... loading ...
پاکستان کے شمالی علاقے اپنے قدرتی حسن کی بناء پر سیاحت کی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔ اندون اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دیکھنے آتے ہیں۔ موسم سرما میں محدود راستوں اور موسم کی سختی کی بناء پر سیاح مری کی برف باری دیکھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ مہم جو قسم کے ہّمت والے سیاح ہی موسم سرما میں مری کے علاوہ دوسرے شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ گرمیوں کا آغاز شدت سے ہوتاہے، ساتھ شمالی پاکستان دیکھنے کا سیزن شروع ہو رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح، ٹریکر، کوہ پیما اور بائیکرز اس سیزن میں پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے سال بھر انتظار کے بعد اب آنے کو تیار ہیں۔ پاکستان سے بھی تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی ا?مد شروع ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر خاندان مری سے کاغان تک کی سیر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں رہائش، سیر و تفریح، شاپنگ وغیرہ کی سہولیات بہتر ہیں۔ یہ پنڈی سے نزدیک ترین علاقہ ہے، جہاں اکثر لوگ اپنی فیملی سمیت آسانی سے جاتے ہیں۔ ایوبیہ کی چیئر لفٹ اور وہاں کے بندر، بچوں کی پسندیدہ ترین چیزیں ہیں۔ مری کو ملکہ? کوہسار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں تمام شمالی علاقوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔
وادء کاغان مشہور وادی ہے۔ اس کا راستہ بالا کوٹ سے جاتا ہے۔ پنڈی سے بالاکوٹ جانے کے لیے ایبٹ آباد، مری اور مظفرآباد سے راستے جاتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے راستے میں مانسہرہ، عطر شیشہ، بیسیاں چوک اور شوہال وغیرہ آتے ہیں، جب کہ مری کیراستے میں باڑیاں، چھانگلہ گلی، کوزہ گلی، ایوبیہ، نتھیا گلی، ٹھنڈیانی اور گڑھی حبیب اللہ کے مقامات آتے ہیں، ان میں ایوبیہ کی چیئر لفٹ سے بچے بڑے بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اس راستے میں بندروں کی ٹولیاں سیاحوں کا انتظار کرتی ہیں، لیکن بندروں کے لیے کچھ نہ کچھ سیاحوں کو ضرور اپنے ساتھ رکھنا چاہیے، اس سے ان کو کچھ کھانے کو مل جاتا ہے اور بچوں بڑوں کی تفریح بھی ہو جاتی ہے۔ بندر جب کپڑے پکڑ کر انتہائی معصومیت سے چھوٹے بچوں کی طرح منہ اٹھا کر مانگتے ہیں تو ان کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ کاغان سے آگے ناران کا شہر آتا ہے، جہاں سے جیپوں میں جھیل سیف الملوک جایا جاتا ہے۔ طلسم ہوشرباء کی داستانوں جیسی اس نیلی جھیل سے، شہزادہ سیف الملوک اور پری جمال کی داستان، ہماری لوک داستانوں میں ایک مشہور داستان ہے۔ اس کے پیچھے ایک جھیل’’ آنسو جھیل‘‘ کے نام سے مشہور ہے، جہاں پیدل یا گھوڑے کا راستہ ہے۔ جھیل سیف الملوک کے پیچھے کی جانب پہاڑیوں پر سال بھر برف جمی ہوتی ہے، جس کا عکس اس کے نیلے پانیوں میں انتہائی دلفریب نظر آتا ہے، اس جھیل کے فوٹو کھینچنا ہر سیاح کی ترجیح ہوتی ہے۔ یہاں کے مشہور پہاڑی گلیشئرز میں، ملکہ پربت، مکڑا اور موسیٰ کا مصلیٰ شامل ہیں، جن کو کوہ پیما ہی سر کر سکتے ہیں۔ ناران سے آگے جائیں تو بروائی، جلکھڈ، بیسل جھیل لولو سر سے ہو کر بابو سر ٹاپ تک پہنچتے ہیں۔ یہ سارا راستہ پہاڑی جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جس میں چلغوزے کے درخت بھی پائے جاتے ہیں۔ بیسل سے پیدل جھیل دودی پت اور جھیل سرال کا راستہ ہے۔ وادء کاغان کے مغربی جانب مشہور شاہراہ قراقرم واقع ہے، جس پر بابو سر ٹاپ سے ایک انتہائی خطرناک اترائی کے بعد چلاس کے قریب پہنچا جا سکتا ہے۔
وادء نیلم آزاد جموں کشمیر میں وادء کاغان کے مشرق میں واقع ہے۔ پہاڑوں میں گھرے ہوئے مظفرآباد کے قریب دریائے نیلم اور دریائے جہلم کے دو رنگوں کے پانی کا خوبصورت ملاپ ایک حسین نظارہ پیش کرتا ہے۔ مظفرآباد کا تین صدیوں پرانا لال قلعہ سیاحوں کو اپنی تاریخ یاد دلاتا ہے۔ اس خوبصورت قلعے کے بنانے والے سلطان مظفر کے نام سے ہی اس شہر کا نام منسوب ہے۔ پیر چناسی، چکار جھیل، باغ، گنگا چوٹی، بدھ دور کے آثار قدیمہ، کیل وادی، الپائن کے جنگل، اس وادی کو سیاحوں کے لیے پْر کشش بناتے ہیں۔ رتی گلی، چٹھہ کٹھہ جھیل، ہلمت اور تاو?بٹ کے علاقے اپنی خوبصورتی میں لاجواب ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے سیاح جوق در جوق یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔گلگت بلتستان کے علاقے کو شاہراہ ریشم کے مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ مشرقی حصہ اپنی بلند بالا خوبصورت برفانی چوٹیوں کی دولت سے مالا مال ہے۔ غیر ملکی کوہ پیماو?ں کی پسندیدہ ان چوٹیوں میں مشہور زمانہ کے ٹو، بالتورہ، تیری کانگری، ہڈن پیک، گشہ بروم، براڈپیک، کے 6،کے7 ،پیو، ہرموش، دیران، راکا پوشی اور دستگل سر شامل ہیں۔ شاہراہ ریشم کے اس حصے میں خپلو، اسکردو، دیو سائی کا میدان، کچھورا جھیل، شنگریلا جھیل، کنکورڈیا، سنو لیک، عطاآباد جھیل سست اور خنجراب پاس سیاحوں کے لیے دلچسپی کا سارا حسن رکھتے ہیں۔ شنگریلا چینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی جنت کے ہیں۔ شاہراہ قراقرم پر پاکستان کا آخری مقام خنجراب ہے، جو چین کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ یہاں ایک عالیشان اور پْر وقار گیٹ ہے، جس کے ادھر پاکستان اور دوسری جانب چین کا علاقہ ہے۔ سیاحوں میں اس کی اپنے ساتھ تصویر لینا ایک روایت بن گئی ہے۔
راستے میں ایک خوبصورت علاقہ خنجراب نیشنل پارک آتا ہے۔ پاکستان کیاس تیسرے بڑے نیشنل پارک میں جنگلی جانوروں کی نایاب اقسام پائی جاتی ہیں۔ بلیو شیپ، مارکوپولو شیپ، سفید برفانی ریچھ، انتہائی خوبصورت موٹی بھری دم والے برفانی تیندوے، سنہری چوہے، سرخ بکرے، سرخ لومڑی اور سب سے مشہور الپائن مینا، جسے دیکھنے دنیا بھر سے برڈ واچرز خاص طور پر یہاں آتے ہیں۔ اس پارک میں وسیع عریض جھیلیں، گلیشئرز اور نایاب اقسام کے درخت ہیں۔ سال کے تین چار ماہ تو ایسا برفانی موسم ہوتا ہے کہ کوئی سرگرمی نہیں ہو سکتی، جس وجہ سے یہاں کے مقامیوں کی بڑی تعداد دوسرے علاقوں میں مزدوری کرنے جاتی ہے۔ شاہراہ ریشم پر التت بلتت کے قلعے اور بدھ مت کے آثار قدیمہ بھی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ راما لیک، نانگا پربت، فیری میڈوز اپنے طلسماتی حْسن کی بناء پر سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔ اسکردو سے آگے خپلو سے کچھ دْور پاکستان کی سب سے بڑی آبشار منٹھوکھا اپنے میٹھے پانی کے دلربا پانی سے سردموسم میں بھی سیاحوں کے دلوں کو گرماتی ہے۔
شاہراہ ریشم کے مغربی جانب گلگت بلتستان کے مشہور مقامات گلگت، کریم آباد، چلاس، نلتر جھیل، گاہکوچ ،وادء ہنزہ، اشکومن ویلی، بتورا پیک، الترپیک، یاسین ویلی، کرونبر غذر ویلی اور پھنڈر جھیل واقع ہیں۔ ہنزہ سیاحوں کا بہت برا مرکز ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں پر مشتمل ہے۔ سب سے بڑا شہر کریم آباد ہے۔ التت بلتت کے قلعے، درہ خنجراب، درہ منتکا، گلمت، وادء شمشال اور التر کی خوبصورت پہاڑیاں اس میں شامل ہیں۔ حادثاتی طور پر وجود میں آنے والی ایک بڑی جھیل عطا ا?باد جھیل یا گوجال جھیل بھی یہیں واقع ہے۔ پھسو گلیشیر بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ سارا سال یہاں سیاحوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔
سوات ایک سابقہ ریاست تھی، جو اب ایک ضلع کی صورت میں ہے۔ کالام اور سوات ویلی میں منگورہ، سیدو شریف، بحرین، کالام، اوشو مہو ڈنڈ جھیل اور کنڈل جھیل، مالم جبہ، سیدو شریف، خوازہ خیلہ، مدین، چار باغ، بحرین، مٹہ، بری کوٹ شریف آباد اور بہت سے دیدہ زیب مقامات ہیں۔ کالام سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر مہوڈنڈ جھیل ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے، جو نیلے کٹورے کی مانند نظر آتی ہے۔ پورے علاقے میں طعام و قیام کی سہولتیں میسر ہیں۔
چترال ویلی کالام ویلی کے مغرب میں واقع ہے، اس میں دیر سے دروش جاتے ہوئے لواری پاس سے گزرنا ایک مسحور کن تجربہ ہوتا ہے۔ چترال ویلی میں لواری پاس سے پہلے ایک بہت خوبصورت آبشار ہے۔ چترال میں شندور میلہ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اکٹھا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ یہ میلہ تین دن کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس کی تیاری سال بھر ہوتی رہتی ہے۔
میلے میں ایک ہفتے پہلے ہی سیاح آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں سب سے اہم، پولو میچ ہوتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ کلچرل شو، موسیقی، فوجی بینڈ، روایتی ڈانس، میوزیکل نائٹ وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ دروش، شاہ زور جھیل، مدو غلاشٹ بونی وغیرہ قابلِ دید مقامات ہیں۔ چترال میں وادء کیلاش اپنی نوعیت کی الگ ہی وادی ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کا کلچر پاکستان کے تمام کلچرز سے الگ ہی ہے۔ اسے سکندر اعظم کی باقیات سے نسبت دی جاتی ہے۔ ابھی بھی رومی رسم و رواج ان میں برقرار ہیں، یہاں کے لوگ سیاح دوست ہیں، ان کا پہناوا بھی بہت سجاوٹ والا اور سیپیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس وادی میں باہک، اوازک اور شوالک جھیلیں قابلِ دید ہیں۔ کیلاش اور چترال سے شمال کی جانب ترچ میر کا گلیشیر ہے، جسے ملکی اور غیر ملکی کوہ پیما سر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کے بازاروں میں مقامی ہینڈی کرافٹ کے نمونے دیکھ کر سب کچھ خریدنے کو جی چاہتا ہے۔ مقامی خواتین بہت خوبصورت سیپیوں سے مزیّں ٹوپیاں اور دیگر پارچہ جات انتہائی مہارت سے بناتی ہیں۔ہمارے شمالی علاقہ جات کے باشندے مہمان نواز، سیاح دوست، انتہائی تعاون کرنے والے اور قابلِ بھروسہ ہوتے ہیں۔ ہوٹل والے اور ڈرائیوروں سے سب کا واسطہ پڑتا ہے۔ سب اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ان کو آئندہ بھی بزنس ملے، اس لیے ملنساری اور نرم خوئی ان میں رچ بس گئی ہے۔ غربت سیزن کے چار ماہ سے دور نہیں ہو سکتی۔ سیاح جہاں ہزاروں روپے اپنی تفریح طبع کے لیے خرچ کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ان بچوں کا بھی خیال کریں، جو ان کو چیزیں بیچ کر کنبے کی آمدنی میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔
قدرت تمام جانداروں کی غذا کا بندوبست کرتی ہے، ہو سکتا ہے قدرت نے آپ کو بھی اس کے لیے چْنا ہو۔ شمالی علاقوں کے چرند پرند گرمیوں میں اپنے جسم میں غذا کا ذخیرہ کرتے ہیں، جو سردیوں کے قحط کے سیزن میں ان کے کام آتا ہے۔ اگر دوچار کلو دانہ، چنے مونگ پھلی میوے وغیرہ آپ ان علاقوں میں بکھیر دیں تو بندروں، لومڑیوں، پرندوں اور دیگر جانوروں کے کام آجائے گا۔ ہمارے شمالی علاقے اب سیاحتی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ شاپرز، بوتلیں، کین، ریپرس، خوراک کے خالی ڈبے، دودھ جوس وغیرہ کے خالی ڈبے ماحول کو خراب کر رہے ہیں، حکام اس کا تدارک کریں۔
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...
پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...
خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...