... loading ...
آج کے دور میں موبائل فون ہر شخص کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی میں نہیں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی یہ عام لوگوں کی پہنچ میں آ گیا ہے۔ ہر چلتے پھرتے شخص کے پاس موبائل فون ہے اور وہ کسی نہ کسی سے بات کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اس کے استعمال کے متعلق کچھ بنیادی عملی، اخلاقی اور تکنیکی باتوں کے بارے میں گفتگو کر لی جائے۔ یاد رہے کہ موبائل فون ایک سہولت ہے، اس لیے اس کا استعمال سہولت کے طور پر کیا جائے۔ بلاوجہ محض وقت اور پیسے کو ضائع نہ کیا جائے یعنی ضرورت کے وقت ہی فون کیا جائے اور صرف ضروری بات کر کے فون بند کر دیا جائے۔ بعض مقامات پر موبائل فون کا استعمال غیر اخلاقی اور بعض صورتوں میں غیر قانونی حیثیت اختیار کر جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر مکتب اور تعلیمی ادارے میں دوران تعلیم اس کا استعمال کسی طور پر بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کرنا یا سننا اپنے اور دوسرے کے لیے خطرناک ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر اس پر پابندی ہے۔ کسی مجلس یا محفل میں بیٹھے ہوئے موبائل فون استعمال کرنا بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم ایسے کسی موقع پر کوئی ضروری بات کرنی یا سننی پڑ جائے تو مناسب ہے کہ خاموشی سے ایسے مقام سے ذرا دور ہٹ کر فون کا استعمال کر لیا جائے۔ غلطی سے کوئی نامعلوم کال آ جائے تو مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کر لی جائے۔
اسی طرح اگر آپ سے غلط نمبر مل جائے تو بھی معذرت کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر آپ کا مطلوبہ نمبر متعلقہ شخص کی بجائے گھر کے کسی دوسرے فرد نے اٹھا لیا تو اسے اپنا مختصر تعارف اور پیغام ضرور بتا دیں تاکہ متعلقہ شخص کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ مسجد میں نماز پڑھتے وقت موبائل فون بند رکھنا چاہیے تاکہ عبادت میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ کوشش کریں کہ آپ کے موبائل کی اطلاعی گھنٹی کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔ اس لیے اس کی آواز کم اور انداز سادہ ہو تو بہتر ہے۔ بعض لوگ اپنے سیٹ میں گھنٹی کی بجائے اسے تھرتھراہٹ پر یا ہلکی سی بیپ کے بعد تھرتھراہٹ پر بھی لگا دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آپ کو آنے والے فون سے کسی کو زیادہ زحمت نہیں ہوتی یا قریبی افراد کو بری نہیں لگتی۔ یہ ایک اچھی صورت ہے۔آج موبائل فون کے بہت سے استعمال سامنے آگئے ہیں یعنی موبائل فون میں گھڑی، ریڈیو، ٹی وی، کیمرہ، سٹاپ واچ، فون ڈائری، کیلنڈر، انٹرنیٹ، گیمز، لغت اور معلومات کے علاوہ تفریح کے بہت سے نئے انداز بھی آ گئے ہیں۔ نیز اپنی اپنی پسند اور ذوق کے مطابق اطلاعی گھنٹی کے انداز اور ریکارڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ ان تمام سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون کا سائز بھی سکڑ رہا ہے۔ موبائل چاہے جتنا جدید ہو، اس کا بنیادی استعمال کہیں سے آنے والی فون کال کو سننا اور کسی کو فون کرنا ہے۔
موبائل فون ایک ایسی مفید و کارآمد ایجاد ہے جسے روز بروز مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ امیر تو ایک طرف رہے، متوسط اورکم حیثیت لوگ بھی اسے ایک اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔ مغربی ممالک میں تو کافی عرصے سے موبائل کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ اس سے منسلک سہولیات و خدمات دن بدن ترقی کر رہی ہیں۔ اب موبائل فون میں ویڈیو فلمیں اور دستاویزی فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ دینی اور مذہبی ذوق رکھنے والے حضرات اپنے موبائلز پر تلاوت سن سکتے ہیں، احادیث اور تفسیر پڑھ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا تک اب کمپیوٹر کی بجائے موبائل فون پر رسائی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ موبائل فون قومی اتحاد کو بڑھانے، مختلف علاقوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور انہیں مشترکہ قومی مقاصد سے وابستہ کرنے میں بے پناہ مدد گار ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں موبائل کے ذریعے سے مختلف ممالک کے لوگوں میں روز بروز ذہنی قربت اور اکٹھے ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس سے بین الاقوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ کاروباری معاملات کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ثابت ہوا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ موبائل فون ایک مفید اور کارآمد ایجاد ہے۔ یہ بذات خود برا نہیں، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اصلاح کی جائے۔ اسے اچھے کاموں اور اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ لوگ صحیح معنوں میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...