وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

استبال کتب

اتوار 22 اپریل 2018 استبال کتب

نام کتاب:روشنی کے خدوخال(نعتیہ مسدس)
شاعر:رفیع الدین رازؔ
ضخامت:224 صفحات
قیمت: 500 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیش نظر مجموعۂ نعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) روشنی کے خدوخال ممتاز شاعر رفیع الدین راز کا تخلیق کردہ ہے جو بہ شکل مسدس 23 ابواب پر مشتمل ہے جسے رنگِ ادب پبلی کیشنز نے خاص اہتمام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کے اندرونی فلیپ پر ڈاکٹر سید محمد ابو الخیر کشفی کا مختصر مگر جامع تبصرہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے جس کتاب کا بھی دیباچہ ’’مقدمہ‘‘ تبصرہ یا تجزیہ پیش کیا ہو درحقیقت وہ یوں ہی بڑی اہمیت کا درجہ پا جاتا ہے۔ اسے آپ میرا حسنِ ظن کہیں یا اسے میری اور ان کی ذات تک محدود کرسکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے او رمیں بڑے دعوے اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بڑے سنجیدہ ادبی محقق تھے۔گو کہ آج ڈاکٹر صاحب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں وگرنہ ہوسکتا تھا کہ آپ میری اس رائے کو محض ان کی خوشنودی یا مطلب براری سے منسوب کرتے۔ مگر میں یہ رائے دیتے ہوئے ادبی اُفق پر ایسی بے شمار شخصیات کو بھی دیکھ رہا ہوں جو ڈاکٹر صاحب سے متعلق میری رائے سے اتفاق کریں گی۔

حق گوئی و بے باکی اُن کا وطیرہ تھا وہ جب تک زندہ رہے مصلحت پسندی یا کسی بھی جانبداری سے کام نہیں لیا۔ حق اور سچ کا پرچار کیا اور انہی لوگوں کے نام و کلام کو سراہا جس کے وہ مستحق تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پیش نظر مجموعہ شعری جسے نعتیہ مسدس کا نام دیا گیا ہے جناب رفیع الدین راز کا ہمیشہ زندہ رہنے والا کام ہے۔رفیع الدین راز شعر و ادب کے حوالے سے ایک اہم ادیب، شاعر اور ناقد کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ان کی متعدد کتابیں جو نثری ادب اور شعری ادب پرمشتمل ہیں ادب عالیہ کا حصہ ہیں اور میں اُن کی ایک اور خوبی یا کمال کا ذکر کروں تو آپ کو حیرت و اچنبھا نہیں ہونا چاہئے کہ موصوف نے ابھی حال میں رُباعی کی 24 بحروں میں 24 غزلیں تحریر کی ہیں جو ایک بے مثال کارنامہ ہے جسے ادبی حلقوں میں سراہنا چاہئے وہ اس لئے کہ رباعی کہنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ہوتی مگر رازؔ صاحب نے رباعی کو سمجھااور رباعی کی مشکل اور اوق بحروں میں غزل کے پیرائے میں ڈھالا یہ اہلِ دانش کے لئے بھی چونکا دینے والا کام ہے۔

مزید برآں رفیع الدین رازؔ نے مسدس جیس اہم صنف جو ادب میں تعریف و توصیفِ رسولؐ کے لئے اختیار کی ہے ایک قابل قدر کارنامہ ہے۔ اور اس مسدس میں یہ اہتمام و احتیاط بھی ملحوظِ خاطر رکھا ہے کہ سب سے زیادہ توجہ سیرتِ رسولؐ پر دی گئی ہے۔

ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں ’’مرحبا صل علیٰ آئینہ اے روشنی‘‘ اس مصرع میں دو دعائیہ یا تہنیتی کلمات ہیں چاہیں تو آپ انہیں درودو سلام کا صیغہ کہہ لیں اور اس کے بعد دو خطابیہ کلمات ہیں۔‘‘اے آئینہ اے روشنی‘‘ اس مصرع میں شاعر کا مفہوم ہم پر مدعائے خداوندی کی طرح روشن ہوجاتا ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’اے آئینہ اے روشنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔حضور اکرم ؐ نور مجسم کی تخلیق تو مٹی سے ہوئی لیکن آپ کا وجود سراپا روشنی تھا۔ آپ کی صفات کا دائرہ اسمائے الٰہی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ مسدس اپنی ایک فضا رکھتی ہے جو ہمارے شعر و ادب کی مانوس فضا ہے اور فارسی عناصر کے باوجود ازدوکا مخصوص مزاج ہر جگہ برقرار رہتا ہے۔‘‘ وہ ماہنامے بھی جو نعتیہ ادب کے سلسلہ سے کام سرانجام دے رہے ہیں مثلاً ماہنامہ ارمغان نعت ماہنامہ کاروان نعت اور کتابی سلسلے ایوان نعت، دنیائے نعت، راہِ نجات سہ ماہی عقیدت، نعت نیوز، شہر نعت وغیرہ۔آخر میں اس مسدس کا ایک بند ملاحظہ فرمائیں:

خواہشوں کی دھوپ نے جھلسا رکھے تھے خال و خد
کیسا چہرہ، کون سا دل، روح کیسی، کیسا قد
کر چکا تھا آدمی ایک ایک سچائی کو رَد
روشنی سے بے خبر تھا آئینے سے نابلد
آپ نے انساں کو بخشی روح کی بالیدگی
مرحبا صلِ علیٰ، اے آئینہ اے روشنی
۰۰۰
نام کتاب:تقلید (شعری مجموعہ)
موضوع:احمد فراز کی زمینوں میں غزلیں
شاعر:شاعر علی شاعر
ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی
ضخامت:128 صفحات
قیمت: 200 روپے
مبصر: مجید فکری

شاعر علی شاعرؔ میرے نزدیک ایک خوش قسمت شخص ہی نہیں، خوش قسمت شاعر بھی ہیں، میں اپنے اس بیان کی توضیح خود ان کے بیان کردہ الفاظ سے کرنا چاہتا ہوں ’’کوشش کرتا ہوں کہ اپنی بساط کے مطابق میدانِ سخن میں کوئی منفرد کام سرانجام دے سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو تروینی پر کام شروع کیا تو عالمی سطح پر اردو تروینی کا اولین مجموعہ بہ عنوان ’’تروینیاں‘‘ میرا ہی قرار پایا۔‘‘

طویل غزلیں کہنا شروع کیں تو ’’غزل پہلی محبت ہے‘‘ کے نام سے طویل غزلوں کا مجموعہ ترتیب پاگیا۔ اس سے پہلے غزل کے پانچ مجموعہ ہائے کلام بالترتیب’’بہارو! اب تو آجائو‘‘، ’’وہ چاند جیسا شخص‘‘، ’’تِرے پہلو میں‘‘، ’’اعلانِ محبت‘‘ اور ’’ہم کلامی‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔ پھر ایک اور منفرد کام کی طرف توجہ مبذول کی، ایک ہی بحر میں 100 غزلیں لکھنے پر کمر بستہ ہوگیا، بہت جلد ان تجرباتی غزلوں کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا تو ’’ایک بحر 100 غزلیں‘‘ کے نام سے مجموعہ نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا بلکہ قارئینِ شعر و سخن اور ناقدینِ فن و ہنر سے داد وتحسین بھی وصول پائی۔‘‘

’’مزید اپنے پسندیدہ شاعر احمد فرازؔ کی شاعری سے متاثر ہو کر ان کی زمینوں میں غزلیں کہنا شروع کیں تو پورا مجموعہ بہ نام ’’تقلید‘‘ ترتیب پاگیا‘‘

’’خداکی پناہ! ان کی تخلیقات، تالیفات، تصنیفات، طباعت اور ترتیب وغیرہ کی تعداد اتنی ہے کہ صرف ان کی تعداد لکھتے ہوئے ایک کتابچہ تو یقیناً ترتیب دیا جائے گا۔‘‘

میں نے اپنے ایک تجزیہ میں انہیں ’’رواں لہجے کا شاعر‘‘ کہا تھا۔ اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ انہیں شعرو ادب کے خزینہ میں غزل، نظم، قصیدے، تروینی اور جانے کیا کیا…! جمع کرنے کا شوق ہے او ریہ خزانہ ان کے بقول ابھی بھرا نہیں ہے۔ جس کے لئے یہ شب و روز سرگرم عمل ہیں۔ کبھی ایک ہی بحر میں 100 غزلیں کہتے ہیں تو کبھی افسانوں پر افسانے لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ بچوں سے پیار جتاتے ہیں تو انہیں نظموں اور گیتوں کے تحفے بخش دیتے ہیں اور جب محبوب کی حسن و دلنوازی ستاتی ہے تو اس کے حسن و ادا کی وہ داستان لکھنا شروع کردیتے ہیں کہ روایتی غزل کی وادی بھی تنگ ہوجاتی ہے۔ مگر یہ غالبؔ کے بقول’’کچھ اور چاہئے وسعت مِرے بیاں کے لئے‘‘ کہتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن میں نے ان کے خزانے میں جس چیز کی کمی دیکھی ہے وہ ہے نظم مخمس، نظم مسدس، سلام و قصائد اور رثاعی شاعری اور میرا مشورہ ہے کہ آپ ان اصناف پر بھی توجہ دیں تاکہ آپ کے عملی ذخائر کی پوٹلی لبالب بھرسکے ۔چاہیں تو یہ خواتین کے ادب اور اُن کی شاعری پر بھی لکھ سکتے ہیں اور ان کے لکھے ہوئے مجموعہ ہائے شاعری کو شرفِ اشاعت بھی بخش سکتے ہیں۔

میں شاید موضوع سے ہٹتا جارہا ہوں۔ بات ہو رہی تھی شاعر علی شاعرؔ کے پیش نظر مجموعۂ شاعری ’’تقلید‘‘ کی تو اس وقت ان کا یہ مجموعہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ شاعر موصوف نے احمد فراز کی زمینوں میں لاتعداد غزلیں لکھ کر بھی ایک انوکھا ، منفرد اور چونکا دینے والا کارنامہ انجام دیا ہے۔یہ اسی صورت میں کامیاب اور تحسین و ستائش کا حقدار ہوسکتا ہے کہ جب شاعر صاحب نے احمد فراز سے اچھی شاعری نہ سہی ان کے مقابل کی شاعری ضرور کی ہو وگرنہ احمد فراز عرصہ دراز سے چوٹی کے ایک شاعر تصور کئے جاتے رہے ہیں ان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد بھی موجود ہے ان کا اندازِ شاعری دوسروں کو بھی بھاتا اور لُبھاتا ہے اور وہ کامیاب شعراء کی فہرست میں اپنا نام ثبت کرچکے ہیں یہ وہ شاعر ہیں جس نے غزل پر اپنا سکہ جمارکھا ہے اور آج تک لوگ اس کی شاعری کے دلدادہ ہیں یہ الگ بات ہے کہ لوگ انہیں فیض کا مقلد اور ان جیسا رویہ رکھنے والا شاعر سمجھتے ہیں۔مگر اس کے باوجود فراز کے سر سے فیض کا (Follower) ہونے کا اثر بھی زائل ہوچلا اور وہ مقبولیت کے اس معیار تک پہنچ گیا کہ جہاں شعرو ادب سے دلچسپی رکھنے والا ایک شخص بھی موجود ہے وہاں فراز موجود ہے۔

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شاعر علی شاعرؔ نے ان کے رنگ میں شاعری لکھ کر خود کو کس مقام پر رکھا ہے اور یہ کارنامہ سرانجام دے کر وہ کہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کی پیش نظر شاعری بہ اندازِ فراز کئی مقامات پر ایسی ضرورمحسوس ہوتی ہے کہ وہ اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن میں پھر بھی کہوں گا کہ ’’خاکم بدہن‘‘ وہ خود کو فراز جیسے کلام والا شاعر کہنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ اچھا ہوا کہ انہوں نے اپنے مجموعۂ کلام کا نام ’’تقلید‘‘ رکھ کر خود کو بچالیا ہے تاہم ان کی یہ کوشش فراز کے انداز میں شعری کوشش ضرور ہے میں اپنے کلام گسترانہ کے ساتھ شہزاد نیر کو شامل کرلوں تو غیر مناسب نہ ہوگا لکھتے ہیں۔ ان کا مضمون جو پیش نظر کتاب میں’’ غزل در تقلید احمد فراز‘‘ کے عنوان سے شامل ہے ذرا ان کی درج ذیل سطور پڑھئے:

’’شاعر کے ہاں روایتی اندازِ سخن سے وابستگی و پیوستگی زیادہ ہے اور جدت شعری سے رغبت کم… یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ اس کتاب کی غزلیں فراز کی زمینوں میں ضرور ہیں مگر شاعری شاعر کی اپنی ہے…شاعر علی شاعرؔ نے اپنے رنگ ڈھنگ میں، اپنے اندازاور اپنے مضامین کی شاعری کی ہے یا یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاعر نے فراز کی زمینوں میں اپنا ’’ہل‘‘ چلایا ہے۔‘‘

مجھے شہزاد نیرصاحب کا یہ اندازِ تخاطب قطعاً پسند نہیں آیا کیونکہ یہ تبصرہ شاعرؔ موصوف کی بھی ہمت شکنی اور ان کی اس کوشش کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہوگا جو انہوں نے زمینِ فراز میں کی ہے۔بہر حال، یہ شاعر علی شاعرؔ اور شہزاد نیر کا معاملہ ہے میں تو شاعر کی اس کوشش کو ایک کامیاب، سراہے جانے کے قابل، علمی لیاقت کا اعلیٰ استعمال اور شعری بصیرت کا اعلیٰ نمونہ گردانتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ شاعر علی شاعرؔ بقول ذوق یہ کہہ سکتے ہیں کہ:

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
یا پھر:
شعر اپنے بھی ہیں پُر درد لیکن حسرتؔ
میرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لائوں

مگر پھر بھی شاعر علی شاعرؔ نے فرازؔ کی تقلید کا کامیابی سے دفاع کیا ہے لیکن اس سے قطعاً یہ اندازہ نہیں لگانا چاہئے کہ انہوں نے فرازؔ کی زمینوں میں شعر کہہ کر خود کو فرازؔ جیسا شاعر سمجھنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی ان کی شاعری سے فرازؔ کی شاعری پر کوئی حرفِ غلط آیا ہے نہ خود شاعر علی شاعرؔ کی شاعرانہ عظمت میں کوئی فرق آیا ہے انہیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور جس قدر ہو وہ ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریز کریں جس سے باہمی چپقلش کا شائبہ ہو۔فرازؔ کی زمین میں شاعر علی شاعرؔ کے اشعار دیکھئے:

ہونے والا ہے تِرا ہجرت بھی رخصت مجھ سے
شاید اب جاں سے گزرجانے کا موسم آیا
شہرِ آشوب ہے ہر نظم و غزل شاعرؔ کی
ان میں ذکرِ لب و رخسار تو کم ہونا تھا
ہرے بھرے ہیں کھیت یہاں ہریالی ہے
اُڑتے پرندے آپ اُتر جاتے ہیں
ہر کوئی مجھ کو ستانے آئے
اُس کی تصویر دکھانے آئے
اپنے دامن کی طرف کیوں نہیں کرتے یہ نظر
چاک دامن ہے مِرا لوگ پریشاں کیوں ہیں


متعلقہ خبریں


ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا وجود - هفته 08 جون 2019

لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو مردوں کے ایک گروہ نے مار مار کر لہو لہان کردیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ کیمڈن ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ایک چلتی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو بوسہ نہ دینے پر تشدد کا نشانا بنایا گیا، 28 سالہ متاثرہ خاتون گیمونیٹ کا کہنا تھاکہ وہ رات گئے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار تھیں کہ اس دوران مردوں کے ایک جتھے نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور بوسہ لینے کی کوشش کی۔گیمونیٹ نے بتایا کہ بوسہ دینے سے انکار پر اسے اور اس کی دوست کو سرِعام مارا پیٹا گیا ...

لندن کی بس میں ہم جنس پرست خواتین کو مار مار لہولہان کردیا گیا

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش وجود - هفته 08 جون 2019

جرمنی میں دو ایسے مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو ئی جو انتہائی مہلک زہر رائسین سے حملے کے لیے ایک بم تیار کرنا چاہتے تھے۔ ملزمان میں سے ایک تیونس کا شہری ہے اور دوسری اس کی جرمن بیوی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ڈسلڈورف شہر کی انتہائی سخت سکیورٹی والی ایک اعلیٰ صوبائی عدالت میں شروع ہوئی۔ان دونوں ملزمان کو پندرہ پندرہ سال تک قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔مقدمے کی سماعت کے آغاز پر استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی کہ 30سالہ تیونسی نژاد ملزم س...

انتہائی مہلک زہررائسین سے حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے ملزمان عدالت پیش

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت وجود - هفته 08 جون 2019

عالمی ادارہ صحت نے جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں مناسب پیش رفت نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس لاکھ افراد دنیا بھر میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی لپیٹ میں آتے ہیں،دنیا کی مجموعی آبادی میں اوسطاً پچیس فیصد افراد کو کوئی نہ کوئی ایسی بیماری لاحق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاق صحت کے عالمی ادارے نے ہفتے کو جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ ایسی بیماریوں میں افزائش کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا زیادہ استعمال ہے۔ یہ...

جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں کے انسداد میں پیش رفت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ وجود - جمعه 07 جون 2019

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے کہاہے کہ جرمنی میں 2018ء کے دوران پندرہ ہزار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانابنایا گیا۔ اس سلسلے میں بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کے بارے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرائم کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ ہولگر مْونش نے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ 2017ء کے مقابلے میں یہ تعداد چھ فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پندرہ ہزار کا مطلب ہے کہ اوسطاً چالیس وا...

جرمنی میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات وجود - جمعرات 06 جون 2019

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں زہرآلود فضا سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کا انکشاف ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ایک رپورٹ میں کیا گیا۔یہ رپورٹ مرکز برائے سائنس اور ماحول (سی ایس ای) نے تیار کی ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے پانی مہیا کرنے کے 86 فی صد ادارے خطرناک حد تک آلودہ ہیں۔اس نے ملک کی قابل تجدید توانائی کے لیے پیش رفت کو بھی مایوس کن قرار دیا ہے۔بھارت اپنے شہروں میں آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں ...

بھارت میں فضائی آلودگی سے سالانہ پانچ سال سے کم عمر ایک لاکھ بچوں کی اموات

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد وجود - جمعه 24 مئی 2019

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی، الزامات ثابت ہونے کی صورت میں جولین اسانج کو 175برس قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولین اسانج نے خفیہ ذرائع کے نام غیر قانونی طور پر شائع کیے اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹیلی جنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ مل کر سازش کی۔حاصل کی گئی معلومات افغانستان اور عراق میں جنگوں سے متعلق تھیں۔

جولین اسانج پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم وجود - جمعه 24 مئی 2019

افغان طالبان کے نام سے اپنی شناخت رکھنے والے کیلی فورنیا کے شہری جان واکر لنڈھ کو ریاست انڈیانا کی جیل سے رہا کیا کردیا گیا۔ لنڈھ افغانستان کے قید خانے میں داڑھی کے ساتھ دیکھا گیا جہاں وہ افغان قیدیوں کے ساتھ گھل مل کر رہ رہا تھا۔ یوں وہ امریکی طالبان کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جان واکر لنڈھ کو نومبر 2001 میں افغانستان کے ایک محاذ جنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے لنڈھ کی رہائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔ اْن...

امریکی طالبان جان واکر 17 سال بعدبھارتی جیل سے  رہا،امریکی وزیرخارجہ برہم

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ وجود - جمعرات 23 مئی 2019

پوری دنیا میں سمندروں کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ کرہ ارض کے مستقل برفانی ذخائرکا پگھلاؤ ہے اوراس صدی کے اختتام تک کروڑوں افراد نقل مکانی پرمجبورہوسکتے ہیں۔ امریکا میں ماہرین نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کی پروسیڈنگزمیں شائع ہونے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہرکیا ہے کہ گزشتہ 40 سال کے مقابلے میں اب گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی رفتار6 گنا بڑھ چکی ہے۔ 1980 کے عشرے میں گرین لینڈ کی برف پگھلنے کی شرح بھی کئی گنا بڑھی ہے یعنی اس وقت سالانہ 40 ارب ٹن برف پانی میں گھل رہی تھی اور ...

سمندروں کی سطح بلند ہونے سے 18 کروڑافراد بے گھرہوجائیں گے، رپورٹ

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

اسرائیلی پولیس نے ایک کارروائی کے دوران مسجد اقصی کے محافظ کو مسجد سے باہر نکلتے ہوئے حراست میں لے لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کے ترجمان فراس الدبس نے بتایا کہ صہیونی پولیس نے قبلہ اول کے محافظ علی احمد کو باب الاسباط سے باہر آتے ہوئے ...

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصی کے محافظ کو حراست میں لے لیا

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا وجود - جمعه 01 مارچ 2019

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ نے کہا ہے کہ اگر امریکا عارضی پابندیاں ختم کردے تو شمالی کوریا اپنا ایک جوہری پلانٹ مکمل طور پر بند کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری شہری معیشت اور ہمارے لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے والی پابندیاں ختم کرے تو ہم...

امریکا پابندیاں ختم کرے تو ایک جوہری پلانٹ بندکردینگے ، شمالی کوریا