وجود

... loading ...

وجود

کائناتی راز بلیک ہول کیا ہے اور اسے دیکھنا ممکن ہے؟

پیر 23 اپریل 2018 کائناتی راز بلیک ہول کیا ہے اور اسے دیکھنا ممکن ہے؟

گزشتہ ماہ اس صدی کے مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی وفات کے بعد مختلف سائنسی ویب سائٹ پر بہت سے کالم چھپے جن میں ان کی بلیک ہول پر ریسرچ کو خوب سراہا گیا۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ بلیک ہول کیا ہے؟سائنس کی دنیا میں انہیں کبھی تو دوسری کائنات میں جانے کا راستہ کہا جاتا ہے اور کبھی موت کا گڑھا۔ کیا بلیک ہول کا رنگ واقعی سیاہ ہے یا پھر اس سیاہ پردے کے پیچھے بھی رازوں کی دنیا چھپی ہے؟

جب کوئی ستارہ اپنی زندگی کے آخری حصّے میں ہوتا ہے تو وہ پھٹ جاتا ہے یا پھر بلیک ہول میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کوئی بھی ستارہ بلیک ہول اس وقت بنتا ہے جب اس کے تمام مادے کو چھوٹی جگہ میں قید کردیا جائے۔ اگر ہم اپنے سورج کو ایک ٹینس بال جتنی جگہ میں مقید کردیں تو یہ بلیک ہول میں تبدیل ہوجائے گا۔

بلیک ہول میں تھوڑی جگہ پر انتہائی زیادہ مادے کی وجہ سے اس کی کشش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ روشنی، جو اب تک کی تحقیقات کے اعتبار سے اس کائنات کی سب سے تیز ترین چیز ہے، بھی اس سے فرار نہیں ہوسکتی۔بیشتر افراد میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر ہمارا سورج بلیک ہول بن گیا تو یہ نظام شمسی کے تمام سیاروں کو نگل لے گا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ سائنسدانوں کے مطابق اگر سورج بلیک ہول بن بھی گیا تو تب بھی زمین اور باقی سیارے اپنے مدار میں بیضرر چکر لگاتے رہیں گے۔

بلیک ہول کی کشش کا دارومدار اس میں موجود مادے کی مقدار پر ہوتا ہے اور جیسا کہ سورج کے بلیک ہول بننے کے بعد بھی اس میں مادے کی مقدار وہی رہے گی اس لیے سیاروں پر لگنے والی کشش ثقل بھی وہی رہے گی۔چونکہ بلیک ہول بنے کے بعد سورج کا حجم انتہائی کم ہو جائے گا تو اس کے گرد ایک حد تک کشش بہت زیادہ ہوجائے گی کہ اگر کوئی بھی چیز اس حد کو پار کرجائے تو پھر اس کا واپس آنا ناممکن ہو جائے گا۔ بلیک ہول کے گرد اس حد کو فلکیاتی اصطلاح میں “ایونٹ ہورائزن” کا نام دیا جاتا ہے۔اگر ہم روشنی کی بات کریں تو یہی ایک ذریعہ ہے جو ہماری آنکھ محسوس کرتی ہے اور ہمیں وہ چیز دکھائی دیتی ہے۔ اس پر بعض لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر بلیک ہول کی ایونٹ ہورائزن روشنی بھی واپس نہیں آتی تو پھر سائنسدان بلیک ہول کی نشاندہی کس طرح کرتے ہیں؟اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ آج تک سائنسدانوں نے نہ کبھی بلیک ہول کو دیکھا ہے اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں دیکھ سکیں گے لیکن ہاں حال ہی میں ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں ہزاروں بلیک ہول دریافت کیے ہیں۔

جی ہاں! یہ بات بیسویں صدی سے زیر بحث تھی کہ سپر میسو بلیک ہول، جو کہ ایسے بلیک ہول کو کہا جاتا ہے جس میں ہمارے سورج کی طرح کے 40 لاکھ ستارے سما سکتے ہوں، کے آس پاس بہت سے چھوٹے بلیک ہول بھی موجود ہوتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے اس بات کا مشاہدہ نہیں کیا تھا لہذا اس بات کو ثابت قرار دینا مشکل تھا لیکن چند ہفتے پہلے سائنسدانوں نے ہماری اپنی کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسو بلیک ہول کے گرد ہزاروں چھوٹے بلیک ہول گرد محور دریافت کیے ہیں۔ اس دریافت کے بات یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ ایسے بڑے بلیک ہول کے گرد چھوٹے بلیک ہول بھی موجود ہوتے ہیں۔

یہ دریافت سائنسدانوں نے کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول کی تصویر لیتے وقت کی۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب بلیک ہول مادے کو نگلتا ہے تو ایونٹ ہورائزن سے پہلے، شدید کشش کی وجہ سے مادہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اور انرجی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ایونٹ ہورائزن کے بہت قریب ایکس ریز پیدا ہوتی ہیں جسے زمین پر موجود ایکس رے دوربینوں کی مدد سے تصویر میں قید کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم بلیک ہول کو دیکھتے ہیں اور ان چھوٹے بلیک ہول کی دریافت بھی اسی طرح ہوئی۔

یہ چھوٹے بلیک ہول ہمارے سورج سے دس گنا زیادہ مادہ رکھتے ہیں جبکہ مرکزی بلیک ہول چالیس لاکھ سورج اپنے اندر قید کرسکتا ہے۔یہ ریسرچ ‘نیچر’ نامی جزیرے میں شائع ہوئی جس میں چک ہیلے، جو کہ کولمبیا یونیورسٹی میں ماہر فلکیات ہیں، کا کہنا تھا کہ “کہکشاں کا مرکز بہت زیادہ عجیب جگہ ہے، اس لیے بہت سے لوگ اس کا مطالعہ کرنے کو پسند کرتے ہیں”۔بحر حال کائنات میں جتنا گہرائی میں انسان دیکھے گا اتنا اس کائنات کے بارے میں یہ خیال کرے گا کہ جیسے ابھی تو شروعات ہے کیونکہ کائنات کے بہت سے راز ایسے ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے۔


متعلقہ خبریں


آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

مضامین
تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش وجود بدھ 01 اپریل 2026
کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟ وجود بدھ 01 اپریل 2026
انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر