وجود

... loading ...

وجود
وجود

ق لیگ کے سربراہ کی سوانح حیات سیاسی اورغیرسیاسی حلقوں میں مقبول چودھری شجاعت نے سچ لکھ دیا

جمعه 13 اپریل 2018 ق لیگ کے سربراہ کی سوانح حیات سیاسی اورغیرسیاسی حلقوں میں مقبول چودھری شجاعت نے سچ لکھ دیا

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کی خودنوشت سوانح حیات ’’سچ تو یہ ہے‘‘ کو سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے، انہوں نے واقعات کو بے ساختگی اور سادگی سے بیان کر دیا ہے، اگرچہ کہیں کہیں تشنگی کا احساس ہوتا ہے اور آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس لذیذ حکایت کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا لیکن لکھنے والے کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ واقعات کو کس طرح دیکھتا اور کس طرح بیان کرتا ہے، اسے اس ضمن میں کوئی مشورہ تو نہیں دیا جا سکتا البتہ اس حکایت میں جن لوگوں کا ذکر آیا ہے ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اللہ کو پیارے ہو چکے، لیکن بہت سے حضرات ماشاء اللہ زندہ سلامت موجود ہیں اور اپنے حصے کے کردار کی تفصیلات بیان کر سکتے ہیں، اس لیے اْنہیں چاہئے کہ وہ قلم اٹھائیں تاکہ آنے والے دور میں جب مورخ تاریخ لکھنے بیٹھے تو اس کے پاس مصدقہ مواد موجود ہو۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی کس طرح ہوئی، اس سے وہ لوگ تو واقف ہیں جن کے سامنے یہ واقعات گزرے یا پھر اس کی رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوتی رہیں لیکن یہ بات چودھری شجاعت حسین کی کتاب پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ 6اگست 1990ء کو جب بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کا منصوبہ ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’نیشن‘‘ میں شائع ہو چکا تھا۔

بے نظیر بھٹو آئی ایس آئی چیف شمس الرحمن کلو کی موجودگی میں معمول کی سرکاری سرگرمیوں میں مگن تھیں، وہ اتنی مطمئن نظر آ رہی تھیں کہ اس روز انہوں نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی صدارت بھی کی، ان کے اس اطمینان کی وجہ یہ تھی کہ ان اطلاعات پر کہ آج اْن کی حکومت برطرف کی جا رہی ہے، انہوں نے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ غلام اسحاق خان سے ملاقات کرکے ان سے حقیقتِ حال دریافت کریں۔ چودھری شجاعت لکھتے ہیں ’’امریکی سفیر صبح ساڑھے نو بجے صدر سے ملنے ایوانِ صدر گئے، اْن کے بعد ہیپی مینوالا نے بھی صدر سے ملاقات کی، دونوں نے واپس آ کر بے نظیر بھٹو کو بتایا کہ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت برطرف کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ بے نظیر بھٹو کی تشفی ہو گئی لیکن شام پونے پانچ بجے جب صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو فون کرکے حکومت برطرف کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تو بے نظیر بھٹو بری طرح بوکھلا گئیں اور کہا کہ ’’اگر آپ نے یہی فیصلہ کر رکھا تھا تو آج صبح آپ نے اس کی تردید کیوں کی؟ اس پر صدر اسحاق نے مختصر سا جواب دیا کہ یہ فیصلہ میں نے آج بعد دوپہر کیا ہے۔‘‘ اگرچہ غلام اسحاق خان اور بے نظیر بھٹو اب اس دنیا میں موجود نہیں لیکن بہت سے ایسے حضرات جن کے براہ راست یا بالواسطہ علم میں یہ واقع ہے وہ اس کی تفصیلات منظرعام پر لا سکتے ہیں، اوپر ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’نیشن‘‘ کی جس خبر کا تذکرہ ہے، وہ عارف نظامی نے پوری تفصیل سے بیان کر دی تھی اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ نگران حکومتوں میں کون کون سے نام شامل ہوں گے۔

واقعات بالکل اسی طرح رونما ہوئے، حیرت البتہ یہ ہوتی ہے کہ وزیراعظم کو خبر کی تصدیق کے لیے اپنے وزراء یا عملے کے سرکاری ارکان میں سے کوئی ایسی شخصیت نہ ملی جو صدر کے پاس جا کر معلومات لے سکتی یا خبر کی تصدیق کر سکتی۔ ان کی نظر انتخاب اگر پڑی تو امریکی سفیر پر، جو یہ معلومات لے کر آئے کہ صدر اسحاق نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ چودھری شجاعت نے یہ واقعہ جس طرح لکھا وہ ہم نے بیان کر دیا۔

اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا امریکی سفیر بھی صدر اسحاق کے اس جواب سے مطمئن ہو گئے تھے اور اْنہوں نے جواب کو من و عن تسلیم کر لیا تھا، کیونکہ اگر دو ذمے دار اخبارات کے ایڈیٹر کی اپنی خبر اخبار میں شائع ہو چکی تھی تو رابرٹ اوکلے کے پاس بھی تو کچھ معلومات ہوں گی جو غلام اسحاق خان کے اس جواب سے ممکن ہے، مختلف ہوں کہ حکومت واقعی برطرف کی جا رہی تھی یا نہیں۔ اب دو صورتیں ممکن ہیں، ایک تو یہ کہ امریکی سفیر بھی صدر کے ممکنہ فیصلے سے بے خبر ہوں یا اگر وہ حقیقتِ حال جانتے ہوں تو انہوں نے دانستہ بے نظیر بھٹو کو کچھ بتانے سے گریز کیا ہو، یہ بھی ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو کہ چند گھنٹوں بعد جو خبر ساری دنیا کو معلوم ہو جانے والی ہے وہ میں بے نظیر بھٹو کو بتا کر پریشان کیوں کروں، اْنہیں بھی جلد ہی علم ہو جائے گا۔

کتاب میں بہت سے ایسے واقعات کا تذکرہ ہے جس کے کردار ابھی زندہ ہیں اور وہ اپنا نقطہ نظر سامنے لا سکتے ہیں وہ واقعات کی تصدیق کر سکتے ہیں یا انہیں جھٹلا سکتے ہیں یا پھر ان کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ کتاب میں مندرج حقائق کی تصدیق یا تصحیح کریں، وہ کسی بھی واقعے کی تفصیل بیان کر سکتے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین نے تو سچ لکھ دیا بلکہ کتاب کا نام بھی ’’سچ تو یہ ہے‘‘ رکھا ہے لیکن بعض سچ تشریح طلب بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس محمد رستم کیانی (ایم آر کیانی) نے ’’ناٹ دی ہول ٹرتھ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے اس کا نام ’’ہول ٹرتھ‘‘ (پورا سچ) تجویز کیا گیا تھا۔ کتاب میں فیلڈ مارشل ایوب خان کا ایک مختصر سا دیباچہ بھی شامل ہے۔ اس کے بعد اْنہوں نے تقنن طبع سے کام لیتے ہوئے کتاب کا نام ہی بدل دیا۔ جسٹس کیانی اپنی تقریروں اور برسرِ عدالت ریمارکس میں ایسے برجستہ فقرے بول جایا کرتے تھے، اس لیے بعید نہیں کہ اْنہوں نے ایسا کیا ہو، یا پھر اْن سے یہ کہانی کسی نے منسوب کر دی ہو، لیکن چودھری شجاعت حسین نے تو کتاب کا نام سوچ سمجھ کر رکھا ہے اور عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ اْنہوں نے تمام تر واقعات پوری صحت کے ساتھ لکھ دیئے ہیں اور جس طرح رونما ہوئے، اسی طرح بیان کر دیئے ہیں تاہم جن شخصیات کا تذکرہ اْنہوں نے کیا ہے، انہیں چاہئے کہ وہ بھی اپنے اپنے حصے کا سچ لکھ یا بول دیں۔ اس وقت تو الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اس کے ذریعے بھی اپنا نقطہ نظر بیان کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ بڑی قومی خدمت ہوگی۔


متعلقہ خبریں


لانڈھی میں غیر ملکیوں کو لے جانیوالی گاڑی پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک وجود - هفته 20 اپریل 2024

پولیس نے کراچی کے علاقے لانڈھی مانسہرہ کالونی میں غیر ملکیوں کو لے جانے والی گاڑی پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے 2دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے حملے میں3 افراد زخمی ہوئے، 2 زخمی سیکیورٹی اہلکاروں میں سے 1 اسپتال میں ویٹی لیٹر پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، ایک...

لانڈھی میں غیر ملکیوں کو لے جانیوالی گاڑی پر حملہ، 2 دہشت گرد ہلاک

بشری بی بی کو کھانے میں ٹائلٹ کلینر ملا کر دیا گیا،عمران خان وجود - هفته 20 اپریل 2024

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ بشری بی بی کو کھانے میں ٹائلٹ کلینر ملا کر دیا گیا ہے۔اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت میں 190 ملین پانڈز ریفرنس کی سماعت کے دوران عمران خان نے جج ناصر جاوید رانا کے روبرو کہا کہ کمرہ عدالت میں اضافی دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں۔ ...

بشری بی بی کو کھانے میں ٹائلٹ کلینر ملا کر دیا گیا،عمران خان

کراچی میں بھکارن بھیک کی جگہ چھیننے پر عدالت پہنچ گئی وجود - هفته 20 اپریل 2024

کراچی کی بھکاری خاتون بھیک مانگنے کی جگہ چھیننے پر دیگر بھکاریوں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت پہنچ گئی۔۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں خاتون بھکاری نے بھیک مانگنے کی جگہ چھوڑنے کیلئے ہراساں کرنے پر تین بھکاریوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے خاتون بھک...

کراچی میں بھکارن بھیک کی جگہ چھیننے پر عدالت پہنچ گئی

مولانا فضل الرحمن کو احتجاج کرنا ہے تو کے پی میں کریں ، بلاول بھٹو وجود - هفته 20 اپریل 2024

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو احتجاج کرنا ہے تو کے پی میں کریں۔پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹوزرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان احتجاج کریں مگر احتجاج حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے ۔مولانا تحقیقات کریں ان کے لوگ غلط ...

مولانا فضل الرحمن کو احتجاج کرنا ہے تو کے پی میں کریں ، بلاول بھٹو

خطوط کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام ججز سے تجاویز مانگ لیں وجود - هفته 20 اپریل 2024

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججز کے خط کے معاملے پر اہم پیش رفت، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ کے تمام ججز سے تجاویز مانگ لیں۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے آفس نے تمام ججز سے پیر تک تجاویز مانگ لیں ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ س...

خطوط کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام ججز سے تجاویز مانگ لیں

اس سال ہم حج کی نگرانی کرینگے شکایت ملی تو حکام کو نہیں چھوڑیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ وجود - هفته 20 اپریل 2024

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حج پر جانے والے تمام افراد کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کردیا اور کہا ہے کہ اس سال ہم بھی حج کے معاملات کی نگرانی کریں گے اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی شکایت کی تو وزارت مذہبی امور کی خیر نہیں۔تفصیلات کے مطابق حج و عمرہ سروسز فراہم کرنے والی نجی...

اس سال ہم حج کی نگرانی کرینگے شکایت ملی تو حکام کو نہیں چھوڑیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسمگلروں ، ذخیرہ اندوزوں کے سہولت کارافسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ وجود - هفته 20 اپریل 2024

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ملک گیر مہم کو تیز کرنے کی ہدایت کردی اور کہا ہے کہ پاکستان سے اسمگلنگ کے جڑ سے خاتمے کا پختہ عزم رکھتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اعلی سطح جائزہ اجلاس آج اسلام آ...

اسمگلروں ، ذخیرہ اندوزوں کے سہولت کارافسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

کلفٹن میں خوفناک انداز میں کار ڈرائیونگ مہنگی پڑگئی، نوجوان گرفتار وجود - جمعه 19 اپریل 2024

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کی حدود میں ڈرفٹنگ کرنا نوجوان کو مہنگا پڑ گیا۔۔کراچی کے خیابان بخاری پر مہم جوئی کرنے والے منچلے کو پولیس نے حوالات میں بند کردیا پولیس کے مطابق نوجوان نے نئی تعمیر شدہ خیابان بخاری کمرشل پر خوفناک انداز میں کار دوڑائی ۔ کار سوار کے خلاف مقدمہ درج کر کے لاک ا...

کلفٹن میں خوفناک انداز میں کار ڈرائیونگ مہنگی پڑگئی، نوجوان گرفتار

ایف آئی اے کی کراچی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی، اسمگلنگ کی کوشش ناکام وجود - جمعه 19 اپریل 2024

ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ائرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے سگریٹ۔ اور تمباکو سے منسلک دیگر مصنوعات اسمگل کرنے کی کوش ناکام بنا دی ۔۔سعودی عرب جانے والے دو مسافروں کو طیارے سے آف لوڈ کردیا گیا ۔۔ ملزمان عمرے کے ویزے پر براستہ یو اے ای ریاض جا رہے تھے۔ ملزمان نے امیگریشن کلیرنس کے ...

ایف آئی اے کی کراچی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی، اسمگلنگ کی کوشش ناکام

بارش کا 75سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،دبئی، شارجہ، ابوظہبی تالاب کا روپ دھار گئے وجود - جمعرات 18 اپریل 2024

متحدہ عرب امارات میں طوفانی ہواں کے ساتھ کئی گھنٹے کی بارشوں نے 75 سالہ ریکارڈ توڑدیا۔دبئی کی شاہراہیں اور شاپنگ مالز کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے۔۔شیخ زید روڈ پرگاڑیاں تیرنے لگیں۔دنیا کامصروف ترین دبئی ایئرپورٹ دریا کا منظر پیش کرنے لگا۔شارجہ میں طوفانی بارشوں سیانفرا اسٹرکچر شدی...

بارش کا 75سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،دبئی، شارجہ، ابوظہبی تالاب کا روپ دھار گئے

قومی ادارہ برائے صحت اطفال، ایک ہی بیڈ پر بیک وقت چار بچوں کا علاج کیا جانے لگا وجود - جمعرات 18 اپریل 2024

کراچی میں بچوں کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں بیڈز ۔ ڈرپ اسٹینڈ اور دیگر طبی لوازمات کی کمی نے صورتحال سنگین کردی۔ ایک ہی بیڈ پر بیک وقت چار چار بچوں کا علاج کیا جانے لگا۔قومی ادارہ برائے صحت اطفال میں بیمار بچوں کے لیے بیڈز کی قلت کے سبب ایک ہی بیڈ پر ایمرجنسی اور وارڈز میں 4 او...

قومی ادارہ برائے صحت اطفال، ایک ہی بیڈ پر بیک وقت چار بچوں کا علاج کیا جانے لگا

سندھ حکومت کا کچی آبادیوں کی گوگل میپنگ کا فیصلہ وجود - جمعرات 18 اپریل 2024

سندھ حکومت کاصوبے بھرمیں کچی آبادیوں کی گوگل میپنگ کا فیصلہ، مشیرکچی آبادی سندھ نجمی عالم کیمطابقمیپنگ سے کچی آبادیوں کی حد بندی کی جاسکے گی، میپنگ سے کچی آبادیوں کا مزید پھیلا روکا جاسکے گا،سندھ حکومت نے وفاق سے کورنگی فش ہاربر کا انتظامی کنٹرول بھی مانگ لیا مشیر کچی آبادی نجمی ...

سندھ حکومت کا کچی آبادیوں کی گوگل میپنگ کا فیصلہ

مضامین
سعودی سرمایہ کاری سے روزگار کے دروازے کھلیں گے! وجود هفته 20 اپریل 2024
سعودی سرمایہ کاری سے روزگار کے دروازے کھلیں گے!

آستینوں کے بت وجود هفته 20 اپریل 2024
آستینوں کے بت

جماعت اسلامی فارم 47والی جعلی حکومت کو نہیں مانتی وجود هفته 20 اپریل 2024
جماعت اسلامی فارم 47والی جعلی حکومت کو نہیں مانتی

پاکستانی سیاست میں ہلچل کے اگلے دو ماہ وجود هفته 20 اپریل 2024
پاکستانی سیاست میں ہلچل کے اگلے دو ماہ

'ایک مکار اور بدمعاش قوم' وجود هفته 20 اپریل 2024
'ایک مکار اور بدمعاش قوم'

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر