وجود

... loading ...

وجود

اشیائے خوردنی کی خریداری

منگل 17 اپریل 2018 اشیائے خوردنی کی خریداری

کھانے پینے کی چیزوں کی خریداری روزمرہ کا معمول ہے۔ اگر یہ خریداری محتاط طریقے سے کی جائے تو اس سے نہ صرف روپے پیسے اور وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ اس سے جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ اچھی خریداری کا یہ معیار نہیں کہ جو چیزیں سستے بھائو مل سکتی ہیں۔ ان کو مہنگے داموں خریدا جائے یا اپنی ضرورت سے زیادہ چیزیں خریدی جائیں، بلکہ کھانے پینے کی ایسی اشیا کا خریدنا بہتر ہے جو غذائی اجزا سے بھرپور ہوں اور اہل خانہ کی پسند و ناپسند اور ماہانہ آمدنی کے مطابق ہوں۔ اشیائے خوردنی کی اچھی اور سستی خریداری کے لیے چند ایسے اصول بھی ہیں جن پر عمل کر کے کم رقم میں بہترین خوراک حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ چند اصول مندرجہ ذیل ہیں:

(1۔ خوراک خریدنے کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ تازہ، صحیح اور صاف ستھری غذاووں کی پہچان ہو۔ اس میں مہارت کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پینے کی اشیا ہمیشہ خود خریدی جائیں۔ تجربہ خود بخود اچھی خریداری سکھا دیتا ہے۔

(2۔ حفظان صحت کے اصولوں اور بجٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کم قیمت میں غذائیت سے بھرپور غذائیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس مقصد کے لیے درج ذیل امور پیش نظر رکھیے: الف۔ غذائی اجزا کے بارے میں صحیح علم اور ان کی اہمیت سے آگاہی ضروری ہے۔ بہترین غذائی ذرائع کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا بھی ضروری ہے تاکہ وہی اجزا سستی غذاووں سے بھی حاصل کیے جا سکیں۔ ب۔ خوراک کے چار بنیادی گروہوں سے واقفیت اور ان میں پائے جانے والے اجزا کا علم ہونا چاہیے تاکہ مخصوص غذائی اجزا کو سستی اور ’’نعم البدل‘‘ غذئوں سے حاصل کرنے میں آسانی ہو سکے۔ مثلاً سبزیوں اور پھلوں کے گروہ میں مالٹے اور گاجر میں نسبتاً زیادہ غذائیت موجود ہوتی ہے۔

(3۔ سبزیاں، پھل، گوشت اور دیگر اجناس اور اشیائے خوردنی خریدتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ان میں چھلکے، بیج، ہڈیاں اور اس کے طرح کے ناقابل استعمال اور ضائع ہونے والے اجزا کی مقدار کم سے کم ہو۔ اگر ان کی مقدار زیادہ ہو گی تو اس سے مالی نقصان ہو گا۔

(4۔ غذائوں کی صحیح قیمتوں کا اندازہ بھی ضروری ہے تاکہ اسے مدنظر رکھتے ہوئے بازار سے تیاری دہی، پنیر، شربت، اچار، مربے، سکوائش اور دیگر ایسی اشیا کی قیمتوں کا گھر پر تیار کی گئی اشیا کی قیمتوں سے موازنہ کر کے کم قیمت چیز استعمال کی جا سکے۔ اس سے خوراک کے بجٹ پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ گھر پر تیار کردہ اشیا عموماًزیادہ صاف ستھری، خالص، تازہ اور غذائیت بخش ہوتی ہیں۔

5۔ خریداری کا سنہری اصول یہ ہے کہ جب تک آپ کو پہلے ہی سے قیمتوں کا صحیح علم نہ ہو کبھی ایک ہی دکان سے ساری خریداری نہ کی جائے۔ خود میںیہ عادت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جب بھی بازار سے گزر ہو تو کبھی کسی ریڑھی یا دکان سے دوچار سبزیوں یا کھانے پینے کی چیزوں کا بھائوضروری معلوم کر لینا چاہیے۔ اس سے خریدار کو قیمتوں سے آگاہی رہتی ہے۔

6)۔ سبزیوں اور پھلوں کی خریداری کرتے وقت ان کے سائز کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ اگر محض سائز میں قدرے چھوٹا ہونے کی وجہ سے سبزی یا پھل کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہو تو اسے خریدنے پر ترجیح دینی چاہیے۔

(7۔ دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ تازہ سبزیوں اور پھلوں کے بھائو بھی ڈھلتے رہتے ہیں۔ لیکن شام تک قیمتوں میںنمایاں کمی ہو جاتی ہے جبکہ ان کی غذائیت پر قابل ذکر اثر نہیں پڑتا، اسی لیے کمی بجٹ میں عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ سبزیاں وغیرہ بعد از دوپہر خریدی جائیں۔

(8۔ خریدار کو موسمی اور بے موسمی سبزیوں اور پھلوں کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔ زیادہ سے زیادہ موسمی غذائیں خریدنی چاہئیں۔ ہر موسم کی تازہ سبزی اور پھل کو سلاد کے طور پر بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔

(9۔ سارے ہفتے یا مہینے بھر کے لیے اشیائے خوردنی کی خریداری مقصود ہو تو دوسری چیزوں کی طرف ضرورت کے مطابق ان کی فہرست بنا لینے سے وقت اور رقم دونوں کی بچت ہو سکتی ہے۔

(10۔ تازہ سبزیوں اور پھلوں کو اگر کچھ عرصہ کے لیے زیادہ مقدار میں اکٹھا خریدنا ہو تو اس امر کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ انہیں کس طریقے سے محفوظ کیا جائے۔ یعنی اسے عام درجہ حرارت پر رکھا جائے یا ٹھنڈی جگہ میں ا سٹور کیا جائے۔

(11۔ غذائی اعتبار سے پھلوں اور سبزیوں کی مختلف حالتوں میں حیاتین الف (وٹامن اے) اور حیاتین ج (وٹامن سی) کی مقدار بھی مختلف ہوتی ہے، جسے مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ پوری طرح تیار ہونے کی صورت میں حیاتین الف اور حیاتین ج اپنی بہترین مقدار میں ہوتے ہیں، جبکہ کچی حالت میں ان کی مقدار کافی کم ہوتی ہے اور ضرورت سے زیادہ پکنے یا گلنے کی صورت میں کافی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔

(12۔ اشیائے خوردنی کی خریداری کے لیے بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ انہیں زیادہ مقدار میں یا زیادہ لمبے عرصے کے لیے سٹوری نہ کیا جائے۔ بلکہ سبزیوں اور پھلوں کو روز کے روز ہی خریدنا چاہیے ورنہ دو دن تک ہی محفوظ کریں۔

(13۔ اگر پیکٹ یا ڈبے میں بند چیزیں خریدی جائیں تو ان پر لکھی ہوئی میعاد کی تاریخ پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ اگر وہ معیاد کے اندر خراب نکلیں تو انہیں واپس یا تبدیل کیا جا سکے۔ اسی طرح ان میں شامل اجزا کا بھی علم حاصل کریں۔ مثلاً دودھ کے ڈبوں پر بغیر کریم یا فل کریم وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔ اپنی جسمانی ضروریات کے مطابق ان اشیا کو استعمال کریں۔


متعلقہ خبریں


قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر