وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کیا سارک کو ختم کرنے کا وقت آ گیا؟

جمعرات 12 اپریل 2018 کیا سارک کو ختم کرنے کا وقت آ گیا؟

بھارت نے ایک بار پھر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ وجے گوکھل کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سارک کانفرنس کا اجلاس نہیں ہوسکتا 2016ء میں بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث انیسویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ہوگئی تھی بھارت نے اڑی کیمپ پر حملے کو بہانہ بنا کر اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ نیپال کے وزیر اعظم نے نئی دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کی جس میں سارک کانفرنس کے اجلاس کے معاملے پر بات چیت ہوئی سارک کا آخری سربراہ اجلاس 2014ء میں کھٹمنڈو میں ہوا تھا اور دو سال بعد اس کا انعقاد اسلام آباد میں ہونا تھا جو بھارت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا، سارک چارٹر کے مطابق اب اجلاس جب بھی ہوگا، اسلام آباد میں ہی ہوگا اس کے بعد ہی کہیں اور ہوسکتا ہے، اس لیے مودی جب تک بھی بائیکاٹ کرتے رہیں انہیں( یا ان کے کسی جانشین کو) اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں آنا ہی پڑے گا یا پھر یہ معاملہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہے گا۔

ابتدا میں سارک کانفرنس سات جنوبی ایشیائی ملکوں نے قائم کی تھی جس کے لیے بنگلہ دیش کے اس وقت کے صدر ضیاء الرحمٰن بہت زیادہ متحرک تھے اور انہوں نے اس کی تشکیل کے لیے کافی محنت کی تھی، لیکن تنظیم کی تشکیل کے وقت اس سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں شومئی قسمت سے وہ پوری نہیں ہوسکیں، جس کی بنیاد ی وجہ بھارت کا رویہ ہے جو رکن ملکوں میں رقبے آبادی اور وسائل کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اور اپنی اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وہ باقی ملکوں پر رعب جمائے رکھنا چاہتا ہے ان سب ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جو آزادانہ حیثیت میں اس کے مدِ مقابل کھڑا رہتا ہے اور سارک میں بھارتی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا اس لیے جب بھی اسلام آباد میں سربراہ کانفرنس یا وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونا ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی اڑچن ڈال دیتا ہے، 2016ء میں بھی نریندر مودی نے ایسا ہی طرزِ عمل اختیار کیا تھا اور اب بھی اْن کے ارادے کچھ ایسے ہی محسوس ہوتے ہیں۔

سارک کانفرنس کے چارٹر کے مطابق رکن ملکوں کے باہمی تنازعات اس کے پلیٹ فارم پر زیر بحث نہیں آسکتے، معلوم نہیں چارٹر میں یہ شق شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی تھی کیونکہ اگر رْکن ملک آپس کے تنازعات کو مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے حل کرلیں تو اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر جیسے مسائل اتنے گھمبیر اور پیچیدہ ہیں کہ بھارت یہ مسائل حل کرنے کے لیے ستر سال سے گریزاں ہے اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ تنازعات وقت کی گرد میں دب کر اپنی اہمیت کھو دیں اور بھارت کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم اور مستحکم رکھے اس لیے اس نے اس امر کا خصوصی اہتمام کروایا کہ رْکن ملک اس پلیٹ فارم پر نہ تو آپس کے تنازعات کا ذکر کریں گے اور نہ ہی ان پر کوئی بات ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ محض کشمیر کا ذکر آنے پر ہی سارک کے مختلف اجلاسوں میں بھارتی مندوبین آتش زیرپا ہو جاتے ہیں اور اجلاسوں میں تلخی اور بائیکاٹ کی نوبت تک آجاتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سارک کانفرنس آج تک اپنے تشکیلی اہداف بھی اسی لیے حاصل نہیں کرسکی کہ اس کے وجود پر بھارت کا منحوس سایہ ہے جس کی وجہ سے سارک ایک ایسے درخت کی مانند بن کر رہ گئی ہے جو پوری طرح نشوونما نہیں پاسکا اور نہ ہی اپنے مقاصد حاصل کرسکا، جب کبھی اس تنظیم کے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور احساس ہونے لگتا ہے کہ اب یہ تنظیم شیر خوارگی سے نکل کر تیزی سے نشوونما پانے کے لیے تیار ہے اسی وقت بھارت اس کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے میں لگ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علاقائی ترقی کی جو تنظیمیں اس کے بعد وجود میں آئیں انہوں نے نہ صرف اپنی منزل پائی بلکہ منزلیں مارتی ہوئی بہت آگے بڑھ گئیں اور کئی خطے ایسی علاقائی ترقی کی تنظیموں کی بدولت خوشحالی سے ہمکنار ہوئے لیکن سارک ایک لاغر سی بے مقصد تنظیم بن کر رہ گئی ہے اور دنیا کی برادری میں نمایاں نہیں ہو سکی۔

2016ء میں سارک کانفرنس کے انعقاد کی تمام تیاریاں مکمل تھیں اسلام آباد کو مہمانوں کے استقبال کے لیے سجا دیا گیا تھا کہ اچانک بھارت نے شرکت سے انکار کر دیا اور بھوٹان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھی اپنی راہ پر لگا لیا ویسے تو ایک رکن بھی شرکت سے انکار کر دے تو سربراہ اجلاس نہیں ہو سکتا لیکن بھارت نے تین دوسرے ارکان کو اپنے ساتھ ملا کر یہ تاثر دیا کہ یہ ملک بھی پاکستان کے خلاف ہیں بھارت نے اجلاس میں عدم شرکت کے لیے جو عذر لنگ تراشا تھا وہ یہ تھا کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے حالانکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کوئی ملک اگر دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں ان میں ایسے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں جو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے آتے ہیں، ان کی تربیت میں بھارت کا کردار بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اس بنیاد پر کبھی کسی کانفرنس میں شرکت سے انکار نہیں کیا بلکہ اگر بھارت ایسی کسی عالمی کانفرنس کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان ڈٹ کر اپنا دفاع کرتا ہے۔

امرتسر کانفرنس میں یہی ہوا تھا جب مودی نے اس کانفرنس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو روس، چین اور ترکی جیسے ملکوں نے بھارتی موقف کو رد کیا۔ پاکستان نے اپنا موقف وزنی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا بھارت کو سارک کے سلسلے میں اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس تنظیم کوصحیح معنوں میں علاقائی ملکوں کے لیے مفید اور کارآمد تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سارک تنظیم نے اسی طرح افناں و خیزاں انداز میں چلنا ہے تو کیا ضروری ہے کہ پاکستان اس کاملبہ اٹھا کر چلتارہے اس جوئے کو اتار کر پھینک کیوں نہ دیا جائے؟ اگر بھارت ہر چند سال بعد کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا حربہ آزمانے کی روش ترک کرنے کے لیے تیار نہیں تو ایسی تنظیم کا بوجھ اتار کیوں نہ دیا جائے؟

کیا وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان ، بھارت اور سارک میں اس کے باج گزار ملکوں کو بتا دے کہ ایسی اپاہج تنظیم کے ساتھ مزید نہیں چلا جا سکتا۔ بہتر ہے اس کی آخری رسومات ادا کرکے اسے دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پر یہ کتبہ لگا دیا جائے کہ یہ وہ تنظیم ہے جو بھارت کی تنگدلی اور ذہنی عْسرت کی وجہ سے پھول پھل نہ سکی اور یہ غنچہ بن کھلے ہی مرجھا گیا۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں وجود - جمعرات 13 مئی 2021

پاکستان میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اہل اسلام آج انتہائی عقیدت سے عید الفطر منارہے ہیں۔ قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین عبد الخبیر آزاد نے اعلان کیا ہے کہ یکم شوال کا چاند نظر آگیا ہاور عید الفطر جمعرات کو ہوگی ۔ واضح رہے کہ یہ پاکستان میں اکیس سال کے بعد ایک ہی روز عید منانے کا موقع آیا ہے جب تمام صوبوں میں ایک ہی روز سب مل کر عید منارہے ہیں۔ بدھ کو عید الفطر کی رویت کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں چیئرمین مولاناعبدالخبیرآزاد ک...

پاکستان میں اہل اسلام عقیدت سے عید منارہے ہیں

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش وجود - جمعرات 13 مئی 2021

وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا ۔بدھ کو ہونے والے رابطے میں وزیر اعظم نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی بہیمانہ حملے کی مذمت کی ۔وزیر اعظم نے کہاکہ اسرائیلی حملے انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون سے انحراف ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کی خود مختاری سکیورٹی کیلئے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا بھی اظ...

وزیر اعظم اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ،فلسطین کی تازہ صورتحال پر اظہار تشویش

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب وجود - جمعرات 13 مئی 2021

فلسطین کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس (آج) پھر طلب کرلیا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں تشدد بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسرائیل سے فلسطینیوں پر حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو بیدخل کرکے یہودی آباد کار بسانا چاہتی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل ہم منصب کوٹیلی فون کرکے کشیدگی ختم کرنیکا پیغام دیا ہے ۔عرب لیگ نے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذم...

فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج پھر طلب

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق وجود - جمعرات 13 مئی 2021

ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت و بربریت پر گفتگو کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو ترک صدررجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا جس میں اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر دونوں رہنماں نے تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماوں نے اسرائیلی جارحیت و بربریت کی مذمت کی اور اتفاق کیا کہ مسلم ممالک کو مل کر اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔رہنماوں نے اس نکتے پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ فلس...

ترک صدر کا وزیراعظم کو فون، مسئلہ فلسطین کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج جمعرات کو منائی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قطر ، فلسطین ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی عید الفطر جمعرات کو ہو گی ۔اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی عیدالفطر 13مئی کو منائی جائے گی۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں بھی گزشتہ روز عید الفطر کا چاند نظر نہیں آیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ عید الفطر بروز جمعرات منائی جائے گی۔افغانستا ن میں بھی شوال کا چاند نظر آیاجس کے ...

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں عیدالفطر آج منائی جائے گی

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی وجود - جمعرات 13 مئی 2021

بھارت اور بنگادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا جس کے بعدان ممالک میں عیدالفطر 14 مئی بروز جمعہ منائی جائے گی۔بھارت کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق بھارت میں عیدالفطرجمعہ 14مئی کو ہوگی۔ بھارت میں شاہی امام مسجد احمد بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا ہے لہذا عیدالفطر جمعہ کے دن منائی جائے گی۔قواعد و ضوابط کے مطابق بھارت میں شاہی امام مسجد چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کرتے ہیں...

بھارت اور بنگلادیش میں شوال کاچاندنظرنہیں آیا، عید جمعہ کو ہوگی

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین وجود - جمعرات 13 مئی 2021

چین نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمہ دار انداز میں انخلا پر زور دیا ہے تاکہ عجلت میں ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے امن اور سلامتی عمل متاثر اور اس میں مداخلت ہو۔وزارت خارجہ کی ترجمانHua Chunyingنے بیجنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں وسیع اور تمام فریقوں پر مشتمل سیاسی نظام کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ تمام نسلی گروپ اور دھڑے سیاسی نظام میں شامل ہوں۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں امداد دینے کیلئے تیار ہے ۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کا منظم اور ذمہ دار انہ انخلا ء کرایا جائے ،چین

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ وجود - جمعرات 13 مئی 2021

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے نمانئدہ خصوصی ٹور وینیس لینڈ کا کہنا ہے کہ فلسطین میں لگی آگ کو فوری روکا جائے ، ہم جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کی قیمت تباہ کن ہوگی، غزہ میں کشیدگی کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں، اقوام متحدہ صورتحال بہتر کرنے کے لیے تمام فریقین سے رابطے میں ہے ، تشدد کو اب روکا جائے ۔دوسری جانب اسرائیلی فوج...

اسرائیل فلسطین کشیدگی بڑھ کر جنگ کی طرف جاسکتی ہے ، اقوام متحدہ کا انتباہ

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا وجود - جمعرات 13 مئی 2021

افغانستان کے طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافات میں ایک ضلع پرقبضہ کرلیا۔افغان حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نرکھ ضلع کے پولیس ہیڈ کوارٹر سے پسپائی اختیار کی۔اْدھر طالبان ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ضلع نرکھ پر گزشتہ روز قبضہ کیا۔ترجمان کے مطابق طالبان نے پولیس ہیڈکوارٹراور ایک فوجی بیس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ دوسری جانب افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع پر قبضہ چھڑانے کیلئے آپریشن شروع کردیا گیا ۔

طالبان نے افغان دارالحکومت کابل کے مضافاتی ضلع پرقبضہ کرلیا

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ وجود - بدھ 12 مئی 2021

حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیاہے ۔ٹیلی فونک بات چیت میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کے لیے مولانا فضل الرحمان عید کے بعد پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے ۔گفتگو کے دوران حکومت کی جانب سے شہباز...

پی ڈی ایم رہنماؤں کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر وجود - بدھ 12 مئی 2021

مسلم لیگ (ن )کے رہنما و سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق محمدزبیر نے کہا کہ سیزفائر یاصلح کے بارے میں نہیں پتہ لیکن ہمارے تعلقات اچھے ہیں ہم جب مطمئن ہوں گے تواس کاباقاعدہ بتائیں گے بھی۔محمدزبیر نے کہا کہ میری ملاقاتیں ہوتی تھیں توکبھی ڈیل یاکوئی ریلیف نہیں مانگا، کسی کوبھی حب الوطنی کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جذباتی شخص ہیں استعفے دینے پڑے تووہ اسمبلی توڑدیں گے ملک میں انارکی نہیں...

ہماری کوئی لڑائی نہیں تھی ،راولپنڈی سے صلح ہوگئی ہے ، محمد زبیر

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت وجود - بدھ 12 مئی 2021

پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرائے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہاکہ اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصی پر حملے قابل مذمت اقدام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال سے کئی اموات اور افراد زخمی ہوئے ہیں ۔...

پاکستان کی غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت