وجود

... loading ...

وجود

ہمارے بال کیا کرتے ہیں؟

بدھ 18 اپریل 2018 ہمارے بال کیا کرتے ہیں؟

بال کا بنیادی کام حفاظت کرنا ہے، اگر یہ حفاظت محدود ہے۔ مثلاًسر کے بال اسے چوٹ اور سورج کی شعاعوں سے بچاتے ہیں۔ بھنویں اور پلکیں بیرونی ذرات سے آنکھوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ناک کے اندر بال اور بیرونی کان کی نالی میں موجود بال ان اعضا کو کیڑوں مکوڑوں اور گردو غبار سے بچاتے ہیں۔ بال جسم کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور چھونے کی حس کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ پیدائش ہی سے بچے کے سر پر نرم اور ملائم بال ہوتے ہیں جو کہ پیدائش کے کئی مہینوں کے بعد جھڑ جاتے ہیں لیکن ان کی جگہ ان کی نسبت کھردرے بال لے لیتے ہیں۔ جبکہ باقی جسم پر نرم بال اگ آتے ہیں۔ پھر بالغ ہونے پر بغلوں میں اور ناف کے نیچے کھردرے بال اْگ آتے ہیں۔ مزید یہ کہ مردوں کے چہرے پر داڑھی اور مونچھوں کی شکل میں اور کسی حد تک جسم کے دوسرے حصوں پر بھی بال نکل آتے ہیں۔ بال جلد کے تقریباً تمام حصوں پر پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک بالغ کے جسم پر اوسطاً پچاس لاکھ کے لگ بھگ بال ہوتے ہیں۔ اس میں تقریباً ایک لاکھ بال سر پر ہوتے ہیں۔

جسم پر بالوں کی تعداد کا تعلق جینز اور نسل سے بھی ہوتا ہے۔ ہتھیلیوں اور تلووں پر، ہاتھوں اور پاوں کی انگلیوں کی نچلی طرف اور ہونٹوں پر کوئی بال نہیں ہوتے۔ بالوں کا مخصوص رنگ بنیادی طور پر میلانن نامی ایک سیاہی مائل رنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ رنگ کے لحاظ سے بالوں کی تین قسمیں ہیں۔ سیاہ بال، بھورے بال اور زرد بال۔ بالوں کے مختلف رنگ دراصل ان تین رنگوں کی مختلف مقداروں کے آپس میں مل جانے سے بنتے ہیں۔ پرانے بال جلد سے مسلسل جھڑتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے بال اگتے رہتے ہیں۔ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ سر کے بالوں کے کچھ گڑھے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور گنجا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ بالوں میں تبدیلی دور کے مطابق ہوتی ہے یعنی بالوں کی نشوونما ایک دور میں رہتی ہے اور ایک میں حالت سکوں ہوتی ہے۔ پہلے دور میں بال ہر تین دن میں ایک ملی میٹر بڑھتے ہیں۔ حالت سکون کے دور میں بال کی جڑ الگ ہو جاتی ہے اور بال آہستہ آہستہ اوپر ہو کر جلد میں بال کے گڑھے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں یہ کچھ دیر کے لیے موجود رہتا ہے حتیٰ کہ کسی ذریعے سے باہر کھنچ جاتا ہے، جھڑ جاتا ہے یا نیچے سے آنے والا بال اسے اوپر دھکیل دیتا ہے۔ بال کے گڑھے میں سے باہر نکلنے سے پہلے اندرونی غلاف میں سے نئے لیے جنم لیتے ہیں اور یوں نیا بال بنتا ہے جو نشوونما پا کر اوپر گڑھے تک پہنچ جاتا ہے اور یہاں موجود پرانے بال کو ہٹا کر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بالوں کے کٹوانے یا منڈوانے کا اس کی نشوونما پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ بال کی نشوونما کا دور جسم کے مختلف حصوں میں مختلف ہوتا ہے۔ سر کا ہر بال دو سے چھ سال تک تیزی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتا ہے پھر اس کی نشوونما رک جاتی ہے اور تین مہینے کے بعد یہ بال جھڑ جاتا ہے۔ اس کے مزید تین ماہ کی حالت سکون کے دورانیے کے بعد ایک نیا بال اسی گڑھے سے نشوونما پانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس آنکھ کے ابرو کے بال کی نشوونما کا دور صرف دس ہفتوں کے قریب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بال زیادہ لمبے نہیں ہو پاتے۔ عام طور پر ایک بالغ آدمی کے سر سے تقریباً 70 سے 100 بال روزانہ جھڑتے ہیں۔ بالوں کی نشوونما کی رفتار اور ان کی تبدیلی کی رفتار دونوں ہی بیماری، خوراک اور دوسرے عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر شدید بخار، کوئی بڑی بیماری، بڑے پیمانے پر سرجری، خون کا اخراج یا دیگر جذباتی دبائو جلد میں کمزوری کے باعث بالوں کے جھڑنے کی رفتار کو تیز تر کردیتے ہیں۔ تیزی سے وزن کم کرنے والی غذا کے استعمال سے بھی بالوں کے جھڑنے میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض ادویات یا شعاعوں کے ذریعے علاج سے بھی بالوں کے جھڑنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

حملہ اور ابہام وجود جمعرات 30 اپریل 2026
حملہ اور ابہام

مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات وجود جمعرات 30 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر