وجود

... loading ...

وجود

گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

جمعرات 03 مئی 2018 گلوبل وارمنگ: خطرے کی گھنٹی

کیا فضا میں موجود یہ گیسیں ہمارے لیے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں؟ گرین ہاوس ایفیکٹ ہے کیا ؟ اور اس سے کرہ ارض پر زندگی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے ؟اور گرین ہاوس ایفیکٹ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچاو کیسے ممکن ہے؟ آج کے ترقی یافتہ اور صنعتی دور میں جہاں انسان کو ان گنت آسائشیں میسر ہیں وہیں ہم نے اس ترقی کی قیمت میں اپنے لیے اور اس دنیا کے باقی جانداروں کے لیے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پانی صنعتی فاضل مادوں اور بڑھتی ہوئی انسانی ا?بادی کی وجہ سے ا?لودہ و مضر صحت ہو رہا ہے۔ساتھ ہی ہوا میں موجود گیسوں کا کئی صدیوں سے قائم توازن بھی خطرے سے دو چار ہے۔یہی نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہماری فضا:ہمارے ارد گرد’’ہوا ‘‘ کا ایک بہت بڑا’’ سمندر‘‘ موجود ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،چلتے پھرتے ہیں اور پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔اس فضا میں بہت سی گیسیں مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ان گیسوں میں نائٹروجن ،آکسیجن ہوا میں بالترتیب کثرت سے موجود ہیں۔جبکہ کاربن ڈائی ا?کسائیڈ اور دوسری نایاب گیسوں کا حصہ بہت ہی کم ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ گیسوں کا یہ تناسب صدیوں سے تقریباً یکساں حالت میں موجود ہے۔ جس میں کچھ ادوار میں معمولی کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ لیکن پچھلی صدی سے جاری بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی اور پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال سے فضامیں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی یہ زیادتی گرین ہائوس ایفیکٹ کا باعث بن رہی ہے۔ گرین ہاوس ایفیکٹ:فرض کریں آپ کے پاس ایک کار ہے جو کہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں پار ک کرنا پڑی، کچھ دیر بعد آپ گاڑی میں بیٹھیں گے تو یقینا وہ بہت زیادہ گرم ہوگی اور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی زیادہ ہو گا۔ کارمیںیہ اضافی گرمی گرین ہائوس ایفیکٹ کی وجہ سے ہوئی۔جب دھوپ گاڑی کے شیشوں پر پڑی تو بغیر رکاوٹ اندر داخل ہو گئی لیکن جب روشنی گاڑی کے اندر سے باہر منعکس ہونے لگتی ہے توشیشہ اسے باہر جانے کے بجائے دوبارہ اندر منعکس کر دیتا ہے جس سے کار کا درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے۔ گرین ہائوس ایفیکٹ آپ کو صرف کارمیں ہی نہیں نظر آتا بلکہ زراعت کے شعبے میں اس کو بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم میں جب درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے ، اس موسم میں گرمی کی فصلین اگانے کے لیے اس فارم کے گرد شیشے یا پلاسٹک کی شفاف دیواریں بنائی جاتی ہیں۔ دن کو دھوپ جب شیشے یا پلاسٹک پر پڑتی ہے تو وہ سیدھی گرین ہاوس میں داخل ہو جاتی ہے لیکن زمین اور پودوں سے منعکس ہونے والی شعاعیں واپس گرین ہاوس میں قید ہو جاتی ہیں جس سے فارم کا درجہ حرارت باہر کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔

گرم موسم کے پودے سردی میں بھی زندہ رہتے ہیں اورخوب منافع بخش پیداوار دیتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاوس ایفیکٹ:ہماری فضاگیسوں کی تہہ میں سے گزرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ اس تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرت بالکل شفاف شیشے کی طرح عمل کرتی ہے یعنی یہ سورج کی روشنی کو زمین تک توآنے دیتی ہے مگر زمین سے واپس لوٹنے والی حرارتی شعاعوں کو سطح زمین پر واپس منعکس کر دیتی ہے۔اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو ہم گرین ہائوس ایفیکٹ کا نام دیتے ہیں۔ وجوہات: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج و اضافے کی وجوہات نیچے دی گئی ہیں۔

1 : لکڑی اور ایندھن کا جلنا2 : جنگلا ت کی کٹائی/جلنا 3 : پٹرول اور دوسرے فوسل ایندھن کے جلنے سے گاڑیوں /فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں میتھین: کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ایک اور گیس میتھین کی فضا میں موجودگی بھی گرین ہائوس ایفیکٹ کا باعث بنتی ہے۔ آپکی دلچسپی کے لیے بتاتے چلیں کہ میتھین ہی وہ گیس ہے جو گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ زیر زمین معدنیاتی طور پر موجود ہوتی ہے اور بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ بھی مختلف ذرائع سے اس کی کچھ مقدار فضا میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ دلدلی علاقوں میں مختلف اشیاء کے گلنے سڑنے اور چاول کی جڑوں میں کیمیائی عمل سے بھی میتھین خارج ہوتی رہتی ہے۔بہت سے خرد بینی جاندار بھی میتھین فضا میں خارج کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود اگرچہ میتھین کی فضا میں موجوگی بہت کم ہے مگر درجہ حرارت میں اضافے کی صلاحیت کاربن ڈائی ا?کسائیڈ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔اس لحاظ سے اس گیس کی فضا میں موجودگی کاربن ڈائی ا?کسائیڈ سے زیادہ خطرناک ہے۔ گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات: بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین پر زندگی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جن میں سے چند یہ ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں:آج ہمیں علم ہے کہ زمین پر ایک سال میں رفتہ رفتہ موسم ایک سے دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مگر کرہ? ارض کے درجہ حرارت میں اضافے سے موسموں میں تبدیلیاں یک لخت او رغیر یقینی ہو سکتی ہیں،ساتھ ہی طوفانوں اور سیلابوں میں بھی زیادہ شدت ا?سکتی ہے اور بارشوں کے اوقات بھی بہت حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سطح سمندر میں اضافہ:قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑی مقدار برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی زیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس سے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر ا?ب ا? جانے کا خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہے جو زیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔


متعلقہ خبریں


سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط وجود - هفته 10 جنوری 2026

بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم وجود - هفته 10 جنوری 2026

پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل وجود - جمعه 09 جنوری 2026

قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف وجود - جمعه 09 جنوری 2026

بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 09 جنوری 2026

ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

مضامین
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ وجود اتوار 11 جنوری 2026
مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

دفاعی صنعت اورمعیشت وجود اتوار 11 جنوری 2026
دفاعی صنعت اورمعیشت

اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر