وجود

... loading ...

وجود

خالصتان سے پرہیز کیوں۔۔۔؟

هفته 05 مئی 2018 خالصتان سے پرہیز کیوں۔۔۔؟

خالصتان تحریک کے اہم کرداروں کی فہرست بھارت کو پکڑا کر ہم نے سکھوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔ بھارت الزام لگاتا رہے اور ہم تردید کرتے رہیں، بس یہی کام رہ گیا ہے ہمارا۔ بھارت کیا ساری دنیا ہم پر طرح طرح کے الزامات لگاتی ہے اور ہم تردیدوں کی دکان سجا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ لہجہ معذرت خواہانہ اور انداز بچکانہ۔ الزامات کے جواب میں دو سخت جملے ہمارے منہ سے نہیں نکلتے کہ اگلی بار وہ ہم پر انگلی اٹھانے سے پہلے سوچیں۔بھارت نے چند دن پہلے اپنے ہائی کمشنر کی سکھ یاتریوں سے ملاقات نہ کرانے کا الزام لگایا۔ ہم نے تردید بھی کی، مذمت بھی، ساتھ ہی صفائیاں بھی پیش کیں۔ اس سے آگے شاید ہمیں کچھ آتا نہیں… اب بھارت نے ہم پر تازہ ترین الزام پاکستان آنے والے ان سکھ یاتریوں کو خالصتان کے معاملے پر اکسانے کا لگایا ہے۔ اس پر ترجمان دفتر خارجہ نے حسب روایت فوراً تردیدی بیان جاری کردیا۔ الفاظ کا چناؤ ایسا کہ کہیں بھارت کو برا نہ لگ جائے۔

ارے بھائی! دشمن کے اس الزام پر پیچھے ہٹنے کے بجائے ایک قدم آگے بڑھتے اور کہتے کہ سکھوں کو ان کا حق ضرور ملنا چاہیے۔ ہم نے انہیں اکسایا نہیں؛ سکھ بچّے نہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آجائیں۔ اکسا تو آپ رہے ہیں بلوچستان کے لوگوں کو! علیحدگی پسندوں کو پناہ دے رہے ہیں، انہیں دہشت گرد بنا رہے ہیں، ان کے لیڈروں کی میزبانیاں کررہے ہیں۔ آپ نے بلوچستان میں اپنے ایجنٹ چھوڑ رکھے ہیں۔ کلبھوشن کہاں سے ملا تھا؟ کیا کرنے آیا تھا بلوچستان؟ کچھ تو بولو…

کلبھوشن کے معاملے پر بھی وہ آپ کو گھسیٹ کر عالمی عدالت انصاف لے گیا۔ آپ بھی چل دیئے۔ اب جواب الجواب جمع کرائے جا رہے ہیں، اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے کہیے کہ اگر بھارت نے ہمارا اس لیول کا کوئی جاسوس پکڑا ہوتا تو وہ کیا کرتا؟ وہی جو ہم کررہے ہیں؟ کبھی نہیں۔ وہ اپنی چھاتی پیٹتا ہوا دنیا اکٹھی کرچکا ہوتا، اور ہم تردیدیں کرتے کرتے تھک جاتے مگر کوئی یقین نہیں کرتا۔ ہم کہتے ہیں ہمارے پاس بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ہیں، تو بھائی ان کے منہ پہ دے مارو یہ ثبوت، سنبھال کر کیوں رکھے ہیں؟

پاکستان بھلے ہی سکھوں کو خالصتان کے معاملے پر نہ اکسائے مگر انہیں ان کا حق دلانے میں ان کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم سہتے شہریوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے حقوق کی آواز بھی اسی شدت کے ساتھ اٹھانی چاہئے۔ بھول جائیے کہ تقسیم کے وقت ان سکھوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا، کیونکہ بعد میں انہیں خود بھی اس پر پچھتاوا ہوچکا ہے۔ یہ ایک لگ بحث ہے۔

آپ کشمیر اور خالصتان کی تحریک کو ایک ساتھ لے کر چلیے۔ دنیا کے جس فورم پر آپ مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی بات کرتے ہیں وہاں خالصتان کی آزادی کی بات بھی کیجیے، بھارت پر دباؤ دگنا ہوجائے گا۔ وہ پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور پاکستان کی اس حوالے سے مہم کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ اپنے اپنے مفاد کی وجہ سے کوئی کہتا نہیں یہ الگ بات ہے مگر دنیا کی نظروں میں وہ گندا ضرور ہورہا ہے۔ آپ خالصتان کا معاملہ چھیڑ کر اسے اور گندا کیجیے۔کچھ نہ کرنے پر بھی مودی سرکار ہم پر الزامات لگا رہی ہے۔ ابھی پچھلے ماہ بھارتی وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ پاکستان سکھ نوجوانوں کو اپنے مراکز میں دہشت گردی کی تربیت دے رہا ہے تاکہ وہ بھارت آکر دہشت گردی کی کارروائیاں کریں۔ اس سے بے ہودہ الزام اور کیا ہوگا؟ اب تردیدیں کرنے اور صفائیاں پیش کرنے سے آگے کا سوچیے۔ اپنے اندر ہمت پیدا کیجیے۔ پیچھے مت ہٹیے، آگے بڑھیے۔

وہ بنیا ہے، سامنے سے کبھی وار نہیں کرے گا مگر پیچھے سے چھرا گھونپنے میں دیر بھی نہیں لگائے گا۔ ہم پہلے ہی خالصتان تحریک کے اہم کرداروں کی فہرست بھارت کو پکڑا کر سکھوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ یہ حرکت ہم سے سرزد نہ ہوتی تو آج بھارت کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ ہم نے یہ فہرست اس شرط پر بھارت کو تھمائی تھی کہ وہ بدلے میں سیاچن سے اپنی فوجیں واپس بلالے گا، مگر وہ وعدہ کرکے مکر گیا اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے، کچھ نہ کرسکے۔ اب اس غلطی کا کفارہ ادا کرنے کا بہترین وقت ہے۔ہمیں پتا ہے کہ دفتر خارجہ کے بیان کی کتنی اہمیت ہوتی ہے، ایک ایک جملے پر دس دس بار سوچا جاتا ہے، ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولا جاتا ہے۔ مگر ہمیں یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ حد سے زیادہ احتیاط قوت فیصلہ کو کمزور کردیتی ہے، انسان کو بزدل بنادیتی ہے۔ امریکا کے معاملے میں بزدلی دکھانا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر بھارت سے خوف کیسا؟ ویسے امریکا کو بھی ہم نومور کہہ کر حیران کرچکے ہیں۔ اب تھوڑی اور ہمت کرکے بھارت کو بھی ’’شٹ اپ‘‘ کہہ کر خالصتان کی بات چھیڑ دیجیے، موقع اچھا ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر