وجود

... loading ...

وجود

انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

جمعرات 19 اپریل 2018 انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کے قومی ٹیسٹ کرکٹ ا سکواڈ کا اعلان کردیا۔قومی اسکواڈمیں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ٹیسٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔نئے شامل کیے گئے کھلاڑی نوجوان ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبارلگانے والے سپرفٹ کھلاڑی فوادعالم کوایک بارپھرنظراندازکردیاگیاہے۔ ٹیم میں شامل اگرنئے کھلاڑیوں کاجائزہ لیا جائے توان میں فخر زمان، امام الحق، سعد علی، عثمان صلاح الدین اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک بڑی اننگز کھیلنی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوجوان کرکٹر سعد علی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں حالیہ قائد اعظم ٹرافی میں شاندار فارم کے بنیاد پر ٹیسٹ ا سکواڈ کاحصہ بنایاگیاہے۔بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز اسکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔اسی طرح عثمان صلاح الدین جو کہ پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز تو کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں ٹیسٹ ا سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ستائس سالہ عثمان صلاح الدین دائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہیں اور اب تک 99 فرسٹ کلاس میچوں میں 6329 رنز اسکور کر چکے ہیں۔یادرہے کہ ٹیم میں نئے شامل ہونے والے تمام کھلاڑی بلے بازہیں سوائے فہیم اشرف کے جوآل رائونڈر اورعبدالرزاق کانعم البدل کہلائے جارہے ہیں

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم میں زیادہ ترنوجوانوںں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔

انھوں بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ‘کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے بیٹنگ آرڈر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب کو موقع ملے گا۔پاکستان کے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں یہ سیریز کھیلی جائے گی انگلیڈ اور آئرلینڈ میں گیند زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اس لیے بلے بازوں کو احتیاط سے کھیلنا پڑے گا۔

جہاں تک تعلق ہے ٹیم میں نئے بلے بازوں کی شمولیت کاتویہ بھی یادرہے کہ دورہ انگلینڈ میں بائولنگ کی بھی زیادہ ترذمے داری نوجوانوں پرہی ہوگی کیونکہ ٹیم میں یاسرشاہ اوروہاب ریاض موجودنہیں ۔یاسرشاہ کی جگہ شاداب خان کواسکواڈمیں شامل کیاگیا ہے جواب تک صرف ایک ٹیسٹ ہی کھیل چکے ہیں ۔فاسٹ بائولر حسن علی بھی صرف دوٹیسٹ میچزکھیلنے کاتجرہ رکھتے ہیں ۔ فہیم اشرف نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کاایک فائدہ یہ بھی ہوگاکہ وہ ضرورت پڑنے پرناصرف اچھی بلکہ جارحانہ بلے بازی بھی کرسکتے ہیں ۔ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہوں گے، جب کہ بقیہ کھلاڑیوں میں اظہرعلی، سمیع اسلم، امام الحق، فخر زمان، اسد شفیق، حسن علی، فہیم اشرف، راحت علی، محمد عباس، عثمان صلاح الدین، شاداب خان، محمد عامر، بابر اعظم، حارث سہیل اور سعد علی شامل ہیں۔

قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اپنی جگہ لیکن شائقین کوجوبات سب سے زیادہ حیران کررہی ہے وہ ایک بارپھرفوادعالم کا ٹیسٹ اسکواڈمیں عدم انتخاب کیونکہ فوادعالم نہ صرف یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہرسیزن میں رنزکے ابنارلگاتے نظرآتے بلکہ ضرور ت پڑنے پراپنی نپی تلی بائولنگ سے مخالف بلے بازوں کی وکٹیں بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فوادعالم کے عدم انتخاب پرجہاں چیف سلیکٹرانضمام الحق کوشدید تنقید کاسامنا ہے وہیں حکومتی حلقے میں اس پرانگلیاں اٹھاتے نظرآتے ہیں

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بھی ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین عبدالقہار خان وادان نے کہاکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، فواد عالم اور وہاب ریاض کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟جبکہ سابق کرکٹرزبھی سلیکشن کمیٹی پربرہم ہیں اس حوالے نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم نے دس ہزارسے زائدرنزبنائے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر سری لنکا کی کمزور باؤلنگ لائن کے خلاف بیٹنگ لائن کی کمزوریاں عیاں ہو گئی تھیں۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا؟۔ میں انضمام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے چند کھلاڑیوں کے ناموں پر حیرت میں مبتلا ہوں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔

یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ ان کا ٹریک ریکارڈ 27 سنچریوں اور 10ہزار 742 فرسٹ کلاس رنز کے ساتھ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر تصور کیے جانے والے راشد نیمحدود اوورز کے اسپیشلسٹ بلے باز فخر زمان کے انتخاب کی منطق بھی دریافت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے فواد عالم کو دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں بھی چیف سلیکٹر ہوتا تو فواد عالم کو اسکواڈ میں منتخب نہیں کرتا۔پیر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ فواد عالم کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے اور میرے خیال میں ان کی تکنیک میں تھوڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں انگلینڈ میں مسئلے مسائل ہوتے۔ انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں فواد عالم برصغیر کی کنڈیشنز میں زیادہ بہتر بلے باز ہیں لیکن بیرون ملک ان کی تکنیک شاید ان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس موقع پر انہوں نے فواد عالم کو ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے مثال دی کہ کئی کرکٹرز کو جلد ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہیں ملتا لیکن وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ایک عمر کے بعد ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں جس کی بڑی مثالیں مصباح الحق، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ اور مائیکل ہسی بھی ہیں۔واضح رہے کہ رمیز راجہ پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے کیونکہ ان سے قبل وسیم اکرم، راشد لطیف اور سکندر بخت سمیت متعدد کرکٹرز بائیں ہاتھ کے بلے باز کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امام کے انتخاب کو متعصبانہ نظروں سے دیکھنا زیادتی ہے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیم میں منتخب بلے بازوں کی بچت بہت مشکل کیونکہ وہاں گیند بہت زیادہ سیم اور سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا انضمام جیسے چیف سلیکٹر فواد جیسے اثاثے کو ٹیم کے ساتھ رکھنا کیوں نہیں چاہیں گے، میرا نہیں خیال کہ وہ ایسی بے ہنگم زیادتی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے کافی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اوپنرز میں کوئی ہیرا نہیں ہے جسے میں یہ کہہ سکوں کہ ہمیں اگلے 10 سال میں ایک بہترین اوپنر مل جائے گا اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ہمارے بلے بازوں کی نئی گیند پر ٹھیک ٹھاک پیشی ہونے والی ہے۔رمیز راجہ نے فواد عالم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش کرتے رہیں اور رنز کے ڈھیر لگا کر سلیکٹرز پر دباؤ بڑھاتے رہیں جس کی بدولت یقیناً وہ جلد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر