وجود

... loading ...

وجود

شب معراج میں آنحضرت ا کی عالم بالاکی سیر

جمعه 13 اپریل 2018 شب معراج میں آنحضرت ا کی عالم بالاکی سیر

مفتی محمد وقاص رفیع
ہجرت سے پانچ سال قبل یعنی نبوت کے بارہویں سال مؤرخہ ۲۶ رجب المرجب کو جب کفار و مشرکین نے حضور نبی کریم ؐ کو بہت زیادہ ستایا اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچائیں تو آپؐ اُن سے بچ کر شعبِ ابی طالب کے قریب ہی واقع اپنی عم زاد بہن حضرت اُم ہانیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں سکونت اختیار فرمائی اور اُسے اپنا گھر قرار دیا ، پھر اس کی اگلی شب مؤرخہ ۲۷ رجب المرجب کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل ؑ کو حکم دیا کہ وہ فرشتوں کی ایک بڑی جماعت اور برق رفتار سواری لے کر جائیں اور حضور نبی کریم ؐکونہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ میری ملاقات کے لیے عالم بالا کی طرف لے کر آئیں۔ چنانچہ حضرت جبریل ؑ فرشتوں کی ایک بھاری جماعت اور ’’براق‘‘ نامی سواری لے کر آنحضرتؐ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے چلنے کو کہا ،آپؐ اُس وقت اپنی عم زاد بہن حضرت اُم ہانی ؓکے گھر آرام فرمارہے تھے۔ چنانچہ حضرت جبریل ؑسب سے پہلے آپؐ کو ’’حطیم‘‘ میں لے گئے اور وہاں آپؐ کا سینہ مبارک اُوپر سے نیچے تک چاک کیا ، آپؐ کا قلب اطہر نکالا اور اُسے ایک زرّیں طشت میں آبِ زم زم سے دھویا ، پھر ایک اور طشت لایا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا ، اُس سے ایمان و حکمت کو نکال کر آپؐ کے قلب مبارک میں بھر دیا اور آپؐ کے سینہ مبارک کو پہلے کی طرح درُست فرمادیا ۔ ( صحیح مسلم)

اس کے بعد ایک سفید رنگ کی سواری لائی جسے ’’براق‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دراز گوش ( گدھے) سے ذرا بڑا اور خچر سے سے ذرا چھوٹا جانور تھا اور اس قدر برق رفتار تھا کہ اپنی منتہائے نظر پر قدم رکھتا تھا۔ اس پر زین اور لگام لگے ہوئے تھے ۔ حضورؐ اُس پر سوار ہوئے اور حضرت جبریل ؑکے ہم راہ حطیم سے بیت المقدس کی جانب روانہ ہوگئے ، بیت المقدس پہنچ کر بابِ محمد ؐکے پاس آپؐ نے اپنی سواری اُس حلقہ سے باندھ دی جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے ( صحیح مسلم) اور حضرت جبریل ؑ کی معیت میں فنائے مسجد میں پہنچ کر سب سے پہلے حوروں سے ملاقات کی،اس کے بعد دونوں حضرات نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی ، دریں اثناء مؤذن نے تہجد کی اذان کہی ، اذان کے بعدحضرت جبریل ؑ نے آپؐ کا ہاتھ مبارک پکڑ کر آپؐ کو امامت کے لیے آگے کی جانب بڑھادیا اور مکبّر نے تکبیر کہی اور تمام انبیاء ؑ اور ملائکہ ؑ نے آپؐ کی اقتداء میں باجماعت تہجد کی نماز ادا کی اور پھر اس کے بعد آپؐ سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔

ادائیگیٔ صلوٰۃکے بعد آنحضرت ؐ مسجد سے باہر تشریف لائے تو حضرت جبریل ؑ نے آپؐ کے پاس دو قسم کے برتن لائے ، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھا ، آپؐ نے شراب کے مقابلہ میں دودھ کو پسند فرمایا ، اس پرحضرت جبریل ؑ کہنے لگے کہ: ’’ آپؐ نے دین فطرت کو اختیار فرمایا ہے۔‘‘ اور پھر آپ ؐ حضرت جبریل ؑکے ہم راہ عالم بالا کی سیر کے لیے روانہ ہوگئے۔ ( صحیح مسلم)

جب پہلے آسمان پر پہنچے اورحضرت جبریل ؑنے آسمان کا دروازہ کھلوایاتو وہاں حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ پھر دوسرے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت یحییٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ پھر تیسرے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت یوسف ؑ سے ملاقات ہوئی۔ ( مشکوٰۃ) پھر چوتھے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی۔ (بخاری) پھر پانچویں آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ (بخاری) پھر چھٹے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ ( بخاری) پھر ساتویں آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ (بخاری) پھر حضرت جبریل ؑ آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر گئے اور بیت المعمور آپؐ کے سامنے کر دیا گیا ۔ (صحیح مسلم)

سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کے بعد حضرت جبریل ؑ وہاں پر ٹھہر گئے اور آگے جانے سے معذر کرنے لگے تو حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’جبرئل ؑ! یہ وفا تو نہ ہوئی ناکہ یہاں مجھے اکیلا چھوڑ کر واپس جارہے ہو؟ بھلاایسی جگہ کوئی دوست اپنے دوست کو تن تنہا اور اکیلا چھوڑ کر جابھی سکتا ہے ؟۔‘‘ حضرت جبریل ؑ نے عرض کیا : ’’یارسول اللہؐ! اگر میں اس جگہ سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھا تو تجلیات الٰہی کی روشنی سے جل کر راکھ ہوجاؤں گا ۔‘‘ حضور اقدسؐ اور حضرت جبریل ؑ کے اس مکالمے کی شیخ سعدی ؒ نے نظم کے سے انداز میں یوں منظر کشی کی ہے:

بدو گفتم سالارِ بیت الحرام
کہ اے حامل وحی برتر خرام
چو در دوستی مخلصم یافتی
عنانم زِصحبت چرا تافتی؟
بگفتا فراتر مجالم نماند
بماندم کہ نیروئے بالم نماند
اگر یک سر موئے برتر پرم
فروغِ تجلّٰی بسوزد پرم

ترجمہ:(۱)کعبہ کے سردار ( حضورِ اقدسؐ) نے (حضرت جبریل ؑ) سے فرمایا : ’’ اے حامل وحی! آگے کی جانب بڑھیے! (۲) جب دوستی میں تم نے مجھے مخلص پایا ہے تو اب میری صحبت سے تم اپنی باگ کیوں موڑ رہے ہو؟ ۔ (۳) حضرت جبریل ؑ نے عرض کیاکہ: ’’ اب مزیدآگے کی جانب بڑھنے کی مجھ میں سکت نہیں ، میں عاجز آگیا ہوں کیوں کہ میرے پروں میں اب اُڑنے کی طاقت ہی نہیں رہی ۔ (۴) اگر ایک بال برابر بھی میں آگے کی جانب بڑھا تو تجلیاتِ الٰہی کی روشنی میرے پروں کو جلاکر ( مجھے) راکھ بنادے گی۔( بوستانِ سعدیؒ)

اس کے بعد آنحضرت ؐ کو نور میں پیوست کردیا گیا اور ستر (۷۰) ہزار حجاب آپؐ پر ڈال دیئے گئے جس کے سبب تمام انسانوں اور فرشتوں کی آہٹ آپؐ سے منقطع ہوگئی ، اُس وقت آپؐ کو کچھ وحشت سی ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ آپؐ کے رفیق غار سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شکل کا پیدا فرمادیا ، جس نے لہجۂ صدیقیؓ میں آپؐ کو پکارا ، آپؐ نے جب اپنے رفیق غار کی سی مانوس آواز سُنی تو آپؐ کی ساری کی ساری وحشت کافور ہوگئی اور آپؐ بالکل مطمئن ہوگئے۔پھر آپؐ کے لیے ایک سبز رنگ کا منبر لایا گیا ، جس پر آپؐ جلوہ افروز ہوئے اور آپ ؐ کو اُوپر کی جانب اُٹھالیا گیا اور آپؐ عرشِ معلّٰی تک پہنچ گئے ۔ (مواہب لدنیہ بحوالہ شفاء الصدور)

اس کے بعد آنحضرتؐ اپنے رب کی بارگاہ میں مہمان بن کر حاضر ہوئے ، جہاں آپؐ نے اپنے کریم رب سے شرفِ ملاقات حاصل کیا ، اپنے رب کا دیدار کیا اور اپنے رب سے ہم کلام ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو جنت اور جہنم کی سیر کروائی اور وہاں کے مختلف قسم کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کروایا ، اور واپسی پر آپؐ کو سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں اور نماز بطورِ تحفہ کے عطا فرمائی ، اور اُمت کے گناہ گار مسلمانوں کے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ وعدہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص صرف نیکی کرنے کا ارادہ کرے گا تو میں اس کی نیکی لکھ دوں گا اور اگر اُس نے وہ نیکی کر لی تو اُس کو دس نیکیوں کا بدلہ عطا فرماؤں گا اور اگر کسی شخص نے گناہ کا ارادہ کیا تو اُس کا گناہ نہیں لکھوں گا ، ہاں! اگر اس نے وہ گناہ کرلیا تو صرف اُس کا ایک ہی گناہ لکھوں گا ۔ ( ملخص از صحیح مسلم)

الغرض جب آپؐ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے واپس ہوئے چھٹے آسمان پر آپؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی ، انہوں نے پوچھا کہ اپنے رب کی طرف سے آپؐ کو کیا حکم ملا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ دن رات میں پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم ملا ہے ۔ ‘‘حضرت موسی ؑ نے عرض کیا کہ: ’’ آپؐ کی اُمت دن رات میں پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی ، کیوں کہ میں اس سے پہلے اپنی قوم بنی اسرائیل میں اس کا بارہا تجربہ کرچکا ہوں اس لیے آپؐ اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور نماز کے سلسلے میں تخفیف ( ہلکا پن) کا مطالبہ کریں۔‘‘ آپؐواپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں تخفیف کرنے کی درخواست کی ،تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں اور پینتالیس نمازیں پڑھنے کا حکم دے دیا ، لیکن جب آپ ؐ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس دوبارہ پہنچے اور انہیں پینتالیس نمازیں پڑھنے کا حکم سنایا تو انہیں نے عرض کیا کہ آپؐ اس سے بھی مزید کم کروائیں ۔‘‘ چنانچہ آنحضرت ؐ مسلسل آتے اور جاتے رہے اور حضرت موسیٰ ؑ سے اسی طرح کا مکالمہ فرماتے رہے اور ہربار پانچ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ کم کرواتے رہے یہاں تک کہ آکر میں پانچ نمازیں باقی رہ گئیں، حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ: ’’ یہ بھی زیادہ ہیں آپؐ ان میں بھی اپنے رب سے تخفیف کرنے کی درخواست کریں کیوں کہ میری امت بنی اسرائیل پر صرف دو نمازیں فرض تھی اور وہ ان دو میں بھی پس و پیش سے کام لیتے تھے۔‘‘ لیکن اس بار آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ موسیٰ ؑ ! اب تخفیف کرواتے ہوئے مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے ، ا س لیے اب اسی پر راضی رہتا ہوں اور انہیں تسلیم کرلیتا ہوں ۔‘‘

شیخین کی روایت میں ہے کہ جب کم ہوتے ہوتے ہوئے پانچ نمازیںباقی رہ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ یہ ہیں تو پانچ لیکن اجر و ثواب میں پچاس کے برابرہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف)

اس کے بعد آپؐ اپنی عم زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر واپس تشریف لے آئے جہاں سے عالم بالا کی سیر کرنے کوگئے تھے ، جب صبح ہوئی تو آپؐ نے باہر کے لوگوں سے اس واقعہ کاذکر کیا ،تو بعضے لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے وہ تو فوراً مرتد ہوگئے اور بعضے کفارو و مشرکین دوڑے دوڑے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ : ’’ آپؓ کو اپنے دوست کی بھی کچھ خبر ہے ؟جو یوں کہتے ہیں کہ مجھے راتوں رات اپنے گھر سے بیت المقدس لے جایا گیا اور صبح سے پہلے میں واپس بھی آگیا ؟۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ : ’’ میں تو اُن کی اِس بات کی بھی تصدیق کرتا ہوں جو اِس سے بھی زیادہ ناممکن ہے یعنی آسمان کی خبر کے بارے میں جو اِس سے بھی کم وقت میں صبح و شام اِن کے پاس آتی ہے تو میں اِس واقعہ کی تصدیق کیسے نہ کروں؟ چناں چہ اِس واقعہ کی تصدیق ہی کی وجہ سے حضرت ابوبکر ؓ کا لقب ’’ صدیق‘‘ پڑگیا ۔ ( نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب)

بہرحال کفارو مشرکین کو جب دربارِ صدیقیؓ سے بھی منہ کی کھانی پڑی تو واپس آکر حضور نبی پاکؐ سے مختلف قسم کی حیل و حجتیں اور آپؐ سے مختلف قسم کی چیزوں کے بارے میں سوالات کرنے لگے ۔ چناں چہ حضرت ابوہریرۃؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’قریش (مکہ) مجھ سے بیت المقدس (کی بعض ایسی چیزوں) کے بارے میں پوچھتے تھے جنہیں میں (دورانِ سفر اپنے دل و دماغ میں) ضبط (محفوظ) نہ کرسکا تھا ، اس لیے اُن کے ( اِن بے ہودہ اور لغو قسم کے) سوالات سے مجھے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی جو اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری آنکھوں کے سامنے متخیل و ممثل بناکر لا کھڑا کردیا وہ جو جو باتیں مجھ سے پوچھتے تھے میں انہیں ان کا جواب دے دیتا تھا ، حتیٰ کہ اُن میں سے ایک شخص نے تو یہاں تک پوچھا کہ بیت المقدس کے دروازے کتنے تھے ؟ پس میں بیت المقدس کو دیکھتا رہا اور ایک ایک دروازہ شمار کرکے اسے بتاتارہا ۔( مشکوٰۃ بحذف و تغیر) اورابویعلیٰ کی روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والا جبیر بن مطعم کا والد مطعم ابن عدی تھا ۔ واللہ اعلم


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر