وجود

... loading ...

وجود

انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

جمعرات 19 اپریل 2018 انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کے قومی ٹیسٹ کرکٹ ا سکواڈ کا اعلان کردیا۔قومی اسکواڈمیں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ٹیسٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔نئے شامل کیے گئے کھلاڑی نوجوان ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبارلگانے والے سپرفٹ کھلاڑی فوادعالم کوایک بارپھرنظراندازکردیاگیاہے۔ ٹیم میں شامل اگرنئے کھلاڑیوں کاجائزہ لیا جائے توان میں فخر زمان، امام الحق، سعد علی، عثمان صلاح الدین اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک بڑی اننگز کھیلنی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوجوان کرکٹر سعد علی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں حالیہ قائد اعظم ٹرافی میں شاندار فارم کے بنیاد پر ٹیسٹ ا سکواڈ کاحصہ بنایاگیاہے۔بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز اسکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔اسی طرح عثمان صلاح الدین جو کہ پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز تو کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں ٹیسٹ ا سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ستائس سالہ عثمان صلاح الدین دائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہیں اور اب تک 99 فرسٹ کلاس میچوں میں 6329 رنز اسکور کر چکے ہیں۔یادرہے کہ ٹیم میں نئے شامل ہونے والے تمام کھلاڑی بلے بازہیں سوائے فہیم اشرف کے جوآل رائونڈر اورعبدالرزاق کانعم البدل کہلائے جارہے ہیں

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم میں زیادہ ترنوجوانوںں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔

انھوں بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ‘کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے بیٹنگ آرڈر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب کو موقع ملے گا۔پاکستان کے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں یہ سیریز کھیلی جائے گی انگلیڈ اور آئرلینڈ میں گیند زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اس لیے بلے بازوں کو احتیاط سے کھیلنا پڑے گا۔

جہاں تک تعلق ہے ٹیم میں نئے بلے بازوں کی شمولیت کاتویہ بھی یادرہے کہ دورہ انگلینڈ میں بائولنگ کی بھی زیادہ ترذمے داری نوجوانوں پرہی ہوگی کیونکہ ٹیم میں یاسرشاہ اوروہاب ریاض موجودنہیں ۔یاسرشاہ کی جگہ شاداب خان کواسکواڈمیں شامل کیاگیا ہے جواب تک صرف ایک ٹیسٹ ہی کھیل چکے ہیں ۔فاسٹ بائولر حسن علی بھی صرف دوٹیسٹ میچزکھیلنے کاتجرہ رکھتے ہیں ۔ فہیم اشرف نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کاایک فائدہ یہ بھی ہوگاکہ وہ ضرورت پڑنے پرناصرف اچھی بلکہ جارحانہ بلے بازی بھی کرسکتے ہیں ۔ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہوں گے، جب کہ بقیہ کھلاڑیوں میں اظہرعلی، سمیع اسلم، امام الحق، فخر زمان، اسد شفیق، حسن علی، فہیم اشرف، راحت علی، محمد عباس، عثمان صلاح الدین، شاداب خان، محمد عامر، بابر اعظم، حارث سہیل اور سعد علی شامل ہیں۔

قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اپنی جگہ لیکن شائقین کوجوبات سب سے زیادہ حیران کررہی ہے وہ ایک بارپھرفوادعالم کا ٹیسٹ اسکواڈمیں عدم انتخاب کیونکہ فوادعالم نہ صرف یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہرسیزن میں رنزکے ابنارلگاتے نظرآتے بلکہ ضرور ت پڑنے پراپنی نپی تلی بائولنگ سے مخالف بلے بازوں کی وکٹیں بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فوادعالم کے عدم انتخاب پرجہاں چیف سلیکٹرانضمام الحق کوشدید تنقید کاسامنا ہے وہیں حکومتی حلقے میں اس پرانگلیاں اٹھاتے نظرآتے ہیں

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بھی ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین عبدالقہار خان وادان نے کہاکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، فواد عالم اور وہاب ریاض کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟جبکہ سابق کرکٹرزبھی سلیکشن کمیٹی پربرہم ہیں اس حوالے نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم نے دس ہزارسے زائدرنزبنائے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر سری لنکا کی کمزور باؤلنگ لائن کے خلاف بیٹنگ لائن کی کمزوریاں عیاں ہو گئی تھیں۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا؟۔ میں انضمام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے چند کھلاڑیوں کے ناموں پر حیرت میں مبتلا ہوں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔

یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ ان کا ٹریک ریکارڈ 27 سنچریوں اور 10ہزار 742 فرسٹ کلاس رنز کے ساتھ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر تصور کیے جانے والے راشد نیمحدود اوورز کے اسپیشلسٹ بلے باز فخر زمان کے انتخاب کی منطق بھی دریافت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے فواد عالم کو دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں بھی چیف سلیکٹر ہوتا تو فواد عالم کو اسکواڈ میں منتخب نہیں کرتا۔پیر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ فواد عالم کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے اور میرے خیال میں ان کی تکنیک میں تھوڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں انگلینڈ میں مسئلے مسائل ہوتے۔ انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں فواد عالم برصغیر کی کنڈیشنز میں زیادہ بہتر بلے باز ہیں لیکن بیرون ملک ان کی تکنیک شاید ان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس موقع پر انہوں نے فواد عالم کو ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے مثال دی کہ کئی کرکٹرز کو جلد ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہیں ملتا لیکن وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ایک عمر کے بعد ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں جس کی بڑی مثالیں مصباح الحق، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ اور مائیکل ہسی بھی ہیں۔واضح رہے کہ رمیز راجہ پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے کیونکہ ان سے قبل وسیم اکرم، راشد لطیف اور سکندر بخت سمیت متعدد کرکٹرز بائیں ہاتھ کے بلے باز کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امام کے انتخاب کو متعصبانہ نظروں سے دیکھنا زیادتی ہے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیم میں منتخب بلے بازوں کی بچت بہت مشکل کیونکہ وہاں گیند بہت زیادہ سیم اور سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا انضمام جیسے چیف سلیکٹر فواد جیسے اثاثے کو ٹیم کے ساتھ رکھنا کیوں نہیں چاہیں گے، میرا نہیں خیال کہ وہ ایسی بے ہنگم زیادتی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے کافی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اوپنرز میں کوئی ہیرا نہیں ہے جسے میں یہ کہہ سکوں کہ ہمیں اگلے 10 سال میں ایک بہترین اوپنر مل جائے گا اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ہمارے بلے بازوں کی نئی گیند پر ٹھیک ٹھاک پیشی ہونے والی ہے۔رمیز راجہ نے فواد عالم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش کرتے رہیں اور رنز کے ڈھیر لگا کر سلیکٹرز پر دباؤ بڑھاتے رہیں جس کی بدولت یقیناً وہ جلد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر