وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ماہ تالمعظم فضائل و مسائل

جمعه 20 اپریل 2018 ماہ تالمعظم فضائل و مسائل

ماہِ شعبان اسلامی تقویم کے اعتبار سے آٹھواں مہینہ کہلاتا ہے۔’’شعبان‘‘ عربی میں پھیلانے اور شاخ در شاخ ہونے کو کہتے ہیں۔ چوں کہ اِس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نفلی روزے رکھنے اور نیک عمل کرنے والے کو شاخ در شاخ برابر بڑھنے والی نیکی اور خیر و بھلائی کا موقع میسر آتا ہے اِس لیے اِس مہینہ کو بھی ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ ماہِ رجب کے احترام میں عرب لوگ لڑائی جھگڑوں وغیرہ سے بچ کر گھروں میں رہتے تھے اور شعبان کے مہینے میں شاخوں کی طرح منتشر و متفرق ہوجاتے تھے اِس لیے اِس مہینہ کو ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ۸/۱۸۴)

اِس ماہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی کثرت سے نفلی روزے رکھتے اور اِس کے چاند اور تاریخوں کے یاد رکھنے کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند (اور اس کی تاریخوں) کی حفاظت کا جتنا اہتمام فرماتے تھے اتنا کسی اور مہینے کے چاند اور تاریخوں کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔(سنن دار قطنی) اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعاء مانگا کرتے: ’’ترجمہ: اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمارے لیے برکت عطاء فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا!۔‘‘ (مسند احمد) اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ رمضان (کے صحیح حساب) کی غرض سے شعبان کے چاند ( اور اس کی تاریخوں کے حساب) کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھا کرو!۔‘‘(مستدرک حاکم) اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم رمضان کے لیے شعبان کے دنوں کو صحیح شمار کرکے رکھا کرو! اور رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھا کرو! پس جب تم چاند دیکھ لوتو روزہ رکھ لیاکرو! اور جب (اس کے بعد اگلا) چاند دیکھ لیا کروتو روزے رکھنے چھوڑ دیا کرو! اور اگر تم پر موسم ابر آلود ہوجائے ( اور اُس کی وجہ سے تم چاند نہ دیکھ سکو) تو تم تیس دن پورے کرلیا کرو! اور اس کے بعد روزے رکھنا چھوڑ دیا کرو! کیوں کہ مہینہ اِس طرح اور اِس طرح اور اِس طرح ہوتا ہے۔‘‘ (سنن دار قطنی)یعنی کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا، اِس لیے اگر چاند انتیس کو دکھائی دے تو مہینہ بھی انتیس ہی کا شمار ہوگا اور اگر چاند تیس کو دکھائی دے تو مہینہ بھی تیس کا شمار ہوگا۔

علامہ شلبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ شعبان کا چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا واجب ہے۔ اسی طرح شعبان کی انتیس تاریخ کی شام کو غروب کے وقت رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کرنا واجب علیٰ الکفایہ ہے۔‘‘ (حاشیۃ الشلبی علیٰ تبیین الحقائق: ۱/۳۱۷)

کسی بھی مہینہ کی عظمت و افضلیت کے پرکھنے کا معیار اُس میں کی جانے والی عبادات پر موقوف ہے۔ گوکہ اکثر و بیشتراسلامی مہینے اجتماعی طور پر اپنے اندر بے شمارقسم کے فضائل اور خوبیاں رکھتے ہیں لیکن انفرادی طور پر ہرمہینہ میں بعض ایسے مخصوص فضائل و برکات اور محاسن و انوارات پائے جاتے ہیں کہ کوئی دوسرا اسلامی مہینہ اُن کی ہم سری نہیں کرسکتا۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی نفلی) روزے اتنی کثرت سے رکھتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا ختم نہیں کریں گے اور (کبھی نفلی) روزے نہ رکھنے پر آتے تو ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نفلی) روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے علاوہ اور کسی مہینے میں کثرت سے (نفلی) روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری)ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (رمضان کے علاوہ) کسی اور مہینہ میں شعبان کے مہینہ سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے علاوہ پورے ہی (ماہِ شعبان کے)ر وزے رکھتے تھے بلکہ پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے۔‘‘ (جامع ترمذی)ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نفلی) روزے رکھنے کے اعتبار سے (اور مہینوں کی بہ نسبت) شعبان کا مہینہ (سب سے) زیادہ پسند تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزوں کو رمضان کے مہینے تک رکھتے تھے۔ (سنن نسائی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رمضان کے بعد افضل روزہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ رمضان کی تعظیم و احترام کی وجہ سے شعبان کا روزہ سب سے افضل ہے۔‘‘پوچھا گیا کہ افضل صدقہ کون سا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ رمضان میں صدقہ کرنا سب سے افضل ہے۔‘‘ جامع ترمذی)

لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ بعض روایات میں ایک تو پندرہ شعبان کے بعد اور دوسرے شعبان کے آخر یعنی رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جب شعبان کا آدھا مہینہ باقی رہ جائے تو تم روزہ نہ رکھا کرو!۔‘‘ (ترمذی) اسی طرح شعبان کے آخر یعنی رمضان کے شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنے کی بعض احادیث میں ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے نہ رکھا کرو ! جب تک کہ رمضان کا چاند نہ دیکھ لیا کرو! یا شعبان کے مہینہ کے تیس دن پورے نہ کرلیا کرو! (ہاں! جب رمضان کا چاند دیکھ لیا کرو) تو رمضان المبارک کے روزے رکھنا شروع کردیا کرو! جب تک کہ شوال کا چاند نہ دیکھ لیا کرو! یا تیس دن رمضان المبارک کے پورے نہ کرلیا کرو!۔‘‘(سنن ابو داؤد) یہ اور اِن جیسی دیگر احادیث کی رُوشنی میں جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و ائمۂ مجتہدین نے فرمایا ہے کہ شک کے دن اور انتیس یا تیس شعبان کو روزہ رکھنا مکروہ اور ممنوع ہے، بلکہ اگر کوئی شک کے دن رمضان کا روزہ سمجھ کر روزہ رکھے گا اور بعد میں اسی حساب کو سامنے رکھ کر شرعی اُصولوں کے بغیر انتیس یا تیس دن کے بعد عید منائے گا تو اس کو بعد میں اس روزہ کی قضاء کرنی پڑے گی۔ (جامع ترمذی)

اِس سے معلوم ہوا کہ جب تک شعبان کا ختم ہونا اور رمضان کا شروع ہونا شرعی اُصولوں کے مطابق صحیح طور پر ثابت نہ ہوجائے اُس وقت تک رمضان کا روزہ سمجھ کر روزہ رکھنا شریعت کی نظر میں انتہائی خطرناک طرزِ عمل ہے ، اسی وجہ سے اِس کی موافقت کے بجائے اِس کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ اِس میں کئی خرابیاں اور فتنے لازم آتے ہیں۔ مثلاً اِس سے :

۱-مہینہ کے شروع اور ختم ہونے میں شرعی اُصول و قواعد کی مخالفت لازم آتی ہے۔
2- شریعت کی طرف سے ایک مہینے کے لیے فرض کردہ روزوں کی مقدار پر زیادتی لازم آتی ہے۔
3- ایک دو روزے پہلے رکھنے اور رمضان کے آخری دن یا اِس سے پہلے عید منالینے کی صورت میں ایک یا دو فرض روزوں کا ذمہ میں باقی رہنا لازم آتا ہے۔
4- باطل قوموں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جنہوں نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ احکامات میں زیادتی و اضافہ اور غلو کیاہے۔
5- شرعی احکام میں تحریف و خلل کا آنا لازم آتا ہے اور یہ طرزِ عمل مہینوں اور اُن کے دنوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کا سبب ہے جو زمانۂ جاہلیت کا طریقہ تھا اور اسے ’’نسیٔ‘‘ کی رسم کہا جاتا ہے۔
6- اِس طرزِ عمل کے نتیجہ میں بعض اوقات شوال کے بجائے رمضان کے مہینہ میں کھلم کھلا عید منانا اور کھانا پینا لازم آتا ہے کیوں کہ جب انتیس یا تیس کی تعداد شوال کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی پوری ہوجائے گی تو اِس سے کچھ لوگوں رمضان ہی میں عید منانا لازم آئے گا۔
7- اِس طرزِ عمل کی وجہ سے اُمت میں انتشار و افتراق پیدا ہوتا ہے اور اِس سے انسانی معاشرت اور اجتماعیت کا شیرازہ بکھر کر پارہ پارہ ہوکر رہ جاتا ہے۔
اور چوں کہ مذکورہ بالا خرافات اور خرابیوں میں سے ہر ایک خرافات اور خرابی اپنی جگہ ایک مستقل فتنہ ہے جس سے حتی الامکان احتراز لازمی ہے، اِس لیے شریعت مطہرہ نے اِن اور اِن جیسی دیگر تمام تر خرافات ا ور خرابیوں سے بچنے کا ہمیں حکم دیا ہے تاکہ فتنوں کا سد باب ہوسکے اور مزید کوئی نئی خرابی یا کوئی نیا فتنہ جنم نہ لے سکے۔


متعلقہ خبریں


دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

دسمبر 2020 میں نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے میں 65 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔مرکزی بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق نجی شعبے نے جولائی سے 8 جنوری 21ـ2020 تک بینکوں سے 215 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں معاشی سرگرمیاں بڑھنے کے دوران 130 ارب 20 کروڑ روپے تھا۔دسمبر میں قرضوں کے حصول میں تیزی گزشتہ 5 ماہ کی شدید کمی کے مقابلے میں ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر سامنے آئی کیونکہ رواں مالی سال کے گزشتہ 5 ماہ میں اس میں مالی سال 20 کے اسی عرصے کے...

دسمبر میں نجی شعبے کے قرض لینے میں 65 فیصد تک کا اضافہ

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سوشل میڈیا پرفیک اکائونٹ کے حوالے سے چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا ۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ آزادی رائے کا احترام کرتے ہیں ،فیک اکائونٹ کی آڑ میں کسی کو فیک نام سے کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر غیر اسلامی مواد نشر کرنا خلاف قانون ہے ، فیک اکاوئنٹ کے حوالے سے بہت جلد قانون سازی کی جائیگی ، انھیں قانون کے دائرے میں لائیں گے ۔

سوشل میڈیا پرجعلی اکائونٹ ، چیئرمین سینٹ نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے حکام کو طلب کرلیا

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی وجود - اتوار 24 جنوری 2021

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران پہلی بار مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 10 نومبر سے قبل کے حالات کی جانب پاکستان واپس آ گیا ہے ، 10 نومبر 2020ء کے بعد کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جن میں اب ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔وزارتِ صحت کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 تا 8 نومبر 2020ء کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3 اعشاریہ 9 کے قریب تھی اب پاکستان کورونا وائرس ...

پاکستان ،کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر نمایاں کمی

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق وجود - اتوار 24 جنوری 2021

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ایک تہائی افراد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں،، مگر اس دوران وہ اسے دیگر افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اسکریپپس ریسرچ کی اس تحقیق میں میں 18 لاکھ سے زیادہ افراد ہونے والی 61 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے متاثر کم از کم ہر 3 میں سے ایک فرد میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین م...

کووڈ کے ہرتین میں سے ایک مریض میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تحقیق

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا کے وفاقی بجٹ سے چلنے والے تین بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے سربراہوں کو صدر جوزف بائیڈن کی انتظامیہ نے ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی ایجنسی برائے گلوبل میڈیا کی قائم مقام سربراہ کیلو شا نے ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے ڈائریکٹر ٹیڈ لی پئین، ریڈیو فری ایشیا کے ڈائریکٹراسٹیفن ییٹس اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس کی ڈائریکٹر وکٹوریا کوٹس کو فارغ خطی دے دی ہے ۔ انھیں سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک ماہ قبل ہی ان عہدوں پر م...

امریکا کے عالمی نشریاتی اداروں میں ٹرمپ کے مقرر کردہ اعلی عہدے دار فارغ

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان وجود - اتوار 24 جنوری 2021

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ایس این پی نے یکطرفہ طور پر دوسرا ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مئی میں اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے انتخابات میں اسکاٹش نیشنل پارٹی جیتی تو قانونی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مطابق گیارہ نکاتی روڈ میپ پیش کیا جائے گا جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے ریفرنڈم روکنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ایس این پی کے رہنما کیتھ براون کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس ریفرنڈم کے لیے حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی۔

برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے یکطرفہ ریفرنڈم کا اعلان

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے وجود - اتوار 24 جنوری 2021

امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے لیری کنگ کے ٹوئٹر اکائونٹ پر اور میڈیا کی جانب سے ایک پیغام میں اس کی تصدیق کی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق اس پیغام میں لکھا گیا کہ ہمارے شریک بانی، میزبان اور دوست لیری کنگ لاس اینجلس کے سیڈرز سینائی میڈیکل سینٹر میں 87 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔لیری کنگ نے اس چینیل میں 25 سال کے دوران 30 ہزار سے زیادہ انٹرویوز کیے ۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے امریکا کے صدور رچرڈ نکسن سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کے ا...

معروف امریکی ٹاک شو میزبان لیری کنگ 87 سال کی عمر میں چل بسے

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر وجود - اتوار 24 جنوری 2021

سعودی عرب نے جہاں کرونا کی وبا پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی وہیں اس موذی وبا کی روک تھام کے لیے سائنسی اور تحقیقی میدان میں بھی پیش پیش رہا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مملکت کی کئی جامعات اس وقت کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے مختلف سائنسی طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔ چند ماہ قبل عالمی سطح پر سعودی عرب کا شمار کرونا سے متعلق سائنسی تحقیقات کے میدان میں 17 ویں نمبر پر تھا اور آج اس میدان میں مزید آگے بڑھ کر سعودی عرب عالمی سطح پر 14 ویں نمبر پرآ گیا ہے ۔ اس طرح سعودی عرب جی20گروپ ...

کورونا پر تحقیق ، عرب دنیا میں سعودی عرب پہلے اور دنیا میں 14 ویں نمبر پر

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ وجود - هفته 23 جنوری 2021

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سمیت دیگر تلی ہوئی غذائیں کھانے سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔جرنل ہارٹ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تلی اشیا دل کی شریانوں سے متعلق بیمایوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، ان امراض میں ہارٹ اٹیک اور فالج نمایاں ہیں۔تحقیق کے مطابق تلی ہوئی غذاوں سے فالج کا خطرہ 28 فیصد، امراض قلب کا 22 فیصد جبکہ ہارٹ فیلیئر کا 37 فیصد بڑھ جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اوسطا ہر ہفتے 114 گرام مذکورہ غذاوں کا است...

سموسے ، پکوڑے اور فرنچ فرائز سے امراض قلب اور فالج کا خطرہ

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں وجود - هفته 23 جنوری 2021

مقررین نے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں۔مقررین نے پاکستان پیس کالیکٹو،نیشنل کائونٹرٹیررازم اتھارٹی ،سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تحت منعقدہ محفوظ خیراتی اداروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں جب کہ 26 فیصد پاکستانی نہیں جانتے کہ ان کی دی ہوئی خیراتی رقم کہاں استعمال ہورہی ہے ۔ڈسٹرکٹ پروجیکٹ کوآرڈینیٹر پاکستان پیس کالیکٹو رانا آصف حبیب نے کہا کہ خیراتی رقم کے درست استعمال کیلیے قوانین پر عمل د...

پاکستانی ہر سال 554ارب روپے خیراتی اداروں کو دیتے ہیں

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی وجود - هفته 23 جنوری 2021

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی ہے ۔ اس ضمن میںترجمان نے زیر گردش پیغام کی تردید کی ہے جس میں اسٹیٹ بینک سے یہ ہدایت منسوب کی گئی ہے کہ اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے کی حدایک ہزار روپے تک محدود کردی گئی ہے ،ترجمان کے مطابق اسٹیٹ بینک اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی لمٹ پر کوئی حد مقرر نہیں کرتا،اس حد کا فیصلہ بینک کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغام کی سختی سے تردید کردی

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش وجود - هفته 23 جنوری 2021

خیبرختونخوا کے شہر پشاور میں پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ہوئے ۔ قیوم اسٹیڈیم میں منعقد ٹورنامنٹ میں باکسرز نے ایک دوسرے پر مکوں کی بارش کر دی، ہمسایہ ملکوں کے کھلاڑیوں کے درمیان زبردست مقابلوں سے شائقین خوب لطف اندوز ہوئے ۔قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاورمیں پاکستان اور افغانستان کے باکسرز کے درمیان پروفیشنل باکسنگ کے مقابلے ہوئے جن میں باکسنگ کونسل اور محکمہ کھیل خیبر پختونخوا کے زیراہتمام ایک روزہ ایونٹ میں 12 افغان کھلاڑیوں سمیت 24 باکسرز نے حصہ لیا۔مقابلوں میں افغا...

پاکستان اور افغانستان کے باکسر آمنے سامنے ، ایک دوسرے پر مکوں کی بارش