وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

پیر 23 اپریل 2018 زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

زلزلہEarthquake ، Quake، Tremor یا Temblor زمین کی سطح کے ہلنے کو کہتے ہیں۔ یہ ہلنا واضح طور محسوس کیا جا سکتا ہے۔کبھی کبھار تو زمین اتنی زیادہ ہلتی ہے کہ عمارتیں گر جاتی ہیں اور ہزاروں جانوں کا نقصان ہوجاتا ہے۔بعض زلزلے تو اتنے شدید ہوتے ہیں کہ شہروں کے شہر ہی ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔زلزلے کی بنیادی وجہ زمین سے نکلنے والی تواانائی یا گرمی ہوتی ہے۔زمین کی تہوں میں سے جب بہت زیادہ توانائی سطح زمین پر خارج ہوتی ہے تو وہ زلزلے کی لہر بناتی ہے،جس سے زلزلہ آتا ہے۔ جتنی زیادہ توانائی ہوگی، اتنا ہی شدید زلزلہ ہوگا۔

زلزلے کی اقسام

زلزلے کی بہت سی اقسام ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

فور شاک(Foreshock)
فورشاک وہ زلزلہ ہوتا ہے جو بڑے زلزلے (مین شاک) سے پہلے آتا ہے۔فور شاک اور مین شاک دونوں میں وقت اور جگہ کے لحاظ سے تعلق ہوتا ہے۔کسی بھی بڑے زلزلے میں فور شاک، مین شاک اور آفٹر شاک تین اہم مرحلے ہوتے ہیں۔درمیانے درجے سے لے کر بڑے درجوں تک کے زلزلوں کے 40 فیصدفور شاک کو دریافت کیا جا سکتا ہے جبکہ 7.0درجے سے بڑے زلزلوں میں یہ شرح 70 فیصد ہوتی ہے۔فور شاک اور مین شاک کے بیچ میں چند منٹوں سے لے کر دنوں اور بعض حالاات میں اس سے بھی زیادہ وقفہ ہو سکتاہے۔

2002 میں سماٹرا میں آنے والے زلزلے کو 2004 میں بحر ہند میں آنے والے زلزلے کا فور شاک سمجھا جاتا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان دو سال کا فرق ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر بڑے زلزلے سے پہلے فور شاک سامنے آئیں۔ 8.0درجے سے بڑے زلزلوں کے فور شاک نہیں ہوتے۔ اس کی مثال 1950 میں بھارت اور چین میں آنے والا M8.6کا زلزلہ ہے جس میں کوئی فور شاک نہیں آیا۔

آفٹر شاک
(Aftershock)
آفٹر شاک وہ چھوٹا زلزلہ ہوتا ہے جو مین شاک یعنی بڑے زلزلے کے بعد اسی علاقے میں آتا ہے۔اگرآفٹر شاک کا علاقہ مین شاک کے علاقے سے بڑا ہوتو اصطلاح میں آفٹر شاک کو مین شاک کہا جائے گا اور پچھلا مین شاک ، فور شاک میں تبدیل ہو جائے گا۔مین شاک کی وجہ سے جب ہٹ جائے تو سطح پر قشر ارض (Earth Crust) خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے جس سے آفٹر شاک پیدا ہوتے ہیں۔

بلائنڈ تھرسٹ
بلائنڈ تھرسٹ زلزلہ، تھرسٹ فالٹ کے ساتھ آتا ہے۔تھرسٹ فالٹ، فالٹ یا قشر ارض میں دراڑ کی ایک قسم ہوتی ہے۔ اس میں پریشر کی وجہ سے چٹانیں اوپر نیچے ہوجاتی ہے۔ تھرسٹ فالٹ میں پرانی چٹانیں نئی چٹانوں کے اوپر ہوتی ہے۔
سطح زمین پر بلائنڈ تھرسٹ زلزلے کے نشانات نظر نہیں آتے نہ اسے سطح زمین سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔تیل کی کھدائی یا دوسرے کاموں کے لیے زمین کی کھدائی کے دوران بلائنڈ تھرسٹ زلزلے دریافت ہو جاتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے اگرچہ اتنی زیادہ قوت کے نہیں ہوتے تاہم شہروں کے نیچے آنے والے بعض بلائنڈ تھرسٹ زلزلے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

جڑواں زلزلے
(Doublet earthquake)
ماہرین زلزلہ ایسے زلزلوں کو جڑواں ((Doublet) زلزلے کہتے ہیں جو قریب قریب جگہوں پر ایک ہی وقت میں یا کچھ وقفے سے رونماء ہوں۔یہ عام زلزلے کے آفٹر شاک سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔
ایک تو ان میں جگہوں کا فرق ہوتا ہے یعنی زلزلے کی جگہوں کا فاصلہ ہوتا ہے ، اسکے علاوہ دوسرا زلزلہ پہلے سے ذرا سی زیادہ شدت کاہوتا ہے۔ اس طرح کے زلزلے سال میں ایک دو بار ہی رونماء ہوتے ہیں۔زلزلوں کے کچھ واقعات میں ٹرپل زلزلے بھی سامنے آئے ہیں، جیسے 2010 کا منڈاناؤ زلزلہ۔

انٹر پلیٹ زلزلے
انٹرپلیٹ(Interplate) زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جو دو ٹیکنو پلیٹ کی حد پر آئیں۔اس طرح کے زلزلوں میں دنیا کے تمام زلزلوں کی توانائی کا 90 فیصد خارج ہو جاتا ہے۔جب ایک پلیٹ حرکت کر رہی ہوتی ہے تو دوسری لاک ہوجاتی ہے اور اس وقت تک لاک رہتی ہے جب تک بہت زیادہ دباؤ پیدا ہو کر پلیٹ پھسل نہ جائے۔ دونوں پلیٹوں کے پھسلنے سے زلزلہ آتا ہے جو زمین کی شکل بدل دیتا ہے اور زلزلے کی لہریں سطح زمین پر پھیل جاتی ہیں۔

اس طرح کے زلزلے شمالی امریکا کے مغربی ساحل( خاص کر کیلیفورنیا اور الاسکا)، شمال مشرقی بحیرہ روم(یونان، اٹلی اور ترکی)، ایران، نیوزی لینڈ، اندونیشیا، بھارت، جاپان اور چین کے کچھ حصوں میں آتے ہیں۔انٹرپلیٹ زلزلے شدت اور دباؤ کی وجہ سے دوسرے انٹرپلیٹ زلزلوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ انٹرپلیٹ زلزلے کافی عام ہیں۔انٹرا پلیٹ زلزلے اگر بڑے علاقے میں ہوں تو بہت تباہی پھیلاتے ہیں۔

2001 میں گجرات کا زلزلہ اور 2012 کابحر ہند کا زلزلہ اس کی تباہی کی مثالیں ہیں۔اس کے علاوہ 1812 میں نیو میڈریڈ، میسوری اور 1886 میں چارلسٹن ، ساؤتھ کیرولینا کا زلزلہ بھی انٹرا پلیٹ تھا۔

میگا تھرسٹ(Megathrust) زلزلے
میگا تھرسٹ زلزلے subduction زون میں ہوتے ہیں۔ subduction زون یعنی جہاں قشر زمین کے کسی بھی تختے یا قطعے کے نیچے اور پہلو کی طرف کھسک کر کسی دوسرے تختے کے نیچے گھس جائے۔
اس سے آنے والے انٹرپلیٹ زلزلے زمین کے تباہ کن ترین زلزلیثابت ہو سکتیہیں جوشدت میں 9.0 سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔1900 کے بعد سے آنے والے 9.0یازیادہ کے زلزلوں کو میگا تھرسٹ زلزلے کہا جاتا ہے۔سطح زمین یا ٹیکنو پلیٹ کی کوئی سرگرمی اس طرح کا زلزلہ نہیں بنا سکتی۔
ریموٹلی ٹریگرڈ

(Remotely triggered)
بڑے زلزلوں کے اثرات کی وجہ سے دوردراز کے کسی علاقے میں آنے والوں زلزلے یا زلزلوں کو ریموٹلی ٹریگرڈ زلزلہ کہتے ہیں۔دور دراز کے مقام پر آنے والا ریموٹلی ٹریگر زلزلہ پھر دوسرے دور دراز کے مقام پر کسی زلزلے کی وجہ بن سکتا ہے۔

سست زلزلہ
(Slow earthquake)
سست زلزلہ مسلسل نہیں ہوتا۔ اس قسم کے زلزلے میں زمین اپنی توانائی کو سیکنڈوں یا منٹوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں سے مہینوں میں خارج کرتی ہے۔
زیر سمندر
(Submarine) زلزلے
زیر آب یا زیر سمندر زلزلے پانی کی سطح کے نیچے سمندر میں رونماء ہوتے ہیں۔یہی زلزلے سونامی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ سائنسی طور پر ان زلزلوں کو ریکٹر سکیل یا مرکالی سکیل پر ناپا جا تا ہے۔
سپر شیئر(Supershear)
سپر شیئر زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جس میں فالٹ کی سطح کے ساتھ انشقاق ْ(پھٹنے یا توانائی پھیلنے کاعمل )بہت تیزی سے ایس ویو(S-Wave) یا سیکنڈری ویوز ولاسٹی سے ہوتا ہے۔
سونامی(Tsunami)زلزلے
سونامی زلزلہ سے زلزلے کے شدت سے زیادہ شدت کی سونامی آتی ہے، جسے کم وقت کی سیسمک ویوز میں ماپا جاتا ہے۔یہ اصلاح 1972 میں ہیرو کاناموری نے متعارف کرائی۔ اس زلزلے میں خطرناک بات یہ ہے کہ سونامی بہت جلد کسی بھی قریبی ساحل سے ٹکرا کر نقصان کرتی ہے۔
ارتھ کوئیک سوارم
(Earthquake swarm)
ارتھ کوئی سوارم میں مختصر ٹائم میں ایک ہی علاقہ میں دوسریعلاقوں کے زلزلوں اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق یہ اثرات منٹوں، گھنٹوں، دنوں یا مہینوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
وجوہات
زمین اندر سے بہت گرم ہے۔اس کی گرمی زمین میں ہی جمع ہوتی رہتی ہے۔ جب یہ گرمی فالٹ لائنوں یا دیگر مقامات سے باہر نکلتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے
فالٹ(Fault) کی حرکت
ارضیات میں فالٹ ہموار زمین کے سلسلے میں رخنہ یا چٹانوں میں عدم تسلسل کوکہتے ہیں۔قشر ارض میں بہت بڑے بڑے فالٹس بھی ہیں۔ان کو نقشوں میں بڑی بڑی لائنوں سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔فالٹس کا چٹانوں یا توانائی کے اخراج کی وجہ سے متحرک ہونا بھی زلزلے کی وجہ ہے۔ان فالٹ لائنوں پر موجود ممالک یا مقامات زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں ہزاروں کلومیٹر طویل فالٹ لائنیں ہیں۔اسلام آباد کے نزدیک روات فالٹ لائن روات سے ہوتی ہوئی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر تک جاتی ہے۔پاکستا اور نیپال بھی ایک ہی فالٹ لائن پر ہے۔ پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنوں پر واقع ہے۔
آتش فشانی ٹیکنوٹک(tectonic) زلزلے
آتش فشانی ٹیکونک زلزلہ میگما(پگھلا ہوا مادہ جو زمین کی اندرونی تہوں سے برآمد ہوتا ہے اس میں سے آتش فشانی چٹانیں قلمیں بنتی ہیں میگما صرف پگھلی ہوئی چٹانوں پر مشتمل نہیں ہوتا اس میں اڑ جانے والے مادے بھی ہوتے ہیں یہ مادے آسانی سے بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں ان میں پانی ،کاربن ڈائی آکسائیڈ ، ہائیڈروجن ، سلفائیڈ ، سلفر ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کلورین بھی ہوتی ہے۔
میگما میں8فیصد تک پانی ہوتا ہے) کے زمین سے اخراج کی وجہ آتے ہیں۔ میگما کے دباؤ سے چٹانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو زلزلے کی وجہ بنتا ہے۔2007 اور 2008 میں برٹش کولمبیا، کینیڈا کا نازکو کا زلزلہ اسی کی مثال ہے۔
انڈیوڈسڈ سیس میٹی
انڈیوڈسڈ سیس میٹی(Induced seismicity) وہ کم شدت کے زلزلے ہوتیہیں جو کسی انسانی سرگرمی کی وجہ سے قشر ارض پر دباؤ پڑنے سے آتے ہیں۔
اس وجہ سے کچھ جگہوں بڑی باقاعدہ سے کم شدت کے زلزلے آتے ہیں۔ گیسرز(The Geysers) جیوتھرمل پلانٹ کیلیفورنیا میں پچھلے 5 سالوں کے دوران ہر سال 2 ایم 4 اور 15 ایم 3 زلزلے آتے ہیں۔
چند اصطلاحات
زلزلہ مرکز
زلزلہ مرکز(epicenter) وہ پوائنٹ ہوتا ہے جو ہائپو سنٹر یا فوکس( وہ جگہ جہاں زلزلہ یازیرزمین دھماکہ ہوا ہو) کے براہ راست اوپر ہوتا ہے۔یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سب سے پہلے فالٹ پھٹنا شروع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زلزلہ مرکز اس جگہ کو بھی کہتے ہیں جہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہو، تاہم ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زلزلہ مرکز دورغیر آباد جگہ میں ہو اور تباہی بہت دور کسی گنجان آباد شہر میں زیادہ ہو۔
ہائپو سنٹر
ہائپو سنٹر(hypocenter) وہ جگہ ہوتی ہے جہاں چٹانوں میں توانائی محفوظ ہوتی ہے۔
اسی جگہ سے توانائی کا اخراج شروع ہوتا ہے۔یہ وہی پوائنٹ ہوتا ہے جہاں سے پوائنٹ پھیلنا شروع ہوتا ہے۔یہ پوائنٹ زلزلہ مرکز کے عین نیچے ہوتا ہے۔ہائپو سنٹر اور زلزلہ مرکز کا فاصلہ فوکل یا ہائپو سنٹرل گہرائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شیڈو زون
شیڈو زون(Shadow zone) زمین کی سطح کا وہ حصہ ہیں جہاں سیسمو گراف زلزلے کی لہریں گذرنے کے بعد زلزلے کا پتہ نہیں چلا سکتے۔
جب زلزلہ آتا ہے تو زلزلے کی لہریں زلزلے کے فوکس سے کروی انداز میں پھیلتی ہیں۔جب زلزلہ آتا ہے تو پرائمری سیسمک ویوززمین کے بیرونی مائع کور سے منعطف ہوتی ہیں۔104ڈگری سے 140 ڈگری (11,570اور15,570 کلومیٹر یا 7,190 اور 9,670میل) تک انہیں شناخت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
زلزلے کی لہریں
زلزلے کی لہریں(Seismic waves) اصل میں توانائی کی لہریں ہوتی ہیں جو زمین کی تہوں میں سفر کرتی ہوئی، باہر نکل کر ، زلزلے کا باعث بنتی ہیں۔
پیمائش کے طریقے
سیسمک سکیل
سیسمک سکیل(seismic scale) زلزلے کی شدت کو کیلکولیٹ کرنے اور موازنہ کرنے کے کام آتے ہیں۔بنیادی طور پر دو طرح کے سکیل استعمال ہوتے ہیں۔ دونوں ہی اہم ہیں۔اصل فورس اور زلزلے کی توانائی کو magnitude سکیل سے ناپا جاتا ہے جبکہ کسی مخصوص مقام پر زمین کے ہلنے کی شدت کو ناپنے کے لیے intensityسکیل استعمال کیا جاتا ہے۔
سیسمو میٹر
سیمو میٹرز(Seismometers) وہ انسٹرومنٹس ہیں جن سے زمین پرزلزلے سیپیدا ہونے والی سیسمک ویوز، آتش فشاں کا اخراج اور دوسرے سیسمک سورسزناپے جاتے ہیں۔اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ماہرین زمین کے اندرونی حصے کے نقشے بناتے ہیں۔
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ(Earthquake Duration Magnitude) کا تصور 1958 میں بسزٹرکسانی نے دیا تھا۔اس سے سطح کی لہریں ماپی جا سکتی ہیں۔
ریکٹر سکیل
ریکٹر میگنیچیوڈ سکیل یا ریکٹر ا سکیل کی مدد سے زمین سے نکلنے والی توانائی کو ایک عدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ریکٹر ا سکیل 1930 کی دہائی میں بنایا گیا۔اس کی بنیاد 10 لوگرتھم ا سکیل ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ ریکٹر سکیل پر 5.0درجے کے زلزلے کی شدت 4.0ریکارڈ کیے گئے زلزلے سے 10 گْنا زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح 4 کے مقابلے میں 5 درجے کے زلزلے میں زمین سے 4درجے کے زلزلے سے31.6 گنا زیادہ نوانائی پیدا ہوتی ہے۔زلزلہ جتنا درجوں میں بڑھتا جائے گا اس کی شدت بھی اسی حساب سے بڑھتی جائے گی۔
ریکٹر سکیل کے درجوں کی وضاحت
2.0سے 2.9 تک
ایسے زلزلوں کو مائیکرو زلزلے کہا جاتا ہے۔ایسے زلزلے سال میں کئی ملین بار آتے ہیں۔یہ اتنے ہلکے ہوئے ہیں کہ سائنس دان کبھی کبھار ہی انہیں اپنے آلات سے ماپ سکتے ہیں۔
سے 3.9 تک ،یہ زلزلے شدت میں Minor ہوتے ہیں۔ یہ سال میں ایک لاکھ بار آتے ہیں اور کبھی کسی بلڈنگ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
4.0 سے 4.9 تک ،ان کی شدت لائٹ/ ہلکی ہوتی ہے۔یہ سال میں 10 ہزار سے پندرہ ہزار دفعہ آتے ہیں۔ان سے کم سے کم نقصان ہوتا ہے۔
5.0سے 5.9تک،ایسے زلزلے سال میں 1000 سے 1500 آتے ہیں۔درمیانے درجے کے یہ زلزلے کچی اورناقص بنی ہوئی عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
6.0 سے 6.9تک،ان زلزلوں کا درجہ شدید ہوتا ہے۔یہ سال میں 100 سے 150 کی تعداد میں آتے ہیں۔ ا س طرح کے زلزلے کافی نقصان کرتے ہیں۔
7.0سے 7.9تک،اس طرح کے زلزلوں کا درجہ شدیدتر ہوتا ہے۔یہ سال میں 10 سے 20 بار آتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
8.0سے 8.9تک،شدید ترین درجے کے یہ زلزلہ سال میں ایک بار آتا ہے۔ اس قسم کے زلزلے میں عمارتیں گر جاتی ہیں بہت سا جانی نقصان ہوتا ہے۔
9.0سے زیادہ،انتہائی شدید ترین درجے کا یہ زلزلہ 10 سے 50 سال کے دوران ایک مرتبہ آتا ہے۔عمارتوں اور بلڈنگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں آنے والے زلزلے کی شدت
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 اکتوبر 2015 کو آنے والے زلزلے کی شدت 8.1تھی۔اتنی شدت کے زلزلے سے اتنی توانائی خارج ہوتی ہے جتنی جاپان میں گرائے ہوئے ایٹم بم جیسے 1,421.5ایٹم بم مل کر خارج کرتے ہیں۔اتنی توانائی کہ 17,825,018.8بارآسمانی بجلی چمک جائے۔یہ اتنی توانائی ہوتی ہے 21,301, 408.7 ٹن ٹی این ٹی (بارود)کو پھونک کر اتنی توانائی حاصل ہو۔اتنی توانائی تیل کہ 675,190,104.6گیلن سے حاصل ہوگی یا اتنی توانائی کیلیے 42, 440, 520,863.5بارود کی سٹکس جلانی پڑیں گی۔
زلزلے کے دوران حفاظتی تدابیر
زلزلوں کے دوران درج ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کر کے جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔زلزلے کے دوران اگر آپ گھر سے باہر ہیں تو عمارتوں، دیواروں ، درختوں اور بجلی کی تاروں سے دور رہیں۔اگر آپ بس یا گاڑی سے سفر کر رہے ہیں تو اس کو فوراً روک دیں یا روکوا دیں۔ گاڑی کو عمارتوں، کھمبوں اور بجلی کی تاروں سے دور روکیں۔زلزلے کے وقت عمارت میں موجود ہیں تو عمارت سے نکل جائیں، اگر نکلنا ممکن نہ ہوتو دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوجائیں یاسیٹرھیوں اور میز کے نیچے پناہ لیں۔یہ ممکن نہ تو گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھوں سے سر اور گردن ڈھانپ لیں۔
بلڈنگ سے باہر نکلتے وقت لفٹ
کااستعمال نہ کریں۔
کھڑکیوں یا شیشے کی چیزوں سے بھی دور رہیں۔بیرونی دیواروں اور لمبے فرنیچر سے بھی دور رہیں۔ زلزلے کے بعد پرسکون رہیں اور معلومات کے لیے ریڈیو یا ٹی وی سنیں۔اگر خدانخواستہ کوئی ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے تو اسے چاہے کہ لائٹر اور ماچس نہ جلائے، اپنے منہ پر کپڑیا رومال رکھ لے۔امدادی ٹیم کو متوجہ کرنے کے لیے لوہے کاپائپ اگر موجود ہوتو اسے دیوار میں مارتے رہیں۔
زلزلے کے بعد کمزور اور ٹوٹی ہوئی عمارتوں میں جانے سے گریز کریں۔
اگر گھر کو نقصان پہنچے تو
اس وقت تک گھر میں داخل نہ ہوں، جب تک اس کے محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو۔گھر میں داخل ہوتے ہیں گیس کی لیکیج چیک کریں۔ اگر گیس لیگ نہیں ہو رہی تو بجلی کی چیزیں یا ٹی وی وغیرہ چلائیں۔
اگر کوئی تار ٹوٹ گئی ہو تو مین سوئچ فوراً بند کر دیں۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں بڑی تعداد میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں بے امنی انتہائی ذلت آمیز ہے، لاقانونیت اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوج کو متحرک کیا جائے گا، بطور صدر میری پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری امریکا اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، جلاو ٔگھیراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کر رہا ہوں...

ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے وجود - بدھ 03 جون 2020

عالمی ادارہ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا ہے کہ کورونا وائرس اپنی طاقت کھو رہا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ وائرس اب کم جان لیوا ہو گیا ہے ۔ پروفیسر البرٹو زنگریلو جو کہ سین رافائل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے سربراہ ہیں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اب کلینیکلی موجود نہیں ہے ۔تاہم کئی سائنسدانوں جن میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین بھی شامل ہیں کا کہنا تھا کہ اس خیال کے کوئء شواہد موجود نہیں ہیں...

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکا میں پولیس کی حراست میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر فسادات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ احتجاج میں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی شریک ہو گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک نے سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئی اپنا لوگو سیاہ کر دیا جب کہ کمپنی کے بانی نے اس حوالے سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا ۔فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ہم سیاہ فارم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام کے ساتھ بھی جو انصاف کیلئے کام کر رہے ہیں جارج فلوئیڈ، بریونا ٹیلر، احمود آر...

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

ایران نے امریکا میں جاری احتجاج کی لہر میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ اپنے عوام پر تشدد بند کرے ۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ امریکا پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے اپنے ہی لوگوں پر تشدد کو بند کرے ۔انہوں نے امریکی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست کے جبر پر دنیا نے آپ کی چیخ پکار سن لی ہے ، دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ترجمان نے امریکی حکام اور پولیس کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ...

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے وجود - بدھ 03 جون 2020

دبئی کی قومی فضائی کمپنی امارات ائیرلائن کے سبکدوش ہونیوالے صدر ٹِم کلارک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ان کی فضائی کمپنی کو اپنے تمام سابقہ مقامات اور نیٹ ورک پر پروازوں کی بحالی میں کم سے کم چار سال لگیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹِم کلارک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں چارسال تک ہم چیزوں کو معمول پر آتا ہوا دیکھ سکیں گے ۔امید ہے کہ تب تک امارات اپنے نیٹ ورک پر پروازیں چلا رہی ہوگی اور پہلے کی طرح کامیاب ہوچکی ہوگی۔ٹِم کلارک نے کہا کہ ہوابازی کی صنعت آیندہ سال ...

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت وجود - بدھ 03 جون 2020

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کے روز ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں تشدد کے استعمال کی مذمت کی تاہم اصلاحات کے خواہاں پرامن مظاہرین کے اقدامات کی تعریف کی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوباما نے آن لائن میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ مظاہرین کی اکثریت پر امن ہے لیکن ایک مٹھی بھر عناصر لوگوں اور اصلاحات کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں کے لیے خطرہ ہیں۔ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے قبل دو بار امریکا کے صدر رہنے والے ڈیمو...

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کی حکومت کیدو وزرا کے کرونا کیمریض سے میل جول کی وجہ سے خود کرونا کی وبا کا شکار ہونے کا شبہ ہے جس کیبعد انہیں الگ تھلگ کیا جاسکتا ہے ۔اسرائیل کے ٹی وی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ملازم کو کرونا وائرس کا انفکشن ہوا تھا۔ اس کا طبی معائنہ کیا گیا جس پر وہ کرونا کا مصدقہ مریض نکلا۔ طبی تحقیقات کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ ملازم وزیراعظم کے دفتر میں ڈیوٹی پر تھا۔ حکام اس بات کی چھان بین کررہے ہیں کہ آیا کر...

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج وجود - منگل 02 جون 2020

امریکا کے کئی شہروں میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سیاٹل سے نیو یارک تک ہزاروں افراد نے مارچ کیا، مظاہرین رکاوٹیں اور جنگلے گرا کر وائٹ ہاوس کے قریب پہنچ گئے ۔ امریکی دارالحکومت میں رات کا کرفیو لگادیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کر فیو رہے گا۔ ہفتے کی رات پولیس پر حملے ، ہنگاموں، جلاوگھیراو کے بعد 15 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کا گشت جاری ہے ۔پرتشدد مظا...

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ وجود - منگل 02 جون 2020

اٹلی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے کورونا وائرس اب اتنا جان لیوا نہیں رہا جتنا عالمی وبا کے آغاز پر تھا۔مییا رپورٹ کے مطابق میلان کے سان ریفایلی ہاسپٹل کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو نے ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ طبی لحاظ سے یہ وائرس اب اٹلی میں موجود نہیں۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ 10 دن کے دوران سواب ٹیسٹوں میں جو وائرل لوڈ دیکھا گیا وہ ایک یا 2 ماہ قبل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے اطالوی حکومت پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانے...

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق وجود - منگل 02 جون 2020

کورونا وائرس کے مریضوں کو صحتیابی کے بعد کئی ماہ تک بہت زیادہ تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایک مقالے میں بتائی۔برطانوی حکومت کے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آن ایمرجنسیز کی جانب سے جاری مقالے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ وائرس طویل المعیاد بنیادوں پر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے ۔سائنسدانوں نے 7 مئی کو ملاقات کرکے کورونا وائرس سے منسلک متعدد پیچیدگیوں بشمول فالج، گردوں کے امراض اور اعضا کے ا...

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ وجود - منگل 02 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ریاستی گورنرز پر زور دیا کہ وہ تشدد اور تخریب کاری کے مرتکب عناصر سے سختی سے نمٹیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد اور خونی مظاہروں کی روک تھام کے لیے نیشنل گارڈ کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ انتشار پسندوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ تخریب کاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جائے ۔ ان کا ک...

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت