... loading ...
نومولود بے حد بے کس اور مجبور دکھائی دیتا ہے اور اس کی بہت سی حرکات بے مقصد معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن فوراً ہی وہ ماں کے بطن سے باہر کی دنیا سے مطابقت پیدا کرکے زندگی پر اپنی گرفت مضبوط کر لیتا ہے۔ بہت جلد اس کی حرکات و افعال میں شعور اور سلیقہ آ جاتا ہے۔ اور تھوڑے ہی دنوں میں بلکہ گھنٹوں کے اندر اندر وہ یکتا شخصی خصوصیات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ ایک یا دو سال کے اندر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مستحکم باہمی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ وہ شیر خوارگی کے زمانے ہی میں اپنے اندر جذبات کا سیلاب امڈتا ہوا محسوس کرتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اس کی دنیا میں وسعت پیدا ہونے لگتی ہے۔ زندگی بھر ایک بچے کو اسی طرح اپنے بدلتے ہوئے ماحول اور بڑھتے ہوئے جسمانی تقاضوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن توافق کے لحاظ سے سب سے اہم وقت پیدائش کا ہے، جبکہ بچہ کسی دوسرے انسان (ماں) کے جسم سے غذا حاصل کرنے کے بعد ایک خود کفیل فرد کی حیثیت اختیار کرتا ہے۔ اپنے ماحول سے توافق قائم کرنے کے دوران میں نومولود کا وزن عام طور پر کم ہو جاتا ہے۔ اس کے افعال اور شکل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا سے ہم آہنگی حاصل کرنے میں اسے کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ حالت ایک ہفتے سے زیادہ نہیں رہتی۔ ایک ہفتے کے بعد وزن پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔
کوئی سے دو بچے ایک ہی وقت میں اور بالکل ایک ہی عمر میں ماحول سے توافق پیدا نہیں کرتے۔ نومولود کی نشوونما کی رفتار اور سمت کا انحصار اس کی پیدائش سے پہلے اور بعد کی فضا پر ہے۔ اگرچہ وہ اپنی تمام فطری خصوصیات اپنے والدین سے حاصل کرتا ہے تاہم بحیثیت ایک انسان کے وہ ان دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ماحول سے موافقت اور نشوونما ایک ہی عمل کے دو رخ ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایک دوسرے کے بغیر ان کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ بچے کو ایک خاص قسم کا بالغ انسان بنانے میں اس کے پیدائشی میلانات اور تجربات دونوں برابر کا حصہ لیتے ہیں۔ ہم بچے کے گہوارے کو تو دیکھ سکتے ہیں لیکن احساسات اور خیالات کے اس غیر مرئی ماحول کو نہیں دیکھ سکتے جس میں گہوارے میں لیٹا ہوا بچہ سانس لے رہا ہے۔ ہمیں نومولود کے خاندان کے افراد کی وہ خواہشات، توقعات اور رویے نظر نہیں ا?تے جن کا اس کی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ اگر حالات اور جذبات کا مجموعہ بچے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو دنیا اسے ایک اطمینا ن بخش مقام معلوم ہو گی ۔ ایسا مقام جہاں اس کی ماں اسے دنیا میں لانے پر فخر کرے اور اس کی حفاظت میں خوشی محسوس ہو۔ اس کا باپ اس کی طرف ایسی کشش محسوس کرے جو اس نے باپ بننے سے پہلے محسوس نہ کی ہو۔ جہاں بڑے بھائی بہن اسے خوش ا?مدید کہنے کے لیے تیار ہوں۔
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے یہ ماحول بڑا دوستانہ ہو۔ شاید نومولود کو قبول کرنے کے لیے بھائی بہت تیار نہ ہوں یا گھر کے لوگوں کے باہمی تعلقات خراب ہوں۔ ایسی فضا میں پیدا ہونے کے بعد بچہ غیر مہمان نوازانہ جذبات کو جلد ہی خود اپنی زندگی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ لیکن بچے کی شخصیت کی تعمیر کا انحصار محض ماحول کے رحم و کرم پر نہیں ہوتا۔ ابتدا ہی سے بچہ صرف ماحول کی تخلیق نہیں ہوتا بلکہ خود اپنا ماحول پیدا کرنے میں ممد ہوتا ہے۔ اس کی کمزوری میں بھی طاقت ہوتی ہے۔ اس کی بے کسی دوسروں کو اس کی طرف رجوع کراتی ہے۔ اپنے چہرے اور طور طریقوں سے وہ زبردستی دوسروں کی توجہ حاصل کرتا ہے، ان پر اثر ڈالتا ہے اور غیر شعوری طور پر ان کے رویے بدل دیتا ہے۔ ایک عورت جو فخریہ یہ کہتی ہے کہ مجھے بچے پالنا ناپسند ہیں، ماں بننے کے بعد بچے کے پیچھے دن رات ایک کر دیتی ہے۔ لیکن سیلاب کا یہ رخ بدل بھی سکتا ہے۔ بعض والدین بچے کی پیدائش سے پہلے اپنے دماغ میں اس کی صورت اور سیرت کا ایک شاندار تصور قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن بچے کی پیدائش پر اس کی اصل صورت دیکھ کر انہیں بڑی مایوسی ہوتی ہے۔ بعض والدین بڑے خشک مزاج اور بے تعلق قسم کے ہوتے ہیں۔ جس گھر میں ایسا ہو ظاہر ہے کہ وہاں کی فضا بچے کی صحیح نشوونما کے لیے سازگار نہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...