وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے سے بچاؤ کی ایپ تیار

پیر 23 اپریل 2018 پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے سے بچاؤ کی ایپ تیار

خواتین کو پبلک مقامات پر گھورنے، جملے کسنے اور ہراساں کرنے والے مرد ہوشیار ہوجائیں کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (پنجاب) نے ایسی موبائل ایپ تیارکی ہے جس کے ذریعے ایسا کرنے والوں کی فوری اطلاع پولیس کو ہوسکے گی اور ایسے مردوں کو حوالات کی ہوا بھی کھانا پڑسکتی ہے۔
آج کل خواتین کو عوامی مقامات ، بازاروں، شاپنگ سینٹرز اور دفاترمیں ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین کو گھورنا، نازیبا حرکت کرنا ، انہیں دیکھ کر جملے کسنا اور چھونے کی کوشش کرنا ہراساں کیے جانے کی مختلف شکلیں ہیں۔ پاکستان بھی ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں ایسے ناپسندیدہ اور غیراخلاقی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکے دوران ، بازارمیں خریداری کرتے ہوئے کئی نگاہیں خواتین کو گھورتی ہیں، کوئی جملے کستا ہے تو کچھ لوگ خواتین کو چھونے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمرسیف نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں ہوپاتی کہ خواتین ان حرکتوں کو نظرانداز کردیتی ہیں اور پولیس میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی جاتی۔ خواتین کو ہراساں کیے جانے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگرآج تک ایسے کوئی اعداد و شمار میسر نہیں جن کی مدد سے یہ جاننے میں مدد مل سکے کہ خواتین کو کن مقامات پر اور کن اوقات میں ہراساں کیا جاتا ہے اسی وجہ سے ہم نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔

ڈاکٹر عمرسیف نے بتایا کہ اپریل 2017ء میں ورلڈ بینک کی معاونت سے ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا اس مقصد کے لیے ری کیپ کے نام سے موبائل ایپ تیار کی گئی اور پھر اس ایپ کی مدد سے لاہور میں منتخب خواتین سے سروے کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو لیا گیا، اس اقدام سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کن مقامات پر کن اوقات میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے زیادہ واقعات ہوتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت اقدامات اٹھائے گئے، ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہوگی اوران جگہوں کو محفوظ بنایا جائے گا جہاں خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

اس منصوبے کے سربراہ اور آئی ٹی یو کے ڈائریکٹر ڈیٹا سائنس لیب ڈاکٹر فیصل کامران نے بتایا کہ انہوں نے پہلے مرحلے میں 2 ہزار کے قریب خواتین سے سروے کیا ہے اس سروے کی روشنی میں اعداد و شمارجمع کیے جارہے ہیں، دوسرے مرحلے میں تعلیمی ادارے، شاپنگ سنٹرز، بازار، تفریح گاہوں اور دفاتر کا سروے کیا جائے گا اور پھر اس موبائل ایپ کو عام کردیا جائے گا۔ڈاکٹر فیصل کامران نے بتایا کہ اس موبائل ایپ کو پولیس کے ہیلپ لائن سینٹر سے بھی منسلک کیا جائے گا جس سے خواتین خود کو ہراساں کیے جانے کی فوری اطلاع کرسکیں گی جس کے بعد ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام کا مقصد خواتین کو خود مختار بنانا اور انہیں ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسی بنانا ہے۔نجی چینل سے بات کرتے ہوئے ایک طالبہ اقصٰی کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ اس وقت خوف اور غیر محفوظ ہونے کا احساس ہوتا ہے جب وہ اسٹاپ پر اکیلے گاڑی کے انتظار میں کھڑی ہوں۔ ایک اور طالبہ نے کہا کہ کئی مرد انہیں گھور کر دیکھتے ہیں، عجیب و غریب جملے بولتے ہیں، قریب آنے اور چھونے کی کوشش کرتے ہیں ہم مجبور ہوتی ہیں کسی کو ایسی گھٹیا حرکت کے بارے میں بتا بھی نہیں سکتیں۔


متعلقہ خبریں


کرونا وائرس پر نظر رکھے ہوئے ہیں، امریکی صدر وجود - منگل 28 جنوری 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے ماہرین غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں کرونا وائرس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرونا وائرس سے متعلق لکھا ہے کہ کرونا وائرس کے معاملے پر چین کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور چینی ہم منصب کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے ۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ میں بہت کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن ہم کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے ماہرین غیر معمولی صلاحتیوں کے مالک ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں مواخذے سے...

کرونا وائرس پر نظر رکھے ہوئے ہیں، امریکی صدر

طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں گرنے والا طیارہ سی آئی اے کا ہے ،طالبان کادعویٰ وجود - منگل 28 جنوری 2020

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے صوبے غزنی میں تباہ ہونے والا طیارہ سی آئی اے کاتھا اور یہ طیارہ ایک خفیہ مشن پر تھا، امریکی سی آئی اے کے متعدد اہلکار اس طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانوی نشریا تی ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غزنی کے ضلع دہ یاک میں، ایک خصوصی امریکی طیارہ خفیہ مشن کے لیے اس علاقے میں تھا جو گر کر تباہ ہوا۔طالبان نے دعوی کیا ہے کہ طیارے میں عملے کے تمام اہلکار اور متعدد سینئر امریکی سی آئی اے...

طالبان کے زیر کنٹرول علاقے میں گرنے والا طیارہ سی آئی اے کا ہے ،طالبان کادعویٰ

یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ووٹنگ کی قرار داد منظور وجود - منگل 28 جنوری 2020

یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں بھارت کے متنازع شہریت کے قانون اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں پر بحث اور ووٹنگ کے لیے 6 قرارداد یں منظور کرلی گئیں۔751 رکنی یورپی پارلیمنٹ میں سے 651 اراکین کی غیر معمولی اکثریت نے یہ قراردادیں منظور کی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ان قراردادوں پر 29 جنوری کو بحث اور 30 جنوری کو ووٹنگ ہوگی، منظوری کے بعد یہ قراردادیں بھارتی حکومت، پارلیمنٹ اور یورپی کمیشن کے سربراہان کو بھیجی جائیں گی۔یورپی پارلیمنٹ کے اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا...

یورپی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ووٹنگ کی قرار داد منظور

شہریت ترمیمی بل ،یورپی پارلیمان میں قرارداد کی منظوری پر بھارت کی تنقید وجود - منگل 28 جنوری 2020

بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کئی ملکوں نے آواز اٹھائی ہے۔ اب یورپی پارلیمان میں بھی اس پر بحث کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سات سو اکاون رکنی یورپی پارلیمان میں چھ سو اکاون اراکین کی غیر معمولی اکثریت نے شہریت ترمیمی قانون یا سی اے اے کے علاوہ جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں پر بحث کے لیے کْل چھ قراردادیں منظور کی ہیں۔ ان پر انتیس جنوری کو بحث اور تیس جنوری کو ووٹنگ ہو گی۔ قراردادیں منظور ہونے کے بعد انہیں بھارتی حکومت، پارلیمان او...

شہریت ترمیمی بل ،یورپی پارلیمان میں قرارداد کی منظوری پر بھارت کی تنقید

بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف امریکا کے 30 شہروں میں مظاہرے وجود - منگل 28 جنوری 2020

بھارت کے نئے شہریت قانون کے خلاف امریکا کے 30شہروں میں احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں بھارتی نڑاد امریکیوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر سیکڑوں افراد نے جمع ہو کر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے بازی کی، ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم ملک کے سیکولر آئین کو مجروح کررہے ہیں۔سیکڑوں مزید افراد نے بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر بھارتی سفارتخانے کے سامنے مہاتما گاندھی کے مجمسے کو گھیر کر احتجاج کیا۔سفار...

بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف امریکا کے 30 شہروں میں مظاہرے

دبئی میں کریم کے ہیڈکوارٹر نے 150 ملازمین کو فارغ کردیا وجود - منگل 28 جنوری 2020

اوبر کی جانب سے 3 ارب 10 کروڑ ڈالر میں آن لائن رائیڈ بک کرنے والی کمپنی کریم کا حصول مکمل ہونے کے ایک ہفتے بعد کریم کے دبئی ہیڈ کوارٹر نے ڈیڑھ سو ملازمین کو نکال دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کریم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مدثر شیخا نے اپنے ملازمین کو کی گئی ای میل میں کہا کہ یہ اقدام ٹیکنالوجی کمپنی کے سپر ایپ نظرئیے کے ساتھ مطابقت کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔ای میل میں کہا گیا کہ تبدیلی سے مراد یہ ہے کہ ہمارے کچھ ساتھیوں کا کردار مختلف یا انہیں وسعت دے دی گئی ہے کہ اور دیگرآج یا کل می...

دبئی میں کریم کے ہیڈکوارٹر نے 150 ملازمین کو فارغ کردیا

کورنا وائرس سے خوف زدہ چین میں مقیم پاکستانی طلبہ واپسی کے خواہشمند وجود - منگل 28 جنوری 2020

چین کی مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علموں نے کہاہے کہ وہ حفاظت کے پیشِ نظر صحت اور سفر کے حوالے سے بالعموم انھی ہدایات کے پابند ہیں جو وہاں تمام عوام اور طلبا کے لیے ہیں البتہ کچھ مسائل کا انھیں خصوصی طور پر سامنا ہے۔پاکستانی طلبا نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی یونیورسٹیز میں نئے سال کے موقعے پر یوں بھی تعطیلات تھیں اور وہ سرما کی چھٹیوں کے لیے پاکستان آ نے کا سوچ رہے تھے۔وائرس کی وبا سامنے آنے کے بعد ان کا یہ ارادہ اور بھی پختہ ہوا لیک...

کورنا وائرس سے خوف زدہ چین میں مقیم پاکستانی طلبہ واپسی کے خواہشمند

اخوان کا 2020ء میں تنظیمی ڈھانچہ دوبارہ بحال کرنے کا منصوبہ وجود - منگل 28 جنوری 2020

مصر کی کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے ایک مںحرف سابق رہنما عبدالجلیل الشرنوبی نے انکشاف کیا ہے کہ اخوان کی قیادت نے سال 2020ء میں تنظیم کا اندرون اور بیرون ملک ڈھانچہ از سر نو فعال بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ مصر اور دوسرے عرب ممالک میں اخوان کے خلاف پے درپے حالیہ حملوں کے بعد تنظیم کی طرف سے خود کو فعال کرنے کی یہ ایک نئی کوشش ہے۔عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے الشرنوبی نے کہا کہ اخوان کا نیا منصوبہ پلان 2020 کے عنوان سے جاری کیا گیا ۔ اس منصوبے کے مرکزی عنوان می...

اخوان کا 2020ء میں تنظیمی ڈھانچہ دوبارہ بحال کرنے کا منصوبہ

پاکستانی طلبہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، چین کے سفیر کا پیغام وجود - منگل 28 جنوری 2020

پاکستا ن میں چین کے سفیر یاو جنگ نے کہا ہے کہ ووہان میں مقیم 500 سے زائد پاکستانی طلبہ اور دیگر شہری مکمل طور پر محفوظ اور صحتمند ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین کی حکومت پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کررہی ہے ۔ چین کے سفیر یا جنگ نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ووہان شہر کی مقامی حکومت شہریوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ اور چینی حکومت پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہیں۔ انہ...

پاکستانی طلبہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، چین کے سفیر کا پیغام

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی وجود - پیر 27 جنوری 2020

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80تک پہنچ گئی جبکہ تقریبا 3000افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ چینی حکام کی جانب سے چینی نئے سال کی قومی تعطیلات میں تین روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ چین میں بہت سے شہروں میں سفر پر پابندی عائد کی گئی ۔حکام کے مطابق کورونا وائرس اپنی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنی افزائش کے دوران پھیل رہا ہے اور اس وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے ۔ وزیر صحت ما زیائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہ...

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر وجود - پیر 27 جنوری 2020

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پذیر ہیں۔صرف راولپنڈی میں 710جبکہ لاہور میں 513خاندان آباد ہیں۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوش دنیاکے ہر خطے میں موجود ہیں انکاسفر کہاں سے شروع ہوتاہے انکے متعلق کئی مختلف روایات ہیں۔کہاجاتاہے کہ یہودیوں کے گمشدہ قبائل میں سے ہیں جو ادھر ادھر بکھر گئے ،ایک روایت کے مطابق جب شہنشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو ہمایوں ایران بھاگ گیا،جبکہ اسکے امراء اور وزراء نے شیر شاہ سوری کے ڈر سے خانہ بدوشی اختیار کرلی۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوشی اس ...

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش وجود - پیر 27 جنوری 2020

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کے اجلاس میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش کی گئی ، ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن نے مانسہرہ زیادتی کیس پربریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے ۔ پیر کوسینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تدارک پر بات چیت کی گئی۔ ارکان نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف مدرسو...

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش