وجود

... loading ...

وجود

طلعت حسین…وقارِ فن

اتوار 29 اپریل 2018 طلعت حسین…وقارِ فن

بلا شبہ کہانی لکھنا اپنی جگہ ایک فن ہے لیکن اس کے مرکزی خیال کو عملی جامہ پہنانے میں اس کے منفی و مثبت اثرات مرتب کرنے اور عوام الناس تک پہنچانے کی تمام تر ذمے داری اس فن کار کی ہے کہ وہ کردار کو کس طور نبھا کر، اس میں ڈوب کر کہانی کو یادگار اور خود کو امر کرسکتا ہے۔ کردار جو بھی ہو ،اس کے مطابق اداکاری کرنا، نقل اُتارنے کے زمرے میں آتا ہے لیکن فن کار نقال نہیں ہوتا۔ فن کی معراج کی سرحدوں کو چھونے کے لیے ضروری ہے کہ فن کار وہ روپ دھانے سے پہلے اس ماحول میں خود غرق ہوجائے، اس کا مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اس کا معاون ہو، پیش کیے جانے والے دور کے مطابق ، لہجہ، انداز اورتیور پیدا کرنا۔

معاشرتی اور ثقافتی اعتبار سے سب تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے حرکات و سکنات کے جوہر دکھانا ایک محنت طلب ، عبور طلب کام ہے جس کی ادائی ایک منجھا ہوا فن کار ہی کرسکتا ہے اور بالخصوص وہ مقام کتنا مشکل طلب ہوتا ہے جب جنبشِ لب کے بغیرباڈی لینگویج سے وہ سارا مفہوم ادا کردیا جائے کہ دیکھنے والے انگشت بہ د نداں عش عش کر اُٹھیں۔ ایک مکمل فن کے زیور سے قدرت نے طلعت حسین کو نوازاہے۔آپ کی سچی لگن، فن سے پیار، اس بات کا غماز ہے کہ کرمِ پروردگار سے آپ کی محنتِ شاقہ نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا کہ آپ برسوں سے لوگوں کے دلوں پر راج کررہے ہیں۔

آپ کی ہر ادا قابلِ داد ہے، کہیں ذہنوں کو کشا کرنے کا درس اس قدر دل نشیں انداز میں کہ ناظرین کیف و فرحت کی کیفیت محسوس کرتے ہوئے بیداریِ ذہن کا درس لیتے ہیں۔ کہیں آپ اس بات پر آمادہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مشکل حالات سے نبردآزما کس طرح ہونا چاہیے۔

کہیں آپ یہ درس دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں کہ شرفا اور بہادر انسانوں کا شیوہ کیا ہے؟ کہیں عیاری و مکاری سے بچنے کا سبق دیتے ہیں، کہیں خفتہ ذہنوں کو بیداری کا پیغام دینے نظر آتے ہیں کہ پُروقار زندگی گزارنے کے لیے خاموشی سے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ بات ہے اس بھرپور اندازِ اظہار کی جس کی بدولت لوگوں کو مثبت پیغام اس طرح ملتا ہے کہ وہ اسے عملی زندگی میں قبول کرکے بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ یہی فن کی معراج اور فن کار کا صلہ ہے۔ اس ذہن کے اس روشن مینار کو سلام! جس کی زندگی فن برائے فن ہی کے لیے وقف نہیں بلکہ فن برائے عملی زندگی کو اجاگر کرنے کا نام ہے۔ یہ فن کار طلعت حسین کس کس حسیں انداز سے ورثہ اور ادب کی خدمت کرتا ہے۔ یہ میرے فن کار کی زندگی کا وہ گوشہ جسے اس نے خفیہ تہہ خانوں میں چھپا رکھا ہے ، لاکھ کوششوں کے باوجود نیک عمل خوشبو کی مانند پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔

یہ نئی نسل کی خوش قسمتی ہے کہ طلعت حسین جیسا فن کار ان کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیدھی اور سچی بات تو یہ ہے کہ آپ ہمہ جہت شخصیت ہیں، ہم درد بھی ہیں، مخلص بھی ہیں، معاون بھی ہیں، قدرت نے آپ کو بے بہا خوبیوں سے نوازا ہے۔ عقل یہ معما حل کرنے سے قاصر ہے کہ آپ کو مخاطب کس طرح کروں، فنونِ لطیفہ ایک ایسی کھرل ہے جو تہذیب و ثقافت میں حائل نقائص کو دور کرکے اصلاحی عمل کو نمایاں کرتے ہوئے قوموں کی تاریخ میں نمایاں کردار کرتی ہے اور آپ اس کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ آپ کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا میری بساط اور میرے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ یوں بھی قد آور شخصیات پرقلم اُٹھاتے ہوئے ہاتھ میں قلم اور سینے میں دل کانپنے لگتا ہے۔ بس میں یہ کہنے پر اِکتفا کروں گاکہ میں اس ہستی کا پرستار ہوں جو دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں میں محسوس کی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ پسندیدگی کا سفر جب شروع ہوا تو سرپوش سیاہ چادر میں ملبوس تھے اور آج سفیدی نے ڈھیرے ڈال دیئے ہیں۔ مگر چاہت کے گل نکھرتے ہی جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے ۔

سوچتے سوچتے سوالوں پر
برف سی گرنے لگی ہے بالوں پر

نازاں ہوں کہ اس لمحے آپ سے مخاطب ہونے کا سبب ہاتھ آیا۔

بہت اُسلوب یاد آتے ہیں الفاظ و معانی کے
مگر دل کی کسک تحریر تک آنے نہیں پاتی

ابھی سوچ کی لہریں کسی زاویے کا تعین کرنے میں غوطہ زن ہی تھیں۔ میرے کرم فرما ڈاکٹر جواز جعفری صاحب کی کتاب آپہنچی ۔اس نے فیصلہ کرنے میں مدد تو کی لیکن اس مشکل میں ہوں:
قطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات

اب کس القاب سے نوازوں؟

موسیقی کے ایک ممتاز دانش ور رشید ملک کی تحقیق کے مطابق ہماری موسیقی کے پس منظر میں نورس یا جذبے کارفرما ہیں اور ہر راگ کی تشکیل میں کوئی ایک جذبہ یا رس موجزن نظر آتا ہے۔
یہ نو جذبے یا رس درج ذیل ہیں:
1۔سنگھار رس (جذبۂ محبت)
2۔ ویر رس (جذبۂ شجاعت)
3۔ بپھتس رس (جذبۂ نفرت)
4۔ زور رس (جذبۂ غیض و غضب)
5۔ بھیانک رس (جذبۂ خوف)
6۔ہاسیارس (جذبۂ سرور)
7۔ کرون رس (جذبۂ رحم)
8۔اوبھت رس (جذبۂ حیرت)
9۔ سانت رس (جذبۂ سکون)
راگ کی تصنیف کرنے والا کوئی بھی ماہرِ موسیقی راگ کو تشکیل دیتے وقت انہیں احساسات اور جذبات کو راگ کے مزاج میں شامل کردیتا ہے۔ گانے والا تو محض اس جذبے یا رس کی بازیافت کرتا ہے اور سُر کے ذریعے سامعین کے موڈ یا اندرونی تحریک کو اُبھارتا ہے اور یہ مکمل طور پر گانے والے پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک سامعین کو اپنے غنائی تجربے میں شامل کرتا ہے ، سُر، تال اور بندش موسیقی کے اجزائے ترکیبی ضرور ہیں مگر یہ موسیقی نہیں ہیں۔ جیسے ہم اینٹ، گارے اور پتھر کو عمارت نہیں کہہ سکتے۔ سُر،تال، بندش، آواز ، تعلیم، ریاضت اور محنت بھی ایک حد تک ہی راگ کی تعمیر و تشکیل میں مدد کرتے ہیں۔ راگ کے خدوخال صرف اسی وقت اُجاگر ہوتے ہیں جب یہ تمام اجزا فن کار کے ذہن کی بھٹی میں تپ کر تخلیق کا درجہ اختیار کرتے ہیں۔
( ’’خاک سے اُٹھنے والا فن ‘‘ڈاکٹر جواز جعفری، ص 12)
خواہ آپ اس تجزیے کو کم عملی یا لاعلمی سے تعبیر کریں لیکن میں مندرجہ بالا حوالوں کے تناظر میں کیا یہ کہنے میں حق بہ جانب نہیں ہوں کہ مجھے تو اپنے فن کار طلعت حسین میں ’’ نو کے نو‘‘ جذبوں کی ادائی موقع محل کے اعتبار سے بہ درجہ اتم محسوس ہوتی ہے اور اپنے کردار کو اپنے ذہن کی بھٹی سے گزار کر ایسا کندن بنادیتے ہیں کہ ناظرین کا موڈ صرف بہتر ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کی اندرونی تحریک میں بھی وہ کیفیت جنم لیتی ہے کہ وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں :
وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
اب ہمارے کہنے کے لیے تو کچھ رہ ہی نہیں گیا، ہم تو صرف اتنا کہیں گے:
اتفاق اپنی جگہ، خوش قسمتی اپنی جگہ
خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ
بہ صد احترام:
خوش گفتار، خوش خرام، خوش ادا، خوش اخلاق ، خوش فہم، خوش ظن، خوش سلوک، خوش دل ، خوش حیثیت، خوش خیال، خوش اطوار ، خوش خصال، خوش کلام، خوش تدبیر، خوش آواز، خوش طبع۔
قابلِ صد ستائش طلعت حسین کی خدمت میں سلامِ عاجزانہ…
آپ کا ایک پرستار
محمود اختر خان


متعلقہ خبریں


وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر