وجود

... loading ...

وجود

100میل فی گھنٹہ کی رفتارسے گیندپھینک کربلے بازوکولرزادینے والاعظیم فاسٹ بائولر

جمعرات 03 مئی 2018 100میل فی گھنٹہ کی رفتارسے گیندپھینک کربلے بازوکولرزادینے والاعظیم فاسٹ بائولر

شعیب اختر نا صرف پاکستان کرکٹ ٹیم کا بلکہ دنیا کا تیز ترین گیند باز ہے۔ ان کا تعلق گجر برادری سے ہے۔ 13 اگست، 1975ء کو راولپنڈی، پاکستان میں پیدا ہونے والا گیند باز “راولپنڈی ایکسپریس” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ کرکٹ کھیلنے والا واحد کھلاڑی ہے جو دو مرتبہ سو میل فی گھنٹہ (100) کی رفتار سے گیند بازی کر چکا ہے۔

لیکن تنازعات کی وجہ سے وہ اکثر ٹیم سے باہر بھی نکالاگیا۔ اس پر 2006 میں ممنوعہ قوت بخش ادویات کے استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے اس پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی جو بعد میں اٹھا لی گئی تھی۔ پھر دسمبر 2007 میں محمد آصف کے ساتھ جھگڑے کی بنا پر اسے ٹیم سے باہر نکال دیا گیا۔اس کے علاوہ شعیب اخترکے بولنگ ایکشن پر متعدد بار سوالات اٹھائے گئے لیکن اس کاکرکٹ کیئریئرجاری رہا۔ شائقین کرکٹ آج بھی اس تیزرفتاربائولنگ کویادکرتے ہیں اوردنیاکے کئی بلے بازوں کواس کی نپی تلی یارکرزآج بھی لرزادیتی ہیں ۔

عالمی کرکٹ پرراج کرنے والا یہ عظیم فاسٹ بائولرجسے لوگ شعیب اختر کے نام سے جانتے ہیں راولپنڈی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر مورگہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد اٹک آئل ریفائنری میں کام کرتے تھے۔ اس نے چپٹے پاؤں کی وجہ سے چار سال کی عمر میں چلنا شروع کیا۔ اور اپنی ابتدائی تعلیم ایلیٹ ہائی ا سکول، مورگہ میں حاصل کی اور بعد میں مزید تعلیم کے لیے راولپنڈی میں واقع اصغر مال کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ اور کرکٹ کھیلنے کی ابتدا شعیب نے 19 سال کی عمر میں کی۔

شعیب اختر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1994 کے سیزن میں ایگریکلچر ڈویلپمنٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کھیل کر کیا۔ شعیب اب تک 127 میچوں میں 450 وکٹ لے چکے ہیں۔

شعیب نے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف نومبر 1997 میں کیا۔ اور اپنی برق رفتاری سے سب کو متاثر کیا۔ ان کی مقبولیت کا آغاز کرکٹ کے کرکٹ عالمی کپ کے آغاز سے پہلے بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی کی بنا پر ہوا۔ انہوں نے 1999 میں کلکتہ میں بھارت کے خلاف مسلسل دو گیندوں پر بھارتی کھلاڑی راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کی وکٹ لے کر تہلکہ مچا دیا۔ شعیب نے اس میچ میں کل آٹھ وکٹیں اپنے نام کیں۔

نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی میں شعیب نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن 2003 کا عالمی کپ ان کے لیے ناکام ثابت ہوا جس کی بنا پر ان کو ٹیم سے باہر نکال دیا گیا۔ دوبارہ ٹیم میں شمولیت پر 2004 میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر 2004 میں بھارت کا دووہ ان کے لیے مشکلات لے کر آیا۔ اس سیریز میں میچ کے دوران چوٹ کی وجہ سے نہ کھیلنے کا فیصلہ اس وقت پاکستان کے کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑے کا باعث بنا۔ انضمام نے اس کی چوٹ کی سچائی کے متعلق سوالات کیے جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئے۔

2005 میں برطانیا کا دورہ ایک اہم دورہ ثابت ہوا جب بلے بازی کے لیے مفید پچوں پر شعیب نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ اپنی کم رفتار گیندوں کی وجہ سے انہوں نے سیریز میں سب سے زیادہ سترہ (17) وکٹیں حاصل کیں۔

شعیب اختر دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جو سو میل فی گھنٹہ (100) سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ برطانیا کے خلاف 2003 کے عالمی کپ کے دوران انجام دیا۔ شعیب اختر نے ایک گیند 100.2 میل فی گھنٹہ (161.4 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے پھینکی۔ جوآج بھی کوئی فاسٹ بائولرنہیں توڑسکا۔

شعیب اختر کا کیرئیر تنازعات سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہر وقت خبروں میں رہنے کے لیے مشہور ہیں۔

1999 – تنازعات کا آغاز آسٹریلیا میں ہوا جب امپائر ڈیرل ہیئر اور پیٹر ویلی نے اس کے گیند بازی کے طریقے پر اعتراض کیا۔ جس کو بعد میں جائز قرار دے دیا گیا۔

2001 – امپائر ا سٹیو ڈن اور ڈگ کوئی نے شعیب کے ایکشن پر دوبارہ اعتراض کیا۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ان کے ایکشن کامعائنہ کرنے کے بعد ان کی بازو میں خم کی وجہ سے ایکشن کو جائز قرار دیا گیا۔

2002 – زمبابوے کے خلاف میچ میں بال ٹیمپرنگ یا گیند کی شکل کو تبدیل کرنے کا الزام عائد ہوا۔

2003 – سری لنکا کے خلاف میچ میں بال ٹمپرنگ کرنے کے الزام ثابت ہونے پر دنیا کے صرف دوسرے کھلاڑی بنے جن پر جرمانہ اور پابندی عائد کر دی گئی۔

2005 – آسٹریلیا کے دورے کے دوران ان کے دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ رویے اور نظم و ضبط کے توڑنے کی وجہ سے وطن واپس بھیج دیا گیا۔

اکتوبر 2006 – شعیب اختر اور محمد آصف پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی جب دونوں پر ممنوعہ ادویات (نینڈرولون) لینے کا الزام ثابت ہوا۔

اگست 2007 – پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب پر تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جب انہوں نے کرکٹ بورڈ کے ساتھ بدتمیزی کی۔

ستمبر 2007 – محمد آصف کو بلے کے ساتھ مارنے کی وجہ سے ٹیم باہر نکال دیا گیا

شعیب اختر چوٹ لگنے کی وجہ سے متعدد بار ٹیم سے باہر نکالے جا چکے ہیں۔ بھارت کے خلاف دورے میں انہوں نے کافی عرصہ بعد سیریز کا ہر میچ کھیلا۔ لیکن اس میں بھی وہ فٹنس کے مسئلے سے دوچار رہے۔

سری لنکااوربھارت کے درمیان مشترکہ طورکھیلے جانے والے ورلڈکپ کے دوران شعیب اخترنے ایک پریس کانفرنس میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کااعلان کردیا۔ وہ آج ہرقسم کی کرکٹ سے دورہیں لیکن شائقین ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر