وجود

... loading ...

وجود

سندھ گیمز کھلاڑیوں کے ساتھ بڑا مذاق

جمعرات 26 اپریل 2018 سندھ گیمز کھلاڑیوں کے ساتھ بڑا مذاق

بالآخر17ویں سندھ گیمز22اپریل 2018 کو اپنے اختتام کو پہنچے،سندھ گیمز میں ایک بار پھر کراچی نے میدان مار لیا ، کراچی ڈویژن نے 126گولڈ ، 36سلور اور 16 برانز میڈل جیتے حیدرآباد15گولڈ ،61سلور اور 46میڈلز کے ساتھ دوسری پوزےشن پر رہا جبکہ سکھر12گولڈ ،20سلور اور51برانز میڈل کےساتھ تےسرا نمبر پر رہا ، وننگ ٹرافی کو مائی کلاچی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا جو کراچی کے حصے میں آئی ، سندھ گیمز کا آغاز گورنر سندھ نے19اپریل 2018کو کیا تھا افتتاحی تقریب میں سندھ کا ثقافتی رنگ بھی نظر نہیں آیا اور سندھ گیمز کا کوئی تھیم سانگ بھی نہیں تھا۔ افتتاحی تقریب میںگورنر سندھ محمد زبیر، وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر ، اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان ، اولمپئین اصلاح الدین صدیقی و دیگر بھی موجود تھے ، سندھ گیمز کے آغاز کی مشعل اولمپئین اصلاح الدین اور جہانگیر خان نے روشن کی ، سندھ گیمز میں اس مرتبہ بے نظیر آباد ڈویژن کا اضافہ کیا گہا تھا جس کے باعث ایونٹ میں شریک ڈویژن کی کل تعداد 6تھی ۔

سندھ گیمز کے مقابلوں کے پہلے ہی دن چیک باؤنس ہونے کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہیں جبکہ دوسرے دن سندھ گیمز میں خراب گدوںکا دھماکا ہوگیا ، خراب گدے استعمال کرنے کے باعث کئی ایتھلیٹ زخمی بھی ہوئے،جس پر وضاحت دیتے ہوئے سندھ کے صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش نے کہا کہ سندھ گیمزکے انتظامات کی ذمہ داری سندھ حکومت کی نہیں وفاق کی تھیں پی ایس بی میں خراب گدے پاکستان اسپورٹس بورڈ نے فراہم کیے خراب گدوں کے ذمہ داروںکو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے، جبکہ پی ایس بی کے قائم مقام ڈائریکٹر شہزاد پرویز بھٹی تھے جن سے جواب طلب نہیںکیا گیا بلکہ غیر سرکاری طور پر ایتھلیٹکس کے کوچ عبداللہ چانڈیو پر سارا ملبہ ڈال دیا، سندھ گیمز میں بے شمار خبریں میڈیا میںآتیں رہیں جس میں کھلاڑیوںکو ٹرانسپورٹ ، رہائش اور پانی نہ ملنا بھی شامل تھا، سندھ سے آئے کچھ ایتھلتٹس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات کو ہم ایک پارک میں سوئے کیونکہ کراچی میںہمارے پاس رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی تو پارک کے مالی نے ایک قالین بچھا دی جس پر ہم نے رات بسر کی اس طرح کی خبریں حیران کن اور افسوسناک ہے کہ جن کھلاڑیوں کی وجہ سے سندھ گیمز ہورہے ہیں جو ان گیمزکے اصل ہیرو ہیں ان کو کوئی سہولت نہیں دی جارہی بلکہ الٹا ان کا مذاق اُڑیا جارہا ہے ، سندھ گیمزمیں پی ایس بی میں کوڈی کوڈی کے ایک میچ میں لاڑکانہ اور سکھر کے کھلاڑیوں کی آپس میں ہاتھا پائی ہو گئی میڈیا کے پہنچنے پر انتظامیہ نے معاملہ کو دبا دیا جبکہ سکھر اور لاڑکانہ کے مابین میچ میں ایک پوائنٹ کے معاملے پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور آفیشلز ایک مرتبہ پھرآمنے سامنےآ گئے او ردس منٹ کی تکرار کے بعد کھیل کو دوبارہ شروع کیا گیااس معاملے میں میچ ریفری بالکل بے بس نظر آئے جبکہ کراچی کے کھلاڑیوں کو نہ کھلانے کی شکایت بھی موصول ہوئی ، کوڈی کوڈی کے ایک کھلاڑی عمران گجر کو اس بنیاد پرنہیں کھلایا گیا کہ اس کے شناختی کارڈ پر دوسرا ایڈریس پنجاب کا درج ہے جس پر لاڑکانہ کی ٹیم نے اعتراض کیا جس کے باعث عمران گجر کو نہیںکھلایا گیا جبکہ سندھ گیمز میں بطور کھلاڑی شرکت کرنے کا کارڈعمران کے پاس موجود تھا ایسے ہی بہت سے معاملات تھے جس کی وجہ سے سندھ گیمز ایک مذاق سے زیادہ کچھ نظر نہیں آئے، پہلے ہی دن آفیشلز کے چیک بھی باؤنس ہونے کی خبریں ذرائع سے موصول ہوئی ،انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دیے گئے جوتوں اور کٹس کے سائز کا بھی مسئلہ بنا رہا ، ویمن کھلاڑیوں کو دیے گئے کچھ جوتوں کے سائز بہت بڑے تھے۔ جب میڈیا نے احمد علی راجپوت سے رابطہ کیا تو انہوں کہا کہ میڈیا کی خبروںمیں صداقت نہیں ہے سارے معاملات صحیح رہے ہیں ، جب احمد علی راجپوت کو خراب گدوں کی وڈیو دکھائی گئی تو انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس گدے ہیں ہی نہیں تو ہم کہاں سے دیں ان کا یہ جواب بھی لمحہ فکریہ ہے اگر انتظامیہ کے پاس ایتھلیٹکس کا مکمل سامان موجودنہیں تو سندھ حکومت یا متعلقہ اداروں کو بتایا جاتا یا تو پھر اُن ایونٹس کو سند ھ گیمز میں شامل ہی نہیں کیا جاتا اس طرح کھلاڑیوں کی زندگی سے کھیلنے حق کسی کے پاس نہیں ۔

سندھ گیمز کے لیے 4کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ رکھا گےا تھا اس کے باوجود کئی وینیوز پر کھلاڑیوں کے لیے پینے کا پانی تک نہیں تھا کھلاڑی اپنی جیب سے ہی پانی خرید کر پیتے رہے ، کوڈی کوڈی کے ایک میچ میں کھلاڑیوںکے شور کرنے پر ان کو پانی کی بوتلیں فراہم کی گئیں اتنی شدید گرمی میں کم از کم پانی کا مناسب بندوبست کیا جاتا ، کسی بھی وینیو پر کوئی ایمبولنس موجود نہیں تھی اور نہ ہی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی گئی تھی۔

سندھ گیمز میںحور فواد اور شفیع اللہ جیسے ایتھلیٹس کو دیکھ کر خوش کن احساس ہوا کیونکہ حور فواد9سالہ کم عمر ایتھلیٹ تھیں جنہوں نے ٹیبل ٹینس کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا جو کہ خوش آئند ہے اور ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ ہر سطح پر موجود ہے جبکہ شفیع اللہ عمر رسےدہ ایتھلیٹ تھے 51سالہ شفیع اللہ نے ڈسکس تھرو میں سلورمیڈل جیت کر اپنے جوان اور بلند حوصلہ ہونے کا اعلان کیا ۔

اگر اختتامی تقریب پر نظر ڈالیں تو وہ بھی تاخیر کا شکار رہی ساڑھے پانچ شام شروع ہونے والی تقریب 6بجے کے بھی بعد شروع ہوئی جبکہ ٹیبلو پیش کرنے والے اسکول کے بچے اور بچیاں سہ پہر 3بجے سے شدید گرمی میں پی ایس بی میں موجو دتھے اور ان تک کے لیے پانی نہیں تھا۔سندھ گیمز کی اختتامی تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تھے انہوں نے کہا کہ انتھک محنت سے پی ایس ایل فائنل ، ویسٹ انڈیز سے ٹی ٹوئنٹی سیریز اور پھر سند ھ گیمزکا انعقاد ممکن بنایا ، انہوںنے کہا کہ وزیرکھیل اور سیکریٹری اسپورٹس اور دیگر نے دن رات ایک کیا ، انہوںنے کہا اگلے سال انتظامات اور بہترنظر آئینگے 6سال بعد ہونے والے سندھ گیمز میں کچھ شکایات ضرور موصول ہوئیں لیکن ہم بہتر سے بہتر کی طرف جائیںگے ۔اختتامی تقریب میں رسہ کشی کا نمائشی میچ بھی کھیلا گیا ، چیف منسٹر کی ٹیم نے اسپورٹس منسٹر کی ٹیم کو شکست دی ، چیف منسٹر کی ٹیم کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جبکہ اسپورٹس منسٹر کی ٹیم کی قیادت سردارمحمد بخش مہر کررہے تھے۔آتش بازی کے مظاہرے کے دوران پاکستان اسپورٹس بورڈ سینٹر کی جھاڑیوںمیں آگ بھی لگی جسے کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد اسکاؤٹس نے بجھادیا جبکہ آگ بجھانے کے لیے پانی کابھی کوئی انتظام نہیں تھا اسکاؤٹس نے مٹی اور فوری طور پر دستیاب اشیاءسے آگ کو بجھایا اتنی دیر میں آگ نے کافی جھاڑیوں کو خاکستر کردیا ۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اگلے سال سندھ گیمز لاڑکانہ میں کرانے کا اعلان کیا جبکہ وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر نے مشعل لاڑکانہ کے چیف ڈی مشن کے حوالے کی ، اس موقع پر وزیرکھیل نے کہا کہ لاڑکانہ میں ہونے والے سندھ گیمز کو بہترین بنانے کی کوشش کریں گے ۔ اگلے سال سندھ گیمز میں مزید بہتری کی امید ہے کیونکہ” امید پر دنیا قائم ہے “۔


متعلقہ خبریں


ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

مضامین
انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

بھارت بنگلہ دیش تعلقات وجود جمعرات 23 اپریل 2026
بھارت بنگلہ دیش تعلقات

ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر