وجود

... loading ...

وجود

بال ٹیمپرنگ پہلی بار ہوئی ہے؟ بہت سے واقعات موجود

جمعرات 19 اپریل 2018 بال ٹیمپرنگ پہلی بار ہوئی ہے؟ بہت سے واقعات موجود

آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بال ٹیمپرنگ کا جرم قبول کر لیا ہے، کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں سامنے آنے والے اس واقعے کے بعد ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔اس مرتبہ فرق محض اتنا ہے کہ دوسروں کو چیٹنگ پر درس دینے والے آسٹریلین کرکٹرز خود ہی پکڑ میں آ گئے، انہوں نے اپنی ٹیم کی مکمل سپورٹ کرنے والے شائقین کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، جو نہ صرف اپنی ٹیم کو انتہائی احترام کی نظر سے دیکھتے تھے بلکہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کی ٹیم کو چیٹنگ یا ایسی کسی بھی چیز کی ضرورت ہی نہیں۔باؤلرز کو سوئنگ اضافی مدد کی غرض سے گیند کی ایک جانب سطح کو کھردرا کرنے کے لیے کرکٹ میں مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ اس جرم میں سزا پانے کھلاڑیوں میں کرکٹ کی دنیا کے سپر اسٹارز اور انتہائی معتبر نام بھی شامل ہیں۔

کرس پرنگل
1990 میں نیوزی لینڈ کے میڈیم فاسٹ باؤلر کرس پرنگل نے کراچی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کیا، جبکہ اسی سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کا اقرار بھی کیا تھا، لیکن حیران کن طور پر انہیں کوئی سزا نہیں دی گئی تھی۔
ٹیلی ویڑن کی جتنی اعلیٰ ٹیکنالوجی آج میسر ہے، اتنی پہلے کبھی بھی نہ تھی، آج کھلاڑیوں کے ہر ایک عمل کو گراؤنڈ میں جا بجا لگے کیمروں کی آنکھ قید کر لیتی، لیکن اْس وقت کھلاڑیوں کے کسی بھی عمل کا فیصلہ فیلڈ میں موجود دونوں امپائرز ہی کرتے تھے، جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کے فیصل آباد میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر پرنگل نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 152 رنز کے عوض 11 وکٹیں حاصل کیںنے، لیکن بعد میں خود انکشاف کیا کہ انہوں نے بوتل کے ڈھکن کی مدد سے گیند کو رگڑا تھا۔
کرس پرنگل نے کہا تھا کہ میں نے گیند کی ساخت کو تبدیل کیا تھا، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ پاکستانی باؤلرز بھی ایسا کرتے ہیں۔

مائیکل ایتھرٹن
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے 1994 میں پچ سے مٹی اٹھا کر جیب میں ڈالی اور اس مٹی کو گیند پر ملنے کے منظر کو کیمرے نے محفوظ کر لیا۔حیران کن طور پر ایتھرٹن پر آئی سی سی کے میچ ریفری پیٹر برج نے نہ تو جرمانہ کیا اور نہ ہی ان کی سرزنش کی، لیکن انگلش کرکٹ بورڈ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے اپنے کپتان پر جرمانہ کردیا تھا۔
یہ سابق انگلش کپتان کے کیریئر کا سیاہ باب تھا لیکن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز میں تجزیہ کار کے فرائض انجام دینے والے ایتھرٹن نے آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ کی حمایت کرتے ہوئے ان پر تاحیات پابندی کے مطالبات کو بکواس قرار دیا ہے۔

وقار یونس
پاکستانی فاسٹ باؤلر وقار یونس پر 2000ء میں بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا تھا، جس کے بعد وہ اس جرم میں جرمانہ اور معطلی بھگتنے والے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے تھے۔نیوزی لینڈ کے میچ ریفری جان ریڈ نے سری لنکا، جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان سہ ملکی ون ڈے سیریز میں وقار یونس کو بال ٹیمپرنگ کا مرتکب قرار دیا تھا اور ان پر 50 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کیا تھا۔اس وقت کے قومی ٹیم کے کپتان معین خان اور آل راؤنڈر اظہر محمود پر بھی 30فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سیریز سے قبل ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں وقار یونس گیند کی ایک سائیڈ کو ناخن سے کھرچتے ہوئے پکڑے گئے تھے، جس پر میچ ریفری جان ریڈ نے انہیں خبردار کیا تھا، لیکن پاکستانی ٹیم آفیشلز نے عذر پیش کیا تھا کہ وقار یونس گیند پر لگی گندگی صاف کر رہے تھے، جس کی وجہ سے سابق کپتان اس وقت سزا سے بچ گئے تھے۔

سچن ٹنڈولکر
2001 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پورٹ الزبتھ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ریفری مائیک ڈینس نے حد سے زیادہ اپیل کرنے پر 5 بھارتی کھلاڑیوں پر پینالٹی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سچن ٹنڈولکر بال ٹیمپرنگ کی فرد جرم عائد کی تھی۔ٹی وی کیمروں میں سچن ٹنڈولکر کو گیند کی سیم کو صاف کرتا ہوا دیکھا جا سکتا تھا اور امپائرز کو بتائے بغیر ایسا کرنے پر یہ عمل بال ٹیمپرنگ کے زمرے میں آیا۔
ٹنڈولکر کو بال ٹیمپرنگ کا مرتکب ٹھہرائے جانے پر بھارت میں بہت ہنگامہ ہوا اور آئی سی سی نے معاملے کی تحقیقات کے بعد ٹنڈولکر پر عائد ایک میچ کی پابندی ختم کردی۔

شعیب اختر
2003 میں سری لنکن سرزمین پر نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں پاکستانی فاسٹ باؤلر شعیب اختر پر 2 میچ کی پابندی عائد کی گئی جہاں ان پر گیند کی سطح پر خراب کرنے اور اسے ادھیڑنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بعد میں شعیب اختر نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا کہ دمبولا میں شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ اکتا گئے تھے، وکٹ سلو ہونے کی وجہ سے انہوں نے گیند سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔شعیب اختر نے مزید لکھا کہ وہ جانتے تھے کہ یہ سب قوانین کے خلاف ہے اور اس پر کبھی فخر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے کیریئر میں کئی مواقع پر بال ٹیمپرنگ کی۔

راہول ڈراوڈ
آسٹریلیا میں زمبابوے کے خلاف ون ڈے میچ میں ‘دیوار’ کے نام سے مشہور بھارتی بلے باز راہول ڈراوڈ گیند پر لوزینگے لگاتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے اس وقت کے بھارتی ٹیم کے کپتان کو بال ٹیمپرنگ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے میچ فیس کا 50فیصد جرمانہ عائد کردیا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم
کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کی تاریخ کا سب سے متنازع معاملہ 2006 میں اس وقت پیش آیا جب پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر موجود تھی۔امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کو بال ٹیمپرنگ کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے انگلینڈ کو 5 رنز کی پینالٹی ایوارڈ کردی۔اس بات پر برہم قومی ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے ٹیم میدان میں لانے سے انکار کردیا، جس پر امپائرز بلی ڈوکٹروو اور ڈیرل ہیئر نے میچ انگلینڈ کو ایوارڈ کردیا۔اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب امپائرز نے گیند کی کنڈیشن پر بات کرنا شروع کی۔

چائے کے وقفے تک کھیل بغیر کسی احتجاج کے جاری رہا، لیکن وقفے کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں نے اس بات پر آپس میں گفتگو کی، ان کا ماننا تھا کہ انہوں نے گیند کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔پاکستانی ٹیم کے میدان میں آنے پر امپائرز نے میچ انگلینڈ کو ایوارڈ کردیا اور جب تک پاکستانی ٹیم نے میدان میں آنے پر رضامندی ظاہر کی، اس وقت تک میچ ختم ہو چکا تھا۔یہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا اور واحد ٹیسٹ میچ ہے جو فورفیٹ ہوا۔واقعے کے کچھ عرصے بعد آئی سی سی نے پاکستان کے موقف کو مانتے ہوئے بال ٹیمپرنگ کا الزام واپس لیا اور میچ کا نتیجہ تبدیل کرتے ہوئے اسے ڈرا قرار دیا۔

اسٹورٹ براڈ
2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے میچ میں اسٹورٹ براڈ اسپائکس کی مدد سے گیند پر چڑھے، جس کے باعث ان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا۔براڈ نے گیند کو پہلے اپنے پیروں سے روکا اور پھر اس پر چڑھ گئے، بعد ازاں وضاحت دیتے ہوئے انگلش فاسٹ باؤلر نے کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے وہ سست ہو رہے تھے جبکہ صحت جرم سے انکار کیا۔

جنوبی افریقہ نے براڈ کی اس حرکت پر شکایت کی لیکن اس کے باوجود انگلش کرکٹ بورڈ کے اثرورسوخ کی وجہ سے فاسٹ باؤلر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔اس واقعے پر سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے کہا کہ انہیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ براڈ غلط تھے، اگر دنیا کے کسی اور ملک کا باؤلر یہ حرکت کرتا تو ہم کہتے کہ اس نے چیٹنگ کی۔

شاہد آفریدی
2010 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شاہد آفریدی نے جو کچھ کیا، اْسے کرکٹ کی تاریخ میں بال ٹیمپرنگ کی سب سے مضحکہ خیز حرکت کہا جا سکتا ہے۔آسٹریلیا کے خلاف پرتھ میں کھیلے گئے میچ میں شاہد آفریدی گیند کو چباتے ہوئے پکڑے گئے تھے اور ہوری دنیا نے ٹی وی اسکرین پر یہ منظر دیکھا تھا۔ٹی وی امپائر نے میدان میں موجود امپائرز کو معاملے سے آگاہ کیا تھا، جنہوں نے آفریدی سے بات چیت کے بعد گیند کو تبدیل کیا تھا۔

میچ ریفری رنجن مدوگالے نے آفریدی کو طلب کیا، جس پر آفریدی نے غلطی کا اعتراف کیا اور ان پر 2 میچ کی پابندی عائد کردی گئی۔شاہد آفریدی نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی ٹیم ایسی نہیں، جو بال ٹیمپرنگ نہ کرتی ہو لیکن میرا طریقہ غلط تھا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، میں شرمندہ ہوں۔سابق کپتان نے کہا تھا کہ میں صرف اپنی ٹیم کے لیے میچ جیتنا چاہتا تھا لیکن یہ طریقہ یقیناً غلط تھا۔اس حرکت کے باوجود پاکستان کو میچ میں 2 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فاف ڈیو پلیسی
2016 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بال ٹیمپرنگ پر جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈیو پلیسی پر میچ فیس کا 100فیصد جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 3 منفی پوائنٹس بھی دیے گئے۔

ٹی وی اسکرین پر ڈیو پلیسی منہ میں موجود ٹافی کے تھوک کی مدد سے گیند کو چمکاتے ہوئے نظر آئے ، انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا تھا۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ڈیو پلیسی بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے پکڑے گئے بلکہ اس سے قبل 2013 میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں گیند کو ٹراؤزر کی زپ سے رگڑنے پر بھی ان پر جرمانہ کیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر