وجود

... loading ...

وجود

سندھ گیمز کھلاڑیوں کے ساتھ بڑا مذاق

جمعرات 26 اپریل 2018 سندھ گیمز کھلاڑیوں کے ساتھ بڑا مذاق

بالآخر17ویں سندھ گیمز22اپریل 2018 کو اپنے اختتام کو پہنچے،سندھ گیمز میں ایک بار پھر کراچی نے میدان مار لیا ، کراچی ڈویژن نے 126گولڈ ، 36سلور اور 16 برانز میڈل جیتے حیدرآباد15گولڈ ،61سلور اور 46میڈلز کے ساتھ دوسری پوزےشن پر رہا جبکہ سکھر12گولڈ ،20سلور اور51برانز میڈل کےساتھ تےسرا نمبر پر رہا ، وننگ ٹرافی کو مائی کلاچی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جو کراچی کے حصے میں آئی ، سندھ گیمز کا آغاز گورنر سندھ نے19اپریل 2018کو کیا تھا افتتاحی تقریب میں سندھ کا ثقافتی رنگ بھی نظر نہیں آیا اور سندھ گیمز کا کوئی تھیم سانگ بھی نہیں تھا۔ افتتاحی تقریب میںگورنر سندھ محمد زبیر، وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر ، اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان ، اولمپئین اصلاح الدین صدیقی و دیگر بھی موجود تھے ، سندھ گیمز کے آغاز کی مشعل اولمپئین اصلاح الدین اور جہانگیر خان نے روشن کی ، سندھ گیمز میں اس مرتبہ بے نظیر آباد ڈویژن کا اضافہ کیا گہا تھا جس کے باعث ایونٹ میں شریک ڈویژن کی کل تعداد 6تھی ۔

سندھ گیمز کے مقابلوں کے پہلے ہی دن چیک باؤنس ہونے کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہیں جبکہ دوسرے دن سندھ گیمز میں خراب گدوںکا دھماکا ہوگیا ، خراب گدے استعمال کرنے کے باعث کئی ایتھلیٹ زخمی بھی ہوئے،جس پر وضاحت دیتے ہوئے سندھ کے صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش نے کہا کہ سندھ گیمزکے انتظامات کی ذمہ داری سندھ حکومت کی نہیں وفاق کی تھیں پی ایس بی میں خراب گدے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے فراہم کیے خراب گدوں کے ذمہ داروںکو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے، جبکہ پی ایس بی کے قائم مقام ڈائریکٹر شہزاد پرویز بھٹی تھے جن سے جواب طلب نہیںکیا گیا بلکہ غیر سرکاری طور پر ایتھلیٹکس کے کوچ عبداللہ چانڈیو پر سارا ملبہ ڈال دیا، سندھ گیمز میں بے شمار خبریں میڈیا میںآتیں رہیں جس میں کھلاڑیوںکو ٹرانسپورٹ ، رہائش اور پانی نہ ملنا بھی شامل تھا، سندھ سے آئے کچھ ایتھلتٹس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات کو ہم ایک پارک میں سوئے کیونکہ کراچی میںہمارے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی تو پارک کے مالی نے ایک قالین بچھا دی جس پر ہم نے رات بسر کی اس طرح کی خبریں حیران کن اور افسوسناک ہے کہ جن کھلاڑیوں کی وجہ سے سندھ گیمز ہورہے ہیں جو ان گیمزکے اصل ہیرو ہیں ان کو کوئی سہولت نہیں دی جارہی بلکہ الٹا ان کا مذاق اُڑیا جارہا ہے ، سندھ گیمزمیں پی ایس بی میں کوڈی کوڈی کے ایک میچ میں لاڑکانہ اور سکھر کے کھلاڑیوں کی آپس میں ہاتھا پائی ہو گئی میڈیا کے پہنچنے پر انتظامیہ نے معاملہ کو دبا دیا جبکہ سکھر اور لاڑکانہ کے مابین میچ میں ایک پوائنٹ کے معاملے پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور آفیشلز ایک مرتبہ پھرآمنے سامنےآ گئے او ردس منٹ کی تکرار کے بعد کھیل کو دوبارہ شروع کیا گیااس معاملے میں میچ ریفری بالکل بے بس نظر آئے جبکہ کراچی کے کھلاڑیوں کو نہ کھلانے کی شکایت بھی موصول ہوئی ، کوڈی کوڈی کے ایک کھلاڑی عمران گجر کو اس بنیاد پرنہیں کھلایا گیا کہ اس کے شناختی کارڈ پر دوسرا ایڈریس پنجاب کا درج ہے جس پر لاڑکانہ کی ٹیم نے اعتراض کیا جس کے باعث عمران گجر کو نہیںکھلایا گیا جبکہ سندھ گیمز میں بطور کھلاڑی شرکت کرنے کا کارڈعمران کے پاس موجود تھا ایسے ہی بہت سے معاملات تھے جس کی وجہ سے سندھ گیمز ایک مذاق سے زیادہ کچھ نظر نہیں آئے، پہلے ہی دن آفیشلز کے چیک بھی باؤنس ہونے کی خبریں ذرائع سے موصول ہوئی ،انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دیے گئے جوتوں اور کٹس کے سائز کا بھی مسئلہ بنا رہا ، ویمن کھلاڑیوں کو دیے گئے کچھ جوتوں کے سائز بہت بڑے تھے۔ جب میڈیا نے احمد علی راجپوت سے رابطہ کیا تو انہوں کہا کہ میڈیا کی خبروںمیں صداقت نہیں ہے سارے معاملات صحیح رہے ہیں ، جب احمد علی راجپوت کو خراب گدوں کی وڈیو دکھائی گئی تو انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس گدے ہیں ہی نہیں تو ہم کہاں سے دیں ان کا یہ جواب بھی لمحہ فکریہ ہے اگر انتظامیہ کے پاس ایتھلیٹکس کا مکمل سامان موجودنہیں تو سندھ حکومت یا متعلقہ اداروں کو بتایا جاتا یا تو پھر اُن ایونٹس کو سند ھ گیمز میں شامل ہی نہیں کیا جاتا اس طرح کھلاڑیوں کی زندگی سے کھیلنے حق کسی کے پاس نہیں ۔

سندھ گیمز کے لیے 4کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ رکھا گےا تھا اس کے باوجود کئی وینیوز پر کھلاڑیوں کے لیے پینے کا پانی تک نہیں تھا کھلاڑی اپنی جیب سے ہی پانی خرید کر پیتے رہے ، کوڈی کوڈی کے ایک میچ میں کھلاڑیوںکے شور کرنے پر ان کو پانی کی بوتلیں فراہم کی گئیں اتنی شدید گرمی میں کم از کم پانی کا مناسب بندوبست کیا جاتا ، کسی بھی وینیو پر کوئی ایمبولنس موجود نہیں تھی اور نہ ہی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی گئی تھی۔

سندھ گیمز میںحور فواد اور شفیع اللہ جیسے ایتھلیٹس کو دیکھ کر خوش کن احساس ہوا کیونکہ حور فواد9سالہ کم عمر ایتھلیٹ تھیں جنہوں نے ٹیبل ٹینس کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا جو کہ خوش آئند ہے اور ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہر سطح پر موجود ہے جبکہ شفیع اللہ عمر رسےدہ ایتھلیٹ تھے 51سالہ شفیع اللہ نے ڈسکس تھرو میں سلورمیڈل جیت کر اپنے جوان اور بلند حوصلہ ہونے کا اعلان کیا ۔

اگر اختتامی تقریب پر نظر ڈالیں تو وہ بھی تاخیر کا شکار رہی ساڑھے پانچ شام شروع ہونے والی تقریب 6بجے کے بھی بعد شروع ہوئی جبکہ ٹیبلو پیش کرنے والے اسکول کے بچے اور بچیاں سہ پہر 3بجے سے شدید گرمی میں پی ایس بی میں موجو دتھے اور ان تک کے لیے پانی نہیں تھا۔سندھ گیمز کی اختتامی تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تھے انہوں نے کہا کہ انتھک محنت سے پی ایس ایل فائنل ، ویسٹ انڈیز سے ٹی ٹوئنٹی سیریز اور پھر سند ھ گیمزکا انعقاد ممکن بنایا ، انہوںنے کہا کہ وزیرکھیل اور سیکریٹری اسپورٹس اور دیگر نے دن رات ایک کیا ، انہوںنے کہا اگلے سال انتظامات اور بہترنظر آئینگے 6سال بعد ہونے والے سندھ گیمز میں کچھ شکایات ضرور موصول ہوئیں لیکن ہم بہتر سے بہتر کی طرف جائیںگے ۔اختتامی تقریب میں رسہ کشی کا نمائشی میچ بھی کھیلا گیا ، چیف منسٹر کی ٹیم نے اسپورٹس منسٹر کی ٹیم کو شکست دی ، چیف منسٹر کی ٹیم کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جبکہ اسپورٹس منسٹر کی ٹیم کی قیادت سردارمحمد بخش مہر کررہے تھے۔آتش بازی کے مظاہرے کے دوران پاکستان اسپورٹس بورڈ سینٹر کی جھاڑیوںمیں آگ بھی لگی جسے کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد اسکاؤٹس نے بجھادیا جبکہ آگ بجھانے کے لیے پانی کابھی کوئی انتظام نہیں تھا اسکاؤٹس نے مٹی اور فوری طور پر دستیاب اشیاءسے آگ کو بجھایا اتنی دیر میں آگ نے کافی جھاڑیوں کو خاکستر کردیا ۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اگلے سال سندھ گیمز لاڑکانہ میں کرانے کا اعلان کیا جبکہ وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے مشعل لاڑکانہ کے چیف ڈی مشن کے حوالے کی ، اس موقع پر وزیرکھیل نے کہا کہ لاڑکانہ میں ہونے والے سندھ گیمز کو بہترین بنانے کی کوشش کریں گے ۔ اگلے سال سندھ گیمز میں مزید بہتری کی امید ہے کیونکہ” امید پر دنیا قائم ہے “۔


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر