وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ماں اور بچہ

هفته 21 اپریل 2018 ماں اور بچہ

آج کل کے والدین کو اپنے بچوں کی پرورش کے سلسلے میں کل کے والدین سے زیادہ پریشانیوں اور اُلجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آج کی دنیا گزشتہ دور سے بے حد مختلف ہو چکی ہے۔ والدین کی ذمہ داریوں میں اس لیے اضافہ ہو گیا ہے کہ بچہ باہرکے اثرات قبول کر رہا ہے اور اس کی سماجی ،نفسیاتی اور جسمانی صحت پر باہری ماحول کے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ بچوں کی نگہداشت، ان کی پرورش اور ان کی صحت کے ہر پہلو کا جائزہ لینا کس طرح ممکن ہے اور کن اہم چیزوں کو مدِ نظر رکھ کر مائیں اپنے بچوں کو بہتر طور پر جان سکتی ہیں۔زیرِ نظر مضمون اس حوالے سے آپ کی رہنمائی کرے گا۔

شیر خوار بچے: وہ بچے جنہیں دنیا میں آئے چند دن ہی ہوئے ہیں ،ان کے لیے زندگی کی ابتداء عمر کے اسی مرحلے میں ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کے بچے،کل کے بچوں سے زیادہ محفوظ اور صحت مند ہوتے ہیں،میڈیکل سائنس کی ترقی نے بے شمار بیماریوں کو بچوں سے دور کر دیا ہے۔اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج کا بچہ اپنی پہلی سالگرہ کل کے بچے سے زیادہ صحت مندانہ انداز میں مناتا ہے۔لاتعداد بیماریاںجو مختلف وجوہات کی بناء پر پچھلے دور میں بچوں کو لاحق ہوا کرتی تھیں وہ اب قبل از پیدائش اور پیدائش کے فوراً بعد کے ٹیکوں سے دور ہو گئی ہیں۔بچوں کو صحت مند اور محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں اور بہت سے امکانات کی ضرورت ہوتی ہے ۔جن میں سب سے اہم توجہ اور پیار ہے۔

بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر صحت مند اور توانا رکھنے کے لیے بھر پور توجہ اور پیار کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔اگر صرف ان کی غذائی یا جسمانی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور ان کے ساتھ پیار اور محبت کا برتائو نہ کیا جائے تو ان کی نشو و نما کمزور ہو جاتی ہے۔مختلف تحقیقات میں یہ بات واضح طور پر دیکھی گئی ہے کہ وہ بچے جنہیں مائوں کی بھر پور توجہ اور اہمیت حاصل رہتی ہے،ا ن بچوں سے کہیں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جن کے پاس بد قسمتی سے پیار کی نعمت نہیں ہوتی۔

بچوں کو ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ پیار کر سکیں اور جو ان سے پیار کرے،ان پر توجہ دے ،جو اٹھتے ،روتے اور سوتے جاگتے ان کا خیال رکھے۔عام طور پرایسی ہستی ماں ہوا کرتی ہے اور اگر ماں نہ ہو تو اس کی کمی باپ، دادا،دادی یا نانا ، نانی پوری کر دیا کرتے ہیں۔اگر کسی بچے کو ایک سے زیادہ پیار کرنے والے مل جائیں یعنی ماں ،باپ کے علاوہ نانا،نانی وغیرہ تو یہ اس کی مزید خوش نصیبی ہو گی۔اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں بچہ ان ہی رشتوں اور ان تعلقات میں زیادہ اپنائیت محسوس کرتا ہے۔ پیار اور توجہ ماں اور بچے کے درمیان وہ معاہدہ ہے جس کے تحت ایک عورت اپنی اولاد کی ہو کر رہ جاتی ہے۔قدرت کا نظام ہی ایسا ہے کہ ماں اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے،اور اسے اپنی اولا د کی فکر ستانے لگتی ہے۔لہٰذا مائوں سے قریب بچے اس معاملے میں نہایت پُر اعتماد اور خوش قسمت ہوتے ہیں۔

بچے کی نشو ونما کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔سب سے سستا،محفوظ ،صحت مند اور فوری دستیاب صرف یہی دودھ ہوتا ہے جو بچے کے لیے ہر قسم کی اور بھر پور توانائی مہیا کرتا ہے۔کم از کم چار سے چھ ماہ تک بچے کے لیے اس دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔اگر بچہ بیمار بھی ہوتو اسے دودھ پلانا ترک نہ کریں۔قدرت نے ماں کے دودھ میں وہ ساری خوبیاں شامل کر دی ہیں جو بچے کی نشو و نمااور اس کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں۔اس میں بے پناہ پروٹین اور منرلز پائے جاتے ہیں اور چکنائی نہایت کم ہوتی ہے۔غرضیکہ ماں کا دودھ بچے کے لیے ہر لحاظ سے انتہائی مفید ہے۔لہٰذا بچے کی مناسب صحت کے لیے پہلی ترجیح ماں کا دودھ ہی ہونا چاہیے۔


متعلقہ خبریں


ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور

ایردوان کے اقدامات ترکی کیلئے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، امریکی سینیٹر وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لییایک بل پر رائے شماری کے بعد ریپبلکن سینیٹر جیمز رچ نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوآن نے ترکی کو خراب راستے پرڈال دیا ہے ۔مسٹر رچ نے 'العربیہ' اور 'الحدثہ' چینلز کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ صدر ایردوآن کے فیصلے اور اقدامات ترکی کے لیے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترکی غلط سمت کی طرف جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ کے خلاف پابندیوں کے بل پر رائے شماری کے بعد ترک حکام کو اپنے فیصلو...

ایردوان کے اقدامات ترکی کیلئے تکلیف دہ نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، امریکی سینیٹر

اسرائیلی مظالم کے عرب ممالک بھی ذمہ دار ہیں،طیب اردوان وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

ترکی کے صدر رجب طیب ا ردوان نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورت حال تیزی کے ساتھ مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ، بعض عرب ممالک اور مغرب فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس طرح مغرب اور عرب ممالک بھی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ریاست کے جرائم میں قصور وار ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سماجی امور سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ القدس کا د...

اسرائیلی مظالم کے عرب ممالک بھی ذمہ دار ہیں،طیب اردوان

افغانستان، بگرام ایئر بیس پر حملہ، 2کار بم دھماکے ،30افراد زخمی وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

افغانستان کے صوبے پروان کے بگرام ایئر بیس پر حملہ کیا گیا ہے جس کے دوران 2 بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 30افراد زخمی ہو گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بارودی مواد سے بھری 2 گاڑیوں کے ذریعے غیر ملکی فوجی بیس کو نشانہ بنایا گیا ، جس کے قریب ہی ایک زیرِ تعمیر ہسپتا ل اور اسکول بھی موجود ہے ۔دھماکوں کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی، جسے کے نتیجے میں 30 سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں، ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے البتہ تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ا...

افغانستان، بگرام ایئر بیس پر حملہ، 2کار بم دھماکے ،30افراد زخمی

بھارتی موسیقار کا لے پالک بیٹی کے ہاتھوں سفاکانہ قتل وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

بھارت میں مقامی موسیقار بینٹ رابیلو اپنی لے پالک بیٹی کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے ، بیٹی نے باپ کو قتل کرنے کے بعد نعش کے متعدد ٹکڑے کیے جنہیں تین سوٹ کیسوں میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز مٹھی دریا کے قریب سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 59 سالہ بینٹ کے ہاتھ اور دوسرے جسم کے کٹے ہوئے اعضا برآمد کیے گئے ۔ممبئی پولیس کے مطابق یہ دوسرا سوٹ کیس ہے جو مٹھی دریا سے برآمد کیا گیا ہے ، پولیس نے بتایا کہ ممبئی کے علاقے مہاراشٹرا سے ایک سوٹ کیس بر آمد کیا گیا تھا جس...

بھارتی موسیقار کا لے پالک بیٹی کے ہاتھوں سفاکانہ قتل

سعودی عرب میں یتیم خانوں کی بندش کا فیصلہ وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

سعودی وزیر محنت و سماجی بہبود احمد الراجحی کے مطابق سعودی عرب میں یتیم خانے بتدریج بند کردیئے جائیں گے ، یتیم بچوں کو کسی نہ کسی فیملی کے حوالے کیا جا ئے گا۔اخبار 24 کے مطابق احمد الراجحی نے بجٹ 2020 فورم سے خطاب کے دوران کہا کہ اب یتیموں کی نگہداشت مخصوص خاندانوں میں ہوگی، انہیں کسی یتیم خانے کے حوالے نہیں کیا جائے گا، یتیم بچوں کو مکمل گھر کا ماحول مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وزیر محنت و سماجی بہبود نے مزید کہا کہ وزارت نے سماجی کفالت نظام سے فائدہ اٹھانے والے 70 ہزار اف...

سعودی عرب میں یتیم خانوں کی بندش کا فیصلہ

برطانیا میں قبل از وقت الیکشن ،ووٹنگ آج ہو گی،55 مسلمان امیدوار شامل وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

برطانیامیں بریگزٹ کے نام پر قبل از وقت الیکشن میں کنزرویٹو کا لیبر پارٹی سے کانٹے کا مقابلہ ہے ،پولنگ آج (جمعرات کو) ہو گی ، کنزرویٹو نے بیس اور لیبر پارٹی نے انیس پاکستانیوں کو میدان میں اتار دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پارلیمان کی 650 نشستوں کیلئے 3 ہزار 322 امیدوار میدان میں ہیں، بریگزٹ کے نام پر برطانیا میں قبل از وقت الیکشن کے لیے ووٹنگ (آج) جمعرات کو ہو گی۔ پارلیمان کی چھ سو پچاس نشستوں کے انتخاب کیلئے 55 مسلمان امیدوار بھی شامل ہیں۔ کنزرویٹو نے بیس اور لیبر پار...

برطانیا میں قبل از وقت الیکشن ،ووٹنگ آج ہو گی،55 مسلمان امیدوار شامل

دبئی ایئرپورٹ، پلاسٹک مصنوعات آئندہ سال سے ترک کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دبئی ورلڈ سینٹرال کو یکم جنوری 2020 سے بتدریج ایک مرتبہ استعمال ہونے والی پلاسٹک مصنوعات پاک کردیا جائے گا۔دبئی ایئرپورٹ تجارتی امور کے ڈپٹی ایگزیکٹیو چیئرمین یوجین باری کے مطابق پلاسٹک کپ تیار کھانوں کے ڈبے ، قہوہ خانوں، ریستورانوں اور ہوائی اڈوں کے تجارتی مراکز پر استعمال ہونے والی پولیتھن کا سلسلہ ختم کر رہے ہیں۔آئندہ بارہ ماہ کے دوران یہ کام مکمل کرلیا جائے گا۔ مسافروںکے لیے مخصوص مقامات پر دیگر متبادل مصنوعات پیش کی جائیں گی۔یوجین باری نے کہا ...

دبئی ایئرپورٹ، پلاسٹک مصنوعات آئندہ سال سے ترک کرنے کا فیصلہ

خوب صورت عورتیں۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود - بدھ 11 دسمبر 2019

دوستو،شادی کے بعد دنیا کی ساری خواتین ہی اچانک خوب صورت نظر آنے لگتی ہیں۔۔ اگر آپ نے شادی نہیں کی تو ابھی آپ کو اندازہ نہیں ہوگا، لیکن جیسے ہی آپ قبول ہے،قبول ہے،قبول ہے کی تین بار گردان کریں گے اچانک ہی آپ کے دماغ اور دل میں نجانے کون سا ایسا وائرس سرایت کرجائے گا کہ آپ کو نکاح نامے پر دستخط کے بعد شادی ہال میں موجود نہ صرف اپنی بیوی زہر لگنے لگے گی بلکہ تمام لڑکیاں مس یونیورس اور مس ورلڈ لگیں گی۔۔یہ بات ہم پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں جس کسی کوبھی شک ہے وہ فوری طور پر...

خوب صورت عورتیں۔۔ (علی عمران جونیئر)

نون لیگی سیاست کا فریب اور صحافت کا بھرم
( ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود - منگل 10 دسمبر 2019

اہلِ صحافت کے آزادیٔ اظہار اور تصورات کا بھرم دراصل سورج مکھی کا وہ پھول ہے جو شریف خاندان کی خواہشات و ضرریات کے سورج کے گرد گھومتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری فریب کا یہ کھیل اب دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے تو اہلِ صحافت اپنے کپڑے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ آخر شریف خاندان لندن میں کیوں براجمان ہے؟ نوازشریف نہیں تو شہبازشریف ہی کم ازکم اسلام آباد کو’’رونق‘‘ بخشیں، کوئی’’چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘کی حسرت آمیز التجائیں کر رہا ہے، کوئی چپ سادھے بیٹھ...

نون لیگی سیاست کا فریب اور صحافت کا بھرم <br>( ماجرا۔۔محمد طاہر)