وجود

... loading ...

وجود

بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

جمعه 20 اپریل 2018 بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

آج کل بٹ کوائن کا بہت چرچا ہے اور اس کے بارے میں تقریباً روزانہ خبریں آرہی ہیں۔ کہیں اس پر فتوے لگ رہے ہیں تو کہیں اس حوالے سے قانونی بحث جاری ہے لیکن یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ بٹ کوائن اور اس جیسی متعدد کرپٹوکرنسیز کو وجود بخشنے والی بنیادی ٹیکنالوجی ’’بلاک چین‘‘ پر کہیں کوئی بات نہیں ہورہی۔ اس کے برعکس، سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدگی سے بلاک چین پر مہارت حاصل کرلیں گے تو یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں آپ کیلیے بہترین کیریئر کی ضمانت تک بن سکتی ہے۔ یہ بلاگ میں نے خاص طور پر ایسے ہی لوگوں کیلیے تحریر کیا ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔اِنسان پیدائش سے لے کر موت تک اَور شاید موت کے بعد بھی، ریکارڈ کے طور پر، ایک رجسٹر (کھاتے) سے دوسرے رجسٹر میں سفر کرتا رہتا ہے۔ اْس کی ذات اور اْس سے جڑی تمام ضروریات اور مسائل کسی نہ کسی کھاتے کے مرہونِ منّت ہوتے ہیں۔ اگر آپ اِنسان کو لا تعداد کھاتوں کی زنجیر کی ایک اکائی مان لیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ لاتعداد و لامحدود کھاتے جو ایک زنجیر میں پروکر ایک ساتھ جوڑدیئے گئے ہوں۔ ان میں درج ایک حقیقت، ایک اکائی اِنسان کہلاتی ہے اور اسے اپنے وجود کا ثبوت دینے کیلئے بھی اِن کھاتوں کے اندراج کی ضرورت ہوتی ہے۔

آپ یقین جانیے میں کوئی مذہبی یا فلسفیانہ بحث نہیں کر رہا، یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے مطابق ہم جیتے ہیں اور جو ہوبہو بلاک چین کا عملی نمونہ ہے۔

ہم پیدا ہوتے ہیں تو پیدائش کا برتھ سرٹیفیکیٹ بنتا ہے۔ ہسپتال سے یا ضلع ناظم کونسلر کے آفس سے ’’ب‘‘ فارم اور پھر نادرا سے حتمی ثبوت کے طورپر پکّا برتھ سرٹیفکیٹ یا فیملی سرٹیفکیٹ۔ یہ سرٹیفکیٹ اِس بات کی سند ہے کہ آپ ہیں۔ اِس کے بغیر قانونی طور پر آپ کا وجود ثابت نہیں۔

آپ نے حفاظتی ٹیکے لگوائے تو ایک اور رجسٹر میں اِندراج ہوگیا۔ گھر لیا، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوایا، ڈرائیونگ لائسنس، بینک اکاؤنٹ، اسلحہ لائسنس، شادی و نکاح، بچوں کی پیدائش، اسکول میں داخلہ، یونیورسٹی ڈگری حتیٰ کہ موت تک آپ کو کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ ملتا ہی رہتا ہے جو کسی نہ کسی کھاتے میں اندراج کی گواہی ہوتا ہے۔ میں اس نظام کو غیر مرئی بلاک چین (Invisible block chain) سے تشبیہ دیتا ہوں… اور نامہ اعمال؟ وہ بھی تو ایک رجسٹر ہے جِس میں سب لِکھا جا رہا ہے۔

قیمتی اشیاء ، قدرتی ذخائر، مْلکی وسائل اور آبادی کا شمار ہمیشہ سے ہی اس بات کا متقاضی رہا ہے کہ اس کا درست اندراج ممکن بنایا جائے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد 1944 میں بریٹن وڈز کانفرنس ہوئی جس کے نتیجے میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (IMF)، ورلڈ بینک اور بعد ازاں اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) جیسے اِداروں کا قیام عمل میں آیا کہ دنیا کے تمام تر وسائل کو ایک مرکزی نظام کے تحت کنٹرول کیا جاسکے، چلایا جاسکے اور چھوٹے بڑے سب ممالک اور اْن میں بسے سب لوگ، کیا مسکین اور کیا طاقتور، سب ہی اس مرکزی نظام کے تحت آجائیں اور اپنے تئیں جتنی آزادی اور شخصی حیثیت کا ڈھنڈورا پیٹ لیں، بالآخر ان کی ساری توانائیاں اور وسائل اِسی مرکزی نظام سے ہوتے ہوئے ان معدودے چند لوگوں یا اداروں تک پہنچ جائیں جو پالیسی سازی کے نام پر آزاد لوگوں کو غلام اِبن غلام بنانے کا عزم لیے پھرتے ہیں۔

آپ آس پاس میں نظر دوڑائیے اور غور کیجیے تو آپ کو اپنی زندگی کچھ مرکزی کھاتوں میں جڑی نظر آئے گی۔ بینک، گھرکے کاغذات (پٹواری)، اسپتال، شناختی کارڈ، شادی دفتر وغیرہ۔چلیے مان لیاکہ ہم ہر وقت کسی نہ کسی مرکزی کھاتے یا نظام میں بندھے ہوئے ہیں تو اِس میں آخر ہوا کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے؟ ہم کیوں کھوج کریں ایک نئے نظام کی جب کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے؟

مرکزی نظام پر اعتماد (یا اندھے اعتماد) میں تین بڑی خرابیاں ہیں:

1۔ من مانی علیحدگی
یہ نظام یا اِس کے چلانے والے جب چاہیں، جیسے چاہیں، مسابقت یا سینسرشپ کے نام پر یا ملک کے وسیع تر مفاد میں، جِسے چاہیں سسٹم سے الگ کردیں؛ پاکستان کو ٹیررازم واچ لِسٹ میں ڈال کر پیسوں اور اشیاء کی آمدورفت پر پا بندیاں لگا دیں۔ کسی اور حیلے بہانے سے ایران، وینزویلا، فلسطین، شمالی کوریا اور ہر وہ ملک، ادارہ یا شخص جو آپ کے سامنے سرنِگوں نہیں ہورہا،اْسے خارِج کردیں یا اْس کی شمولیت ناممکن بنادیں۔ Pay-Pal پاکستان میں نہیں۔ دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کے پاس اپنی شخصی شناخت کی دستاویزات نہیں یعنی امیگریشن ہونے کی حکومتی اِمداد تک، نوکری سے لے کر طبی اِمداد تک وہ اپنا وجود تک ثابت نہیں کرسکتے۔

2۔ بے اِیمانی
لوگ آپ پر اعتماد (Trust) کریں مگر آپ ناانصافی، لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم رکھیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کسی اِدارے میں رکھوائیں اور وہ اِدارہ اْسے امانت سمجھتے ہوئے جیسے چاہے برباد کردے۔ لوگ ملک کو ٹیکس دیں اورحکمران اِسے عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ کرنے کے بجائے اپنی عیاشیوں میں صرف کردیں۔

3۔ اِندراج میں گڑبڑ
(Loss of Records)
مرکزی اِدارے یا بینک کو کوئی شخص ہیک کرکے سارے کھاتے صفر کردے تو؟ غلطی سے کوئی بینک ملازم آپ کے اکاؤنٹ میں غلط اِندراج کردے یا کسی اور قدرتی یا اِنسانی حادثے میں ریکارڈ ضائع ہوجائے تو؟ جیسا کہ عموماً ملک عزیز میں فائلوں کو آگ لگ جاتی ہے، تو اِس صورت میں حق دار کے حق کی کیا ضمانت ہو؟

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اختیارت کا ناجائز اِستعمال اور جِس کی لاٹھی اْس کی بھینس کے مصداق اپنی من مانی سے نظام چلانا وہ وجوہ ہیں جن کی بناء پر بتدریج عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوئی۔اگر پچھلی صدی کا بغور جائزہ لیں تو اِنسانوں میں سب سے زیادہ تنزلی اعتماد میں آئی ہے۔ لوگوں کا اعتماد یکسر اْٹھ گیا ہے خواہ وہ اِدارے ہوں، حکومت ہو، عدالت ہو، رشتے ناتے ہوں، مذہب ہو، لیڈر ہو یا کوئی اور ضامن۔ بحثیت مجموعی اِنسانوں کو کسی پر اعتماد نہ رہا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو پچھلے پچاس سال سے زیرِبحث ہے کہ ہم آخر دو یا دو سے زائد فریقین میں اعتماد (Trust) کیسے قائم کریں؛ اور وہ بھی بغیر کسی مرکزی کردار کے؟

کیا ہم ایسا رجسٹر (کھاتا) بنا سکتے ہیں جِسے لکھ/ پڑھ سکیں تاکہ تمام اِندراجات شفافیت سے وجود میں آسکیں؟ کیا ہم پیسے کے کھاتے کو کسی حکومت، ادارے یا شخص کی دسترس سے باہر نکالنے کے قابل ہوسکیں گے؟ کوئی بھی ادارہ یا فرد کیونکر ایسے رجسٹر یا کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ذْمہ داری لے گا؟ کیسے ممکن ہے کہ ایسے اوپن کھاتے میں بْرے لوگوں کے فراڈ اور بے ایمانی کو روکا جاسکے اور پکڑا جاسکے؟ کیا اِس بات کی اِجازت ہو گی کہ اِس کھاتے میں تبدیلی کرسکیں؟

یہ اور اِن جیسے درجنوں سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں ریاضی، کمپیوٹر سائنس، معاشیات اور نفسیات کے تحقیق کاروں نے کئی دہائیاں لگا دیں۔ بارش کے قطروں کی طرح، ہلکے ہلکے ٹکڑوں میں اِس نئے نظام کے مختلف حِصّے بنتے رہے یہاں تک کہ 2008 میں فرضی نام کے شخص ساتوشی ناکاموتو نے اِس مسئلے کا قابل عمل حل دنیا کے سامنے پیش کردیا جسے ہم ’’بلاک چین‘‘ (Block Chain) کہتے ہیں۔

بلاک چین کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اِسے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے کیونکہ اِس کیلیے آپ کو اِس میں شامل تمام جزئیات کو سمجھنا ہوگا۔

پہلے ہم اِس نظام کی تعریف کرلیتے ہیں، پھر مثالوں سے بتدریج سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’بلاک چین ایک کھلا (Open)، منقسم (Distributed) رجسٹر (کھاتا) ہے جِسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے اور جس میں ہر کوئی اِندراج کر سکتا ہے (مخصوص شرائط کے ساتھ) اور جِسے ریاضی کے پیچیدہ عمل کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی تصّور ہے۔

ریکارڈ رکھنے کیلیے انسان صدیوں سے کھاتے استعمال کرتا آیا ہے۔ کبھی یہ مٹی کی تختیوں کی شکل میں تھے، تو کبھی کاغذی دفتر کی شکل میں، آج کل یہ بائٹس کے مجموعے کی شکل میں کمپیوٹرز میں محفوظ ہوتے ہیں۔

بلاک چین (منقسم کھاتا) ایک ایسا ڈسٹری بیوٹر لیجر ہے جو ہونے والی ٹرانزیکشنز کا وقت کے حساب سے مکمل حساب رکھتا ہے۔ نیٹ ورک میں شامل ہر فرد کے پاس اِس کی مکمل کاپی ہوتی ہے۔ جب کوئی تبدیلی آتی ہے یا کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو تمام لوگ اپنے اپنے کھاتوں کو اَپ ڈیٹ کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جعلی ٹرانزیکشن کو ریکارڈ کروانے کی بات کرے گا تو باقی لوگ اْسے مسترد کر دیں گے کہ اْن کے پاس کاپی میں اس ٹرانزیکشن کا وجود نہیں ہوگا۔

آپ نے نکاح کے وقت بہت سے مہمان دیکھے ہوں گے، دراصل یہ سب ایک شعوری بلاک چین ہے جو اِس شادی کے گواہان ہیں۔ اگر کل کوئی شخص شادی کا دعویٰ کرے گا تو سب اْس کی مخالفت کریں گے کہ اِس خاتون کی تو پہلے ہی شادی ہوچکی ہے۔

آپ قرآنِ پاک کے حفظ کو دیکھ لیجیے، ہر حافِظ قرآن ایک نوڈ (Node) ہے۔ سب کے پاس ایک ہی پبلک لیجر (Public Ledger) یعنی قرآنِ پاک کی کاپی موجود ہے جو سب نے اپنے اپنے دماغوں میں محفوظ کی ہوئی ہے۔ اب اگر کل کوئی عاقبت نااندیش شخص (نعوذ باللہ) کوئی نئی آیت گھڑ لاتا ہے تو حفاظ کا بلاک چین سسٹم اْسے مسترد کرکے اسے نظام سے باہر پھینک دے گا۔ بالکل ایسے ہی بلاک چین کام کرتاہے۔

جمشید نے اپنے آن لائن اکاؤنٹ میں جاکر دس ہزار روپے بھیجنے کی درخواست (Request) کی تو کمپیوٹر سسٹم نے اس کے کھاتے میں رقم کی موجودگی کو چیک کیا۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں دس ہزار سے کم رقم ہوتی تو یہ ٹرانزیکشن نہ ہوپاتی۔ اس کے اکاؤنٹ میں رقم چونکہ زیادہ تھی لہٰذا اس کے کھاتے میں سے دس ہزار روپے کی رقم کم ہوئی اور اتنی ہی رقم (دس ہزار روپے) عبداللہ کے کھاتے میں بڑھ گئی۔ اس پورے عمل میں رقم کا وجود ’’کھاتے کے اندراج‘‘ سے زیادہ نہیں۔مسئلہ صرف اتنا ہے کہ دو لوگوں کو ا?پس میں رقم کی منتقلی کیلیے کسی تیسرے ادارے پر اعتماد کرنا پڑا اور عموماً یہ تیسرا ادارہ ان سروسز کے بدلے رقم لیتا ہے۔شہروں اور ملکوں کے درمیان یہ عام سی ٹرانزیکشن 10 فیصد تک وصول کرلیتی ہے اور 3 سے 7 دنوں تک کا وقفہ آجاتا ہے۔ یعنی جمشید کے اکاؤنٹ سے رقم تو فوراً منتقل ہوجائے گی مگر عبداللہ تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔کسی تیسرے ادارے (Third Party) کے استعمال میں وہ ساری قباحتیں موجود ہیں جو ہم مرکزی نظام کے مسائل میں اوپر ڈسکس کر چکے ہیں اور مزید یہ کہ اس میں زیادہ فیس اور وقت بھی لگتا ہے۔ حکومت اور اداروں کی اجازت بھی درکار ہوتی ہے اور فارن ایکسچینج کے تبادلے کی صورت میں بھی کٹوتی ہوتی ہے۔ چوری کا احتمال ہے، اِنسانی غلطی کا بھی اور سہولت بھی کوئی زیادہ نہیں۔

یہ تو ہم نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیئے ہیں اور وہ بھی کسی اور کی، جسے عْرفِ عام میں ہم ’’بینک‘‘ کہتے ہیں۔تو کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ آپس میں خود ہی ایک رجسٹر بنالیں اور اس میں اندراج کرتے رہیں؟ بالکل! ایسا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں ڈبل اسپینڈنگ (Double-Spending) یعنی دوہرے خرچے کا مسئلہ آتا ہے جسے ساتوشی ناکاموتو نے بخوبی حل کیا۔ اس حل کو ’’بلاک چین‘‘ کہتے ہیں۔ہم ایک پبلک لیجر (عوامی رجسٹر) بنا لیتے ہیں اور اس میں شروع سے لے کر رہتی دنیا تک ہونے والی تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ رکھتے رہیں گے۔ اگر عبداللہ ا?ئندہ بھی کسی کو 5 ہزار روپے دیتا ہے تو سب کو پتا ہے کہ اْس کے پاس 10 ہزار روپے ہیں اور وہ 5 ہزار دے سکتا ہے، اور یہ 10 ہزار اْس کے پاس جمشید کی طرف سے آئے تھے۔ اب اگر اس نظام پر ہزاروں، لاکھوں لوگ ہیں تو یہ سب ٹرانزیکشن کرتے رہیں گے اور بلاک چین کے پبلک رجسٹر میں سب کا اندراج ہوتا رہے گا۔جب بہت سی ٹرانزیکشنز کو لکھنے کی وجہ سے صفحہ بھر جائے گا تو تمام لوگ (Nodes) اْسے ہیش فنکشن کی مدد سے ’’سیِل‘‘ کرکے بلاک بنا دیں گے اور اگلے بلاک پر کام شروع ہوجائے گا۔اِس سیل (Seal) کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی صفحے/ بلاک پر لکھا ہوا ہے، وہ ٹھیک ہے اور اب رہتی دنیا تک اِس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسے ہم بلاک چین کی Immutability کہتے ہیں۔ہیش فنکشن آسان زبان میں ریاضی کا وہ پیچیدہ فنکشن ہے جس میں آپ جو چاہیں تحریر ڈال دیں، وہ جواب میں آپ کو ایک ہی سائز کے مختلف جواب دے گا۔ آپ اسے ایک مشین کہہ لیجیے۔ اب اگر ہم اس میں 4 ڈالتے ہیں تو جواب آئے گا۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر