وجود

... loading ...

وجود

گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

جمعرات 03 مئی 2018 گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

کیا فضا میں موجود یہ گیسیں ہمارے لیے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں؟ گرین ہاوس ایفیکٹ ہے کیا ؟ اور اس سے کرہ ارض پر زندگی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے ؟اور گرین ہاوس ایفیکٹ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچاو کیسے ممکن ہے؟ آج کے ترقی یافتہ اور صنعتی دور میں جہاں انسان کو ان گنت آسائشیں میسر ہیں وہیں ہم نے اس ترقی کی قیمت میں اپنے لیے اور اس دنیا کے باقی جانداروں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پانی صنعتی فاضل مادوں اور بڑھتی ہوئی انسانی ا?بادی کی وجہ سے ا?لودہ و مضر صحت ہو رہا ہے۔ساتھ ہی ہوا میں موجود گیسوں کا کئی صدیوں سے قائم توازن بھی خطرے سے دو چار ہے۔یہی نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہماری فضا:ہمارے ارد گرد’’ہوا ‘‘ کا ایک بہت بڑا’’ سمندر‘‘ موجود ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،چلتے پھرتے ہیں اور پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔اس فضا میں بہت سی گیسیں مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ان گیسوں میں نائٹروجن ،آکسیجن ہوا میں بالترتیب کثرت سے موجود ہیں۔جبکہ کاربن ڈائی ا?کسائیڈ اور دوسری نایاب گیسوں کا حصہ بہت ہی کم ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ گیسوں کا یہ تناسب صدیوں سے تقریباً یکساں حالت میں موجود ہے۔ جس میں کچھ ادوار میں معمولی کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ لیکن پچھلی صدی سے جاری بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی اور پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال سے فضامیں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی یہ زیادتی گرین ہائوس ایفیکٹ کا باعث بن رہی ہے۔ گرین ہاوس ایفیکٹ:فرض کریں آپ کے پاس ایک کار ہے جو کہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں پار ک کرنا پڑی، کچھ دیر بعد آپ گاڑی میں بیٹھیں گے تو یقینا وہ بہت زیادہ گرم ہوگی اور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی زیادہ ہو گا۔ کارمیںیہ اضافی گرمی گرین ہائوس ایفیکٹ کی وجہ سے ہوئی۔جب دھوپ گاڑی کے شیشوں پر پڑی تو بغیر رکاوٹ اندر داخل ہو گئی لیکن جب روشنی گاڑی کے اندر سے باہر منعکس ہونے لگتی ہے توشیشہ اسے باہر جانے کے بجائے دوبارہ اندر منعکس کر دیتا ہے جس سے کار کا درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے۔ گرین ہائوس ایفیکٹ آپ کو صرف کارمیں ہی نہیں نظر آتا بلکہ زراعت کے شعبے میں اس کو بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم میں جب درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے ، اس موسم میں گرمی کی فصلین اگانے کے لیے اس فارم کے گرد شیشے یا پلاسٹک کی شفاف دیواریں بنائی جاتی ہیں۔ دن کو دھوپ جب شیشے یا پلاسٹک پر پڑتی ہے تو وہ سیدھی گرین ہاوس میں داخل ہو جاتی ہے لیکن زمین اور پودوں سے منعکس ہونے والی شعاعیں واپس گرین ہاوس میں قید ہو جاتی ہیں جس سے فارم کا درجہ حرارت باہر کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔

گرم موسم کے پودے سردی میں بھی زندہ رہتے ہیں اورخوب منافع بخش پیداوار دیتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاوس ایفیکٹ:ہماری فضاگیسوں کی تہہ میں سے گزرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ اس تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرت بالکل شفاف شیشے کی طرح عمل کرتی ہے یعنی یہ سورج کی روشنی کو زمین تک توآنے دیتی ہے مگر زمین سے واپس لوٹنے والی حرارتی شعاعوں کو سطح زمین پر واپس منعکس کر دیتی ہے۔اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو ہم گرین ہائوس ایفیکٹ کا نام دیتے ہیں۔ وجوہات: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج و اضافے کی وجوہات نیچے دی گئی ہیں۔

1 : لکڑی اور ایندھن کا جلنا2 : جنگلا ت کی کٹائی/جلنا 3 : پٹرول اور دوسرے فوسل ایندھن کے جلنے سے گاڑیوں /فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں میتھین: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ایک اور گیس میتھین کی فضا میں موجودگی بھی گرین ہائوس ایفیکٹ کا باعث بنتی ہے۔ آپکی دلچسپی کے لیے بتاتے چلیں کہ میتھین ہی وہ گیس ہے جو گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ زیر زمین معدنیاتی طور پر موجود ہوتی ہے اور بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ بھی مختلف ذرائع سے اس کی کچھ مقدار فضا میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ دلدلی علاقوں میں مختلف اشیاء کے گلنے سڑنے اور چاول کی جڑوں میں کیمیائی عمل سے بھی میتھین خارج ہوتی رہتی ہے۔بہت سے خرد بینی جاندار بھی میتھین فضا میں خارج کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود اگرچہ میتھین کی فضا میں موجوگی بہت کم ہے مگر درجہ حرارت میں اضافے کی صلاحیت کاربن ڈائی ا?کسائیڈ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔اس لحاظ سے اس گیس کی فضا میں موجودگی کاربن ڈائی ا?کسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے۔ گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات: بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین پر زندگی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جن میں سے چند یہ ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں:آج ہمیں علم ہے کہ زمین پر ایک سال میں رفتہ رفتہ موسم ایک سے دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مگر کرہ? ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے موسموں میں تبدیلیاں یک لخت او رغیر یقینی ہو سکتی ہیں،ساتھ ہی طوفانوں اور سیلابوں میں بھی زیادہ شدت ا?سکتی ہے اور بارشوں کے اوقات بھی بہت حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سطح سمندر میں اضافہ:قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑی مقدار برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی زیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس سے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر ا?ب ا? جانے کا خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہے جو زیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔


متعلقہ خبریں


پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

مضامین
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ایان اور پنکی وجود جمعرات 14 مئی 2026
ایان اور پنکی

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں! وجود جمعرات 14 مئی 2026
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

مہنگے پیٹرول کا چکر وجود جمعرات 14 مئی 2026
مہنگے پیٹرول کا چکر

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر