... loading ...
بال کا بنیادی کام حفاظت کرنا ہے، اگر یہ حفاظت محدود ہے۔ مثلاًسر کے بال اسے چوٹ اور سورج کی شعاعوں سے بچاتے ہیں۔ بھنویں اور پلکیں بیرونی ذرات سے آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ناک کے اندر بال اور بیرونی کان کی نالی میں موجود بال ان اعضا کو کیڑوں مکوڑوں اور گردو غبار سے بچاتے ہیں۔ بال جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور چھونے کی حس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ پیدائش ہی سے بچے کے سر پر نرم اور ملائم بال ہوتے ہیں جو کہ پیدائش کے کئی مہینوں کے بعد جھڑ جاتے ہیں لیکن ان کی جگہ ان کی نسبت کھردرے بال لے لیتے ہیں۔ جبکہ باقی جسم پر نرم بال اگ آتے ہیں۔ پھر بالغ ہونے پر بغلوں میں اور ناف کے نیچے کھردرے بال اْگ آتے ہیں۔ مزید یہ کہ مردوں کے چہرے پر داڑھی اور مونچھوں کی شکل میں اور کسی حد تک جسم کے دوسرے حصوں پر بھی بال نکل آتے ہیں۔ بال جلد کے تقریباً تمام حصوں پر پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک بالغ کے جسم پر اوسطاً پچاس لاکھ کے لگ بھگ بال ہوتے ہیں۔ اس میں تقریباً ایک لاکھ بال سر پر ہوتے ہیں۔
جسم پر بالوں کی تعداد کا تعلق جینز اور نسل سے بھی ہوتا ہے۔ ہتھیلیوں اور تلووں پر، ہاتھوں اور پاوں کی انگلیوں کی نچلی طرف اور ہونٹوں پر کوئی بال نہیں ہوتے۔ بالوں کا مخصوص رنگ بنیادی طور پر میلانن نامی ایک سیاہی مائل رنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ رنگ کے لحاظ سے بالوں کی تین قسمیں ہیں۔ سیاہ بال، بھورے بال اور زرد بال۔ بالوں کے مختلف رنگ دراصل ان تین رنگوں کی مختلف مقداروں کے آپس میں مل جانے سے بنتے ہیں۔ پرانے بال جلد سے مسلسل جھڑتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بال اگتے رہتے ہیں۔ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ سر کے بالوں کے کچھ گڑھے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور گنجا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ بالوں میں تبدیلی دور کے مطابق ہوتی ہے یعنی بالوں کی نشوونما ایک دور میں رہتی ہے اور ایک میں حالت سکوں ہوتی ہے۔ پہلے دور میں بال ہر تین دن میں ایک ملی میٹر بڑھتے ہیں۔ حالت سکون کے دور میں بال کی جڑ الگ ہو جاتی ہے اور بال آہستہ آہستہ اوپر ہو کر جلد میں بال کے گڑھے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں یہ کچھ دیر کے لیے موجود رہتا ہے حتیٰ کہ کسی ذریعے سے باہر کھنچ جاتا ہے، جھڑ جاتا ہے یا نیچے سے آنے والا بال اسے اوپر دھکیل دیتا ہے۔ بال کے گڑھے میں سے باہر نکلنے سے پہلے اندرونی غلاف میں سے نئے لیے جنم لیتے ہیں اور یوں نیا بال بنتا ہے جو نشوونما پا کر اوپر گڑھے تک پہنچ جاتا ہے اور یہاں موجود پرانے بال کو ہٹا کر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بالوں کے کٹوانے یا منڈوانے کا اس کی نشوونما پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ بال کی نشوونما کا دور جسم کے مختلف حصوں میں مختلف ہوتا ہے۔ سر کا ہر بال دو سے چھ سال تک تیزی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتا ہے پھر اس کی نشوونما رک جاتی ہے اور تین مہینے کے بعد یہ بال جھڑ جاتا ہے۔ اس کے مزید تین ماہ کی حالت سکون کے دورانیے کے بعد ایک نیا بال اسی گڑھے سے نشوونما پانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس آنکھ کے ابرو کے بال کی نشوونما کا دور صرف دس ہفتوں کے قریب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بال زیادہ لمبے نہیں ہو پاتے۔ عام طور پر ایک بالغ آدمی کے سر سے تقریباً 70 سے 100 بال روزانہ جھڑتے ہیں۔ بالوں کی نشوونما کی رفتار اور ان کی تبدیلی کی رفتار دونوں ہی بیماری، خوراک اور دوسرے عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر شدید بخار، کوئی بڑی بیماری، بڑے پیمانے پر سرجری، خون کا اخراج یا دیگر جذباتی دبائو جلد میں کمزوری کے باعث بالوں کے جھڑنے کی رفتار کو تیز تر کردیتے ہیں۔ تیزی سے وزن کم کرنے والی غذا کے استعمال سے بھی بالوں کے جھڑنے میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض ادویات یا شعاعوں کے ذریعے علاج سے بھی بالوں کے جھڑنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...