وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 15 اپریل 2018 استقبال کتب

کتاب:جدید اُردو افسانہ۔…کل اور آج
(تنقید، تحقیق، تجزیہ)
مصنف :شفیق احمدشفیق
قیمت :300 روپے
ناشر:ایکٹو لیٹریری سوسائٹی، کراچی

شفیق احمدشفیق کی اب تک متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ادراک، پس آئینہ، جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک، فیض ایک عہد ساز شخصیت، مدحت خیر الوریٰ، چند ہم عصر ترقی پسند افسانہ نگار، نثر و تجزیہ، آئینہ دار، سوکھا ساون، فکر و فن کے محرکات، آہنگ نو، صبا اکبر آبادی، مقصدی شاعری، ایک جائزہ کا ناقدانہ تجزیہ شامل ہیں۔ اب ان کی کتاب جدید اردو افسانہ کل اور آج (تنقید ، تحقیق، تجزیہ) منظر عام پر آئی ہے جس میں ان کے وہ تنقیدی مضامین شامل ہیں جو افسانے کی تحقیق و تنقید سے متعلق ہیں اس کتاب پر ڈاکٹر قمر عباس، فرحان رضا اور عرض حال کے عنوان سے مصنف نے اظہار خیال کیا ہے۔ کتاب میں وہ مضامین بھی شامل ہیں جو انہوں نے صاحب کتاب مصنفین کی تقاریب میں پڑھے ہیںاور وہ مضامین بھی جو مختلف ادبی رسائل و جرائد اور کتابوں میںشائع ہوئے ہیں۔ کتاب انتہائی دلکش، خوبصورت اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔

کتاب:سوکھا ساون (افسانے)
افسانہ نگار:شفیق احمدشفیق
قیمت :300 روپے
ناشر:آصف حنیف، کراچی

شفیق احمد شفیق کی متعد کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوچکی ہیں جن میں شاعری، تنقید، تحقیق، تجزیہ، حمدونعت، رباعیات، نظمیں، غزلیں اور کام شامل ہیں۔ ان کی کچھ کتابوں پر انہیں اسناد و ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ جیسے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’ ادراک‘‘ جو 1991ء میں شائع ہوا تھا اس پر ساہیتہ کار سنشد بھارت نے فراق گورکھپوری ایوارڈ دیا تھا۔ ’’ فیض ایک عہد ساز شخصیت ‘‘ 2011ء میں شائع ہوئی تھی جس پر نیوز میڈیا انٹرنیٹ نے فیض امن انعام سے نوازا۔ متعدد کتب زیور طباعت سے آراستہ ہونے کی منتظر ہیں جن میں مجموعہ غزل، افسانوی مجموعہ، غیر ممالک میں اردو بستیوں کے قلم کار، اہم شخصیات پر نظمیں، مشرقی پاکستان کے پس منظر میں نظمیں، منٹو۔ فن و شخصیت، چند ہم عصر ترقی پسند شعرا، مشرقی پاکستان ، اُردو کا ایک دبستان وغیرہ شامل ہیں۔ سوکھا ساون ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں ان کے 12 افسانے شامل ہیں شفیق احمد شفیق نے زندگی بھر ادب لکھا ہے اب وہ اپنا نام تحریروں کو کتابی صورت میں یکجااور محفوظ کررہے ہیں جو آنے والی نسلوں کے کام آئے گا۔

کتاب:سفرنامہ نگاری کے انتقادی امکانات
مصنف:شبیر ناقد
قیمت :500 روپے
ناشر:اُردو سخن، لیہ
شبیر ناقد کی 25 ویں کتاب ’’سفرنامہ نگاری کے انتقادی امکانات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے جس میں ان کے وہ تنقیدی مضامین شامل ہیں جو انہوں نے 22 سفر ناموں کی کتابوں پر تحریر کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب پر محترم ابو البیان ظہور احمد فاتح، جسارت خیالی، شکیل اختر اور شبیر ناقد نے اظہار خیال کیا ہے۔ ان سفرناموں میں نصیب اللہ اچکزئی، عزیز علی شیخ، پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ، ڈاکٹر احمد نصیر، ڈاکٹر آصف محمود جان، ہارون عدیم، ڈاکٹر وزیر آغا، علیم شاہد، زیب النساغر شین، ڈاکٹر سید اختر جعفری، سردار عظیم اللہ خان میو، پروفیسر سید ذوالفقار علی زلفی، ریاض احمد ریاض، ڈاکٹر محمد اقبال ہما، طاہرہ اقبال، امجد اسلام امجد، طارق محمود مرزا، شاہ محمد مری، مرزا ابو طالب اصفہانی لندنی، ڈاکٹر محمد وسیع اللہ خان، یوسف سندھی اور شاہدہ لطیف کا منظوم سفرنامہ شامل ہے۔ سفرنامہ نگاری کی تنقید پر یہ ایک اچھی کتاب ہے۔

کتاب:غدار (ناول)
ناول نگار:کرشن چندر
قیمت :200 روپے
ناشر:علم و ادب پبلشرز ، کراچی
کرشن چندر کے نام سے کون ہے جو واقف نہیں ۔ کرشن چندر فکشن کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ غدار ناول ان کا مشہور و معروف ناول ہے جس کا چرچا ہر تنقید نگار نے کیا ہے۔ ایسے ناول اُردو ادب کا وقیع سرمایہ ہوتے ہیں۔ میں علم و ادب پبلشرز، اُردو بازار، کراچی قابل مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اُردو ادب کا وقیع سرمایہ پھر سے چھاپنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس ادب کونسل نئی کے سامنے لانے میں کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔اس سے قبل بھی عصمت چغتائی اور دیگر معروف فکشن رائٹرز کی مایہ ناز کتابیں شایع کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی قیمت بھی کم رکھ رہے ہیں تاکہ شایقین اُردو ادب، ناقدین فن و ہنر، مشاہیرانِ اُردو ادب اور طالبانِ علم اور ریسرچ اسکالر باآسانی خرید سکیں۔ اگر علم و ادب پبلشرز اسی طرح اُردو ادب کی معروف کتابیں شایع کرتے رہے تو نصاب میں شامل تمام مواد دستیاب ہو جائے گا اور قارئین مہنگے داموں (بلیک میں)خریدنے کی زحمت سے بچ جائیں گے۔

کتاب:ذکر کچھ دلی والوں کا
مصنف:محمود عزیز
قیمت :250 روپے
ناشر:بقائی یونی ورسٹی پریس، کراچی
’’ذکر کچھ دلی والوں کا‘‘ کتاب میں اظہارِ تشکر کے عنوان سے مصنف محمود عزیز، عرضِ ناصر، سید محمد ناصر علی، دیباچہ، ممتاز احمد خان اور گاہے گاہے بازخواں، ڈاکٹر شیخ محمد معین قریشی نے لکھا ہے۔ کتاب میں سرسید احمد خان مسیحائے قوم، دلی کی ایک یادگار ہستی، مصور غم علامہ راشد الخیری، خواجہ حسن نظامی، میری نظر میں، دلی کی چند عجیب ہستیاں، میر باقر علی داستان گو، آغا شاعر دہلوی، فن و شخصیت، ملا واحدی کی کہانی، انوکھے لوگ دل چسپ واقعات اوّل،انوکھے لوگ دل چسپ واقعات دوم، عالی جی کی کویتا رانی، شان الحق حقی ایک نادر علمی و ادبی شخصیت، مسٹر دہلوی کی مزاحیہ شاعری اور نرالی اُردو کے عنوانات سے مضامین شامل کیے گئے ہیں جو ہندوستان کے دارالحکومت دلی اور اس کے مایہ ناز شخصیت کا تعارف کراتے ہیں۔ محمود عزیز صاحب کی یہ کتاب اپنا تعارف آپ ہے اور دلی والوں کی یادیں تازہ کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

مضامین
وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر