... loading ...
انسانی جسم میں مختلف اقسام کے وٹامنز کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک وٹامن ڈی بھی ہے جو ایک Fat-Soluble Vitaminsہے ۔ یہ انسانی غذا میں ہوتا ہے اور آنتوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ وٹامن ڈی آنتوں سے کیلشیم اور فاسفورس حاصل کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ پیرا تھائی رائیڈ غدودوں کو روکتا ہے جو ہڈیوں سے کیلشیم جذب کرتا ہے ۔ وٹامن ڈی خون میں کیلشیم اور فاسفورس کو تناسب میں رکھتا ہے ۔ ماہرین وٹامن ڈی کو ہڈیوں کو مضبوط، صحت مند ساخت اور سائز دینے والا کارخانہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس وٹامن کی وجہ سے انسانی جسم سیدھا کھڑا رہتا ہے ۔ وٹامن ڈی کی کمی کو انسانی ہڈیوں اور دانتوں کے لئے خطرناک قرار دیا گیا ہے ۔وٹامن ڈی کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا مبنع سورج کی روشنی ہے ۔ جو قدرتی طورپر ہمیں وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف غذائوں یا ادویات کے ذریعے بھی وٹامن ڈی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ وٹامن ڈی قدرتی طور پر بہت کم غذائوں میں موجود ہوتاہے ۔ مختلف اقسام کی مچھلیوں جیسے سا لمن مچھلی ، ٹیونا مچھلی اور کوڈ مچھلی کے جگر کے تیل میں پائی جاتی ہے ۔ انڈے کی زردی اور پنیر میں بھی وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے ۔ قدرتی طورپر وٹامن ڈی ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے ۔ سورج کی روشنی جب ہماری جلد پر پڑتی ہے تو جلد پر موجود بالائے بنفشی شعاعیں وٹامن ڈی کی تیاری کو تحریک دیتی ہیں اور پھر جلد میں موجود 7D ہائیڈرو کولیسٹرول کو پری وٹامن ڈی 3 میں تبدیل کردیتی ہیں جو بعد میں وٹامن ڈی 3 میں منتقل ہو جاتا ہے ۔ سورج کی روشنی سے بننے والا وٹامن ڈی 3 حیاتیاتی طورپر بے اثر ہوتا ہے ۔ اسے پرُاثر ہونے کے لئے جسم میں ہائیڈروآگسزیلیشن کے 2 مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے پہلے مرحلے میں جگر میں وٹامن D25 ہائیڈوآگزل وٹامن ڈی میں تبدیل ہوتا ہے اور دوسرے مرحلے میں گردوں میں حیاتیاتی طور پر متحرک 25 ڈائی ہائیڈوگزل وٹامن ڈی میں بدل جاتا ہے ۔
جسم میں وٹامن ڈی کی کمی اس وقت ہوتی ہے جب سورج کی روشنی سے سامنا بہت کم ہوتا ہے ، خوراک میں اس کی مطلوبہ مقدار میں کمی اور گردوں اور جگر کی خرابی کی وجہ سے جس میں وہ وٹامن ڈی کو فعال حالت میں رکھنے کے قابل نہیں رہتے ہیں ۔
عمررسیدہ افراد کی جلد میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی کی تالیفی صلاحیت کم ہوتی ہے اور ایسے عمررسیدہ جو دن کا زیادہ تر حصہ گھر کے اندر گزارتے ہیں وہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا شکار پائے جاتے ہیں ۔ وٹامن ڈی اور کیلشیم عمررسیدہ افرادمیں ہڈیوں کی سختی اور ہڈیوں کے ٹشوز کے سوکھنے اور سکٹرنے اور ہڈیوں کی بھربھراہٹ میں کمی کے عمل کو یعنی اوسٹیوپوروسس کے عمل کو بھی کنٹرول کرتا ہے جس میں ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ وٹامن ڈی جسم میںاعصابی ، عضلاتی اور دیگر مختلف پیچیدگیوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے سرطان جس میں کولون، پروسٹیٹ اور چھاتی کاسرطان بھی شامل ہے، سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔وٹامن ڈی کی کمی بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بھی بنتی ہے ۔ دل کے عضلات اس وٹامن کی کمی کی وجہ سے اپنے افعال ٹھیک طریقے سے انجام نہیں دے پاتے جس کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کی کمی سے سوکھے کا مرض بھی لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جس میں بچوں کی ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے اور جسم سوکھ جاتا ہے ۔
وٹامن ڈی کی کمی کا شکار لوگوں میں اعصابی بیماری جسے ملٹی پل سیکلروسس کہتے ہیں، میں مبتلا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے جس میں انسانی دماغ، اعصاب اور ریڑھ کی ہڈی شدید متا ثر ہوتی ہیں ۔اس کے علاوہ بعض افراد میں تھکان او ر کمزوری کا سبب بھی یہی وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے ۔اس کی کمی سے انسان نقاہت اور تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور بالواسطہ طور پر ایسے انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی سے جسم میں قوت مدافعت بری طرح متاثر ہوتی ہے جس کے باعث مختلف بیماریاں جسم پر با آسانی حملہ آور ہوسکتی ہیں ۔جس میں ڈینگی اور دیگر وائرل انفیکشن شامل ہیں ۔جسم میں وٹامن ڈی کا درست تناسب نہ صرف ہمیں مختلف بیماریوں سے بچائوں فراہم کرتا ہے بلکہ ان بیماریوں کے ہو جانے کی صورت میں مرض کا دورانیہ اور شدت کو کم کر کے علاج میں معاونت فراہم کرتا ہے ۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کی نارمل سطح سے ٹی بی اور ایڈز سمیت کئی دوسرے پیچیدہ امراض کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔حتیٰ کہ وٹامن ڈی کی زیادہ خوراک سے ٹی بی اور ایڈز سے ہلاکت کا خطرہ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔ وٹامن ڈی کی کمی وزن میں زیادتی کا سبب بھی بنتی ہے ۔کیونکہ جسم کی چربی کو جذب کرنے کے لیئے وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے اور پھر وٹامن ڈی کی کمی سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ وٹامن ڈی کی کمی سے کئی بار موڈ بھی اچانک سے بدلنے لگتے ہیں ۔وٹامن ڈی سیروٹونن ہارمون پیدا کرتا ہے جو ہمارے مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے اور سیروٹونن کی کمی سے موڈ میں تبدیلی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے ۔
غذائوں اور مختلف ادویات میں استعمال ہونے والے وٹامن ڈی کے غیر ضروری اور زیادہ استعمال سے اس سے مضر اثرات بھی رونما ہوسکتے ہیں جن میں بھوک نہ لگنا ، پیشاب کی زیادتی ، دل کی دھٹرکن میں بے ربطگی کے ساتھ ساتھ خون میں کیلشیم کی زیادتی اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی زیادتی اور قبلی اموات کے درمیان ایک گہرا تعلق پایا جاتاہے اور وٹامن ڈی کی زیادتی دل کے دورے اور فالج کا بھی سبب بن سکتی ہے اور ایسے افراد جو ایک طویل مدت سے وٹامن ڈی کی گولیوں کا استعمال کرتے ہیں ان کے جسم میں پیدا ہونے والی کیلشیم کی اضافی مقدار گردوں کونقصان پہچانے کا باعث بنتی ہیں ۔وٹامن ڈی کی زیادتی نظام اخراج کے لئے نقصان دہ اثرات کا حامل ثابت ہوتی ہیں جس سے گردوں کے فیل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ پیشاب کی رنگت گہری اور باربار آتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ گردوں میں پتھری پیدا ہونے کا سبب بھی بنتے ہیں ۔ وٹامن ڈی کی زیادتی سے جسم میں حد سے زیادہ اعصابی تنائو اور دماغی مزاحمت بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس کی زیادتی اعصاب میں اکڑائو اور جوڑوں میں درد کا باعث بھی بنتے ہیں ۔
غذائوں اور دوائوں کی زیادتی کے ساتھ ساتھ سورج کی روشنی سے بننے والے وٹامن ڈی سے بھی محدود وقت کے لئے ہی فائدہ اٹھانا چاہیئے کیونکہ سورج کی روشنی میں موجود بالائے بنفشی شعاعیں بہت زیادہ دیر کے بعد جلد پر مضر اثرات مرتب کرنا شروع کردیتی ہیں ۔اس لیئے بہتر یہی ہوتا ہے کہ صبح دس بجے سے دوپہر 3 بجے کے دوران دس سے تیس منٹ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ سورج کی روشنی کی شدت کے لحاظ سے جسم کے مختلف حصوں یعنی پیر، بازو، چہرے وغیرہ کو دھوپ لگوائیں ۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...