وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نظام امن اورعہدِ خلفائے راشدین

جمعه 20 اپریل 2018 نظام امن اورعہدِ خلفائے راشدین

اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، امت مسلمہ نے ان اخلاقی اور قانونی ہدایات اور عہد رسالت کے علمی نمونوں کو ہر دور میں پوری اہمیت دی اور روئے زمین پر ایک پرامن قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے غیرمسلموں کے ساتھ بھی فراخدلانہ رویہ اختیار کیا، ان کے حقوق و جذبات کی رعایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح قیام امن کا عمل متاثر نہ ہو خواہ اس کے لیے ان کو بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ مسلمانوں کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ میں فرقہ وارنہ فسادات اور خونریز ہنگاموں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ مسلمانوں کے امن پسند ہونے کی اس سے بڑی شہادت کیا ہوسکتی ہے ؟اسلامی عہد حکومت کے مختلف ادوار سے بعض نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔

عہدصدیقی :
عہد رسالت کے بعد تاریخ اسلامی کا سب سے قیمتی عہد عہد صدیقی ہے ۔ اس عہد کا ابتدائی حصہ اگر چہ ہنگامی حالات سے لبریز ہے مگر اس کا زیادہ تر تعلق خارجی ہے ۔ داخلی طور پر ملک میں کوئی بدامنی نہیں تھی اور بالخصوص غیرمسلموں کے ساتھ پوری رواداری اور فراخدلی کا ماحول قائم تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں جو ممالک فتح ہوئے ؛ وہاں غیرمسلم آبادی کے حقوق کا مکمل لحاظ رکھا گیا۔ حیرہ فتح ہوا تو وہاں کے عیسائیوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ ان کی خانقاہیں اور گرجا گھر منہدم نہ کیے جائیں گے ، ان کا وہ قصر نہیں گرایا جائے گا جس میں وہ ضرورت کے وقت دشمنوں کے مقابلہ میں قلعہ بند ہوتے ہیں، ان کے ناقوس اور گھنٹے بجانے پر پابندی نہ ہوگی، تہوار کے موقع پر صلیب نکالنے پر ممانعت نہ ہوگی، اسی معاہدہ میں یہ بھی تھا کہ یہاں کے ذمیوں کو فوجی لباس کے علاوہ ہر طرح کی پوشاک پہننے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ مسلمانوں سے مشابہت پیداکرنے کی کوشش نہ کریں۔

آپ کے عہد خلافت میں ایک غیرمسلم عورت کا ہاتھ ایک مسلمان افسر نے صرف اس جرم میں کٹوادیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی ہجو میں اشعار گاتی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس افسر کو تنبیہ فرمائی کہ اگر وہ عورت مسلمان تھی تو کوئی معمولی سزا دینی چاہئے تھی اور اگر ذمی تھی تو جب ہم نے اس کے کفر وشرک سے درگذر کیا تو یہ تو اس سے فروتر چیز تھی۔

عہد فاروقی:
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد پوری دنیائے حکمرانی کی تاریخ میں ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے ۔ ملک کی ترقی و خوشحالی، امن وامان کی بحالی، داخلی سلامتی، خارجی سیاست، پیداوار میں اضافہ، ایجادات واکتشافات اور علمی تحقیقات کے لحاظ سے یہ عہد اپنی مثال آپ ہے ۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد چشم فلک نے اس سرزمین پر اتنا خوبصورت عہد حکومت دوبارہ نہیں دیکھا جس میں ہر شخص اپنے کو محفوظ اور ترقی پسند محسوس کرتا تھا اور مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم اقلیتوں کے ساتھ بھی مکمل رواداری ملحوظ رکھی جاتی تھی۔

آپ کے عہد میں بیت المقدس فتح ہوا تو خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موجودگی میں وہاں کے لوگوں سے یہ معاہدہ ہوا کہ: یہ وہ فرمان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین نے ایلیاء کے لوگوں کو دیا کہ ان کا مال، گرجا، صلیب، تندرست بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہیں۔ اس طرح کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے ، نہ ان کو اور نہ ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا، اور نہ ہی ان کے صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی، مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا، ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان ومال لے کر یونانیوں کے ساتھ منتقل ہونا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں اور صلیبوں کو امن ہے ؛ یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائے اورجو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا، رسول کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ وہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔(الفاروق)

ایک مرتبہ غسان کا نصرانی بادشاہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے آیا تو اتفاقا ایک اعرابی نے نادانستہ اسے دھکا دیا اس پر بادشاہ نے خفاہوکر اسے مارا۔اعرابی کی نالش پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فیصلہ سنایا کہ وہ بادشاہ کو مارے اس پر بادشاہ نے کہا: اے امیرالمومنین! کہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص بادشاہ کو ہاتھ لگائے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا:اسلام کا قانون یہی ہے ۔ انصاف کے باب میں اسلام کے نزدیک امیر و غریب، بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ (اسلام کا نظام امن)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہی کے عہد خلافت کا واقعہ ہے کہ جب ملک شام کے ایک بڑے حصہ پر مسلمان قابض ہوگئے تو ہاں کے لوگوں نے انطاقیہ کے حکمراں ہرقل کو ایک زبردست فوج لے کر حمص کی طرف بڑھنے پر آمادہ کیا جہاں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خیمہ زن تھے ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غنیم کے لشکر جرار کی خبر ملی تو انھوں نے مجلس مشاورت منعقد کیا جس میں یہ رائے طے پائی کہ حمص کو خالی کرکے دمشق کو محاذ بنایاجائے مگر حمص چھوڑنے سے پہلے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ حکم جاری کیا کہ اب وہ اس کے باشندوں کو دشمنوں سے بچانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے ان سے جزیہ یا خراج کے نام پرجو کچھ لیا گیا تھا وہ انہیں واپس کردیا جائے ؛ کیوں کہ یہ جزیہ حفاظت کی خاطر وصول کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ اہل حمص کو ان کی پوری رقم واپس کردی گئی۔ اس رقم کی واپسی سے اہل حمص بہت متاثرہوئے اور کہا کہ: ہم مسلمانوں کی فوجوں کے کاندھے سے کاندھا ملاکر ہرقل کی فوج سے آخری دم تک لڑیں گے۔ یہودیوں نے بھی توارۃ کی قسم کھاکر یہی بات کہی۔ اہل حمص نے مسلمانوں کو دعائیں دیں کہ خدا تمہیں دوبارہ فتح عطا کرے اوریہاں واپس لائے ۔ آج تمہاری جگہ اگر رومی ہوتے تو وہ کچھ بھی واپس نہ کرتے بلکہ ہماری باقی ماندہ چیزیں بھی لوٹ لیتے ۔(فتوح البلدان)

عہد عثمانی:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کاعہد بھی امن وامان کی بحالی، مختلف قوموں کے ساتھ رواداری، داخلی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کے لحاظ سے مثالی تھا۔ متعدد ممالک کی داخلی صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے آپ سرکاری وفود بھیجا کرتے تھے ۔ جمعہ کے دن منبر پر پہنچ کر اطراف ملک کی خبریں پوچھتے اور عام اعلان کرتے

کہ: اگر کسی کو کسی سرکاری افسر سے شکایت ہو تو حج کے موقع پر آکر بیان کرے ۔ اس موقعہ پر تمام افسروں کو بھی فوری طور پرطلب کرلیتے تھے ؛ تاکہ شکایتوں کی تحقیقات ہوسکے ۔(مسند احمدبن حنبل)
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں نجران کے عیسائیوں کو بعض مسلمانوں سے کچھ شکایات پیداہوئیں تو آپ نے فوراً ان کی طرف توجہ کی۔ حاکم نجران ولید بن عتبہ کے نام خصوصی مکتوب تحریر فرمایا اور امن وامان کی صورت حال بگڑنے نہ دی۔ (کتاب الخراج لابی یوسف)

عہد علی:
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا عہد بظاہر سخت انتشار وخلفشار سے پر ہے اور سخت ہنگاموں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرصت نہ مل سکی مگراس کے باوجود غیرمسلم اقلیتوں، اسی طرح غیرجانبدار طبقات کی سلامتی کے باب میں کسی جزء پر انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ آپ کے عہد میں ایک گورنر عمروبن مسلم کی سخت مزاجی کی بعض شکایات آپ کو ملیں تو آپ نے فوراً اس کے ازالہ کی طرف توجہ فرمائی۔

اسی طرح غیرمسلموں کی آب پاشی کی ایک نہر پٹ گئی تھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں کے گورنر طرفہ بن کعب کو لکھا کہ: اس نہر کو آباد کرنا مسلمانوں کا فرض ہے ۔ میری عمر کی قسم! مجھے اس کا آباد رہنا زیادہ پسند ہے ۔ (تاریخ اسلام)

دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انھوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا ۔مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے ۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے ،خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں امن کا تصور اظہر من الشمس ہے ۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طورپر دست بردار ہونے کیلئے نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو پہنچا دیا جس کی تصدیق وائٹ ہاوس نے کردی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دست برداری کے لئے ایک سال پہلے نوٹس دیا جاتا ہے ۔ اس لئے امریکا 6 جولائی 2021 تک ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے پھیلاو سے متعلق بروقت اور شفاف معلومات دینے م...

امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا کو مملکت میں پھلوں اور سبزیوں کی ٹوکری قرار دے دیاگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الاحسا کی زرعی پیداوار پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے ۔ شدید گرمی کے باوجود الاحسا میں انواع واقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں زرد تربوزم سیاہ توت، کھجور، انجیر، سبز لیمن اور ان گنت سبزیاں کاشت کی جاتی اور پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔الاحسا گورنری میں کاشت کی جانے والی سبزیاں اور پھل اپنے اعلی معیار کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مقامی بازاروں میں الاحسا میں ک...

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

اقوام متحدہ کی تفتیش کار اگنس کالامارڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم سے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق کالا مارڈ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور نو دیگر افراد کی ہلاکت ایک غیرقانونی اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔کالامارڈ نے مزید کہا کہ امریکا بغداد ہوائی اڈے سے نکلنے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قافلے پر حملے جواز پ...

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافیوں کو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری سے متعلق ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کریں گے ۔ حکام نے الجزیرہ ٹی وی کی اس دستاویزی فلم کو ملائشیا کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔مہاتیر محمد کے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفے کے بعد ملائیشیا اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الجزیرہ کہ متنازع دستاویزی فلم غیر قانونی تارکین وطن کی کوالالمپور می...

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار