وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں بجلی اور پانی کا بحران

جمعه 27 اپریل 2018 کراچی میں بجلی اور پانی کا بحران

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مْلک میں بجلی طلب سے زیادہ ہے، جہاں بجلی چوری ہو گی وہاں لوڈشیڈنگ کی تکلیف برداشت کرنا ہو گی۔کراچی میں بجلی کی مکمل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ 100فیصد بلوں کی ادائیگی سے مشروط ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ کراچی میں بجلی کا بحران حل کر دیا ہے۔ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کے درمیان جاری مسائل کو حل کرا دیا ہے،کے الیکٹرک کو جتنی گیس کی ضرورت ہو گی وہ سوئی سدرن گیس کمپنی فراہم کرے گی اِس پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کراچی کو ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی فراہمی پر وفاق اور سندھ حکومت کا کوئی تنازع نہیں، کے الیکٹرک اور دوسرے اداروں کے درمیان واجبات کی ادائیگی کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔ وہ اگلے پچیس دِنوں میں مسئلے کا حل کرائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں 50سے60فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے، وہاں بلا تعطل بجلی فراہم نہیں کر سکتے۔کراچی میں اگر بجلی کے بلوں کی ادائیگی موثر طریقے سے کی جائے گی تو لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے اور پانی کی قلت کی وجہ کیا ہے اِس کا فیصلہ ماہرین کو بیٹھ کر کرنا چاہئے اور اسے سیاسی بنانے سے گریز کرنا چاہئے اِس کا پائیدار حل وہی ہو گا جو حقیقی اسباب کو دور کر کے کیا جائے گا، لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا جو حل وزیراعظم نے نکالا ہے وہ وقتی اور عبوری طور پر تو کارآمد ہو گا،لیکن اِس کا مستقل حل نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسباب و علل دور کئے جائیں جن کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوتا ہے، کے الیکٹرک کو وفاق کی جانب سے جو بجلی فراہم کی جاتی ہے اس میں تو کوئی کمی نہیں کی گئی،اگر ایسا ہوتا تو وفاق کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا،اصل معاملہ یہ ہے کہ کے الیکٹرک نے سوئی سدرن کے80ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں، جس کی وجہ سے گیس کی فراہمی بند کر دی گئی اور گیس سے کے الیکٹرک جو بجلی بناتا ہے وہ نہ بن سکی۔ظاہر ہے ایسی صورت میں لوڈشیڈنگ تو ہونا تھی۔وزیراعظم کے حکم سے اگر عبوری طور پر گیس بحال کر دی گئی ہے تو بھی اصل ضرورت یہ ہے کہ واجبات کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ کے الیکٹرک واجبات کی ادائیگی کیوں نہیں کر رہی اور کب تک اِس معاملے کو لٹکایا جاتا رہے گا،پہلے بھی جب کراچی میں بجلی کا بحران پیدا ہوا تھا تو پنجاب کے حصے کی بجلی کم کر کے کراچی کو پوری بجلی دی جاتی رہی تھی،غالباً کے الیکٹرک کی انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ اْسے جو سستی بجلی ملتی ہے اسی کو سپلائی کر کے کمائی کی جاتی رہے اور گیس سے بجلی کم سے کم بنائی جائے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ کے الیکٹرک نے وعدے کے مطابق اپنے پلانٹ پر وہ سرمایہ کاری بھی نہیں کی جو اَپ گریڈیشن کے لیے ضروری تھی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو بحران پیدا نہ ہوتا، اب وزیراعظم نے اگر اپنے مشیر کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ ایک معینہ مدت کے اندر مسئلہ حل کرائیں تو بھی واجبات کی ادائیگی تو بہر حال کرنا ہو گی، کیونکہ کے الیکٹرک کاروباری ادارہ ہے وہ بجلی کی فروخت سے معقول منافع کماتا ہے، اِس لیے اسے اپنی ادائیگیوں کا حساب صاف رکھنا چاہئے وہ کوئی رفاہی ادارہ تو نہیں ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقوم اسے معاف کر دی جائیں، اِس لیے اس سارے معاملے کو مستقل اور درست بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک شہر میں پانی کی قلت کا تعلق ہے وہ آج سے نہیں،عشروں سے موجود ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ مسئلہ حل کرنے کی جانب کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی، اِسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانی کا مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا رہا ہے۔ دس سال سے صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اس وقت تو صوبائی حکومت کو وفاق سے شکایات ہو سکتی ہیں،لیکن جب وفاق میں بھی پیپلزپارٹی حکمران تھی اور پارٹی کے صدر مْلک کے صدر بھی تھے اْس وقت تو پانی کا مسئلہ حل ہو جانا چاہئے تھا، لیکن اس تمام عرصے میں شہری پانی کے سلسلے میں مشکلات کا شکار رہے اس کی بڑی وجہ بظاہر یہ ہے کہ شہر کو جو پانی سپلائی ہوتا ہے، اس کا بیشتر حصہ کثیر المنزلہ عمارتیں لے جاتی ہیں ان عمارتوں میں رہائش پذیر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انہیں پانی کی جتنی ضرورت ہوتی ہے اس کا اہتمام تو بلڈنگ بنانے والوں کو کرنا چاہئے،لیکن وہ اس سے احتراز کرتے ہیں نتیجتاً شہر کو سپلائی ہونے والا پانی کم پڑ جاتا ہے اور لوگوں کو احتجاج کرنا پڑتا ہے، احتجاج سے مسئلہ تو سامنے آ جاتا ہے، لیکن حل نہیں نکلتا،حل تو صوبائی حکومت اور شہر کے میئر کو مل بیٹھ کر ہی نکالنا ہو گا،لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت ایک پارٹی کی ہے اور میئر کاتعلق دوسری سیاسی جماعت سے ہے،دونوں کی نہ صرف آپس میں نہیں بنتی،بلکہ وہ ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے رہتے ہیں۔میئر وسائل میں کمی کا رونا روتے ہیں تو صوبائی حکومت الزام لگاتی ہے کو جو وسائل میئر کی ڈسپوزل پر ہیں ان کا درست استعمال نہیں ہو رہا اور ان میں خوردبْرد ہوتی ہے۔اب الزام تراشی اور مٹکے توڑ کر احتجاج کرنے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا، وزیراعظم کراچی میں تھے تو انہیں کوشش کر کے فریقین کو ایک میز پر بٹھا کر پانی کا مسئلہ بھی حل کرانا چاہئے تھا، ویسے تو جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم بھی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں،لیکن معاملہ پھر بھی حل ہونے میں نہیں آرہا،اب جس شہر کی دو بنیادی ضرورتیں ہی پوری نہیں ہو رہی ہیں وہ اپنے باقی مسئلے کیسے حل کرے گا اس کا جواب تو حکومت اور آبائے شہر کے ذمے ہے،البتہ بلڈرز اس تمام تر صورتِ حال میں اپنے کاروباری مفادات حاصل کرنے میں کسی نہ کسی طرح کامیاب ہیں ایسی صورت میں احتجاج کی لہر کیا رنگ لائے ۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر