وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

جمعه 20 اپریل 2018 بٹ کوائن کی بنیاد ’بلاک چین ٹیکنالوجی‘ کیا ہے؟

آج کل بٹ کوائن کا بہت چرچا ہے اور اس کے بارے میں تقریباً روزانہ خبریں آرہی ہیں۔ کہیں اس پر فتوے لگ رہے ہیں تو کہیں اس حوالے سے قانونی بحث جاری ہے لیکن یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ بٹ کوائن اور اس جیسی متعدد کرپٹوکرنسیز کو وجود بخشنے والی بنیادی ٹیکنالوجی ’’بلاک چین‘‘ پر کہیں کوئی بات نہیں ہورہی۔ اس کے برعکس، سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ سنجیدگی سے بلاک چین پر مہارت حاصل کرلیں گے تو یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں آپ کیلیے بہترین کیریئر کی ضمانت تک بن سکتی ہے۔ یہ بلاگ میں نے خاص طور پر ایسے ہی لوگوں کیلیے تحریر کیا ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔اِنسان پیدائش سے لے کر موت تک اَور شاید موت کے بعد بھی، ریکارڈ کے طور پر، ایک رجسٹر (کھاتے) سے دوسرے رجسٹر میں سفر کرتا رہتا ہے۔ اْس کی ذات اور اْس سے جڑی تمام ضروریات اور مسائل کسی نہ کسی کھاتے کے مرہونِ منّت ہوتے ہیں۔ اگر آپ اِنسان کو لا تعداد کھاتوں کی زنجیر کی ایک اکائی مان لیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ لاتعداد و لامحدود کھاتے جو ایک زنجیر میں پروکر ایک ساتھ جوڑدیئے گئے ہوں۔ ان میں درج ایک حقیقت، ایک اکائی اِنسان کہلاتی ہے اور اسے اپنے وجود کا ثبوت دینے کیلئے بھی اِن کھاتوں کے اندراج کی ضرورت ہوتی ہے۔

آپ یقین جانیے میں کوئی مذہبی یا فلسفیانہ بحث نہیں کر رہا، یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے مطابق ہم جیتے ہیں اور جو ہوبہو بلاک چین کا عملی نمونہ ہے۔

ہم پیدا ہوتے ہیں تو پیدائش کا برتھ سرٹیفیکیٹ بنتا ہے۔ ہسپتال سے یا ضلع ناظم کونسلر کے آفس سے ’’ب‘‘ فارم اور پھر نادرا سے حتمی ثبوت کے طورپر پکّا برتھ سرٹیفکیٹ یا فیملی سرٹیفکیٹ۔ یہ سرٹیفکیٹ اِس بات کی سند ہے کہ آپ ہیں۔ اِس کے بغیر قانونی طور پر آپ کا وجود ثابت نہیں۔

آپ نے حفاظتی ٹیکے لگوائے تو ایک اور رجسٹر میں اِندراج ہوگیا۔ گھر لیا، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوایا، ڈرائیونگ لائسنس، بینک اکاؤنٹ، اسلحہ لائسنس، شادی و نکاح، بچوں کی پیدائش، اسکول میں داخلہ، یونیورسٹی ڈگری حتیٰ کہ موت تک آپ کو کوئی نہ کوئی سرٹیفکیٹ ملتا ہی رہتا ہے جو کسی نہ کسی کھاتے میں اندراج کی گواہی ہوتا ہے۔ میں اس نظام کو غیر مرئی بلاک چین (Invisible block chain) سے تشبیہ دیتا ہوں… اور نامہ اعمال؟ وہ بھی تو ایک رجسٹر ہے جِس میں سب لِکھا جا رہا ہے۔

قیمتی اشیاء ، قدرتی ذخائر، مْلکی وسائل اور آبادی کا شمار ہمیشہ سے ہی اس بات کا متقاضی رہا ہے کہ اس کا درست اندراج ممکن بنایا جائے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد 1944 میں بریٹن وڈز کانفرنس ہوئی جس کے نتیجے میں انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (IMF)، ورلڈ بینک اور بعد ازاں اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) جیسے اِداروں کا قیام عمل میں آیا کہ دنیا کے تمام تر وسائل کو ایک مرکزی نظام کے تحت کنٹرول کیا جاسکے، چلایا جاسکے اور چھوٹے بڑے سب ممالک اور اْن میں بسے سب لوگ، کیا مسکین اور کیا طاقتور، سب ہی اس مرکزی نظام کے تحت آجائیں اور اپنے تئیں جتنی آزادی اور شخصی حیثیت کا ڈھنڈورا پیٹ لیں، بالآخر ان کی ساری توانائیاں اور وسائل اِسی مرکزی نظام سے ہوتے ہوئے ان معدودے چند لوگوں یا اداروں تک پہنچ جائیں جو پالیسی سازی کے نام پر آزاد لوگوں کو غلام اِبن غلام بنانے کا عزم لیے پھرتے ہیں۔

آپ آس پاس میں نظر دوڑائیے اور غور کیجیے تو آپ کو اپنی زندگی کچھ مرکزی کھاتوں میں جڑی نظر آئے گی۔ بینک، گھرکے کاغذات (پٹواری)، اسپتال، شناختی کارڈ، شادی دفتر وغیرہ۔چلیے مان لیاکہ ہم ہر وقت کسی نہ کسی مرکزی کھاتے یا نظام میں بندھے ہوئے ہیں تو اِس میں آخر ہوا کیا ہے؟ کیوں ہمیں ایک متبادل نظام کی ضرورت ہے؟ ہم کیوں کھوج کریں ایک نئے نظام کی جب کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے؟

مرکزی نظام پر اعتماد (یا اندھے اعتماد) میں تین بڑی خرابیاں ہیں:

1۔ من مانی علیحدگی
یہ نظام یا اِس کے چلانے والے جب چاہیں، جیسے چاہیں، مسابقت یا سینسرشپ کے نام پر یا ملک کے وسیع تر مفاد میں، جِسے چاہیں سسٹم سے الگ کردیں؛ پاکستان کو ٹیررازم واچ لِسٹ میں ڈال کر پیسوں اور اشیاء کی آمدورفت پر پا بندیاں لگا دیں۔ کسی اور حیلے بہانے سے ایران، وینزویلا، فلسطین، شمالی کوریا اور ہر وہ ملک، ادارہ یا شخص جو آپ کے سامنے سرنِگوں نہیں ہورہا،اْسے خارِج کردیں یا اْس کی شمولیت ناممکن بنادیں۔ Pay-Pal پاکستان میں نہیں۔ دنیا میں ایک ارب سے زائد لوگوں کے پاس اپنی شخصی شناخت کی دستاویزات نہیں یعنی امیگریشن ہونے کی حکومتی اِمداد تک، نوکری سے لے کر طبی اِمداد تک وہ اپنا وجود تک ثابت نہیں کرسکتے۔

2۔ بے اِیمانی
لوگ آپ پر اعتماد (Trust) کریں مگر آپ ناانصافی، لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم رکھیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کسی اِدارے میں رکھوائیں اور وہ اِدارہ اْسے امانت سمجھتے ہوئے جیسے چاہے برباد کردے۔ لوگ ملک کو ٹیکس دیں اورحکمران اِسے عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ کرنے کے بجائے اپنی عیاشیوں میں صرف کردیں۔

3۔ اِندراج میں گڑبڑ
(Loss of Records)
مرکزی اِدارے یا بینک کو کوئی شخص ہیک کرکے سارے کھاتے صفر کردے تو؟ غلطی سے کوئی بینک ملازم آپ کے اکاؤنٹ میں غلط اِندراج کردے یا کسی اور قدرتی یا اِنسانی حادثے میں ریکارڈ ضائع ہوجائے تو؟ جیسا کہ عموماً ملک عزیز میں فائلوں کو آگ لگ جاتی ہے، تو اِس صورت میں حق دار کے حق کی کیا ضمانت ہو؟

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اختیارت کا ناجائز اِستعمال اور جِس کی لاٹھی اْس کی بھینس کے مصداق اپنی من مانی سے نظام چلانا وہ وجوہ ہیں جن کی بناء پر بتدریج عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوئی۔اگر پچھلی صدی کا بغور جائزہ لیں تو اِنسانوں میں سب سے زیادہ تنزلی اعتماد میں آئی ہے۔ لوگوں کا اعتماد یکسر اْٹھ گیا ہے خواہ وہ اِدارے ہوں، حکومت ہو، عدالت ہو، رشتے ناتے ہوں، مذہب ہو، لیڈر ہو یا کوئی اور ضامن۔ بحثیت مجموعی اِنسانوں کو کسی پر اعتماد نہ رہا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو پچھلے پچاس سال سے زیرِبحث ہے کہ ہم آخر دو یا دو سے زائد فریقین میں اعتماد (Trust) کیسے قائم کریں؛ اور وہ بھی بغیر کسی مرکزی کردار کے؟

کیا ہم ایسا رجسٹر (کھاتا) بنا سکتے ہیں جِسے لکھ/ پڑھ سکیں تاکہ تمام اِندراجات شفافیت سے وجود میں آسکیں؟ کیا ہم پیسے کے کھاتے کو کسی حکومت، ادارے یا شخص کی دسترس سے باہر نکالنے کے قابل ہوسکیں گے؟ کوئی بھی ادارہ یا فرد کیونکر ایسے رجسٹر یا کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ذْمہ داری لے گا؟ کیسے ممکن ہے کہ ایسے اوپن کھاتے میں بْرے لوگوں کے فراڈ اور بے ایمانی کو روکا جاسکے اور پکڑا جاسکے؟ کیا اِس بات کی اِجازت ہو گی کہ اِس کھاتے میں تبدیلی کرسکیں؟

یہ اور اِن جیسے درجنوں سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میں ریاضی، کمپیوٹر سائنس، معاشیات اور نفسیات کے تحقیق کاروں نے کئی دہائیاں لگا دیں۔ بارش کے قطروں کی طرح، ہلکے ہلکے ٹکڑوں میں اِس نئے نظام کے مختلف حِصّے بنتے رہے یہاں تک کہ 2008 میں فرضی نام کے شخص ساتوشی ناکاموتو نے اِس مسئلے کا قابل عمل حل دنیا کے سامنے پیش کردیا جسے ہم ’’بلاک چین‘‘ (Block Chain) کہتے ہیں۔

بلاک چین کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ اِسے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے کیونکہ اِس کیلیے آپ کو اِس میں شامل تمام جزئیات کو سمجھنا ہوگا۔

پہلے ہم اِس نظام کی تعریف کرلیتے ہیں، پھر مثالوں سے بتدریج سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’بلاک چین ایک کھلا (Open)، منقسم (Distributed) رجسٹر (کھاتا) ہے جِسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے اور جس میں ہر کوئی اِندراج کر سکتا ہے (مخصوص شرائط کے ساتھ) اور جِسے ریاضی کے پیچیدہ عمل کے ذریعے محفوظ بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی تصّور ہے۔

ریکارڈ رکھنے کیلیے انسان صدیوں سے کھاتے استعمال کرتا آیا ہے۔ کبھی یہ مٹی کی تختیوں کی شکل میں تھے، تو کبھی کاغذی دفتر کی شکل میں، آج کل یہ بائٹس کے مجموعے کی شکل میں کمپیوٹرز میں محفوظ ہوتے ہیں۔

بلاک چین (منقسم کھاتا) ایک ایسا ڈسٹری بیوٹر لیجر ہے جو ہونے والی ٹرانزیکشنز کا وقت کے حساب سے مکمل حساب رکھتا ہے۔ نیٹ ورک میں شامل ہر فرد کے پاس اِس کی مکمل کاپی ہوتی ہے۔ جب کوئی تبدیلی آتی ہے یا کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو تمام لوگ اپنے اپنے کھاتوں کو اَپ ڈیٹ کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی جعلی ٹرانزیکشن کو ریکارڈ کروانے کی بات کرے گا تو باقی لوگ اْسے مسترد کر دیں گے کہ اْن کے پاس کاپی میں اس ٹرانزیکشن کا وجود نہیں ہوگا۔

آپ نے نکاح کے وقت بہت سے مہمان دیکھے ہوں گے، دراصل یہ سب ایک شعوری بلاک چین ہے جو اِس شادی کے گواہان ہیں۔ اگر کل کوئی شخص شادی کا دعویٰ کرے گا تو سب اْس کی مخالفت کریں گے کہ اِس خاتون کی تو پہلے ہی شادی ہوچکی ہے۔

آپ قرآنِ پاک کے حفظ کو دیکھ لیجیے، ہر حافِظ قرآن ایک نوڈ (Node) ہے۔ سب کے پاس ایک ہی پبلک لیجر (Public Ledger) یعنی قرآنِ پاک کی کاپی موجود ہے جو سب نے اپنے اپنے دماغوں میں محفوظ کی ہوئی ہے۔ اب اگر کل کوئی عاقبت نااندیش شخص (نعوذ باللہ) کوئی نئی آیت گھڑ لاتا ہے تو حفاظ کا بلاک چین سسٹم اْسے مسترد کرکے اسے نظام سے باہر پھینک دے گا۔ بالکل ایسے ہی بلاک چین کام کرتاہے۔

جمشید نے اپنے آن لائن اکاؤنٹ میں جاکر دس ہزار روپے بھیجنے کی درخواست (Request) کی تو کمپیوٹر سسٹم نے اس کے کھاتے میں رقم کی موجودگی کو چیک کیا۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں دس ہزار سے کم رقم ہوتی تو یہ ٹرانزیکشن نہ ہوپاتی۔ اس کے اکاؤنٹ میں رقم چونکہ زیادہ تھی لہٰذا اس کے کھاتے میں سے دس ہزار روپے کی رقم کم ہوئی اور اتنی ہی رقم (دس ہزار روپے) عبداللہ کے کھاتے میں بڑھ گئی۔ اس پورے عمل میں رقم کا وجود ’’کھاتے کے اندراج‘‘ سے زیادہ نہیں۔مسئلہ صرف اتنا ہے کہ دو لوگوں کو ا?پس میں رقم کی منتقلی کیلیے کسی تیسرے ادارے پر اعتماد کرنا پڑا اور عموماً یہ تیسرا ادارہ ان سروسز کے بدلے رقم لیتا ہے۔شہروں اور ملکوں کے درمیان یہ عام سی ٹرانزیکشن 10 فیصد تک وصول کرلیتی ہے اور 3 سے 7 دنوں تک کا وقفہ آجاتا ہے۔ یعنی جمشید کے اکاؤنٹ سے رقم تو فوراً منتقل ہوجائے گی مگر عبداللہ تک پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔کسی تیسرے ادارے (Third Party) کے استعمال میں وہ ساری قباحتیں موجود ہیں جو ہم مرکزی نظام کے مسائل میں اوپر ڈسکس کر چکے ہیں اور مزید یہ کہ اس میں زیادہ فیس اور وقت بھی لگتا ہے۔ حکومت اور اداروں کی اجازت بھی درکار ہوتی ہے اور فارن ایکسچینج کے تبادلے کی صورت میں بھی کٹوتی ہوتی ہے۔ چوری کا احتمال ہے، اِنسانی غلطی کا بھی اور سہولت بھی کوئی زیادہ نہیں۔

یہ تو ہم نے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیئے ہیں اور وہ بھی کسی اور کی، جسے عْرفِ عام میں ہم ’’بینک‘‘ کہتے ہیں۔تو کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ آپس میں خود ہی ایک رجسٹر بنالیں اور اس میں اندراج کرتے رہیں؟ بالکل! ایسا کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہاں ڈبل اسپینڈنگ (Double-Spending) یعنی دوہرے خرچے کا مسئلہ آتا ہے جسے ساتوشی ناکاموتو نے بخوبی حل کیا۔ اس حل کو ’’بلاک چین‘‘ کہتے ہیں۔ہم ایک پبلک لیجر (عوامی رجسٹر) بنا لیتے ہیں اور اس میں شروع سے لے کر رہتی دنیا تک ہونے والی تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ رکھتے رہیں گے۔ اگر عبداللہ ا?ئندہ بھی کسی کو 5 ہزار روپے دیتا ہے تو سب کو پتا ہے کہ اْس کے پاس 10 ہزار روپے ہیں اور وہ 5 ہزار دے سکتا ہے، اور یہ 10 ہزار اْس کے پاس جمشید کی طرف سے آئے تھے۔ اب اگر اس نظام پر ہزاروں، لاکھوں لوگ ہیں تو یہ سب ٹرانزیکشن کرتے رہیں گے اور بلاک چین کے پبلک رجسٹر میں سب کا اندراج ہوتا رہے گا۔جب بہت سی ٹرانزیکشنز کو لکھنے کی وجہ سے صفحہ بھر جائے گا تو تمام لوگ (Nodes) اْسے ہیش فنکشن کی مدد سے ’’سیِل‘‘ کرکے بلاک بنا دیں گے اور اگلے بلاک پر کام شروع ہوجائے گا۔اِس سیل (Seal) کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی صفحے/ بلاک پر لکھا ہوا ہے، وہ ٹھیک ہے اور اب رہتی دنیا تک اِس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسے ہم بلاک چین کی Immutability کہتے ہیں۔ہیش فنکشن آسان زبان میں ریاضی کا وہ پیچیدہ فنکشن ہے جس میں آپ جو چاہیں تحریر ڈال دیں، وہ جواب میں آپ کو ایک ہی سائز کے مختلف جواب دے گا۔ آپ اسے ایک مشین کہہ لیجیے۔ اب اگر ہم اس میں 4 ڈالتے ہیں تو جواب آئے گا۔


متعلقہ خبریں


عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا وجود - هفته 22 جون 2019

سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا باقاعدہ رکن بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی فنڈنگ کابین الاقوامی گروپ ہے جس میں عرب ممالک میں سے سعودی عرب کو پہلی مرتبہ رکنیت ملی ہے۔ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب کی شمولیت کا اعلان اورلانڈو میں ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس میں کیا گیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب 2015ء سے ایف اے ٹی ایف کا مبصر رکن چلا آ رہا تھا اور اب یہ باقاعدہ ایف اے ٹی ایف گروپ کا رکن بن گیا ہے۔

عرب ممالک میں سعودی عرب ایف اے ٹی ایف کا پہلا باقاعدہ رکن بن گیا

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دے دی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے۔ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس لینے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں تقریباً 150 ایرانی ہلاک ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ پسند نہیں تھا اور میں نہیں سمجھتا تھا یہ مناسب ت...

ایران سے تصادم ہوا تو اسے نیست و نابود کردیں گے، امریکی صدر کی دھمکی

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار وجود - هفته 22 جون 2019

شمالی انگلینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے 1995 سے 2002 کے درمیان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 44 افراد کو گرفتار کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مغربی یارک شائر کی پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کرکلیز، بریڈ فورڈ اور لیڈز سمیت دیگر علاقوں سے 3 خواتین سمیت 39 افراد گرفتار کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ دیگر 5 افراد کو اس ہی کیس کی تحقیقات کے لیے گزشتہ سال کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ کرکلیز کے ڈیوز بری اور بیٹلے کے علاقوں میں 4 خواتین...

برطانیا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 44 افراد گرفتار

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز وجود - هفته 22 جون 2019

بٹ کوائنز جیسی ڈیجیٹل کوائنز (کرپٹو کرنسی) کو منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کیے جانے سے روکنے کیلئے منی لانڈرنگ کے عالمی نگراں ادارے نے اقدامات کا آغاز کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 30 سال قبل منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے قائم ہونے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنے رکن ممالک کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر نظر رکھی جائے تاکہ ڈیجیٹل کوائنز کو کیش کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اقدام عالمی قانو...

ایف اے ٹی ایف کا کرپٹو کرنسی کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری وجود - هفته 22 جون 2019

امریکی محکمہ خارجہ نے انسانی سمگلنگ کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں سعودی عرب اور کیوبا کو تیسرا درجہ دیا گیا، اس کے علاوہ چین، شمالی کوریا، روس اور ونزویلا بھی اِسی نچلی ترین سطح میں شامل ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان اور بھارت کو دوسری سطح پر رکھا گیا۔یہ درجہ ان ملکوں کے لیے مخصوص ہے جو کم سے کم معیار پر پورے نہیں اُترتے تاہم، وہ معیاری سطح کی جانب قدم بڑھانے کے حوالے سے قابل قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر افغانستان، بنگلہ دیش، برما، ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ...

انسانی ا سمگلنگ میں ملوث ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت وجود - هفته 22 جون 2019

چین نے کہا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تمام اراکین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کیلئے رکنیت کیلئے یکساں اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔چینی عہدیدار کے دیے گئے بیان کے مطابق چین نیاب تک کازغستان میں اختتام پذیر ہونے والے منصوبہ بندی اجلاس میں بھارت کی درخواست پر غور کیا گیا۔چینی ترجمان کے حوالے سے بھارتی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کا معاملہ کازغستان کے دارلحکومت نور سلطان میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔رپورٹ میں...

این ایس جی میں شمولیت، چین کی بھارت کو رعایت دینے کی مخالفت

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ وجود - بدھ 19 جون 2019

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے، قتل کی سعودی عرب میں ہونیوالی تحقیقات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی ا...

جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہئے، اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی وجود - منگل 18 جون 2019

مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی قاہرہ کے مشرقی علاقے مدین النصر میں سپرد خاک کردیا گیا، تدفین کے وقت سابق صدر کا خاندان موجود تھا۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو مکمل طور پر قتل قرار دیا ہے۔ مصر میں پہلی مرتبہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں اچانک حرکت ِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے، ان کی عمر 67 سال تھی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران جج ...

مصر کے سابق صدر محمد مرسی سپردِ خاک، اخوان المسلمون نے موت قتل قرار دیدی

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ وجود - منگل 18 جون 2019

ایک عالمی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں ایٹم بموں کی تعداد کی تفصیلات بیان کیں، اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل نے مزید 10 ایٹم بم تیار کر لیے ہیں جس کے بعد صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی تعداد 80 سے 90 تک جا پہنچی۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کے پاس جوہری اور ہائیڈروجن بموں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ان ایٹم بموں کو جنگی طیاروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے ...

اسرائیلی ایٹم بموں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ کر 90 ہوگئی، عالمی ادارے کی رپورٹ

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ وجود - منگل 18 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، اس طرح ہر تیسرا شخص اس سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں یونیسیف اورعالمی ادارہ صحت کے جوائنٹ مانیٹرنگ پروگرام کی رپورٹ2000-2017 کے مطابق عالمی ادارہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں عدم مساوات کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اقدامات کررہا ہے تاکہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں 4.2 ارب افراد نکاسی آب کی سہولی...

دنیا میں 2 ارب سے زائد افراد کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، اقوام متحدہ

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف وجود - هفته 08 جون 2019

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کے واقعات میں معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال، یونیسف کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں 25 فیصد سے کم ہو کراکیس فیصد ہو گئی۔ اس طرح دنیا بھر میں مجموعی طور پر 765 ملین کم عمر شادی شدہ لوگ ہیں جن میں سے لڑکیوں کی تعداد 85 فیصد ہے۔ لڑکوں کی کم عمری میں شادی کم ہی کی جاتی ہے۔ 20 اور 24 سال کی درمیانی عمر کے تقریبا 115 ملین مرد اپنی شادی کے وقت نابالغ تھ...

ایک عشرے میں نابالغ لڑکیوں کی شادیوں میں نمایاں کمی ہوئی، یونیسیف

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت وجود - هفته 08 جون 2019

نیدر لینڈکے شہر ایمسٹرڈیم گھومنے والے سیاح کسی مقامی فرد سے ایک دن کے لیے شادی کرسکیں گے اورشریک حیات کے ساتھ ڈیٹ پر جاکر اس شہر کی سیر کرسکیں گے۔اس انوکھے اقدام کا مقصد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت سالانہ اس شہر میں ایک کروڑ 90 لاکھ سیاح آرہے ہیں اور یہ تعداد ایک دہائی میں تین کروڑ کے قریب پہنچنے کا امکان ہے جبکہ یہاں کے رہائشیوں کی تعداد 10 لاکھ ہے، جو سیاحت کے فروغ سے زیادہ خوش نہیں۔اس مقصد کے لیے ان ٹو...

نیدرلینڈ میں کسی بھی سیاح کو مقامی فردسے ایک دن شادی کی اجازت