... loading ...
پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کے قومی ٹیسٹ کرکٹ ا سکواڈ کا اعلان کردیا۔قومی اسکواڈمیں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ٹیسٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔نئے شامل کیے گئے کھلاڑی نوجوان ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبارلگانے والے سپرفٹ کھلاڑی فوادعالم کوایک بارپھرنظراندازکردیاگیاہے۔ ٹیم میں شامل اگرنئے کھلاڑیوں کاجائزہ لیا جائے توان میں فخر زمان، امام الحق، سعد علی، عثمان صلاح الدین اور فہیم اشرف شامل ہیں۔
فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک بڑی اننگز کھیلنی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نوجوان کرکٹر سعد علی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں حالیہ قائد اعظم ٹرافی میں شاندار فارم کے بنیاد پر ٹیسٹ ا سکواڈ کاحصہ بنایاگیاہے۔بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز اسکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔اسی طرح عثمان صلاح الدین جو کہ پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز تو کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں ٹیسٹ ا سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ستائس سالہ عثمان صلاح الدین دائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہیں اور اب تک 99 فرسٹ کلاس میچوں میں 6329 رنز اسکور کر چکے ہیں۔یادرہے کہ ٹیم میں نئے شامل ہونے والے تمام کھلاڑی بلے بازہیں سوائے فہیم اشرف کے جوآل رائونڈر اورعبدالرزاق کانعم البدل کہلائے جارہے ہیں
چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم میں زیادہ ترنوجوانوںں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔
انھوں بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ‘کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے بیٹنگ آرڈر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب کو موقع ملے گا۔پاکستان کے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں یہ سیریز کھیلی جائے گی انگلیڈ اور آئرلینڈ میں گیند زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اس لیے بلے بازوں کو احتیاط سے کھیلنا پڑے گا۔
جہاں تک تعلق ہے ٹیم میں نئے بلے بازوں کی شمولیت کاتویہ بھی یادرہے کہ دورہ انگلینڈ میں بائولنگ کی بھی زیادہ ترذمے داری نوجوانوں پرہی ہوگی کیونکہ ٹیم میں یاسرشاہ اوروہاب ریاض موجودنہیں ۔یاسرشاہ کی جگہ شاداب خان کواسکواڈمیں شامل کیاگیا ہے جواب تک صرف ایک ٹیسٹ ہی کھیل چکے ہیں ۔فاسٹ بائولر حسن علی بھی صرف دوٹیسٹ میچزکھیلنے کاتجرہ رکھتے ہیں ۔ فہیم اشرف نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کاایک فائدہ یہ بھی ہوگاکہ وہ ضرورت پڑنے پرناصرف اچھی بلکہ جارحانہ بلے بازی بھی کرسکتے ہیں ۔ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہوں گے، جب کہ بقیہ کھلاڑیوں میں اظہرعلی، سمیع اسلم، امام الحق، فخر زمان، اسد شفیق، حسن علی، فہیم اشرف، راحت علی، محمد عباس، عثمان صلاح الدین، شاداب خان، محمد عامر، بابر اعظم، حارث سہیل اور سعد علی شامل ہیں۔
قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اپنی جگہ لیکن شائقین کوجوبات سب سے زیادہ حیران کررہی ہے وہ ایک بارپھرفوادعالم کا ٹیسٹ اسکواڈمیں عدم انتخاب کیونکہ فوادعالم نہ صرف یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہرسیزن میں رنزکے ابنارلگاتے نظرآتے بلکہ ضرور ت پڑنے پراپنی نپی تلی بائولنگ سے مخالف بلے بازوں کی وکٹیں بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فوادعالم کے عدم انتخاب پرجہاں چیف سلیکٹرانضمام الحق کوشدید تنقید کاسامنا ہے وہیں حکومتی حلقے میں اس پرانگلیاں اٹھاتے نظرآتے ہیں
پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بھی ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین عبدالقہار خان وادان نے کہاکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، فواد عالم اور وہاب ریاض کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟جبکہ سابق کرکٹرزبھی سلیکشن کمیٹی پربرہم ہیں اس حوالے نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم نے دس ہزارسے زائدرنزبنائے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر سری لنکا کی کمزور باؤلنگ لائن کے خلاف بیٹنگ لائن کی کمزوریاں عیاں ہو گئی تھیں۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا؟۔ میں انضمام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے چند کھلاڑیوں کے ناموں پر حیرت میں مبتلا ہوں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔
یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ ان کا ٹریک ریکارڈ 27 سنچریوں اور 10ہزار 742 فرسٹ کلاس رنز کے ساتھ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر تصور کیے جانے والے راشد نیمحدود اوورز کے اسپیشلسٹ بلے باز فخر زمان کے انتخاب کی منطق بھی دریافت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔
دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے فواد عالم کو دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں بھی چیف سلیکٹر ہوتا تو فواد عالم کو اسکواڈ میں منتخب نہیں کرتا۔پیر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ فواد عالم کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے اور میرے خیال میں ان کی تکنیک میں تھوڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں انگلینڈ میں مسئلے مسائل ہوتے۔ انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں فواد عالم برصغیر کی کنڈیشنز میں زیادہ بہتر بلے باز ہیں لیکن بیرون ملک ان کی تکنیک شاید ان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس موقع پر انہوں نے فواد عالم کو ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے مثال دی کہ کئی کرکٹرز کو جلد ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہیں ملتا لیکن وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ایک عمر کے بعد ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں جس کی بڑی مثالیں مصباح الحق، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ اور مائیکل ہسی بھی ہیں۔واضح رہے کہ رمیز راجہ پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے کیونکہ ان سے قبل وسیم اکرم، راشد لطیف اور سکندر بخت سمیت متعدد کرکٹرز بائیں ہاتھ کے بلے باز کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امام کے انتخاب کو متعصبانہ نظروں سے دیکھنا زیادتی ہے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیم میں منتخب بلے بازوں کی بچت بہت مشکل کیونکہ وہاں گیند بہت زیادہ سیم اور سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا انضمام جیسے چیف سلیکٹر فواد جیسے اثاثے کو ٹیم کے ساتھ رکھنا کیوں نہیں چاہیں گے، میرا نہیں خیال کہ وہ ایسی بے ہنگم زیادتی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے کافی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اوپنرز میں کوئی ہیرا نہیں ہے جسے میں یہ کہہ سکوں کہ ہمیں اگلے 10 سال میں ایک بہترین اوپنر مل جائے گا اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ہمارے بلے بازوں کی نئی گیند پر ٹھیک ٹھاک پیشی ہونے والی ہے۔رمیز راجہ نے فواد عالم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش کرتے رہیں اور رنز کے ڈھیر لگا کر سلیکٹرز پر دباؤ بڑھاتے رہیں جس کی بدولت یقیناً وہ جلد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...