وجود

... loading ...

وجود

زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

پیر 23 اپریل 2018 زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

زلزلہEarthquake ، Quake، Tremor یا Temblor زمین کی سطح کے ہلنے کو کہتے ہیں۔ یہ ہلنا واضح طور محسوس کیا جا سکتا ہے۔کبھی کبھار تو زمین اتنی زیادہ ہلتی ہے کہ عمارتیں گر جاتی ہیں اور ہزاروں جانوں کا نقصان ہوجاتا ہے۔بعض زلزلے تو اتنے شدید ہوتے ہیں کہ شہروں کے شہر ہی ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔زلزلے کی بنیادی وجہ زمین سے نکلنے والی تواانائی یا گرمی ہوتی ہے۔زمین کی تہوں میں سے جب بہت زیادہ توانائی سطح زمین پر خارج ہوتی ہے تو وہ زلزلے کی لہر بناتی ہے،جس سے زلزلہ آتا ہے۔ جتنی زیادہ توانائی ہوگی، اتنا ہی شدید زلزلہ ہوگا۔

زلزلے کی اقسام

زلزلے کی بہت سی اقسام ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

فور شاک(Foreshock)
فورشاک وہ زلزلہ ہوتا ہے جو بڑے زلزلے (مین شاک) سے پہلے آتا ہے۔فور شاک اور مین شاک دونوں میں وقت اور جگہ کے لحاظ سے تعلق ہوتا ہے۔کسی بھی بڑے زلزلے میں فور شاک، مین شاک اور آفٹر شاک تین اہم مرحلے ہوتے ہیں۔درمیانے درجے سے لے کر بڑے درجوں تک کے زلزلوں کے 40 فیصدفور شاک کو دریافت کیا جا سکتا ہے جبکہ 7.0درجے سے بڑے زلزلوں میں یہ شرح 70 فیصد ہوتی ہے۔فور شاک اور مین شاک کے بیچ میں چند منٹوں سے لے کر دنوں اور بعض حالاات میں اس سے بھی زیادہ وقفہ ہو سکتاہے۔

2002 میں سماٹرا میں آنے والے زلزلے کو 2004 میں بحر ہند میں آنے والے زلزلے کا فور شاک سمجھا جاتا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان دو سال کا فرق ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر بڑے زلزلے سے پہلے فور شاک سامنے آئیں۔ 8.0درجے سے بڑے زلزلوں کے فور شاک نہیں ہوتے۔ اس کی مثال 1950 میں بھارت اور چین میں آنے والا M8.6کا زلزلہ ہے جس میں کوئی فور شاک نہیں آیا۔

آفٹر شاک
(Aftershock)
آفٹر شاک وہ چھوٹا زلزلہ ہوتا ہے جو مین شاک یعنی بڑے زلزلے کے بعد اسی علاقے میں آتا ہے۔اگرآفٹر شاک کا علاقہ مین شاک کے علاقے سے بڑا ہوتو اصطلاح میں آفٹر شاک کو مین شاک کہا جائے گا اور پچھلا مین شاک ، فور شاک میں تبدیل ہو جائے گا۔مین شاک کی وجہ سے جب ہٹ جائے تو سطح پر قشر ارض (Earth Crust) خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے جس سے آفٹر شاک پیدا ہوتے ہیں۔

بلائنڈ تھرسٹ
بلائنڈ تھرسٹ زلزلہ، تھرسٹ فالٹ کے ساتھ آتا ہے۔تھرسٹ فالٹ، فالٹ یا قشر ارض میں دراڑ کی ایک قسم ہوتی ہے۔ اس میں پریشر کی وجہ سے چٹانیں اوپر نیچے ہوجاتی ہے۔ تھرسٹ فالٹ میں پرانی چٹانیں نئی چٹانوں کے اوپر ہوتی ہے۔
سطح زمین پر بلائنڈ تھرسٹ زلزلے کے نشانات نظر نہیں آتے نہ اسے سطح زمین سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔تیل کی کھدائی یا دوسرے کاموں کے لیے زمین کی کھدائی کے دوران بلائنڈ تھرسٹ زلزلے دریافت ہو جاتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے اگرچہ اتنی زیادہ قوت کے نہیں ہوتے تاہم شہروں کے نیچے آنے والے بعض بلائنڈ تھرسٹ زلزلے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

جڑواں زلزلے
(Doublet earthquake)
ماہرین زلزلہ ایسے زلزلوں کو جڑواں ((Doublet) زلزلے کہتے ہیں جو قریب قریب جگہوں پر ایک ہی وقت میں یا کچھ وقفے سے رونماء ہوں۔یہ عام زلزلے کے آفٹر شاک سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔
ایک تو ان میں جگہوں کا فرق ہوتا ہے یعنی زلزلے کی جگہوں کا فاصلہ ہوتا ہے ، اسکے علاوہ دوسرا زلزلہ پہلے سے ذرا سی زیادہ شدت کاہوتا ہے۔ اس طرح کے زلزلے سال میں ایک دو بار ہی رونماء ہوتے ہیں۔زلزلوں کے کچھ واقعات میں ٹرپل زلزلے بھی سامنے آئے ہیں، جیسے 2010 کا منڈاناؤ زلزلہ۔

انٹر پلیٹ زلزلے
انٹرپلیٹ(Interplate) زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جو دو ٹیکنو پلیٹ کی حد پر آئیں۔اس طرح کے زلزلوں میں دنیا کے تمام زلزلوں کی توانائی کا 90 فیصد خارج ہو جاتا ہے۔جب ایک پلیٹ حرکت کر رہی ہوتی ہے تو دوسری لاک ہوجاتی ہے اور اس وقت تک لاک رہتی ہے جب تک بہت زیادہ دباؤ پیدا ہو کر پلیٹ پھسل نہ جائے۔ دونوں پلیٹوں کے پھسلنے سے زلزلہ آتا ہے جو زمین کی شکل بدل دیتا ہے اور زلزلے کی لہریں سطح زمین پر پھیل جاتی ہیں۔

اس طرح کے زلزلے شمالی امریکا کے مغربی ساحل( خاص کر کیلیفورنیا اور الاسکا)، شمال مشرقی بحیرہ روم(یونان، اٹلی اور ترکی)، ایران، نیوزی لینڈ، اندونیشیا، بھارت، جاپان اور چین کے کچھ حصوں میں آتے ہیں۔انٹرپلیٹ زلزلے شدت اور دباؤ کی وجہ سے دوسرے انٹرپلیٹ زلزلوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ انٹرپلیٹ زلزلے کافی عام ہیں۔انٹرا پلیٹ زلزلے اگر بڑے علاقے میں ہوں تو بہت تباہی پھیلاتے ہیں۔

2001 میں گجرات کا زلزلہ اور 2012 کابحر ہند کا زلزلہ اس کی تباہی کی مثالیں ہیں۔اس کے علاوہ 1812 میں نیو میڈریڈ، میسوری اور 1886 میں چارلسٹن ، ساؤتھ کیرولینا کا زلزلہ بھی انٹرا پلیٹ تھا۔

میگا تھرسٹ(Megathrust) زلزلے
میگا تھرسٹ زلزلے subduction زون میں ہوتے ہیں۔ subduction زون یعنی جہاں قشر زمین کے کسی بھی تختے یا قطعے کے نیچے اور پہلو کی طرف کھسک کر کسی دوسرے تختے کے نیچے گھس جائے۔
اس سے آنے والے انٹرپلیٹ زلزلے زمین کے تباہ کن ترین زلزلیثابت ہو سکتیہیں جوشدت میں 9.0 سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔1900 کے بعد سے آنے والے 9.0یازیادہ کے زلزلوں کو میگا تھرسٹ زلزلے کہا جاتا ہے۔سطح زمین یا ٹیکنو پلیٹ کی کوئی سرگرمی اس طرح کا زلزلہ نہیں بنا سکتی۔
ریموٹلی ٹریگرڈ

(Remotely triggered)
بڑے زلزلوں کے اثرات کی وجہ سے دوردراز کے کسی علاقے میں آنے والوں زلزلے یا زلزلوں کو ریموٹلی ٹریگرڈ زلزلہ کہتے ہیں۔دور دراز کے مقام پر آنے والا ریموٹلی ٹریگر زلزلہ پھر دوسرے دور دراز کے مقام پر کسی زلزلے کی وجہ بن سکتا ہے۔

سست زلزلہ
(Slow earthquake)
سست زلزلہ مسلسل نہیں ہوتا۔ اس قسم کے زلزلے میں زمین اپنی توانائی کو سیکنڈوں یا منٹوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں سے مہینوں میں خارج کرتی ہے۔
زیر سمندر
(Submarine) زلزلے
زیر آب یا زیر سمندر زلزلے پانی کی سطح کے نیچے سمندر میں رونماء ہوتے ہیں۔یہی زلزلے سونامی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ سائنسی طور پر ان زلزلوں کو ریکٹر سکیل یا مرکالی سکیل پر ناپا جا تا ہے۔
سپر شیئر(Supershear)
سپر شیئر زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جس میں فالٹ کی سطح کے ساتھ انشقاق ْ(پھٹنے یا توانائی پھیلنے کاعمل )بہت تیزی سے ایس ویو(S-Wave) یا سیکنڈری ویوز ولاسٹی سے ہوتا ہے۔
سونامی(Tsunami)زلزلے
سونامی زلزلہ سے زلزلے کے شدت سے زیادہ شدت کی سونامی آتی ہے، جسے کم وقت کی سیسمک ویوز میں ماپا جاتا ہے۔یہ اصلاح 1972 میں ہیرو کاناموری نے متعارف کرائی۔ اس زلزلے میں خطرناک بات یہ ہے کہ سونامی بہت جلد کسی بھی قریبی ساحل سے ٹکرا کر نقصان کرتی ہے۔
ارتھ کوئیک سوارم
(Earthquake swarm)
ارتھ کوئی سوارم میں مختصر ٹائم میں ایک ہی علاقہ میں دوسریعلاقوں کے زلزلوں اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق یہ اثرات منٹوں، گھنٹوں، دنوں یا مہینوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
وجوہات
زمین اندر سے بہت گرم ہے۔اس کی گرمی زمین میں ہی جمع ہوتی رہتی ہے۔ جب یہ گرمی فالٹ لائنوں یا دیگر مقامات سے باہر نکلتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے
فالٹ(Fault) کی حرکت
ارضیات میں فالٹ ہموار زمین کے سلسلے میں رخنہ یا چٹانوں میں عدم تسلسل کوکہتے ہیں۔قشر ارض میں بہت بڑے بڑے فالٹس بھی ہیں۔ان کو نقشوں میں بڑی بڑی لائنوں سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔فالٹس کا چٹانوں یا توانائی کے اخراج کی وجہ سے متحرک ہونا بھی زلزلے کی وجہ ہے۔ان فالٹ لائنوں پر موجود ممالک یا مقامات زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں ہزاروں کلومیٹر طویل فالٹ لائنیں ہیں۔اسلام آباد کے نزدیک روات فالٹ لائن روات سے ہوتی ہوئی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر تک جاتی ہے۔پاکستا اور نیپال بھی ایک ہی فالٹ لائن پر ہے۔ پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنوں پر واقع ہے۔
آتش فشانی ٹیکنوٹک(tectonic) زلزلے
آتش فشانی ٹیکونک زلزلہ میگما(پگھلا ہوا مادہ جو زمین کی اندرونی تہوں سے برآمد ہوتا ہے اس میں سے آتش فشانی چٹانیں قلمیں بنتی ہیں میگما صرف پگھلی ہوئی چٹانوں پر مشتمل نہیں ہوتا اس میں اڑ جانے والے مادے بھی ہوتے ہیں یہ مادے آسانی سے بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں ان میں پانی ،کاربن ڈائی آکسائیڈ ، ہائیڈروجن ، سلفائیڈ ، سلفر ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کلورین بھی ہوتی ہے۔
میگما میں8فیصد تک پانی ہوتا ہے) کے زمین سے اخراج کی وجہ آتے ہیں۔ میگما کے دباؤ سے چٹانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو زلزلے کی وجہ بنتا ہے۔2007 اور 2008 میں برٹش کولمبیا، کینیڈا کا نازکو کا زلزلہ اسی کی مثال ہے۔
انڈیوڈسڈ سیس میٹی
انڈیوڈسڈ سیس میٹی(Induced seismicity) وہ کم شدت کے زلزلے ہوتیہیں جو کسی انسانی سرگرمی کی وجہ سے قشر ارض پر دباؤ پڑنے سے آتے ہیں۔
اس وجہ سے کچھ جگہوں بڑی باقاعدہ سے کم شدت کے زلزلے آتے ہیں۔ گیسرز(The Geysers) جیوتھرمل پلانٹ کیلیفورنیا میں پچھلے 5 سالوں کے دوران ہر سال 2 ایم 4 اور 15 ایم 3 زلزلے آتے ہیں۔
چند اصطلاحات
زلزلہ مرکز
زلزلہ مرکز(epicenter) وہ پوائنٹ ہوتا ہے جو ہائپو سنٹر یا فوکس( وہ جگہ جہاں زلزلہ یازیرزمین دھماکہ ہوا ہو) کے براہ راست اوپر ہوتا ہے۔یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سب سے پہلے فالٹ پھٹنا شروع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زلزلہ مرکز اس جگہ کو بھی کہتے ہیں جہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہو، تاہم ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زلزلہ مرکز دورغیر آباد جگہ میں ہو اور تباہی بہت دور کسی گنجان آباد شہر میں زیادہ ہو۔
ہائپو سنٹر
ہائپو سنٹر(hypocenter) وہ جگہ ہوتی ہے جہاں چٹانوں میں توانائی محفوظ ہوتی ہے۔
اسی جگہ سے توانائی کا اخراج شروع ہوتا ہے۔یہ وہی پوائنٹ ہوتا ہے جہاں سے پوائنٹ پھیلنا شروع ہوتا ہے۔یہ پوائنٹ زلزلہ مرکز کے عین نیچے ہوتا ہے۔ہائپو سنٹر اور زلزلہ مرکز کا فاصلہ فوکل یا ہائپو سنٹرل گہرائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شیڈو زون
شیڈو زون(Shadow zone) زمین کی سطح کا وہ حصہ ہیں جہاں سیسمو گراف زلزلے کی لہریں گذرنے کے بعد زلزلے کا پتہ نہیں چلا سکتے۔
جب زلزلہ آتا ہے تو زلزلے کی لہریں زلزلے کے فوکس سے کروی انداز میں پھیلتی ہیں۔جب زلزلہ آتا ہے تو پرائمری سیسمک ویوززمین کے بیرونی مائع کور سے منعطف ہوتی ہیں۔104ڈگری سے 140 ڈگری (11,570اور15,570 کلومیٹر یا 7,190 اور 9,670میل) تک انہیں شناخت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
زلزلے کی لہریں
زلزلے کی لہریں(Seismic waves) اصل میں توانائی کی لہریں ہوتی ہیں جو زمین کی تہوں میں سفر کرتی ہوئی، باہر نکل کر ، زلزلے کا باعث بنتی ہیں۔
پیمائش کے طریقے
سیسمک سکیل
سیسمک سکیل(seismic scale) زلزلے کی شدت کو کیلکولیٹ کرنے اور موازنہ کرنے کے کام آتے ہیں۔بنیادی طور پر دو طرح کے سکیل استعمال ہوتے ہیں۔ دونوں ہی اہم ہیں۔اصل فورس اور زلزلے کی توانائی کو magnitude سکیل سے ناپا جاتا ہے جبکہ کسی مخصوص مقام پر زمین کے ہلنے کی شدت کو ناپنے کے لیے intensityسکیل استعمال کیا جاتا ہے۔
سیسمو میٹر
سیمو میٹرز(Seismometers) وہ انسٹرومنٹس ہیں جن سے زمین پرزلزلے سیپیدا ہونے والی سیسمک ویوز، آتش فشاں کا اخراج اور دوسرے سیسمک سورسزناپے جاتے ہیں۔اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ماہرین زمین کے اندرونی حصے کے نقشے بناتے ہیں۔
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ(Earthquake Duration Magnitude) کا تصور 1958 میں بسزٹرکسانی نے دیا تھا۔اس سے سطح کی لہریں ماپی جا سکتی ہیں۔
ریکٹر سکیل
ریکٹر میگنیچیوڈ سکیل یا ریکٹر ا سکیل کی مدد سے زمین سے نکلنے والی توانائی کو ایک عدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ریکٹر ا سکیل 1930 کی دہائی میں بنایا گیا۔اس کی بنیاد 10 لوگرتھم ا سکیل ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ ریکٹر سکیل پر 5.0درجے کے زلزلے کی شدت 4.0ریکارڈ کیے گئے زلزلے سے 10 گْنا زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح 4 کے مقابلے میں 5 درجے کے زلزلے میں زمین سے 4درجے کے زلزلے سے31.6 گنا زیادہ نوانائی پیدا ہوتی ہے۔زلزلہ جتنا درجوں میں بڑھتا جائے گا اس کی شدت بھی اسی حساب سے بڑھتی جائے گی۔
ریکٹر سکیل کے درجوں کی وضاحت
2.0سے 2.9 تک
ایسے زلزلوں کو مائیکرو زلزلے کہا جاتا ہے۔ایسے زلزلے سال میں کئی ملین بار آتے ہیں۔یہ اتنے ہلکے ہوئے ہیں کہ سائنس دان کبھی کبھار ہی انہیں اپنے آلات سے ماپ سکتے ہیں۔
سے 3.9 تک ،یہ زلزلے شدت میں Minor ہوتے ہیں۔ یہ سال میں ایک لاکھ بار آتے ہیں اور کبھی کسی بلڈنگ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
4.0 سے 4.9 تک ،ان کی شدت لائٹ/ ہلکی ہوتی ہے۔یہ سال میں 10 ہزار سے پندرہ ہزار دفعہ آتے ہیں۔ان سے کم سے کم نقصان ہوتا ہے۔
5.0سے 5.9تک،ایسے زلزلے سال میں 1000 سے 1500 آتے ہیں۔درمیانے درجے کے یہ زلزلے کچی اورناقص بنی ہوئی عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
6.0 سے 6.9تک،ان زلزلوں کا درجہ شدید ہوتا ہے۔یہ سال میں 100 سے 150 کی تعداد میں آتے ہیں۔ ا س طرح کے زلزلے کافی نقصان کرتے ہیں۔
7.0سے 7.9تک،اس طرح کے زلزلوں کا درجہ شدیدتر ہوتا ہے۔یہ سال میں 10 سے 20 بار آتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
8.0سے 8.9تک،شدید ترین درجے کے یہ زلزلہ سال میں ایک بار آتا ہے۔ اس قسم کے زلزلے میں عمارتیں گر جاتی ہیں بہت سا جانی نقصان ہوتا ہے۔
9.0سے زیادہ،انتہائی شدید ترین درجے کا یہ زلزلہ 10 سے 50 سال کے دوران ایک مرتبہ آتا ہے۔عمارتوں اور بلڈنگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں آنے والے زلزلے کی شدت
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 اکتوبر 2015 کو آنے والے زلزلے کی شدت 8.1تھی۔اتنی شدت کے زلزلے سے اتنی توانائی خارج ہوتی ہے جتنی جاپان میں گرائے ہوئے ایٹم بم جیسے 1,421.5ایٹم بم مل کر خارج کرتے ہیں۔اتنی توانائی کہ 17,825,018.8بارآسمانی بجلی چمک جائے۔یہ اتنی توانائی ہوتی ہے 21,301, 408.7 ٹن ٹی این ٹی (بارود)کو پھونک کر اتنی توانائی حاصل ہو۔اتنی توانائی تیل کہ 675,190,104.6گیلن سے حاصل ہوگی یا اتنی توانائی کیلیے 42, 440, 520,863.5بارود کی سٹکس جلانی پڑیں گی۔
زلزلے کے دوران حفاظتی تدابیر
زلزلوں کے دوران درج ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کر کے جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔زلزلے کے دوران اگر آپ گھر سے باہر ہیں تو عمارتوں، دیواروں ، درختوں اور بجلی کی تاروں سے دور رہیں۔اگر آپ بس یا گاڑی سے سفر کر رہے ہیں تو اس کو فوراً روک دیں یا روکوا دیں۔ گاڑی کو عمارتوں، کھمبوں اور بجلی کی تاروں سے دور روکیں۔زلزلے کے وقت عمارت میں موجود ہیں تو عمارت سے نکل جائیں، اگر نکلنا ممکن نہ ہوتو دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوجائیں یاسیٹرھیوں اور میز کے نیچے پناہ لیں۔یہ ممکن نہ تو گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھوں سے سر اور گردن ڈھانپ لیں۔
بلڈنگ سے باہر نکلتے وقت لفٹ
کااستعمال نہ کریں۔
کھڑکیوں یا شیشے کی چیزوں سے بھی دور رہیں۔بیرونی دیواروں اور لمبے فرنیچر سے بھی دور رہیں۔ زلزلے کے بعد پرسکون رہیں اور معلومات کے لیے ریڈیو یا ٹی وی سنیں۔اگر خدانخواستہ کوئی ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے تو اسے چاہے کہ لائٹر اور ماچس نہ جلائے، اپنے منہ پر کپڑیا رومال رکھ لے۔امدادی ٹیم کو متوجہ کرنے کے لیے لوہے کاپائپ اگر موجود ہوتو اسے دیوار میں مارتے رہیں۔
زلزلے کے بعد کمزور اور ٹوٹی ہوئی عمارتوں میں جانے سے گریز کریں۔
اگر گھر کو نقصان پہنچے تو
اس وقت تک گھر میں داخل نہ ہوں، جب تک اس کے محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو۔گھر میں داخل ہوتے ہیں گیس کی لیکیج چیک کریں۔ اگر گیس لیگ نہیں ہو رہی تو بجلی کی چیزیں یا ٹی وی وغیرہ چلائیں۔
اگر کوئی تار ٹوٹ گئی ہو تو مین سوئچ فوراً بند کر دیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر