... loading ...
یوں تو سندھ کے کم وبیش تمام شہروں کو کسی نہ کسی اعتبار سے تاریخی حیثیت حاصل ہے لیکن حیدرآباد، سکھر، خیرپور اور عمر کوٹ کو ان میں دوسروں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔خیرپور کو سندھ کاپانچواں سب سے زیادہ آبادی والا شہر تصور کیاجاتاہے ، جبکہ رقبے کے اعتبار سے یہ سندھ کا تیسرا سب سے بڑا ضلع ہے ، خیرپور ضلع 8تعلقوں ،15ٹائونز اور89یونین کونسلوںپر مشتمل ہے اور2017 کی مردم شماری کے مطابق اس ضلع کی مجموعی آبادی 2.4 ملین یعنی24لاکھ بتائی گئی ہے۔
خیرپور ضلع میں شامل معروف شہروں میں خیرپور کے علاوہ رانی پور ،گمبٹ، کاروندی، ٹھری میر واہ، کوٹ ڈیجی اورسوبھو ڈیرو شامل ہے۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتاہے کہ1783 میں میر سہراب خان تالپور نے ایران سے سندھ آکر خیر پور شہر کی بنیاد رکھی تھی، اوریہی وجہ ہے کہ ابتدا میں یہ شہر سہراب پور کے نام سے مشہور ہوا ،بعد میں اسے یہاں کے نواب کے فلاحی اور خیر کے کاموںکی مناسبت سے خیرپور کے نام سے مشہور ہوا۔جس کے بعد یہ شہر 1955تک نوابوں کے زیر انتظام ریاست کے طورپر اپنی پہچان قائم رکھنے میں کامیاب رہا، اس شہر کو سچل سرمست جیسے سندھ کے معروف صوفی شاعر کامرکز رہنے کابھی شرف حاصل رہاہے ۔سچل سرمست کامزار آج بھی رانی پور کے قریب مرجع خلائق ہے۔سچل سرمست کے مزار پر حاضری کے لیے صرف سندھ اور پاکستان کے دیگر شہروں سے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے صوفیانہ کلام کے رسیااس عظیم صوفی شاعر کوخراج عقیدت پیش کرنے یہاں آتے ہیں، دیگر شہروں سے خیرپور آنے والے لوگ بھی سچل سرمست کے مزار پر حاضری دینے ضرور جاتے ہیں۔
صوفی شاعر سچل سرمست کے علاوہ تاریخی عمارتیں بھی خیرپور کی پہچان ہیں۔یہ تاریخی فن تعمیر کا نادر نمونہ تصور کی جانے عمارتیں دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ خیرپور آتے ہیں اور ان تاریخی عمارتوں کو دیکھ کر قدیم فن تعمیر اور عمارتوں کی خوبصورتی سے استفادہ کرتے ہوئے ملک کے دیگر شہروں میں اس طرح کی عمارتیں تعمیر کرانے کاعزم لیے واپس جاتے ہیں۔
1947 میں قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کرکے سندھ آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے خیرپور کارخ کیا جہاں کے نواب نے ان کاکھلے دل سے خیر مقدم کیا اور ان کو قیام اور روزگار کے حصول کے تمامتر مواقع فراہم کیے ،قیام پاکستان کے بعد خیرپور کو مزید ترقی دی گئی اور اس شہر اوراس کے نواح میں ٹیکسٹائل، ریشمی کپڑوں ،چمڑے کی اشیا اورماچس ،جوتے ،سگریٹ اورصابن تیار کرنے کے کارخانے قائم کیے گئے جس سے ایک طرف خیرپور اور گردونواح کے لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع حاصل ہوئے اور اس شہر کی شہرت میں بھی اضافہ ہوا۔ خیرپور کی وجہ شہرت اس شہر کی کھجور بھی ہے جو نہ صرف پورے ملک میں شوق سے کھائی جاتی ہے بلکہ دور دراز علاقوں میں بطور تحفہ بھیجی جاتی ہے۔
میرسہراب خان تالپور کے دور میں اس شہر میں تعمیر کی گئی تاریخی عمارتوں میں مشہور فیض محل شامل ہے۔فیض محل میں تاریخی یادگاروںاورخیرپور کے شاہی خاندان کی تصاویر آویزاں ہیں،ان میں بعض تصاویر خیر پور کے ریلوے اسٹیشن پر تالپور کی فوجوں کی ہے جن میں وہ نوابزادہ قائد ملت لیاقت علی خاں کو گارڈ آف آنر پیش کرتے نظر آرہی ہیں۔اس کے علاوہ ان میں میر علی نواز خاں تالپور کو ترکی کے وفد کے ارکان اورحیدرآباد دکن کے نواب کے ساتھ علی گڑھ یونیورسٹی میں ملاقات کی تصاویر شامل ہیں جس میں وہ اس دور میں علی گڑھ یونیورسٹی کو ایک لاکھ روپے عطیہ دیتے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔ان میں تالپور خاندان کی بعض تصاویربھی شامل ہیں،فیض محل کے ڈائننگ روم کا فرنیجر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیاگیاہے،س کے علاوہ اس میں چاندی سے تیار کردہ ایک کرسی بھی رکھی نظر آتی ہے۔ میر سہراب خان نے کوٹ ڈیجی بھی تعمیر کرایا اور اس کو ایک شہر کی حیثیت دی۔خیرپور کے حکمران خاندان کے چشم وچراغ میر علی مراد خان تالپور ابھی زندہ ہیں ان کی پرورش برطانیا میں ہوئی لیکن وہ 18سال کی عمر میں خیرپور واپس آئے اور اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم اور قائد اعظم کے دست راست قائد ملت لیاقت علی خان نے مقامی روایات کے مطابق ان کی تاجپوشی کی اور اس ریاست کی سربراہی ان کے سپرد کی تھی۔ ان کے بڑے بیٹے کانام عباس خان تالپوراورسب سے چھوٹے بیٹے کا نام مہدی تالپور تھا۔
میرسہراب خان اور ان کے جانشینوں نے تعلیم کو شروع ہی سے اولیت دی اورتعلیم کوترقی کی بنیادقرار دیا اورریاست میں تعلیم عام کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے،تالپور خاندان کی خواہش تھی کہ ان کی ریاست میں کوئی بچہ یابچی ناخواندہ نہ ہے، وہ خیرپور کے ہر غریب وامیر کوتعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے تھے۔
شہزادہ میر مہدی تالپور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے آبائو اجداد اور قائد اعظم کے درمیان 3اکتوبر 1947 کو ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں اس بات پر اتفاق کیاگیاتھا کہ ریاست خیرپور دفاع، مواصلات اورامور خارجہ میں پاکستان کے ساتھ معاونت کرے گی، اس معاہدے میں یہ بھی طے پایاتھا کہ ملک کے آئین میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باوجود ریاست کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اس معاہدے کے تحت 16ہزار کیلومیٹر رقبے پر محیط خیرپور کا پاکستان میں الحاق کردیاگیاتھا لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد حالات تبدیل ہوتے گئے اور 1955میں حکومت نے خیرپور کی ریاستی حیثیت ختم کردی اوراس طرح خیرپور اپنی آزاد حیثیت سے محروم ہوگیا۔
اگرچہ خیرپور کو اب آزاد ریاست کی حیثیت حاصل نہیں ہے لیکن اس شہر کو اب بھی سندھ کے دیگر شہروں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور تالپور دور میں اس ریاست میں تعمیر کی جانے والی عمارتوں کی شان وشوکت آج بھی روز اول کی طرح پوری دنیا میں بے مثال تصور کی جاتی ہے۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا ٹرین کی بوگیوں کے پرخچے اڑ گئے، قریبی عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس پارک کی گئی کم و بیش 10 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں ٹرین میں سکیورٹی اہلکار اور ان کے فیملی ممبرز خواتین و بچے سوار تھے، منگل سے شروع ہونیوالی عید الاضحیٰ کی چھٹیاں منا...
رضاکار اپنے ملک واپس آرہے تھے بلباؤ میں ایئرپورٹ پولیس نے حملہ کیا رضاکاروں پر باسک پولیس کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی غزہ کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے انسانی بنیاد پر فلسطینیوں کو امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کو اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد ...
پاکستان ترقی میں جلد چین کے ہم قدم ہوگا،چین میں مزدوروں کی لاگت کافی مہنگی ہو چکی ہے اپنے پلانٹس و مشینری پاکستان لائیں، مشترکہ منصوبوں پر کام کریں، وزیراعظم کا تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قرض نہیں سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی چاہیے، پاکستان ترقی میں جلد چین کے...
موجودہ حساس صورتحال میں قومی اتحاد اور اجتماعی فیصلوں کی پابندی انتہائی ضروری ہے ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپریم لیڈر کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سمیت ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپ...
وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...
3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...
دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...
جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...
سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...
ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...
سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...