وجود

... loading ...

وجود

رہنمائوں کی پت جھڑجار ی،ن لیگ شدیددبائومیں

جمعه 13 اپریل 2018 رہنمائوں کی پت جھڑجار ی،ن لیگ شدیددبائومیں

مسلم لیگ ن جس کو بلاول زرداری نے مسلم لیگ ش کا نام دیا ہے، اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ ارکان اسمبلی کا پارٹی چھوڑ چھوڑ کر جانا اس کہاوت کے مصداق ہے کہ جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے چوہے نکل کر بھاگتے ہیں۔ گویا پارٹی چھوڑنے والے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ن لیگ ڈوبنے والی ہے۔ لیکن اس کا امکان کم ہے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ عام انتخابات میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو مگر اندازہ ہے کہ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں یہ زیادہ نشستیں حاصل کرلے گی۔ اس کی وجہ ن لیگ یا میاں نواز شریف کی کارکردگی نہیں بلکہ مقابل کی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی ’’نا کارکردگی‘‘ ہے۔ پیپلزپارٹی کے صدر نشین بلاول زرداری بڑھک تو مارتے رہتے ہیں کہ مرکز اور پنجاب سمیت چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی اور ان کے والد آصف علی زرداری کہہ رہے ہیں کہ اگلا وزیراعظم بلاول ہوگا اور شاید وہ ایک بار پھر صدر مملکت کے منصب پر سرفراز ہوں گے۔ لیکن پنجاب تو کیا سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

بلاول زرداری نے بدھ کو تھرپارکر میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سب سے زیادہ خوشحالی اور ترقی تھر میں آئی ہے اور یہ وہی تھر ہے جہاں سے روزانہ بچوں کی اموات کی خبریں آرہی ہیں۔ ان کی ہلاکت کی بنیادی وجہ غذائی قلت اور اسپتالوں میں طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ شاید اسی معاملے میں تھر کا خطہ پورے ملک میں سب سے آگے ہے۔ بلاول زرداری کے مصاحبوں نے انہیں جانے تھر کا کون سا رخ دکھایا ہے اور یہ تقریر انہیں کس نے لکھ کر دی ہے لیکن تھر ہی کیا پورا سندھ گڈ گورننس کا شاہکار ہے۔ کراچی جیسا بین الاقوامی شہر کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس پاکستان سخت تبصرہ کرچکے ہیں اور گزشتہ منگل کو بھی انہوں نے بلوچستان کا موازنہ سندھ سے کیا ہے کہ اس کی حالت تو سندھ سے بھی بد ہے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آرہی البتہ تحریک انصاف آگے بڑھی ہے لیکن اب بھی وہ ن لیگ سے پیچھے ہے جس کا ثبوت حالیہ ضمنی انتخابات ہیں ن لیگ کو ایک بڑا دھچکا اپنے 10 قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان کی بغاوت سے پہنچا ہے لیکن اس پر میاں نواز شریف اور ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا رد عمل مضحکہ خیز ہے۔

میاں نواز شریف نے فرمایا کہ جانے والے تو کبھی ہمارے تھے ہی نہیں، یہ تو سیاسی بنجارے ہیں، انہیں معلوم ہوگیا کہ آئندہ انہیں ٹکٹ نہیں ملے گا تو وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ نواز شریف نے یہ بھی کہاکہ ان لوگوں پر اچانک کچھ وارد ہوا ہے۔ ان کا یہ اشارہ واضح ہے کہ کس نے ان پر کیا وارد کیا لیکن دوسری طرف ن لیگ کے نئے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف روٹھے ہوؤں کو منانے کے لیے خود جنوبی پنجاب پہنچ گئے۔ اگر یہ بقول نواز شریف، کبھی ساتھ تھے ہی نہیں اور یہ لوگ منظر سے ہٹ جائیں گے تو انہیں منانے کی کیا ضرورت ہے۔

ممکن ہے کہ میاں شہباز شریف مزید توڑ پھوڑ کو روکنے کے لیے جنوبی پنجاب گئے ہوں کیونکہ جنوبی پنجاب کے نعرے پر جمع ہونے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی بہت سے مزید افراد ان سے آملیں گے۔ ان کو روکنے کے لیے حکومت کے پاس وسائل کی کمی تو ہے نہیں۔ شہباز شریف نے بطور پارٹی صدر یہ ہدایت بھی کی تھی کہ جانے والوں کے خلاف بیانات نہ دیے جائیں لیکن کسی نے کان نہیں دھرے اور پارٹی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جس کے جو منہ میں آرہا ہے کہہ رہا ہے۔ رانا ثنا ا ہوں یا طلال چودھری، سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جانے والوں کے بارے میں رانا ثنا اللہ نے جو کہا وہ بالکل صحیح ہے لیکن انہیں شاید یاد نہیں رہا کہ پہلے وہ خود بھی پیپلزپارٹی میں تھے جہاں سے انہیں فارغ کیا گیا۔ ان کے ممدوح میاں نواز شریف نے بھی ائر مارشل اصغر خان کی پارٹی سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا جب انہیں یقین ہوگیا کہ اس پارٹی میں رہ کر انہیں کوئی اہم مقام نہیں ملنے والا تو پارٹی چھوڑ گئے۔ یہ بات صحیح ہے کہ ان 10 ارکان اسمبلی کو اچانک جنوبی پنجاب کا درد کیوں اٹھ گیا۔ تقریباً 5 سال تک تو وہ اسمبلیوں سے بھرپور فوائد حاصل کرتے رہے اور اس عرصے میں جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو بھلائے رکھا۔ اس سے میاں نواز شریف کی اس بات میں جان تو ہے کہ ان پر اچانک کچھ وارد ہوا ہے۔ اس سے پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے جنوبی پنجاب کے علیحدہ صوبے کی بات کی تھی تو موجودہ وزیر مملکت عابد شیر علی نے ایسی بات کرنے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ ممکن ہے وہ اپنی دھمکی پر عمل کرنے کے لیے ملتان جارہے ہوں۔ انتخابات سے پہلے سیاسی بنجاروں کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے اور وہ جہاں فائدہ دیکھتے ہیں اپنا سامان اٹھاکر سرسبز چراہ گاہوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ایسے میں کچھ ایجنسیاں بھی اپنا ’’فرض منصبی‘‘ ادا کرنے سے نہیں چوکتیں۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر