وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ماہ تالمعظم فضائل و مسائل

جمعه 20 اپریل 2018 ماہ تالمعظم فضائل و مسائل

ماہِ شعبان اسلامی تقویم کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ کہلاتا ہے۔’’شعبان‘‘ عربی میں پھیلانے اور شاخ در شاخ ہونے کو کہتے ہیں۔ چوں کہ اِس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نفلی روزے رکھنے اور نیک عمل کرنے والے کو شاخ در شاخ برابر بڑھنے والی نیکی اور خیر و بھلائی کا موقع میسر آتا ہے اِس لیے اِس مہینہ کو بھی ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ ماہِ رجب کے احترام میں عرب لوگ لڑائی جھگڑوں وغیرہ سے بچ کر گھروں میں رہتے تھے اور شعبان کے مہینے میں شاخوں کی طرح منتشر و متفرق ہوجاتے تھے اِس لیے اِس مہینہ کو ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ۸/۱۸۴)

اِس ماہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی کثرت سے نفلی روزے رکھتے اور اِس کے چاند اور تاریخوں کے یاد رکھنے کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند (اور اس کی تاریخوں) کی حفاظت کا جتنا اہتمام فرماتے تھے اتنا کسی اور مہینے کے چاند اور تاریخوں کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔(سنن دار قطنی) اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعاء مانگا کرتے: ’’ترجمہ: اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمارے لیے برکت عطاء فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا!۔‘‘ (مسند احمد) اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ رمضان (کے صحیح حساب) کی غرض سے شعبان کے چاند ( اور اس کی تاریخوں کے حساب) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھا کرو!۔‘‘(مستدرک حاکم) اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم رمضان کے لیے شعبان کے دنوں کو صحیح شمار کرکے رکھا کرو! اور رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھا کرو! پس جب تم چاند دیکھ لوتو روزہ رکھ لیاکرو! اور جب (اس کے بعد اگلا) چاند دیکھ لیا کروتو روزے رکھنے چھوڑ دیا کرو! اور اگر تم پر موسم ابر آلود ہوجائے ( اور اُس کی وجہ سے تم چاند نہ دیکھ سکو) تو تم تیس دن پورے کرلیا کرو! اور اس کے بعد روزے رکھنا چھوڑ دیا کرو! کیوں کہ مہینہ اِس طرح اور اِس طرح اور اِس طرح ہوتا ہے۔‘‘ (سنن دار قطنی)یعنی کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا، اِس لیے اگر چاند انتیس کو دکھائی دے تو مہینہ بھی انتیس ہی کا شمار ہوگا اور اگر چاند تیس کو دکھائی دے تو مہینہ بھی تیس کا شمار ہوگا۔

علامہ شلبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شعبان کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا واجب ہے۔ اسی طرح شعبان کی انتیس تاریخ کی شام کو غروب کے وقت رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کرنا واجب علیٰ الکفایہ ہے۔‘‘ (حاشیۃ الشلبی علیٰ تبیین الحقائق: ۱/۳۱۷)

کسی بھی مہینہ کی عظمت و افضلیت کے پرکھنے کا معیار اُس میں کی جانے والی عبادات پر موقوف ہے۔ گوکہ اکثر و بیشتراسلامی مہینے اجتماعی طور پر اپنے اندر بے شمارقسم کے فضائل اور خوبیاں رکھتے ہیں لیکن انفرادی طور پر ہرمہینہ میں بعض ایسے مخصوص فضائل و برکات اور محاسن و انوارات پائے جاتے ہیں کہ کوئی دوسرا اسلامی مہینہ اُن کی ہم سری نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی نفلی) روزے اتنی کثرت سے رکھتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا ختم نہیں کریں گے اور (کبھی نفلی) روزے نہ رکھنے پر آتے تو ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نفلی) روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ اور کسی مہینے میں کثرت سے (نفلی) روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری)ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (رمضان کے علاوہ) کسی اور مہینہ میں شعبان کے مہینہ سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے علاوہ پورے ہی (ماہِ شعبان کے)ر وزے رکھتے تھے بلکہ پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے۔‘‘ (جامع ترمذی)ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نفلی) روزے رکھنے کے اعتبار سے (اور مہینوں کی بہ نسبت) شعبان کا مہینہ (سب سے) زیادہ پسند تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزوں کو رمضان کے مہینے تک رکھتے تھے۔ (سنن نسائی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رمضان کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ رمضان کی تعظیم و احترام کی وجہ سے شعبان کا روزہ سب سے افضل ہے۔‘‘پوچھا گیا کہ افضل صدقہ کون سا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ رمضان میں صدقہ کرنا سب سے افضل ہے۔‘‘ جامع ترمذی)

لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ بعض روایات میں ایک تو پندرہ شعبان کے بعد اور دوسرے شعبان کے آخر یعنی رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جب شعبان کا آدھا مہینہ باقی رہ جائے تو تم روزہ نہ رکھا کرو!۔‘‘ (ترمذی) اسی طرح شعبان کے آخر یعنی رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے کی بعض احادیث میں ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے نہ رکھا کرو ! جب تک کہ رمضان کا چاند نہ دیکھ لیا کرو! یا شعبان کے مہینہ کے تیس دن پورے نہ کرلیا کرو! (ہاں! جب رمضان کا چاند دیکھ لیا کرو) تو رمضان المبارک کے روزے رکھنا شروع کردیا کرو! جب تک کہ شوال کا چاند نہ دیکھ لیا کرو! یا تیس دن رمضان المبارک کے پورے نہ کرلیا کرو!۔‘‘(سنن ابو داؤد) یہ اور اِن جیسی دیگر احادیث کی رُوشنی میں جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و ائمۂ مجتہدین نے فرمایا ہے کہ شک کے دن اور انتیس یا تیس شعبان کو روزہ رکھنا مکروہ اور ممنوع ہے، بلکہ اگر کوئی شک کے دن رمضان کا روزہ سمجھ کر روزہ رکھے گا اور بعد میں اسی حساب کو سامنے رکھ کر شرعی اُصولوں کے بغیر انتیس یا تیس دن کے بعد عید منائے گا تو اس کو بعد میں اس روزہ کی قضاء کرنی پڑے گی۔ (جامع ترمذی)

اِس سے معلوم ہوا کہ جب تک شعبان کا ختم ہونا اور رمضان کا شروع ہونا شرعی اُصولوں کے مطابق صحیح طور پر ثابت نہ ہوجائے اُس وقت تک رمضان کا روزہ سمجھ کر روزہ رکھنا شریعت کی نظر میں انتہائی خطرناک طرزِ عمل ہے ، اسی وجہ سے اِس کی موافقت کے بجائے اِس کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ اِس میں کئی خرابیاں اور فتنے لازم آتے ہیں۔ مثلاً اِس سے :

۱-مہینہ کے شروع اور ختم ہونے میں شرعی اُصول و قواعد کی مخالفت لازم آتی ہے۔
2- شریعت کی طرف سے ایک مہینے کے لیے فرض کردہ روزوں کی مقدار پر زیادتی لازم آتی ہے۔
3- ایک دو روزے پہلے رکھنے اور رمضان کے آخری دن یا اِس سے پہلے عید منالینے کی صورت میں ایک یا دو فرض روزوں کا ذمہ میں باقی رہنا لازم آتا ہے۔
4- باطل قوموں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جنہوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ احکامات میں زیادتی و اضافہ اور غلو کیاہے۔
5- شرعی احکام میں تحریف و خلل کا آنا لازم آتا ہے اور یہ طرزِ عمل مہینوں اور اُن کے دنوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کا سبب ہے جو زمانۂ جاہلیت کا طریقہ تھا اور اسے ’’نسیٔ‘‘ کی رسم کہا جاتا ہے۔
6- اِس طرزِ عمل کے نتیجہ میں بعض اوقات شوال کے بجائے رمضان کے مہینہ میں کھلم کھلا عید منانا اور کھانا پینا لازم آتا ہے کیوں کہ جب انتیس یا تیس کی تعداد شوال کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی پوری ہوجائے گی تو اِس سے کچھ لوگوں رمضان ہی میں عید منانا لازم آئے گا۔
7- اِس طرزِ عمل کی وجہ سے اُمت میں انتشار و افتراق پیدا ہوتا ہے اور اِس سے انسانی معاشرت اور اجتماعیت کا شیرازہ بکھر کر پارہ پارہ ہوکر رہ جاتا ہے۔
اور چوں کہ مذکورہ بالا خرافات اور خرابیوں میں سے ہر ایک خرافات اور خرابی اپنی جگہ ایک مستقل فتنہ ہے جس سے حتی الامکان احتراز لازمی ہے، اِس لیے شریعت مطہرہ نے اِن اور اِن جیسی دیگر تمام تر خرافات ا ور خرابیوں سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے تاکہ فتنوں کا سد باب ہوسکے اور مزید کوئی نئی خرابی یا کوئی نیا فتنہ جنم نہ لے سکے۔


متعلقہ خبریں


خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش وجود - هفته 01 اگست 2020

بنگلہ دیش کی ''کوئی دشمن نہیں''کی ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اس قربت پر بھارت میں ہونے والے تبصروں پر بنگلہ دیشن کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں ، کسی کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں ۔ ترک خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشی رہنمائوں کے درمیان حالیہ رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی موہوم سی امید پیدا ہو چلی ہے ۔مبصرین کے مطابق دسمبر 1971 میں انتہائی خون خرابے کے بعد زوا...

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا وجود - هفته 01 اگست 2020

مصر میں القرآن چینل پر نماز مغرب کی اذان وقت سے پہلے دیے جانے کے نتیجے میں لاکھوں روزہ دار روز توڑ بیٹھے ۔عرب ٹی وی کے مطابق یوم عرفہ کو مغرب کی اذان وقت مقررہ سے 4 منٹ قبل دے دی گئی جسے سنتے ہی لاکھوں افراد نے نفلی روزہ کھول دیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے ٹی وی چینل کے عہدیداروں کو تحقیقات اور انکوائری کے لیے طلب کرلیا گیا ہے ۔انکوائری کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ آیا قبل از وقت اذان کسی فنی خرابی سے نشر ہوئی یا یہ کسی شخص کی دانستہ شرارت تھی۔ تحقیقات کے بعد اس واقعے کے ذمہ دار...

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان وجود - هفته 01 اگست 2020

یوکرین کی حکومت نے ایران میں ایک میزائل حملے میں تباہ ہونے والے اپنے مسافر جہاز کے واقعے پر ایران سے بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کالیبا نے کہا کہ ان کا ملک 8 جنوری کو ایران یوکرین کے جہاز کو فضا میں میزائل سے تباہ کرنے کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت شروع ہوئی ہے مگر یہ بات چیت اتنی آسان نہیں ہو گی۔ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سخت کشیدگی کے وقت ...

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین وجود - هفته 01 اگست 2020

برطانیہ میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نومبر کے صدارتی انتخابات کی وجہ سے چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔برطانیہ میں چین کے سفیر لیو زیاؤمنگ کا لندن میں رپورٹرز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات سے پہلے امریکہ' 'قربانی کا بکرا'' ڈھونڈ رہا ہے اس لیے وہ چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ۔'یہ چین نہیں جو جارح بنا ہوا ہے بلکہ دوسرا فریق ہے جو کہ چین کے خلاف سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ہمیں اس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ۔چین کے سفیر کا کہنا...

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا وجود - هفته 01 اگست 2020

سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کو پیچھے چھوڑ دینے کے بعد ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا ہے ۔ریسرچ فرم کینیلس کے اعداد و شمار کے مطابق ہواوے نے سام سنگ کی 53.7 ملین کے مقابلے میں 55.8 ملین ڈویوائسز فروخت کیں۔پچھلے سال دوسری سہ ماہی میںکمپنی کی بیرون ملک شپمنٹس میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی لیکن کمپنی نے چینی مارکیٹ پر اپنے تسلط کو بہتر بنایا ہے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے میں تیز رفتار رہا ہے اور یہاں ہواوے اب 70 فیصد سے زائد اپنے ہینڈ ...

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان وجود - هفته 01 اگست 2020

1980 کی دہائی میں ایران میں شرحِ پیدائش غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ حالیہ برسوں میں اس میں اتنی کمی واقع ہوئی کہ ملکی رہنماؤں نے اس پر پریشانی کا اظہار شروع کر دیا ہے ۔ 1979 کا ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی آبادی کا ملک تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی شیعہ علماء اس کثیر آبادی کے تناظر میں اپنے ملک کو ایک طاقتور شیعہ ریاست خیال کرتے تھے جو خلیج فارس اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اہل تھی۔اسلامی انقلاب کے کچھ ہی مہینوں بعد ایران کو سن 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ خ...

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا وجود - هفته 01 اگست 2020

امریکی معیشت کو سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا پہنچا ہے ، تجارتی ویب سائٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت 32 اعشاریہ 9 فیصد کے سالانہ اندازوں کے حساب سے سکڑی ہے ۔تجارتی ویب سائٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کو معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے ، وبا نے کاروباری مصروفیات کو بند کردیا اور شہریوں کو گھر بٹھا دیا ہے ۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ معیشت میں بہتری اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب کورونا کی وبا پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے اور وائرس کی نئی لہر کو...

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی وجود - بدھ 22 جولائی 2020

کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوگئی۔ امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت وبا کے دوران اپنے شہریوں کے تحفظ کی بنیادی ذمے داری اٹھانے میں بھی ناکام رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 10لاکھ کا ہندسہ چھو چکی ہے اور اس حوالے سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں دس لاکھ شہریوں میں سے صرف نو ہزار، جبکہ ایک ہزار میں سے صرف نو افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب بھارت می...

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق وجود - بدھ 22 جولائی 2020

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں فضائی آلودگی اور جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں 91 فیصد افراد ایسے خطوں میں مقیم ہیں، جہاں فضائی آلودگی کی شرح عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے ۔ہانگ کانگ کے جوکی کلب اسکول آف پبلک ہیلتھ اینڈ پرائمری کیئر کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں چاردیواری سے باہر زیادہ وقت رہنے سے فضائی آلودگی میں رہنے کا امکان بڑھتا ہے ، جو صحت کے لیے نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے ۔تحقیق میں بتا...

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ وجود - بدھ 22 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بھی بدتر ہوگئی ہے ۔ جو بائیڈن کا جیتنا ملک کو دوزخ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ری پبلکنز امریکا کو دوزخ میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنادیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو کچلنے کے لیے اہم شہروں میں قانون نافذ کرنیوالے اہلکار بھیجے جائیں گے ۔ پورٹ لینڈ اور اوریگن میں اہلکاروں کو بغیر وردی کے تعینات کیا جائے گا اور وہ سادہ گاڑیوں میں گشت کریں ...

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ