... loading ...
بھارت بھر میں ذات پات پر بحث ایک مرتبہ پھر نمبروں کے کھیل میں تبدیل گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی حالیہ رولنگ جس میں1989ء کے شیڈولڈ کاسٹ ایکٹ کی کچھ شقوں کا غلط استعمال روکنے کی ہدایت کی گئی، کے بعد سے دلت کمیونٹی ملک بھر میں سڑکوں پر ہے۔ سپریم کورٹ کی رولنگ کے خلاف بھارت کی تقریباََ تمام بڑی پارٹیاں دلت کاز کے تحفظ کے عزم کا اظہار کر چکی ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ دلتوں کے احتجاجی مظاہرے اچانک شروع ہوئے، جس میں انہیں کسی پارٹی کی حمایت حاصل نہ تھی، تب بھی سیاسی جماعتیں جس طرح کے بیان اس وقت جاری کر رہی ہیں، صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
لگتا ہے کہ دلتوں کے مسائل سے متعلق بھارتی سیاست سیاسی درستگی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ، ماضی میں اس کی اہمیت خانہ پری سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ سیاسی جماعتیں اپنی قیادت کے ڈھانچے میں واضح تبدیلی کے بغیر دلتوں اور ان کی جدوجہد سے یکجہتی کا اظہا رکرتی رہی ہیں۔ لبرل، دائیں او ربائیں بازو کے مباحثوںمیں اگرچہ دلتوں کو فرضی قسم کی نمائندگی ملتی رہی ، مگر ہر جماعت حقیقی دلت رسم و رواج، اقدار اور نظریات سے بیزار دکھائی دی۔ تاریخی طور پر ان جماعتوں نے دلت ہونے کی ہر شکل کو قبول کرنے سے گریز کیا ، یا اس میں ناکام رہیں۔اس کی بڑی وجہ دلتوں کا بیانیہ بھی ہے جیسے غیر معقول ہونے کی وجہ سے سیاسی دھارے میں لانا ممکن نہیں۔سیاسی دھارے میں لانے کے لیے انہیں سدھانے کی ضرورت ہے، کہ فساد کا باعث بننے والی باتوں سے دور رہیں، تکلیف دہ رسم ورواج سے جان چھڑائیں۔ قومی دھارے میں لانے کے لیے آئینی و جمہوری آزادیوں کی سیاست کرنا پڑتی ہے۔
آزادی کے بعد کے بھارت میں اعلیٰ ذاتوں کے غلبے کی سیاست کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری رہا،جس کے لیے مختلف قسم کی نظریاتی سیاست کے سوانگ بھی رچائے گئے۔ خاتمے کے دعووں کے برعکس ذات پات کے نظام کو کسی نہ کسی شکل میں نئی زندگی ملتی رہی۔ دلت کے حوالے سے سیاسی درستگی کے لیے شوروغل ایک مرتبہ پھر اختلافات کی نذر ہو سکتا ہے، ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کے بغیر معمولی باتوں پر اتفاق رائے کا بھی امکان ہے۔
ڈاکٹر امبیدکر کو بطور ہندو پیش کرنا ، دلتوں کے ہیروز کو قومی یا مذہبی یکجہتی کے بیانیہ میں شامل کرنا اس کانٹ چھانٹ کی علامت ہے جوکہ سیاسی دھارے کے حوالے سے کیا جا رہا ہے۔ ایک سسٹم کے تحت اختلافات اور اختلاف رائے کمزور بنا کر دلت کئی اکائیوں میں تقسیم کیے جاتے رہے جس میں کچھ گروہوں کا کمتردنیا سے بظاہر تعلق نہیں، جبکہ بعض دلت گروپ روزانہ تذلیل اور تشدد کاسامنا بنتے ہیں۔ اپنی شناخت کے لیے جدوجہد اور سیاست کی کچھ حدود ہیں، ذات بات کے غالب نظام کے مدمقابل لایا جا ئے تو دلتوں کے پاس اسے سے لڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ فرضی اکائی جس میں ہندو مت، بھارتی یا کوئی بھی دوسری شناخت شامل ہیں، میں جذب ہونے کے لیے دلتوں کو وقار و مرتبے کے حصول کی لڑائی اور اس سلسلے کی جدوجہد کی مکمل نفی کرنا ہو گی۔
کئی عشروں سے جاری بعض مثبت پروگراموں اور ایک فعال دلت مڈل کلاس کے وجود میں آنے کا مطلب ہے کہ دلت سیاسی طاقت اور جوڑ توڑ کے ذریعے انتخابی سیاست پر واضح طور پر اثر انداز ہونگے۔ سپریم کورٹ کی رولنگ کے خلاف دلتوں کے مظاہرے دراصل سیاسی طور پر منوانے کی کوششوں کا حصہ ہے جن کا سلسلہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے ، جس میں متنازع کارٹون سے لے کر ضلع اونا میں گائے کے تحفظ کی تنظیم کے کارکنوں کا دلتوں پر تشدد، روہت ویمولا کی خودکشی اور مہاراشٹر میں بھیما کورے گاوں کی یاد منانے کے موقع پر فسادات شامل ہیں۔ ان واقعات پر دلتوں کے مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ دلت سیاست پختگی کی جانب بڑھ رہی ہے۔تمام مثالیں مقامات ، حالات اور جدوجہد کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود اس عزم کی علامت ہیں کہ بھارت میں دلت مختلف تحریکوں کی صورت میں سیاسی وجود کا موثر احساس دلا رہے ہیں۔ اس وقت دلتوں کی مزاحمت جس سطح پر کھڑی ہے، اسے بھارتی نیٹ ورک سے باہر نکلنا نہیں چاہیے۔دلت شناخت کی سیاست ایک وسیع محور میں حقوق کی حقیقی جدوجہد کی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں دلت مڈل کلاس پیش پیش ہے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر امبیدکر کے یہ مظاہرین مخصوص ذات کے غلبے پر مبنی قوم پرستی کے خلاف اہم محاذ ثابت ہونگے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...