وجود

... loading ...

وجود

بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

جمعه 20 اپریل 2018 بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

آج کل بٹ کوائن کا بہت چرچا ہے اور اس کے بارے میں تقریباً روزانہ خبریں آرہی ہیں۔ کہیں اس پر فتوے لگ رہے ہیں تو کہیں اس حوالے سے قانونی بحث جاری ہے لیکن یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ بٹ کوائن اور اس جیسی متعدد کرپٹوکرنسیز کو وجود بخشنے والی بنیادی ٹیکنالوجی ’’بلاک چین‘‘ پر کہیں کوئی بات نہیں ہورہی۔ اس کے برعکس، سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدگی سے بلاک چین پر مہارت حاصل کرلیں گے تو یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں آپ کیلیے بہترین کیریئر کی ضمانت تک بن سکتی ہے۔ یہ بلاگ میں نے خاص طور پر ایسے ہی لوگوں کیلیے تحریر کیا ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔اِنسان پیدائش سے لے کر موت تک اَور شاید موت کے بعد بھی، ریکارڈ کے طور پر، ایک رجسٹر (کھاتے) سے دوسرے رجسٹر میں سفر کرتا رہتا ہے۔ اْس کی ذات اور اْس سے جڑی تمام ضروریات اور مسائل کسی نہ کسی کھاتے کے مرہونِ منّت ہوتے ہیں۔ اگر آپ اِنسان کو لا تعداد کھاتوں کی زنجیر کی ایک اکائی مان لیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ لاتعداد و لامحدود کھاتے جو ایک زنجیر میں پروکر ایک ساتھ جوڑدیئے گئے ہوں۔ ان میں درج ایک حقیقت، ایک اکائی اِنسان کہلاتی ہے اور اسے اپنے وجود کا ثبوت دینے کیلئے بھی اِن کھاتوں کے اندراج کی ضرورت ہوتی ہے۔

آپ یقین جانیے میں کوئی مذہبی یا فلسفیانہ بحث نہیں کر رہا، یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے مطابق ہم جیتے ہیں اور جو ہوبہو بلاک چین کا عملی نمونہ ہے۔

ہم پیدا ہوتے ہیں تو پیدائش کا برتھ سرٹیفیکیٹ بنتا ہے۔ ہسپتال سے یا ضلع ناظم کونسلر کے آفس سے ’’ب‘‘ فارم اور پھر نادرا سے حتمی ثبوت کے طورپر پکّا برتھ سرٹیفکیٹ یا فیملی سرٹیفکیٹ۔ یہ سرٹیفکیٹ اِس بات کی سند ہے کہ آپ ہیں۔ اِس کے بغیر قانونی طور پر آپ کا وجود ثابت نہیں۔

آپ نے حفاظتی ٹیکے لگوائے تو ایک اور رجسٹر میں اِندراج ہوگیا۔ گھر لیا، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوایا، ڈرائیونگ لائسنس، بینک اکاؤنٹ، اسلحہ لائسنس، شادی و نکاح، بچوں کی پیدائش، اسکول میں داخلہ، یونیورسٹی ڈگری حتیٰ کہ موت تک آپ کو کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ ملتا ہی رہتا ہے جو کسی نہ کسی کھاتے میں اندراج کی گواہی ہوتا ہے۔ میں اس نظام کو غیر مرئی بلاک چین (Invisible block chain) سے تشبیہ دیتا ہوں… اور نامہ اعمال؟ وہ بھی تو ایک رجسٹر ہے جِس میں سب لِکھا جا رہا ہے۔

قیمتی اشیاء ، قدرتی ذخائر، مْلکی وسائل اور آبادی کا شمار ہمیشہ سے ہی اس بات کا متقاضی رہا ہے کہ اس کا درست اندراج ممکن بنایا جائے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد 1944 میں بریٹن وڈز کانفرنس ہوئی جس کے نتیجے میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (IMF)، ورلڈ بینک اور بعد ازاں اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) جیسے اِداروں کا قیام عمل میں آیا کہ دنیا کے تمام تر وسائل کو ایک مرکزی نظام کے تحت کنٹرول کیا جاسکے، چلایا جاسکے اور چھوٹے بڑے سب ممالک اور اْن میں بسے سب لوگ، کیا مسکین اور کیا طاقتور، سب ہی اس مرکزی نظام کے تحت آجائیں اور اپنے تئیں جتنی آزادی اور شخصی حیثیت کا ڈھنڈورا پیٹ لیں، بالآخر ان کی ساری توانائیاں اور وسائل اِسی مرکزی نظام سے ہوتے ہوئے ان معدودے چند لوگوں یا اداروں تک پہنچ جائیں جو پالیسی سازی کے نام پر آزاد لوگوں کو غلام اِبن غلام بنانے کا عزم لیے پھرتے ہیں۔

آپ آس پاس میں نظر دوڑائیے اور غور کیجیے تو آپ کو اپنی زندگی کچھ مرکزی کھاتوں میں جڑی نظر آئے گی۔ بینک، گھرکے کاغذات (پٹواری)، اسپتال، شناختی کارڈ، شادی دفتر وغیرہ۔چلیے مان لیاکہ ہم ہر وقت کسی نہ کسی مرکزی کھاتے یا نظام میں بندھے ہوئے ہیں تو اِس میں آخر ہوا کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے؟ ہم کیوں کھوج کریں ایک نئے نظام کی جب کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے؟

مرکزی نظام پر اعتماد (یا اندھے اعتماد) میں تین بڑی خرابیاں ہیں:

1۔ من مانی علیحدگی
یہ نظام یا اِس کے چلانے والے جب چاہیں، جیسے چاہیں، مسابقت یا سینسرشپ کے نام پر یا ملک کے وسیع تر مفاد میں، جِسے چاہیں سسٹم سے الگ کردیں؛ پاکستان کو ٹیررازم واچ لِسٹ میں ڈال کر پیسوں اور اشیاء کی آمدورفت پر پا بندیاں لگا دیں۔ کسی اور حیلے بہانے سے ایران، وینزویلا، فلسطین، شمالی کوریا اور ہر وہ ملک، ادارہ یا شخص جو آپ کے سامنے سرنِگوں نہیں ہورہا،اْسے خارِج کردیں یا اْس کی شمولیت ناممکن بنادیں۔ Pay-Pal پاکستان میں نہیں۔ دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کے پاس اپنی شخصی شناخت کی دستاویزات نہیں یعنی امیگریشن ہونے کی حکومتی اِمداد تک، نوکری سے لے کر طبی اِمداد تک وہ اپنا وجود تک ثابت نہیں کرسکتے۔

2۔ بے اِیمانی
لوگ آپ پر اعتماد (Trust) کریں مگر آپ ناانصافی، لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم رکھیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کسی اِدارے میں رکھوائیں اور وہ اِدارہ اْسے امانت سمجھتے ہوئے جیسے چاہے برباد کردے۔ لوگ ملک کو ٹیکس دیں اورحکمران اِسے عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ کرنے کے بجائے اپنی عیاشیوں میں صرف کردیں۔

3۔ اِندراج میں گڑبڑ
(Loss of Records)
مرکزی اِدارے یا بینک کو کوئی شخص ہیک کرکے سارے کھاتے صفر کردے تو؟ غلطی سے کوئی بینک ملازم آپ کے اکاؤنٹ میں غلط اِندراج کردے یا کسی اور قدرتی یا اِنسانی حادثے میں ریکارڈ ضائع ہوجائے تو؟ جیسا کہ عموماً ملک عزیز میں فائلوں کو آگ لگ جاتی ہے، تو اِس صورت میں حق دار کے حق کی کیا ضمانت ہو؟

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اختیارت کا ناجائز اِستعمال اور جِس کی لاٹھی اْس کی بھینس کے مصداق اپنی من مانی سے نظام چلانا وہ وجوہ ہیں جن کی بناء پر بتدریج عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوئی۔اگر پچھلی صدی کا بغور جائزہ لیں تو اِنسانوں میں سب سے زیادہ تنزلی اعتماد میں آئی ہے۔ لوگوں کا اعتماد یکسر اْٹھ گیا ہے خواہ وہ اِدارے ہوں، حکومت ہو، عدالت ہو، رشتے ناتے ہوں، مذہب ہو، لیڈر ہو یا کوئی اور ضامن۔ بحثیت مجموعی اِنسانوں کو کسی پر اعتماد نہ رہا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو پچھلے پچاس سال سے زیرِبحث ہے کہ ہم آخر دو یا دو سے زائد فریقین میں اعتماد (Trust) کیسے قائم کریں؛ اور وہ بھی بغیر کسی مرکزی کردار کے؟

کیا ہم ایسا رجسٹر (کھاتا) بنا سکتے ہیں جِسے لکھ/ پڑھ سکیں تاکہ تمام اِندراجات شفافیت سے وجود میں آسکیں؟ کیا ہم پیسے کے کھاتے کو کسی حکومت، ادارے یا شخص کی دسترس سے باہر نکالنے کے قابل ہوسکیں گے؟ کوئی بھی ادارہ یا فرد کیونکر ایسے رجسٹر یا کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ذْمہ داری لے گا؟ کیسے ممکن ہے کہ ایسے اوپن کھاتے میں بْرے لوگوں کے فراڈ اور بے ایمانی کو روکا جاسکے اور پکڑا جاسکے؟ کیا اِس بات کی اِجازت ہو گی کہ اِس کھاتے میں تبدیلی کرسکیں؟

یہ اور اِن جیسے درجنوں سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں ریاضی، کمپیوٹر سائنس، معاشیات اور نفسیات کے تحقیق کاروں نے کئی دہائیاں لگا دیں۔ بارش کے قطروں کی طرح، ہلکے ہلکے ٹکڑوں میں اِس نئے نظام کے مختلف حِصّے بنتے رہے یہاں تک کہ 2008 میں فرضی نام کے شخص ساتوشی ناکاموتو نے اِس مسئلے کا قابل عمل حل دنیا کے سامنے پیش کردیا جسے ہم ’’بلاک چین‘‘ (Block Chain) کہتے ہیں۔

بلاک چین کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اِسے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے کیونکہ اِس کیلیے آپ کو اِس میں شامل تمام جزئیات کو سمجھنا ہوگا۔

پہلے ہم اِس نظام کی تعریف کرلیتے ہیں، پھر مثالوں سے بتدریج سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’بلاک چین ایک کھلا (Open)، منقسم (Distributed) رجسٹر (کھاتا) ہے جِسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے اور جس میں ہر کوئی اِندراج کر سکتا ہے (مخصوص شرائط کے ساتھ) اور جِسے ریاضی کے پیچیدہ عمل کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی تصّور ہے۔

ریکارڈ رکھنے کیلیے انسان صدیوں سے کھاتے استعمال کرتا آیا ہے۔ کبھی یہ مٹی کی تختیوں کی شکل میں تھے، تو کبھی کاغذی دفتر کی شکل میں، آج کل یہ بائٹس کے مجموعے کی شکل میں کمپیوٹرز میں محفوظ ہوتے ہیں۔

بلاک چین (منقسم کھاتا) ایک ایسا ڈسٹری بیوٹر لیجر ہے جو ہونے والی ٹرانزیکشنز کا وقت کے حساب سے مکمل حساب رکھتا ہے۔ نیٹ ورک میں شامل ہر فرد کے پاس اِس کی مکمل کاپی ہوتی ہے۔ جب کوئی تبدیلی آتی ہے یا کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو تمام لوگ اپنے اپنے کھاتوں کو اَپ ڈیٹ کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جعلی ٹرانزیکشن کو ریکارڈ کروانے کی بات کرے گا تو باقی لوگ اْسے مسترد کر دیں گے کہ اْن کے پاس کاپی میں اس ٹرانزیکشن کا وجود نہیں ہوگا۔

آپ نے نکاح کے وقت بہت سے مہمان دیکھے ہوں گے، دراصل یہ سب ایک شعوری بلاک چین ہے جو اِس شادی کے گواہان ہیں۔ اگر کل کوئی شخص شادی کا دعویٰ کرے گا تو سب اْس کی مخالفت کریں گے کہ اِس خاتون کی تو پہلے ہی شادی ہوچکی ہے۔

آپ قرآنِ پاک کے حفظ کو دیکھ لیجیے، ہر حافِظ قرآن ایک نوڈ (Node) ہے۔ سب کے پاس ایک ہی پبلک لیجر (Public Ledger) یعنی قرآنِ پاک کی کاپی موجود ہے جو سب نے اپنے اپنے دماغوں میں محفوظ کی ہوئی ہے۔ اب اگر کل کوئی عاقبت نااندیش شخص (نعوذ باللہ) کوئی نئی آیت گھڑ لاتا ہے تو حفاظ کا بلاک چین سسٹم اْسے مسترد کرکے اسے نظام سے باہر پھینک دے گا۔ بالکل ایسے ہی بلاک چین کام کرتاہے۔

جمشید نے اپنے آن لائن اکاؤنٹ میں جاکر دس ہزار روپے بھیجنے کی درخواست (Request) کی تو کمپیوٹر سسٹم نے اس کے کھاتے میں رقم کی موجودگی کو چیک کیا۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں دس ہزار سے کم رقم ہوتی تو یہ ٹرانزیکشن نہ ہوپاتی۔ اس کے اکاؤنٹ میں رقم چونکہ زیادہ تھی لہٰذا اس کے کھاتے میں سے دس ہزار روپے کی رقم کم ہوئی اور اتنی ہی رقم (دس ہزار روپے) عبداللہ کے کھاتے میں بڑھ گئی۔ اس پورے عمل میں رقم کا وجود ’’کھاتے کے اندراج‘‘ سے زیادہ نہیں۔مسئلہ صرف اتنا ہے کہ دو لوگوں کو ا?پس میں رقم کی منتقلی کیلیے کسی تیسرے ادارے پر اعتماد کرنا پڑا اور عموماً یہ تیسرا ادارہ ان سروسز کے بدلے رقم لیتا ہے۔شہروں اور ملکوں کے درمیان یہ عام سی ٹرانزیکشن 10 فیصد تک وصول کرلیتی ہے اور 3 سے 7 دنوں تک کا وقفہ آجاتا ہے۔ یعنی جمشید کے اکاؤنٹ سے رقم تو فوراً منتقل ہوجائے گی مگر عبداللہ تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔کسی تیسرے ادارے (Third Party) کے استعمال میں وہ ساری قباحتیں موجود ہیں جو ہم مرکزی نظام کے مسائل میں اوپر ڈسکس کر چکے ہیں اور مزید یہ کہ اس میں زیادہ فیس اور وقت بھی لگتا ہے۔ حکومت اور اداروں کی اجازت بھی درکار ہوتی ہے اور فارن ایکسچینج کے تبادلے کی صورت میں بھی کٹوتی ہوتی ہے۔ چوری کا احتمال ہے، اِنسانی غلطی کا بھی اور سہولت بھی کوئی زیادہ نہیں۔

یہ تو ہم نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیئے ہیں اور وہ بھی کسی اور کی، جسے عْرفِ عام میں ہم ’’بینک‘‘ کہتے ہیں۔تو کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ آپس میں خود ہی ایک رجسٹر بنالیں اور اس میں اندراج کرتے رہیں؟ بالکل! ایسا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں ڈبل اسپینڈنگ (Double-Spending) یعنی دوہرے خرچے کا مسئلہ آتا ہے جسے ساتوشی ناکاموتو نے بخوبی حل کیا۔ اس حل کو ’’بلاک چین‘‘ کہتے ہیں۔ہم ایک پبلک لیجر (عوامی رجسٹر) بنا لیتے ہیں اور اس میں شروع سے لے کر رہتی دنیا تک ہونے والی تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ رکھتے رہیں گے۔ اگر عبداللہ ا?ئندہ بھی کسی کو 5 ہزار روپے دیتا ہے تو سب کو پتا ہے کہ اْس کے پاس 10 ہزار روپے ہیں اور وہ 5 ہزار دے سکتا ہے، اور یہ 10 ہزار اْس کے پاس جمشید کی طرف سے آئے تھے۔ اب اگر اس نظام پر ہزاروں، لاکھوں لوگ ہیں تو یہ سب ٹرانزیکشن کرتے رہیں گے اور بلاک چین کے پبلک رجسٹر میں سب کا اندراج ہوتا رہے گا۔جب بہت سی ٹرانزیکشنز کو لکھنے کی وجہ سے صفحہ بھر جائے گا تو تمام لوگ (Nodes) اْسے ہیش فنکشن کی مدد سے ’’سیِل‘‘ کرکے بلاک بنا دیں گے اور اگلے بلاک پر کام شروع ہوجائے گا۔اِس سیل (Seal) کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی صفحے/ بلاک پر لکھا ہوا ہے، وہ ٹھیک ہے اور اب رہتی دنیا تک اِس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسے ہم بلاک چین کی Immutability کہتے ہیں۔ہیش فنکشن آسان زبان میں ریاضی کا وہ پیچیدہ فنکشن ہے جس میں آپ جو چاہیں تحریر ڈال دیں، وہ جواب میں آپ کو ایک ہی سائز کے مختلف جواب دے گا۔ آپ اسے ایک مشین کہہ لیجیے۔ اب اگر ہم اس میں 4 ڈالتے ہیں تو جواب آئے گا۔


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر