وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شب معراج میں آنحضرت ا کی عالم بالاکی سیر

جمعه 13 اپریل 2018 شب معراج میں آنحضرت ا کی عالم بالاکی سیر

مفتی محمد وقاص رفیع
ہجرت سے پانچ سال قبل یعنی نبوت کے بارہویں سال مؤرخہ ۲۶ رجب المرجب کو جب کفار و مشرکین نے حضور نبی کریم ؐ کو بہت زیادہ ستایا اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچائیں تو آپؐ اُن سے بچ کر شعبِ ابی طالب کے قریب ہی واقع اپنی عم زاد بہن حضرت اُم ہانیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں سکونت اختیار فرمائی اور اُسے اپنا گھر قرار دیا ، پھر اس کی اگلی شب مؤرخہ ۲۷ رجب المرجب کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل ؑ کو حکم دیا کہ وہ فرشتوں کی ایک بڑی جماعت اور برق رفتار سواری لے کر جائیں اور حضور نبی کریم ؐکونہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ میری ملاقات کے لیے عالم بالا کی طرف لے کر آئیں۔ چنانچہ حضرت جبریل ؑ فرشتوں کی ایک بھاری جماعت اور ’’براق‘‘ نامی سواری لے کر آنحضرتؐ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے چلنے کو کہا ،آپؐ اُس وقت اپنی عم زاد بہن حضرت اُم ہانی ؓکے گھر آرام فرمارہے تھے۔ چنانچہ حضرت جبریل ؑسب سے پہلے آپؐ کو ’’حطیم‘‘ میں لے گئے اور وہاں آپؐ کا سینہ مبارک اُوپر سے نیچے تک چاک کیا ، آپؐ کا قلب اطہر نکالا اور اُسے ایک زرّیں طشت میں آبِ زم زم سے دھویا ، پھر ایک اور طشت لایا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا ، اُس سے ایمان و حکمت کو نکال کر آپؐ کے قلب مبارک میں بھر دیا اور آپؐ کے سینہ مبارک کو پہلے کی طرح درُست فرمادیا ۔ ( صحیح مسلم)

اس کے بعد ایک سفید رنگ کی سواری لائی جسے ’’براق‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دراز گوش ( گدھے) سے ذرا بڑا اور خچر سے سے ذرا چھوٹا جانور تھا اور اس قدر برق رفتار تھا کہ اپنی منتہائے نظر پر قدم رکھتا تھا۔ اس پر زین اور لگام لگے ہوئے تھے ۔ حضورؐ اُس پر سوار ہوئے اور حضرت جبریل ؑکے ہم راہ حطیم سے بیت المقدس کی جانب روانہ ہوگئے ، بیت المقدس پہنچ کر بابِ محمد ؐکے پاس آپؐ نے اپنی سواری اُس حلقہ سے باندھ دی جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے ( صحیح مسلم) اور حضرت جبریل ؑ کی معیت میں فنائے مسجد میں پہنچ کر سب سے پہلے حوروں سے ملاقات کی،اس کے بعد دونوں حضرات نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی ، دریں اثناء مؤذن نے تہجد کی اذان کہی ، اذان کے بعدحضرت جبریل ؑ نے آپؐ کا ہاتھ مبارک پکڑ کر آپؐ کو امامت کے لیے آگے کی جانب بڑھادیا اور مکبّر نے تکبیر کہی اور تمام انبیاء ؑ اور ملائکہ ؑ نے آپؐ کی اقتداء میں باجماعت تہجد کی نماز ادا کی اور پھر اس کے بعد آپؐ سے شرفِ ملاقات حاصل کیا۔

ادائیگیٔ صلوٰۃکے بعد آنحضرت ؐ مسجد سے باہر تشریف لائے تو حضرت جبریل ؑ نے آپؐ کے پاس دو قسم کے برتن لائے ، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھا ، آپؐ نے شراب کے مقابلہ میں دودھ کو پسند فرمایا ، اس پرحضرت جبریل ؑ کہنے لگے کہ: ’’ آپؐ نے دین فطرت کو اختیار فرمایا ہے۔‘‘ اور پھر آپ ؐ حضرت جبریل ؑکے ہم راہ عالم بالا کی سیر کے لیے روانہ ہوگئے۔ ( صحیح مسلم)

جب پہلے آسمان پر پہنچے اورحضرت جبریل ؑنے آسمان کا دروازہ کھلوایاتو وہاں حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ پھر دوسرے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت یحییٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ پھر تیسرے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت یوسف ؑ سے ملاقات ہوئی۔ ( مشکوٰۃ) پھر چوتھے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی۔ (بخاری) پھر پانچویں آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ (بخاری) پھر چھٹے آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ ( بخاری) پھر ساتویں آسمان پر گئے اور دروازہ کھلوایا تو وہاں حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی ۔ (بخاری) پھر حضرت جبریل ؑ آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر گئے اور بیت المعمور آپؐ کے سامنے کر دیا گیا ۔ (صحیح مسلم)

سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کے بعد حضرت جبریل ؑ وہاں پر ٹھہر گئے اور آگے جانے سے معذر کرنے لگے تو حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا : ’’جبرئل ؑ! یہ وفا تو نہ ہوئی ناکہ یہاں مجھے اکیلا چھوڑ کر واپس جارہے ہو؟ بھلاایسی جگہ کوئی دوست اپنے دوست کو تن تنہا اور اکیلا چھوڑ کر جابھی سکتا ہے ؟۔‘‘ حضرت جبریل ؑ نے عرض کیا : ’’یارسول اللہؐ! اگر میں اس جگہ سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھا تو تجلیات الٰہی کی روشنی سے جل کر راکھ ہوجاؤں گا ۔‘‘ حضور اقدسؐ اور حضرت جبریل ؑ کے اس مکالمے کی شیخ سعدی ؒ نے نظم کے سے انداز میں یوں منظر کشی کی ہے:

بدو گفتم سالارِ بیت الحرام
کہ اے حامل وحی برتر خرام
چو در دوستی مخلصم یافتی
عنانم زِصحبت چرا تافتی؟
بگفتا فراتر مجالم نماند
بماندم کہ نیروئے بالم نماند
اگر یک سر موئے برتر پرم
فروغِ تجلّٰی بسوزد پرم

ترجمہ:(۱)کعبہ کے سردار ( حضورِ اقدسؐ) نے (حضرت جبریل ؑ) سے فرمایا : ’’ اے حامل وحی! آگے کی جانب بڑھیے! (۲) جب دوستی میں تم نے مجھے مخلص پایا ہے تو اب میری صحبت سے تم اپنی باگ کیوں موڑ رہے ہو؟ ۔ (۳) حضرت جبریل ؑ نے عرض کیاکہ: ’’ اب مزیدآگے کی جانب بڑھنے کی مجھ میں سکت نہیں ، میں عاجز آگیا ہوں کیوں کہ میرے پروں میں اب اُڑنے کی طاقت ہی نہیں رہی ۔ (۴) اگر ایک بال برابر بھی میں آگے کی جانب بڑھا تو تجلیاتِ الٰہی کی روشنی میرے پروں کو جلاکر ( مجھے) راکھ بنادے گی۔( بوستانِ سعدیؒ)

اس کے بعد آنحضرت ؐ کو نور میں پیوست کردیا گیا اور ستر (۷۰) ہزار حجاب آپؐ پر ڈال دیئے گئے جس کے سبب تمام انسانوں اور فرشتوں کی آہٹ آپؐ سے منقطع ہوگئی ، اُس وقت آپؐ کو کچھ وحشت سی ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ آپؐ کے رفیق غار سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شکل کا پیدا فرمادیا ، جس نے لہجۂ صدیقیؓ میں آپؐ کو پکارا ، آپؐ نے جب اپنے رفیق غار کی سی مانوس آواز سُنی تو آپؐ کی ساری کی ساری وحشت کافور ہوگئی اور آپؐ بالکل مطمئن ہوگئے۔پھر آپؐ کے لیے ایک سبز رنگ کا منبر لایا گیا ، جس پر آپؐ جلوہ افروز ہوئے اور آپ ؐ کو اُوپر کی جانب اُٹھالیا گیا اور آپؐ عرشِ معلّٰی تک پہنچ گئے ۔ (مواہب لدنیہ بحوالہ شفاء الصدور)

اس کے بعد آنحضرتؐ اپنے رب کی بارگاہ میں مہمان بن کر حاضر ہوئے ، جہاں آپؐ نے اپنے کریم رب سے شرفِ ملاقات حاصل کیا ، اپنے رب کا دیدار کیا اور اپنے رب سے ہم کلام ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو جنت اور جہنم کی سیر کروائی اور وہاں کے مختلف قسم کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کروایا ، اور واپسی پر آپؐ کو سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں اور نماز بطورِ تحفہ کے عطا فرمائی ، اور اُمت کے گناہ گار مسلمانوں کے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ وعدہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص صرف نیکی کرنے کا ارادہ کرے گا تو میں اس کی نیکی لکھ دوں گا اور اگر اُس نے وہ نیکی کر لی تو اُس کو دس نیکیوں کا بدلہ عطا فرماؤں گا اور اگر کسی شخص نے گناہ کا ارادہ کیا تو اُس کا گناہ نہیں لکھوں گا ، ہاں! اگر اس نے وہ گناہ کرلیا تو صرف اُس کا ایک ہی گناہ لکھوں گا ۔ ( ملخص از صحیح مسلم)

الغرض جب آپؐ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے واپس ہوئے چھٹے آسمان پر آپؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی ، انہوں نے پوچھا کہ اپنے رب کی طرف سے آپؐ کو کیا حکم ملا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ دن رات میں پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم ملا ہے ۔ ‘‘حضرت موسی ؑ نے عرض کیا کہ: ’’ آپؐ کی اُمت دن رات میں پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی ، کیوں کہ میں اس سے پہلے اپنی قوم بنی اسرائیل میں اس کا بارہا تجربہ کرچکا ہوں اس لیے آپؐ اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور نماز کے سلسلے میں تخفیف ( ہلکا پن) کا مطالبہ کریں۔‘‘ آپؐواپس تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ سے نمازوں میں تخفیف کرنے کی درخواست کی ،تو اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں اور پینتالیس نمازیں پڑھنے کا حکم دے دیا ، لیکن جب آپ ؐ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس دوبارہ پہنچے اور انہیں پینتالیس نمازیں پڑھنے کا حکم سنایا تو انہیں نے عرض کیا کہ آپؐ اس سے بھی مزید کم کروائیں ۔‘‘ چنانچہ آنحضرت ؐ مسلسل آتے اور جاتے رہے اور حضرت موسیٰ ؑ سے اسی طرح کا مکالمہ فرماتے رہے اور ہربار پانچ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ کم کرواتے رہے یہاں تک کہ آکر میں پانچ نمازیں باقی رہ گئیں، حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ: ’’ یہ بھی زیادہ ہیں آپؐ ان میں بھی اپنے رب سے تخفیف کرنے کی درخواست کریں کیوں کہ میری امت بنی اسرائیل پر صرف دو نمازیں فرض تھی اور وہ ان دو میں بھی پس و پیش سے کام لیتے تھے۔‘‘ لیکن اس بار آپؐ نے فرمایا کہ : ’’ موسیٰ ؑ ! اب تخفیف کرواتے ہوئے مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے ، ا س لیے اب اسی پر راضی رہتا ہوں اور انہیں تسلیم کرلیتا ہوں ۔‘‘

شیخین کی روایت میں ہے کہ جب کم ہوتے ہوتے ہوئے پانچ نمازیںباقی رہ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ یہ ہیں تو پانچ لیکن اجر و ثواب میں پچاس کے برابرہیں ۔ (مشکوٰۃ شریف)

اس کے بعد آپؐ اپنی عم زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر واپس تشریف لے آئے جہاں سے عالم بالا کی سیر کرنے کوگئے تھے ، جب صبح ہوئی تو آپؐ نے باہر کے لوگوں سے اس واقعہ کاذکر کیا ،تو بعضے لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے وہ تو فوراً مرتد ہوگئے اور بعضے کفارو و مشرکین دوڑے دوڑے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ : ’’ آپؓ کو اپنے دوست کی بھی کچھ خبر ہے ؟جو یوں کہتے ہیں کہ مجھے راتوں رات اپنے گھر سے بیت المقدس لے جایا گیا اور صبح سے پہلے میں واپس بھی آگیا ؟۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ : ’’ میں تو اُن کی اِس بات کی بھی تصدیق کرتا ہوں جو اِس سے بھی زیادہ ناممکن ہے یعنی آسمان کی خبر کے بارے میں جو اِس سے بھی کم وقت میں صبح و شام اِن کے پاس آتی ہے تو میں اِس واقعہ کی تصدیق کیسے نہ کروں؟ چناں چہ اِس واقعہ کی تصدیق ہی کی وجہ سے حضرت ابوبکر ؓ کا لقب ’’ صدیق‘‘ پڑگیا ۔ ( نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب)

بہرحال کفارو مشرکین کو جب دربارِ صدیقیؓ سے بھی منہ کی کھانی پڑی تو واپس آکر حضور نبی پاکؐ سے مختلف قسم کی حیل و حجتیں اور آپؐ سے مختلف قسم کی چیزوں کے بارے میں سوالات کرنے لگے ۔ چناں چہ حضرت ابوہریرۃؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’قریش (مکہ) مجھ سے بیت المقدس (کی بعض ایسی چیزوں) کے بارے میں پوچھتے تھے جنہیں میں (دورانِ سفر اپنے دل و دماغ میں) ضبط (محفوظ) نہ کرسکا تھا ، اس لیے اُن کے ( اِن بے ہودہ اور لغو قسم کے) سوالات سے مجھے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی جو اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری آنکھوں کے سامنے متخیل و ممثل بناکر لا کھڑا کردیا وہ جو جو باتیں مجھ سے پوچھتے تھے میں انہیں ان کا جواب دے دیتا تھا ، حتیٰ کہ اُن میں سے ایک شخص نے تو یہاں تک پوچھا کہ بیت المقدس کے دروازے کتنے تھے ؟ پس میں بیت المقدس کو دیکھتا رہا اور ایک ایک دروازہ شمار کرکے اسے بتاتارہا ۔( مشکوٰۃ بحذف و تغیر) اورابویعلیٰ کی روایت میں ہے کہ یہ پوچھنے والا جبیر بن مطعم کا والد مطعم ابن عدی تھا ۔ واللہ اعلم


متعلقہ خبریں


دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز وجود - هفته 04 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار 172 ہوگئی، 10 لاکھ 98 ہزار 762افراد عالمی وبا کا شکار ہوگئے ، چین میں کورونا سے ہلاک افراد کی یاد میں ایک دن کا سوگ منایا گیا ۔اٹلی میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار 681 ہوگئی۔ ایک لاکھ 19 ہزار 827افراد عالمی وبا کی لپیٹ میں ہیں۔ سپین میں کورونا سے 11 ہزار 198 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔ فرانس میں اب تک 6 ہزار 507 افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔برطانیہ میں 3 ہزار 605 افراد جان سے گئے ۔ جرمنی میں 1275، چین م...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس وجود - هفته 04 اپریل 2020

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے بعد آنے والی وبائیں کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہے ۔ انہوں بیان میں نے کہا کہ کورونا قدرتی وبا ہے اور خوش قسمتی سے اموات کی شرح بھی کم ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ اگلی وبائیں قدرت کے ساتھ حیاتیاتی دہشت گردی سے بھی آسکتی ہیں۔خیال رہے کہ بل گیٹس نے 2015 میں بھی ایک عالمی وبا کے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا دنیا اگلی وبا کیلئے تیار نہیں۔بل گیٹس نے پانچ سال قبل کہا تھا کہ وبا پوری دنیا پھیل سکتی ہے کیوں کہ تمام ممالک آپس می...

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس وجود - هفته 04 اپریل 2020

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ السنوار نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے جو فارمولہ پیش کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے سنجیدہ ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حماس اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتی ہے ۔ یحییٰ السنوار کا فارمولہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔خیال رہے کہ گذشتہ روز غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے صدر یحی...

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

ترجمان دفتر خاجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی تازہ ترین غیرقانونی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر تشکیل نو آرڈر2020ایک اور غیرقانونی بھارتی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرنا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے جاری بیان میں کہا کہ تازہ ترین بھارتی قدام بھی 5 اگست 2019کے بھارت کے ...

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئو پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے سب کو ملکر کوشش کرنا ہوگی۔ڈبلیو ایچ او کے ڈی جی تیدروس ادھا نوم نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ پچھلے ہفتے کورونا کے پھیلا میں تیزی دیکھی گئی جو ایک تشویشناک صورتحال ہے ۔اس مہلک وبا کو فوری طور پر سب کو مل کر روکنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر بڑا جانی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مہلک وبا کے باعث ایک ہ...

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

کا خصوصی طیارہ چین سے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گیا۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 8552 چین سے کورونا وائرس سے متعلق امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچا۔ جہاز میں 20 کنٹینرز پر مشتمل امدادی سامان لایا گیا جس میں ٹیسٹنگ کٹس، گلوز اور ماسک شامل ہیں۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کے بعد سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )حکام کے حوالے کر دیا گیا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کا خصوصی طیارہ گذشتہ روز امدادی سامان لینے چین گیا تھا۔

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم وجود - بدھ 01 اپریل 2020

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو حاصل خصوصی مراعات والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکار...

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ،کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے جدید ترین ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سپرپاور امریکا کی فوج بھی اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز امریکا سے سامنے آ چکے ہیں جب کہ امریکا میں اموات بھی چین اور اسپین سے زیادہ ہو گئی ہیں جہاں اب تک 4 ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وبا سے دو لاکھ...

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق وجود - بدھ 01 اپریل 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس میں مبتلا دو پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ۔ یک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقال ہونے والے سید عطاالرحمان کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان کے علاوہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی امریکن روحیل خان بھی نیویارک میں دم توڑ گئے ۔ ریاست ٹیکساس میں بھی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی ہیں اور دونوں کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ریاست نیو یارک کورونا...

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے مما...

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس نے 202ممالک میں پنجے گاڑ لئے ، دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہزار 156 ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی مہلک وبا نے 202ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 12448 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 5 ہزار 7 سو92 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے 8 ہزار چار سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ۔ چین میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار تین سو پانچ ہے ۔ جرمنی میں کورونا سے سات سو پچھتر افراد ہلاک، فرانس میں...

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا۔ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے دنیا کے ہر ملک کو عدم استحکام، بدامنی اور تنازعات کھڑے ہونے کا خطرہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ثرات سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بیروزگار ہو جائیں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک غریب ملکوں کی مدد کریں ورنہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا