مقامات آتے ہیں، ان میں ایوبیہ کی چیئر لفٹ سے بچے بڑے بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اس راستے میں بندروں کی ٹولیاں سیاحوں کا انتظار کرتی ہیں، لیکن بندروں کے لیے کچھ نہ کچھ سیاحوں کو ضرور اپنے ساتھ رکھنا چاہیے، اس سے ان کو کچھ کھانے کو مل جاتا ہے اور بچوں بڑوں کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔ بندر جب کپڑے پکڑ کر انتہائی معصومیت سے چھوٹے بچوں کی طرح منہ اٹھا کر مانگتے ہیں تو ان کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ کاغان سے آگے ناران کا شہر آتا ہے، جہاں سے جیپوں میں جھیل سیف الملوک جایا جاتا ہے۔ طلسم ہوشرباء کی داستانوں جیسی اس نیلی جھیل سے، شہزادہ سیف الملوک اور پری جمال کی داستان، ہماری لوک داستانوں میں ایک مشہور داستان ہے۔ اس کے پیچھے ایک جھیل’’ آنسو جھیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے، جہاں پیدل یا گھوڑے کا راستہ ہے۔ جھیل سیف الملوک کے پیچھے کی جانب پہاڑیوں پر سال بھر برف جمی ہوتی ہے، جس کا عکس اس کے نیلے پانیوں میں انتہائی دلفریب نظر آتا ہے، اس جھیل کے فوٹو کھینچنا ہر سیاح کی ترجیح ہوتی ہے۔ یہاں کے مشہور پہاڑی گلیشئرز میں، ملکہ پربت، مکڑا اور موسیٰ کا مصلیٰ شامل ہیں، جن کو کوہ پیما ہی سر کر سکتے ہیں۔ ناران سے آگے جائیں تو بروائی، جلکھڈ، بیسل جھیل لولو سر سے ہو کر بابو سر ٹاپ تک پہنچتے ہیں۔ یہ سارا راستہ پہاڑی جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جس میں چلغوزے کے درخت بھی پائے جاتے ہیں۔ بیسل سے پیدل جھیل دودی پت اور جھیل سرال کا راستہ ہے۔ وادء کاغان کے مغربی جانب مشہور شاہراہ قراقرم واقع ہے، جس پر بابو سر ٹاپ سے ایک انتہائی خطرناک اترائی کے بعد چلاس کے قریب پہنچا جا سکتا ہے۔

وادء نیلم آزاد جموں کشمیر میں وادء کاغان کے مشرق میں واقع ہے۔ پہاڑوں میں گھرے ہوئے مظفرآباد کے قریب دریائے نیلم اور دریائے جہلم کے دو رنگوں کے پانی کا خوبصورت ملاپ ایک حسین نظارہ پیش کرتا ہے۔ مظفرآباد کا تین صدیوں پرانا لال قلعہ سیاحوں کو اپنی تاریخ یاد دلاتا ہے۔ اس خوبصورت قلعے کے بنانے والے سلطان مظفر کے نام سے ہی اس شہر کا نام منسوب ہے۔ پیر چناسی، چکار جھیل، باغ، گنگا چوٹی، بدھ دور کے آثار قدیمہ، کیل وادی، الپائن کے جنگل، اس وادی کو سیاحوں کے لیے پْر کشش بناتے ہیں۔ رتی گلی، چٹھہ کٹھہ جھیل، ہلمت اور تاو?بٹ کے علاقے اپنی خوبصورتی میں لاجواب ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے سیاح جوق در جوق یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔گلگت بلتستان کے علاقے کو شاہراہ ریشم کے مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مشرقی حصہ اپنی بلند بالا خوبصورت برفانی چوٹیوں کی دولت سے مالا مال ہے۔ غیر ملکی کوہ پیماو?ں کی پسندیدہ ان چوٹیوں میں مشہور زمانہ کے ٹو، بالتورہ، تیری کانگری، ہڈن پیک، گشہ بروم، براڈپیک، کے 6،کے7 ،پیو، ہرموش، دیران، راکا پوشی اور دستگل سر شامل ہیں۔ شاہراہ ریشم کے اس حصے میں خپلو، اسکردو، دیو سائی کا میدان، کچھورا جھیل، شنگریلا جھیل، کنکورڈیا، سنو لیک، عطاآباد جھیل سست اور خنجراب پاس سیاحوں کے لیے دلچسپی کا سارا حسن رکھتے ہیں۔ شنگریلا چینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی جنت کے ہیں۔ شاہراہ قراقرم پر پاکستان کا آخری مقام خنجراب ہے، جو چین کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ یہاں ایک عالیشان اور پْر وقار گیٹ ہے، جس کے ادھر پاکستان اور دوسری جانب چین کا علاقہ ہے۔ سیاحوں میں اس کی اپنے ساتھ تصویر لینا ایک روایت بن گئی ہے۔

راستے میں ایک خوبصورت علاقہ خنجراب نیشنل پارک آتا ہے۔ پاکستان کیاس تیسرے بڑے نیشنل پارک میں جنگلی جانوروں کی نایاب اقسام پائی جاتی ہیں۔ بلیو شیپ، مارکوپولو شیپ، سفید برفانی ریچھ، انتہائی خوبصورت موٹی بھری دم والے برفانی تیندوے، سنہری چوہے، سرخ بکرے، سرخ لومڑی اور سب سے مشہور الپائن مینا، جسے دیکھنے دنیا بھر سے برڈ واچرز خاص طور پر یہاں آتے ہیں۔ اس پارک میں وسیع عریض جھیلیں، گلیشئرز اور نایاب اقسام کے درخت ہیں۔ سال کے تین چار ماہ تو ایسا برفانی موسم ہوتا ہے کہ کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی، جس وجہ سے یہاں کے مقامیوں کی بڑی تعداد دوسرے علاقوں میں مزدوری کرنے جاتی ہے۔ شاہراہ ریشم پر التت بلتت کے قلعے اور بدھ مت کے آثار قدیمہ بھی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ راما لیک، نانگا پربت، فیری میڈوز اپنے طلسماتی حْسن کی بناء پر سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ اسکردو سے آگے خپلو سے کچھ دْور پاکستان کی سب سے بڑی آبشار منٹھوکھا اپنے میٹھے پانی کے دلربا پانی سے سردموسم میں بھی سیاحوں کے دلوں کو گرماتی ہے۔

شاہراہ ریشم کے مغربی جانب گلگت بلتستان کے مشہور مقامات گلگت، کریم آباد، چلاس، نلتر جھیل، گاہکوچ ،وادء ہنزہ، اشکومن ویلی، بتورا پیک، الترپیک، یاسین ویلی، کرونبر غذر ویلی اور پھنڈر جھیل واقع ہیں۔ ہنزہ سیاحوں کا بہت برا مرکز ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں پر مشتمل ہے۔ سب سے بڑا شہر کریم آباد ہے۔ التت بلتت کے قلعے، درہ خنجراب، درہ منتکا، گلمت، وادء شمشال اور التر کی خوبصورت پہاڑیاں اس میں شامل ہیں۔ حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایک بڑی جھیل عطا ا?باد جھیل یا گوجال جھیل بھی یہیں واقع ہے۔ پھسو گلیشیر بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ سارا سال یہاں سیاحوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔

سوات ایک سابقہ ریاست تھی، جو اب ایک ضلع کی صورت میں ہے۔ کالام اور سوات ویلی میں منگورہ، سیدو شریف، بحرین، کالام، اوشو مہو ڈنڈ جھیل اور کنڈل جھیل، مالم جبہ، سیدو شریف، خوازہ خیلہ، مدین، چار باغ، بحرین، مٹہ، بری کوٹ شریف آباد اور بہت سے دیدہ زیب مقامات ہیں۔ کالام سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر مہوڈنڈ جھیل ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے، جو نیلے کٹورے کی مانند نظر آتی ہے۔ پورے علاقے میں طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہیں۔

چترال ویلی کالام ویلی کے مغرب میں واقع ہے، اس میں دیر سے دروش جاتے ہوئے لواری پاس سے گزرنا ایک مسحور کن تجربہ ہوتا ہے۔ چترال ویلی میں لواری پاس سے پہلے ایک بہت خوبصورت آبشار ہے۔ چترال میں شندور میلہ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اکٹھا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ یہ میلہ تین دن کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس کی تیاری سال بھر ہوتی رہتی ہے۔

میلے میں ایک ہفتے پہلے ہی سیاح آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم، پولو میچ ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ کلچرل شو، موسیقی، فوجی بینڈ، روایتی ڈانس، میوزیکل نائٹ وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ دروش، شاہ زور جھیل، مدو غلاشٹ بونی وغیرہ قابلِ دید مقامات ہیں۔ چترال میں وادء کیلاش اپنی نوعیت کی الگ ہی وادی ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کا کلچر پاکستان کے تمام کلچرز سے الگ ہی ہے۔ اسے سکندر اعظم کی باقیات سے نسبت دی جاتی ہے۔ ابھی بھی رومی رسم و رواج ان میں برقرار ہیں، یہاں کے لوگ سیاح دوست ہیں، ان کا پہناوا بھی بہت سجاوٹ والا اور سیپیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس وادی میں باہک، اوازک اور شوالک جھیلیں قابلِ دید ہیں۔ کیلاش اور چترال سے شمال کی جانب ترچ میر کا گلیشیر ہے، جسے ملکی اور غیر ملکی کوہ پیما سر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کے بازاروں میں مقامی ہینڈی کرافٹ کے نمونے دیکھ کر سب کچھ خریدنے کو جی چاہتا ہے۔ مقامی خواتین بہت خوبصورت سیپیوں سے مزیّں ٹوپیاں اور دیگر پارچہ جات انتہائی مہارت سے بناتی ہیں۔ہمارے شمالی علاقہ جات کے باشندے مہمان نواز، سیاح دوست، انتہائی تعاون کرنے والے اور قابلِ بھروسہ ہوتے ہیں۔ ہوٹل والے اور ڈرائیوروں سے سب کا واسطہ پڑتا ہے۔ سب اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ان کو آئندہ بھی بزنس ملے، اس لیے ملنساری اور نرم خوئی ان میں رچ بس گئی ہے۔ غربت سیزن کے چار ماہ سے دور نہیں ہو سکتی۔ سیاح جہاں ہزاروں روپے اپنی تفریح طبع کے لیے خرچ کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ان بچوں کا بھی خیال کریں، جو ان کو چیزیں بیچ کر کنبے کی آمدنی میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

قدرت تمام جانداروں کی غذا کا بندوبست کرتی ہے، ہو سکتا ہے قدرت نے آپ کو بھی اس کے لیے چْنا ہو۔ شمالی علاقوں کے چرند پرند گرمیوں میں اپنے جسم میں غذا کا ذخیرہ کرتے ہیں، جو سردیوں کے قحط کے سیزن میں ان کے کام آتا ہے۔ اگر دوچار کلو دانہ، چنے مونگ پھلی میوے وغیرہ آپ ان علاقوں میں بکھیر دیں تو بندروں، لومڑیوں، پرندوں اور دیگر جانوروں کے کام آجائے گا۔ ہمارے شمالی علاقے اب سیاحتی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ شاپرز، بوتلیں، کین، ریپرس، خوراک کے خالی ڈبے، دودھ جوس وغیرہ کے خالی ڈبے ماحول کو خراب کر رہے ہیں، حکام اس کا تدارک کریں۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر