وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

پیر 23 اپریل 2018 زلزلے اقسام، وجوہات اور حفاظتی تدابیر

زلزلہEarthquake ، Quake، Tremor یا Temblor زمین کی سطح کے ہلنے کو کہتے ہیں۔ یہ ہلنا واضح طور محسوس کیا جا سکتا ہے۔کبھی کبھار تو زمین اتنی زیادہ ہلتی ہے کہ عمارتیں گر جاتی ہیں اور ہزاروں جانوں کا نقصان ہوجاتا ہے۔بعض زلزلے تو اتنے شدید ہوتے ہیں کہ شہروں کے شہر ہی ملیا میٹ کر دیتے ہیں۔زلزلے کی بنیادی وجہ زمین سے نکلنے والی تواانائی یا گرمی ہوتی ہے۔زمین کی تہوں میں سے جب بہت زیادہ توانائی سطح زمین پر خارج ہوتی ہے تو وہ زلزلے کی لہر بناتی ہے،جس سے زلزلہ آتا ہے۔ جتنی زیادہ توانائی ہوگی، اتنا ہی شدید زلزلہ ہوگا۔

زلزلے کی اقسام

زلزلے کی بہت سی اقسام ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

فور شاک(Foreshock)
فورشاک وہ زلزلہ ہوتا ہے جو بڑے زلزلے (مین شاک) سے پہلے آتا ہے۔فور شاک اور مین شاک دونوں میں وقت اور جگہ کے لحاظ سے تعلق ہوتا ہے۔کسی بھی بڑے زلزلے میں فور شاک، مین شاک اور آفٹر شاک تین اہم مرحلے ہوتے ہیں۔درمیانے درجے سے لے کر بڑے درجوں تک کے زلزلوں کے 40 فیصدفور شاک کو دریافت کیا جا سکتا ہے جبکہ 7.0درجے سے بڑے زلزلوں میں یہ شرح 70 فیصد ہوتی ہے۔فور شاک اور مین شاک کے بیچ میں چند منٹوں سے لے کر دنوں اور بعض حالاات میں اس سے بھی زیادہ وقفہ ہو سکتاہے۔

2002 میں سماٹرا میں آنے والے زلزلے کو 2004 میں بحر ہند میں آنے والے زلزلے کا فور شاک سمجھا جاتا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان دو سال کا فرق ہے۔
ضروری نہیں کہ ہر بڑے زلزلے سے پہلے فور شاک سامنے آئیں۔ 8.0درجے سے بڑے زلزلوں کے فور شاک نہیں ہوتے۔ اس کی مثال 1950 میں بھارت اور چین میں آنے والا M8.6کا زلزلہ ہے جس میں کوئی فور شاک نہیں آیا۔

آفٹر شاک
(Aftershock)
آفٹر شاک وہ چھوٹا زلزلہ ہوتا ہے جو مین شاک یعنی بڑے زلزلے کے بعد اسی علاقے میں آتا ہے۔اگرآفٹر شاک کا علاقہ مین شاک کے علاقے سے بڑا ہوتو اصطلاح میں آفٹر شاک کو مین شاک کہا جائے گا اور پچھلا مین شاک ، فور شاک میں تبدیل ہو جائے گا۔مین شاک کی وجہ سے جب ہٹ جائے تو سطح پر قشر ارض (Earth Crust) خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے جس سے آفٹر شاک پیدا ہوتے ہیں۔

بلائنڈ تھرسٹ
بلائنڈ تھرسٹ زلزلہ، تھرسٹ فالٹ کے ساتھ آتا ہے۔تھرسٹ فالٹ، فالٹ یا قشر ارض میں دراڑ کی ایک قسم ہوتی ہے۔ اس میں پریشر کی وجہ سے چٹانیں اوپر نیچے ہوجاتی ہے۔ تھرسٹ فالٹ میں پرانی چٹانیں نئی چٹانوں کے اوپر ہوتی ہے۔
سطح زمین پر بلائنڈ تھرسٹ زلزلے کے نشانات نظر نہیں آتے نہ اسے سطح زمین سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔تیل کی کھدائی یا دوسرے کاموں کے لیے زمین کی کھدائی کے دوران بلائنڈ تھرسٹ زلزلے دریافت ہو جاتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے اگرچہ اتنی زیادہ قوت کے نہیں ہوتے تاہم شہروں کے نیچے آنے والے بعض بلائنڈ تھرسٹ زلزلے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

جڑواں زلزلے
(Doublet earthquake)
ماہرین زلزلہ ایسے زلزلوں کو جڑواں ((Doublet) زلزلے کہتے ہیں جو قریب قریب جگہوں پر ایک ہی وقت میں یا کچھ وقفے سے رونماء ہوں۔یہ عام زلزلے کے آفٹر شاک سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔
ایک تو ان میں جگہوں کا فرق ہوتا ہے یعنی زلزلے کی جگہوں کا فاصلہ ہوتا ہے ، اسکے علاوہ دوسرا زلزلہ پہلے سے ذرا سی زیادہ شدت کاہوتا ہے۔ اس طرح کے زلزلے سال میں ایک دو بار ہی رونماء ہوتے ہیں۔زلزلوں کے کچھ واقعات میں ٹرپل زلزلے بھی سامنے آئے ہیں، جیسے 2010 کا منڈاناؤ زلزلہ۔

انٹر پلیٹ زلزلے
انٹرپلیٹ(Interplate) زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جو دو ٹیکنو پلیٹ کی حد پر آئیں۔اس طرح کے زلزلوں میں دنیا کے تمام زلزلوں کی توانائی کا 90 فیصد خارج ہو جاتا ہے۔جب ایک پلیٹ حرکت کر رہی ہوتی ہے تو دوسری لاک ہوجاتی ہے اور اس وقت تک لاک رہتی ہے جب تک بہت زیادہ دباؤ پیدا ہو کر پلیٹ پھسل نہ جائے۔ دونوں پلیٹوں کے پھسلنے سے زلزلہ آتا ہے جو زمین کی شکل بدل دیتا ہے اور زلزلے کی لہریں سطح زمین پر پھیل جاتی ہیں۔

اس طرح کے زلزلے شمالی امریکا کے مغربی ساحل( خاص کر کیلیفورنیا اور الاسکا)، شمال مشرقی بحیرہ روم(یونان، اٹلی اور ترکی)، ایران، نیوزی لینڈ، اندونیشیا، بھارت، جاپان اور چین کے کچھ حصوں میں آتے ہیں۔انٹرپلیٹ زلزلے شدت اور دباؤ کی وجہ سے دوسرے انٹرپلیٹ زلزلوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ انٹرپلیٹ زلزلے کافی عام ہیں۔انٹرا پلیٹ زلزلے اگر بڑے علاقے میں ہوں تو بہت تباہی پھیلاتے ہیں۔

2001 میں گجرات کا زلزلہ اور 2012 کابحر ہند کا زلزلہ اس کی تباہی کی مثالیں ہیں۔اس کے علاوہ 1812 میں نیو میڈریڈ، میسوری اور 1886 میں چارلسٹن ، ساؤتھ کیرولینا کا زلزلہ بھی انٹرا پلیٹ تھا۔

میگا تھرسٹ(Megathrust) زلزلے
میگا تھرسٹ زلزلے subduction زون میں ہوتے ہیں۔ subduction زون یعنی جہاں قشر زمین کے کسی بھی تختے یا قطعے کے نیچے اور پہلو کی طرف کھسک کر کسی دوسرے تختے کے نیچے گھس جائے۔
اس سے آنے والے انٹرپلیٹ زلزلے زمین کے تباہ کن ترین زلزلیثابت ہو سکتیہیں جوشدت میں 9.0 سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔1900 کے بعد سے آنے والے 9.0یازیادہ کے زلزلوں کو میگا تھرسٹ زلزلے کہا جاتا ہے۔سطح زمین یا ٹیکنو پلیٹ کی کوئی سرگرمی اس طرح کا زلزلہ نہیں بنا سکتی۔
ریموٹلی ٹریگرڈ

(Remotely triggered)
بڑے زلزلوں کے اثرات کی وجہ سے دوردراز کے کسی علاقے میں آنے والوں زلزلے یا زلزلوں کو ریموٹلی ٹریگرڈ زلزلہ کہتے ہیں۔دور دراز کے مقام پر آنے والا ریموٹلی ٹریگر زلزلہ پھر دوسرے دور دراز کے مقام پر کسی زلزلے کی وجہ بن سکتا ہے۔

سست زلزلہ
(Slow earthquake)
سست زلزلہ مسلسل نہیں ہوتا۔ اس قسم کے زلزلے میں زمین اپنی توانائی کو سیکنڈوں یا منٹوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں سے مہینوں میں خارج کرتی ہے۔
زیر سمندر
(Submarine) زلزلے
زیر آب یا زیر سمندر زلزلے پانی کی سطح کے نیچے سمندر میں رونماء ہوتے ہیں۔یہی زلزلے سونامی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ سائنسی طور پر ان زلزلوں کو ریکٹر سکیل یا مرکالی سکیل پر ناپا جا تا ہے۔
سپر شیئر(Supershear)
سپر شیئر زلزلے وہ زلزلے ہوتے ہیں جس میں فالٹ کی سطح کے ساتھ انشقاق ْ(پھٹنے یا توانائی پھیلنے کاعمل )بہت تیزی سے ایس ویو(S-Wave) یا سیکنڈری ویوز ولاسٹی سے ہوتا ہے۔
سونامی(Tsunami)زلزلے
سونامی زلزلہ سے زلزلے کے شدت سے زیادہ شدت کی سونامی آتی ہے، جسے کم وقت کی سیسمک ویوز میں ماپا جاتا ہے۔یہ اصلاح 1972 میں ہیرو کاناموری نے متعارف کرائی۔ اس زلزلے میں خطرناک بات یہ ہے کہ سونامی بہت جلد کسی بھی قریبی ساحل سے ٹکرا کر نقصان کرتی ہے۔
ارتھ کوئیک سوارم
(Earthquake swarm)
ارتھ کوئی سوارم میں مختصر ٹائم میں ایک ہی علاقہ میں دوسریعلاقوں کے زلزلوں اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق یہ اثرات منٹوں، گھنٹوں، دنوں یا مہینوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
وجوہات
زمین اندر سے بہت گرم ہے۔اس کی گرمی زمین میں ہی جمع ہوتی رہتی ہے۔ جب یہ گرمی فالٹ لائنوں یا دیگر مقامات سے باہر نکلتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے
فالٹ(Fault) کی حرکت
ارضیات میں فالٹ ہموار زمین کے سلسلے میں رخنہ یا چٹانوں میں عدم تسلسل کوکہتے ہیں۔قشر ارض میں بہت بڑے بڑے فالٹس بھی ہیں۔ان کو نقشوں میں بڑی بڑی لائنوں سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔فالٹس کا چٹانوں یا توانائی کے اخراج کی وجہ سے متحرک ہونا بھی زلزلے کی وجہ ہے۔ان فالٹ لائنوں پر موجود ممالک یا مقامات زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں ہزاروں کلومیٹر طویل فالٹ لائنیں ہیں۔اسلام آباد کے نزدیک روات فالٹ لائن روات سے ہوتی ہوئی پنجاب، اسلام آباد اور کشمیر تک جاتی ہے۔پاکستا اور نیپال بھی ایک ہی فالٹ لائن پر ہے۔ پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنوں پر واقع ہے۔
آتش فشانی ٹیکنوٹک(tectonic) زلزلے
آتش فشانی ٹیکونک زلزلہ میگما(پگھلا ہوا مادہ جو زمین کی اندرونی تہوں سے برآمد ہوتا ہے اس میں سے آتش فشانی چٹانیں قلمیں بنتی ہیں میگما صرف پگھلی ہوئی چٹانوں پر مشتمل نہیں ہوتا اس میں اڑ جانے والے مادے بھی ہوتے ہیں یہ مادے آسانی سے بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں ان میں پانی ،کاربن ڈائی آکسائیڈ ، ہائیڈروجن ، سلفائیڈ ، سلفر ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کلورین بھی ہوتی ہے۔
میگما میں8فیصد تک پانی ہوتا ہے) کے زمین سے اخراج کی وجہ آتے ہیں۔ میگما کے دباؤ سے چٹانوں پر دباؤ بڑھتا ہے جو زلزلے کی وجہ بنتا ہے۔2007 اور 2008 میں برٹش کولمبیا، کینیڈا کا نازکو کا زلزلہ اسی کی مثال ہے۔
انڈیوڈسڈ سیس میٹی
انڈیوڈسڈ سیس میٹی(Induced seismicity) وہ کم شدت کے زلزلے ہوتیہیں جو کسی انسانی سرگرمی کی وجہ سے قشر ارض پر دباؤ پڑنے سے آتے ہیں۔
اس وجہ سے کچھ جگہوں بڑی باقاعدہ سے کم شدت کے زلزلے آتے ہیں۔ گیسرز(The Geysers) جیوتھرمل پلانٹ کیلیفورنیا میں پچھلے 5 سالوں کے دوران ہر سال 2 ایم 4 اور 15 ایم 3 زلزلے آتے ہیں۔
چند اصطلاحات
زلزلہ مرکز
زلزلہ مرکز(epicenter) وہ پوائنٹ ہوتا ہے جو ہائپو سنٹر یا فوکس( وہ جگہ جہاں زلزلہ یازیرزمین دھماکہ ہوا ہو) کے براہ راست اوپر ہوتا ہے۔یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سب سے پہلے فالٹ پھٹنا شروع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زلزلہ مرکز اس جگہ کو بھی کہتے ہیں جہاں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہو، تاہم ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زلزلہ مرکز دورغیر آباد جگہ میں ہو اور تباہی بہت دور کسی گنجان آباد شہر میں زیادہ ہو۔
ہائپو سنٹر
ہائپو سنٹر(hypocenter) وہ جگہ ہوتی ہے جہاں چٹانوں میں توانائی محفوظ ہوتی ہے۔
اسی جگہ سے توانائی کا اخراج شروع ہوتا ہے۔یہ وہی پوائنٹ ہوتا ہے جہاں سے پوائنٹ پھیلنا شروع ہوتا ہے۔یہ پوائنٹ زلزلہ مرکز کے عین نیچے ہوتا ہے۔ہائپو سنٹر اور زلزلہ مرکز کا فاصلہ فوکل یا ہائپو سنٹرل گہرائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شیڈو زون
شیڈو زون(Shadow zone) زمین کی سطح کا وہ حصہ ہیں جہاں سیسمو گراف زلزلے کی لہریں گذرنے کے بعد زلزلے کا پتہ نہیں چلا سکتے۔
جب زلزلہ آتا ہے تو زلزلے کی لہریں زلزلے کے فوکس سے کروی انداز میں پھیلتی ہیں۔جب زلزلہ آتا ہے تو پرائمری سیسمک ویوززمین کے بیرونی مائع کور سے منعطف ہوتی ہیں۔104ڈگری سے 140 ڈگری (11,570اور15,570 کلومیٹر یا 7,190 اور 9,670میل) تک انہیں شناخت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
زلزلے کی لہریں
زلزلے کی لہریں(Seismic waves) اصل میں توانائی کی لہریں ہوتی ہیں جو زمین کی تہوں میں سفر کرتی ہوئی، باہر نکل کر ، زلزلے کا باعث بنتی ہیں۔
پیمائش کے طریقے
سیسمک سکیل
سیسمک سکیل(seismic scale) زلزلے کی شدت کو کیلکولیٹ کرنے اور موازنہ کرنے کے کام آتے ہیں۔بنیادی طور پر دو طرح کے سکیل استعمال ہوتے ہیں۔ دونوں ہی اہم ہیں۔اصل فورس اور زلزلے کی توانائی کو magnitude سکیل سے ناپا جاتا ہے جبکہ کسی مخصوص مقام پر زمین کے ہلنے کی شدت کو ناپنے کے لیے intensityسکیل استعمال کیا جاتا ہے۔
سیسمو میٹر
سیمو میٹرز(Seismometers) وہ انسٹرومنٹس ہیں جن سے زمین پرزلزلے سیپیدا ہونے والی سیسمک ویوز، آتش فشاں کا اخراج اور دوسرے سیسمک سورسزناپے جاتے ہیں۔اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ماہرین زمین کے اندرونی حصے کے نقشے بناتے ہیں۔
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ
ارتھ کوئیک ڈیوریشن میگنیچیوڈ(Earthquake Duration Magnitude) کا تصور 1958 میں بسزٹرکسانی نے دیا تھا۔اس سے سطح کی لہریں ماپی جا سکتی ہیں۔
ریکٹر سکیل
ریکٹر میگنیچیوڈ سکیل یا ریکٹر ا سکیل کی مدد سے زمین سے نکلنے والی توانائی کو ایک عدد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ریکٹر ا سکیل 1930 کی دہائی میں بنایا گیا۔اس کی بنیاد 10 لوگرتھم ا سکیل ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ ریکٹر سکیل پر 5.0درجے کے زلزلے کی شدت 4.0ریکارڈ کیے گئے زلزلے سے 10 گْنا زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح 4 کے مقابلے میں 5 درجے کے زلزلے میں زمین سے 4درجے کے زلزلے سے31.6 گنا زیادہ نوانائی پیدا ہوتی ہے۔زلزلہ جتنا درجوں میں بڑھتا جائے گا اس کی شدت بھی اسی حساب سے بڑھتی جائے گی۔
ریکٹر سکیل کے درجوں کی وضاحت
2.0سے 2.9 تک
ایسے زلزلوں کو مائیکرو زلزلے کہا جاتا ہے۔ایسے زلزلے سال میں کئی ملین بار آتے ہیں۔یہ اتنے ہلکے ہوئے ہیں کہ سائنس دان کبھی کبھار ہی انہیں اپنے آلات سے ماپ سکتے ہیں۔
سے 3.9 تک ،یہ زلزلے شدت میں Minor ہوتے ہیں۔ یہ سال میں ایک لاکھ بار آتے ہیں اور کبھی کسی بلڈنگ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
4.0 سے 4.9 تک ،ان کی شدت لائٹ/ ہلکی ہوتی ہے۔یہ سال میں 10 ہزار سے پندرہ ہزار دفعہ آتے ہیں۔ان سے کم سے کم نقصان ہوتا ہے۔
5.0سے 5.9تک،ایسے زلزلے سال میں 1000 سے 1500 آتے ہیں۔درمیانے درجے کے یہ زلزلے کچی اورناقص بنی ہوئی عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
6.0 سے 6.9تک،ان زلزلوں کا درجہ شدید ہوتا ہے۔یہ سال میں 100 سے 150 کی تعداد میں آتے ہیں۔ ا س طرح کے زلزلے کافی نقصان کرتے ہیں۔
7.0سے 7.9تک،اس طرح کے زلزلوں کا درجہ شدیدتر ہوتا ہے۔یہ سال میں 10 سے 20 بار آتے ہیں۔اس طرح کے زلزلے کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
8.0سے 8.9تک،شدید ترین درجے کے یہ زلزلہ سال میں ایک بار آتا ہے۔ اس قسم کے زلزلے میں عمارتیں گر جاتی ہیں بہت سا جانی نقصان ہوتا ہے۔
9.0سے زیادہ،انتہائی شدید ترین درجے کا یہ زلزلہ 10 سے 50 سال کے دوران ایک مرتبہ آتا ہے۔عمارتوں اور بلڈنگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں آنے والے زلزلے کی شدت
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 اکتوبر 2015 کو آنے والے زلزلے کی شدت 8.1تھی۔اتنی شدت کے زلزلے سے اتنی توانائی خارج ہوتی ہے جتنی جاپان میں گرائے ہوئے ایٹم بم جیسے 1,421.5ایٹم بم مل کر خارج کرتے ہیں۔اتنی توانائی کہ 17,825,018.8بارآسمانی بجلی چمک جائے۔یہ اتنی توانائی ہوتی ہے 21,301, 408.7 ٹن ٹی این ٹی (بارود)کو پھونک کر اتنی توانائی حاصل ہو۔اتنی توانائی تیل کہ 675,190,104.6گیلن سے حاصل ہوگی یا اتنی توانائی کیلیے 42, 440, 520,863.5بارود کی سٹکس جلانی پڑیں گی۔
زلزلے کے دوران حفاظتی تدابیر
زلزلوں کے دوران درج ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کر کے جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔زلزلے کے دوران اگر آپ گھر سے باہر ہیں تو عمارتوں، دیواروں ، درختوں اور بجلی کی تاروں سے دور رہیں۔اگر آپ بس یا گاڑی سے سفر کر رہے ہیں تو اس کو فوراً روک دیں یا روکوا دیں۔ گاڑی کو عمارتوں، کھمبوں اور بجلی کی تاروں سے دور روکیں۔زلزلے کے وقت عمارت میں موجود ہیں تو عمارت سے نکل جائیں، اگر نکلنا ممکن نہ ہوتو دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوجائیں یاسیٹرھیوں اور میز کے نیچے پناہ لیں۔یہ ممکن نہ تو گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھوں سے سر اور گردن ڈھانپ لیں۔
بلڈنگ سے باہر نکلتے وقت لفٹ
کااستعمال نہ کریں۔
کھڑکیوں یا شیشے کی چیزوں سے بھی دور رہیں۔بیرونی دیواروں اور لمبے فرنیچر سے بھی دور رہیں۔ زلزلے کے بعد پرسکون رہیں اور معلومات کے لیے ریڈیو یا ٹی وی سنیں۔اگر خدانخواستہ کوئی ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے تو اسے چاہے کہ لائٹر اور ماچس نہ جلائے، اپنے منہ پر کپڑیا رومال رکھ لے۔امدادی ٹیم کو متوجہ کرنے کے لیے لوہے کاپائپ اگر موجود ہوتو اسے دیوار میں مارتے رہیں۔
زلزلے کے بعد کمزور اور ٹوٹی ہوئی عمارتوں میں جانے سے گریز کریں۔
اگر گھر کو نقصان پہنچے تو
اس وقت تک گھر میں داخل نہ ہوں، جب تک اس کے محفوظ ہونے کا یقین نہ ہو۔گھر میں داخل ہوتے ہیں گیس کی لیکیج چیک کریں۔ اگر گیس لیگ نہیں ہو رہی تو بجلی کی چیزیں یا ٹی وی وغیرہ چلائیں۔
اگر کوئی تار ٹوٹ گئی ہو تو مین سوئچ فوراً بند کر دیں۔


متعلقہ خبریں


کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے وجود - هفته 28 مارچ 2020

انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب نے 20 دیہات کے 40 ہزار شہریوں کو اس وقت قرنطینہ میں ڈال دیا جب وہاں پھیلنے والی کووِڈ-19 کی وبا کا تعلق صرف ایک شخص سے ثابت ہوا۔ان 70 سالہ شخص کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی مگر اس کا پتہ صرف ان کی ہلاکت کے بعد چلا۔حکام نے برطانوی نشریا تی ادارے کو بتایا کہ ہلاک شدہ شخص ایک مبلغ تھے اور انھوں نے اٹلی اور جرمنی سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے مشوروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔انڈیا میں وائرس کے 640 تصدیق شدہ متاثرین ہیں جن میں سے 30 ریا...

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع وجود - هفته 28 مارچ 2020

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے کورونا وائرس کے عالمی کساد بازاری شروع ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیویا کے مطابق کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دنیا بھر میں لاک ڈاون، فیکٹریاں، ائیرلائز، سیاحت، درآمدات اور برآمدات بند ہونے سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کا عمل دوہزار نو جیسا یا اس سے بدتر ہوگا اورعالمی معیشت پراس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔آئی ایم ایف سربراہ نے پیش گوئی کی کہ وا...

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے وجود - هفته 28 مارچ 2020

گروپ آف ٹوئنٹی ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عالمی معیشت میں 50 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جی 20 رہنمائوں نے غیر معمولی سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ۔رہنمائوں نے کہا کہ جرات مندانہ انداز میں بڑے پیمانے پر مالی مدد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے تشخیصی آلات، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تیزتر ترقی، تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔جاپان کے...

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ وجود - جمعه 27 مارچ 2020

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ''کونٹیجن'' نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم 'کونٹیجن' کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری 'ایم ای ویـ1' پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔' وارنر بروس' کی 2011 می...

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی وجود - جمعه 27 مارچ 2020

دنیا بھر میں کرونا کا خوف، 199 ممالک میں 24 ہزار 87 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی وبا نے پانچ لاکھ بتیس ہزار 224 افراد کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 326 ہے ، امریکا میں کرونا سے متاثرین افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی وبا سے امریکا میں 1300 افراد ہلاک اور 85 ہزار 594 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ چین میں کرونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 292 ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 81 ہزار 340 ہے ۔ اٹلی میں کرونا سے آٹھ ہ...

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار وجود - جمعه 27 مارچ 2020

نئے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ اس میں تغیر یا تبدیلی کی رفتار دیگر وائرسز جیسے فلو کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ وائرس کے پھیلائو پر نظر رکھنے والے ماہرین نے کیا اور وائرس میں تبدیلی کی سست رفتار 2 مثبت اثرات کو ظاہر کرتی ہے ۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ وائرس اپنی موجودہ حالت میں مستحکم ہے اور آگے پھیلنے پر بھی اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین طویل المعیاد بنیادوں پر موثر ثا...

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات وجود - جمعه 27 مارچ 2020

اٹلی میں کورونا وائرس آج بھی 662 زندگیاں لے گیا، اموات 8 ہزار سے اوپر چلی گئیں جبکہ اسپین میں 458 زندگیاں گئیں، تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی۔ادھر امریکا میں مریضوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ برطانیہ میں مزید 320 افراد میں کورونا مرض کی تشخیص ہوئی، مجموعی تعداد 9 ہزار 800 سے زائد ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایران میں 2200 افراد جان سے جاچکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کرگئی۔دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے اوپر چلی گئی،...

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل وجود - جمعه 27 مارچ 2020

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر نبرد آزما ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈکس کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اٹلی میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی آئی سی یو سے شیئر کی گئیں تصاویر نے دنیا بھر میں لوگوں کو ان کا گرویدہ کر لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ آئی سی یو میں مریضوں کے علاج کے لئے کئی گھنٹے حفاظتی کٹس اور سامان پہنے رکھنے کے باعث ڈاکٹرز اور نرسوں کے چہر...

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں وجود - جمعه 27 مارچ 2020

برطانیا میں کورونا وائرس سے مزید 115 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مجموعی تعداد 578 ہو گئی جبکہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 11 ہزار سے زائد ہو گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا بھی جرم قرار دیدیا گیا، خود کو کورونا کا مریض ظاہر کر کے طبی عملے پر کھانسنے والے کو دو سال قید ہوگی۔عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے پولیس کو نئے اختیارات مل گئے ، لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے پر 60 پاونڈ جرمانہ ہوسکے گا۔ ہر مرتبہ جرمانہ دوگنا بڑھتا جائے گا۔ اپنا کام کر...

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں

کوروناوائرس ، متاثرہ ملکوں میں امریکا نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - جمعه 27 مارچ 2020

کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں میں امریکا نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا اور پہلی پوزیشن پر آگیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں کورونا مریضو ں کی تعداد 85 ہزار 280 ہوگئی جبکہ چین میں یہ تعداد 81 ہزار 340 ہے ۔چین میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3,292 ہے جبکہ امریکا میں آج 266 نئی ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 1293 ہوچکی ہے ۔دوسری جانب نیو یارک میں کورونا مریضوں کے لیے درکار وینٹی لیٹرز کی شدید کمی کے باعث دو مریضوں کے لیے ایک ہی وینٹی لیٹر استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے...

کوروناوائرس ، متاثرہ ملکوں میں امریکا نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا