وجود

... loading ...

وجود

انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

جمعرات 19 اپریل 2018 انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کے قومی ٹیسٹ کرکٹ ا سکواڈ کا اعلان کردیا۔قومی اسکواڈمیں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ٹیسٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔نئے شامل کیے گئے کھلاڑی نوجوان ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبارلگانے والے سپرفٹ کھلاڑی فوادعالم کوایک بارپھرنظراندازکردیاگیاہے۔ ٹیم میں شامل اگرنئے کھلاڑیوں کاجائزہ لیا جائے توان میں فخر زمان، امام الحق، سعد علی، عثمان صلاح الدین اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک بڑی اننگز کھیلنی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوجوان کرکٹر سعد علی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں حالیہ قائد اعظم ٹرافی میں شاندار فارم کے بنیاد پر ٹیسٹ ا سکواڈ کاحصہ بنایاگیاہے۔بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز اسکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔اسی طرح عثمان صلاح الدین جو کہ پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز تو کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں ٹیسٹ ا سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ستائس سالہ عثمان صلاح الدین دائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہیں اور اب تک 99 فرسٹ کلاس میچوں میں 6329 رنز اسکور کر چکے ہیں۔یادرہے کہ ٹیم میں نئے شامل ہونے والے تمام کھلاڑی بلے بازہیں سوائے فہیم اشرف کے جوآل رائونڈر اورعبدالرزاق کانعم البدل کہلائے جارہے ہیں

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم میں زیادہ ترنوجوانوںں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔

انھوں بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ‘کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے بیٹنگ آرڈر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب کو موقع ملے گا۔پاکستان کے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں یہ سیریز کھیلی جائے گی انگلیڈ اور آئرلینڈ میں گیند زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اس لیے بلے بازوں کو احتیاط سے کھیلنا پڑے گا۔

جہاں تک تعلق ہے ٹیم میں نئے بلے بازوں کی شمولیت کاتویہ بھی یادرہے کہ دورہ انگلینڈ میں بائولنگ کی بھی زیادہ ترذمے داری نوجوانوں پرہی ہوگی کیونکہ ٹیم میں یاسرشاہ اوروہاب ریاض موجودنہیں ۔یاسرشاہ کی جگہ شاداب خان کواسکواڈمیں شامل کیاگیا ہے جواب تک صرف ایک ٹیسٹ ہی کھیل چکے ہیں ۔فاسٹ بائولر حسن علی بھی صرف دوٹیسٹ میچزکھیلنے کاتجرہ رکھتے ہیں ۔ فہیم اشرف نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کاایک فائدہ یہ بھی ہوگاکہ وہ ضرورت پڑنے پرناصرف اچھی بلکہ جارحانہ بلے بازی بھی کرسکتے ہیں ۔ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہوں گے، جب کہ بقیہ کھلاڑیوں میں اظہرعلی، سمیع اسلم، امام الحق، فخر زمان، اسد شفیق، حسن علی، فہیم اشرف، راحت علی، محمد عباس، عثمان صلاح الدین، شاداب خان، محمد عامر، بابر اعظم، حارث سہیل اور سعد علی شامل ہیں۔

قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اپنی جگہ لیکن شائقین کوجوبات سب سے زیادہ حیران کررہی ہے وہ ایک بارپھرفوادعالم کا ٹیسٹ اسکواڈمیں عدم انتخاب کیونکہ فوادعالم نہ صرف یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہرسیزن میں رنزکے ابنارلگاتے نظرآتے بلکہ ضرور ت پڑنے پراپنی نپی تلی بائولنگ سے مخالف بلے بازوں کی وکٹیں بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فوادعالم کے عدم انتخاب پرجہاں چیف سلیکٹرانضمام الحق کوشدید تنقید کاسامنا ہے وہیں حکومتی حلقے میں اس پرانگلیاں اٹھاتے نظرآتے ہیں

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بھی ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین عبدالقہار خان وادان نے کہاکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، فواد عالم اور وہاب ریاض کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟جبکہ سابق کرکٹرزبھی سلیکشن کمیٹی پربرہم ہیں اس حوالے نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم نے دس ہزارسے زائدرنزبنائے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر سری لنکا کی کمزور باؤلنگ لائن کے خلاف بیٹنگ لائن کی کمزوریاں عیاں ہو گئی تھیں۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا؟۔ میں انضمام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے چند کھلاڑیوں کے ناموں پر حیرت میں مبتلا ہوں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔

یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ ان کا ٹریک ریکارڈ 27 سنچریوں اور 10ہزار 742 فرسٹ کلاس رنز کے ساتھ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر تصور کیے جانے والے راشد نیمحدود اوورز کے اسپیشلسٹ بلے باز فخر زمان کے انتخاب کی منطق بھی دریافت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے فواد عالم کو دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں بھی چیف سلیکٹر ہوتا تو فواد عالم کو اسکواڈ میں منتخب نہیں کرتا۔پیر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ فواد عالم کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے اور میرے خیال میں ان کی تکنیک میں تھوڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں انگلینڈ میں مسئلے مسائل ہوتے۔ انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں فواد عالم برصغیر کی کنڈیشنز میں زیادہ بہتر بلے باز ہیں لیکن بیرون ملک ان کی تکنیک شاید ان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس موقع پر انہوں نے فواد عالم کو ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے مثال دی کہ کئی کرکٹرز کو جلد ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہیں ملتا لیکن وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ایک عمر کے بعد ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں جس کی بڑی مثالیں مصباح الحق، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ اور مائیکل ہسی بھی ہیں۔واضح رہے کہ رمیز راجہ پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے کیونکہ ان سے قبل وسیم اکرم، راشد لطیف اور سکندر بخت سمیت متعدد کرکٹرز بائیں ہاتھ کے بلے باز کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امام کے انتخاب کو متعصبانہ نظروں سے دیکھنا زیادتی ہے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیم میں منتخب بلے بازوں کی بچت بہت مشکل کیونکہ وہاں گیند بہت زیادہ سیم اور سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا انضمام جیسے چیف سلیکٹر فواد جیسے اثاثے کو ٹیم کے ساتھ رکھنا کیوں نہیں چاہیں گے، میرا نہیں خیال کہ وہ ایسی بے ہنگم زیادتی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے کافی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اوپنرز میں کوئی ہیرا نہیں ہے جسے میں یہ کہہ سکوں کہ ہمیں اگلے 10 سال میں ایک بہترین اوپنر مل جائے گا اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ہمارے بلے بازوں کی نئی گیند پر ٹھیک ٹھاک پیشی ہونے والی ہے۔رمیز راجہ نے فواد عالم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش کرتے رہیں اور رنز کے ڈھیر لگا کر سلیکٹرز پر دباؤ بڑھاتے رہیں جس کی بدولت یقیناً وہ جلد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...

راجن پور میں تیز رفتار مسافر بس کو حادثہ، 10 افراد جاں بحق،37 زخمی

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...

بے نامی اکاؤنٹس ، ضمیر عباسی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایران کی جانب پرواز کی، امریکی میڈیا

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو وجود - بدھ 21 اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...

امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا ضروری ہے،مارکوروبیو

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے وجود - منگل 20 اکتوبر 2026

مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر