... loading ...
بھارت نے ایک بار پھر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ وجے گوکھل کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سارک کانفرنس کا اجلاس نہیں ہوسکتا 2016ء میں بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث انیسویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ہوگئی تھی بھارت نے اڑی کیمپ پر حملے کو بہانہ بنا کر اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ نیپال کے وزیر اعظم نے نئی دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کی جس میں سارک کانفرنس کے اجلاس کے معاملے پر بات چیت ہوئی سارک کا آخری سربراہ اجلاس 2014ء میں کھٹمنڈو میں ہوا تھا اور دو سال بعد اس کا انعقاد اسلام آباد میں ہونا تھا جو بھارت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا، سارک چارٹر کے مطابق اب اجلاس جب بھی ہوگا، اسلام آباد میں ہی ہوگا اس کے بعد ہی کہیں اور ہوسکتا ہے، اس لیے مودی جب تک بھی بائیکاٹ کرتے رہیں انہیں( یا ان کے کسی جانشین کو) اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں آنا ہی پڑے گا یا پھر یہ معاملہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہے گا۔
ابتدا میں سارک کانفرنس سات جنوبی ایشیائی ملکوں نے قائم کی تھی جس کے لیے بنگلہ دیش کے اس وقت کے صدر ضیاء الرحمٰن بہت زیادہ متحرک تھے اور انہوں نے اس کی تشکیل کے لیے کافی محنت کی تھی، لیکن تنظیم کی تشکیل کے وقت اس سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں شومئی قسمت سے وہ پوری نہیں ہوسکیں، جس کی بنیاد ی وجہ بھارت کا رویہ ہے جو رکن ملکوں میں رقبے آبادی اور وسائل کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اور اپنی اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وہ باقی ملکوں پر رعب جمائے رکھنا چاہتا ہے ان سب ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جو آزادانہ حیثیت میں اس کے مدِ مقابل کھڑا رہتا ہے اور سارک میں بھارتی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا اس لیے جب بھی اسلام آباد میں سربراہ کانفرنس یا وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونا ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی اڑچن ڈال دیتا ہے، 2016ء میں بھی نریندر مودی نے ایسا ہی طرزِ عمل اختیار کیا تھا اور اب بھی اْن کے ارادے کچھ ایسے ہی محسوس ہوتے ہیں۔
سارک کانفرنس کے چارٹر کے مطابق رکن ملکوں کے باہمی تنازعات اس کے پلیٹ فارم پر زیر بحث نہیں آسکتے، معلوم نہیں چارٹر میں یہ شق شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی تھی کیونکہ اگر رْکن ملک آپس کے تنازعات کو مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے حل کرلیں تو اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر جیسے مسائل اتنے گھمبیر اور پیچیدہ ہیں کہ بھارت یہ مسائل حل کرنے کے لیے ستر سال سے گریزاں ہے اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ تنازعات وقت کی گرد میں دب کر اپنی اہمیت کھو دیں اور بھارت کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم اور مستحکم رکھے اس لیے اس نے اس امر کا خصوصی اہتمام کروایا کہ رْکن ملک اس پلیٹ فارم پر نہ تو آپس کے تنازعات کا ذکر کریں گے اور نہ ہی ان پر کوئی بات ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ محض کشمیر کا ذکر آنے پر ہی سارک کے مختلف اجلاسوں میں بھارتی مندوبین آتش زیرپا ہو جاتے ہیں اور اجلاسوں میں تلخی اور بائیکاٹ کی نوبت تک آجاتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سارک کانفرنس آج تک اپنے تشکیلی اہداف بھی اسی لیے حاصل نہیں کرسکی کہ اس کے وجود پر بھارت کا منحوس سایہ ہے جس کی وجہ سے سارک ایک ایسے درخت کی مانند بن کر رہ گئی ہے جو پوری طرح نشوونما نہیں پاسکا اور نہ ہی اپنے مقاصد حاصل کرسکا، جب کبھی اس تنظیم کے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور احساس ہونے لگتا ہے کہ اب یہ تنظیم شیر خوارگی سے نکل کر تیزی سے نشوونما پانے کے لیے تیار ہے اسی وقت بھارت اس کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے میں لگ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علاقائی ترقی کی جو تنظیمیں اس کے بعد وجود میں آئیں انہوں نے نہ صرف اپنی منزل پائی بلکہ منزلیں مارتی ہوئی بہت آگے بڑھ گئیں اور کئی خطے ایسی علاقائی ترقی کی تنظیموں کی بدولت خوشحالی سے ہمکنار ہوئے لیکن سارک ایک لاغر سی بے مقصد تنظیم بن کر رہ گئی ہے اور دنیا کی برادری میں نمایاں نہیں ہو سکی۔
2016ء میں سارک کانفرنس کے انعقاد کی تمام تیاریاں مکمل تھیں اسلام آباد کو مہمانوں کے استقبال کے لیے سجا دیا گیا تھا کہ اچانک بھارت نے شرکت سے انکار کر دیا اور بھوٹان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھی اپنی راہ پر لگا لیا ویسے تو ایک رکن بھی شرکت سے انکار کر دے تو سربراہ اجلاس نہیں ہو سکتا لیکن بھارت نے تین دوسرے ارکان کو اپنے ساتھ ملا کر یہ تاثر دیا کہ یہ ملک بھی پاکستان کے خلاف ہیں بھارت نے اجلاس میں عدم شرکت کے لیے جو عذر لنگ تراشا تھا وہ یہ تھا کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے حالانکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کوئی ملک اگر دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں ان میں ایسے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں جو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے آتے ہیں، ان کی تربیت میں بھارت کا کردار بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اس بنیاد پر کبھی کسی کانفرنس میں شرکت سے انکار نہیں کیا بلکہ اگر بھارت ایسی کسی عالمی کانفرنس کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان ڈٹ کر اپنا دفاع کرتا ہے۔
امرتسر کانفرنس میں یہی ہوا تھا جب مودی نے اس کانفرنس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو روس، چین اور ترکی جیسے ملکوں نے بھارتی موقف کو رد کیا۔ پاکستان نے اپنا موقف وزنی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا بھارت کو سارک کے سلسلے میں اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس تنظیم کوصحیح معنوں میں علاقائی ملکوں کے لیے مفید اور کارآمد تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سارک تنظیم نے اسی طرح افناں و خیزاں انداز میں چلنا ہے تو کیا ضروری ہے کہ پاکستان اس کاملبہ اٹھا کر چلتارہے اس جوئے کو اتار کر پھینک کیوں نہ دیا جائے؟ اگر بھارت ہر چند سال بعد کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا حربہ آزمانے کی روش ترک کرنے کے لیے تیار نہیں تو ایسی تنظیم کا بوجھ اتار کیوں نہ دیا جائے؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ پاکستان ، بھارت اور سارک میں اس کے باج گزار ملکوں کو بتا دے کہ ایسی اپاہج تنظیم کے ساتھ مزید نہیں چلا جا سکتا۔ بہتر ہے اس کی آخری رسومات ادا کرکے اسے دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پر یہ کتبہ لگا دیا جائے کہ یہ وہ تنظیم ہے جو بھارت کی تنگدلی اور ذہنی عْسرت کی وجہ سے پھول پھل نہ سکی اور یہ غنچہ بن کھلے ہی مرجھا گیا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا ٹرین کی بوگیوں کے پرخچے اڑ گئے، قریبی عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس پارک کی گئی کم و بیش 10 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں ٹرین میں سکیورٹی اہلکار اور ان کے فیملی ممبرز خواتین و بچے سوار تھے، منگل سے شروع ہونیوالی عید الاضحیٰ کی چھٹیاں منا...
رضاکار اپنے ملک واپس آرہے تھے بلباؤ میں ایئرپورٹ پولیس نے حملہ کیا رضاکاروں پر باسک پولیس کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی غزہ کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے انسانی بنیاد پر فلسطینیوں کو امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کو اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد ...
پاکستان ترقی میں جلد چین کے ہم قدم ہوگا،چین میں مزدوروں کی لاگت کافی مہنگی ہو چکی ہے اپنے پلانٹس و مشینری پاکستان لائیں، مشترکہ منصوبوں پر کام کریں، وزیراعظم کا تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قرض نہیں سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی چاہیے، پاکستان ترقی میں جلد چین کے...
موجودہ حساس صورتحال میں قومی اتحاد اور اجتماعی فیصلوں کی پابندی انتہائی ضروری ہے ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپریم لیڈر کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سمیت ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپ...
وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...
3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...
دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...
جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...
سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...
ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...
سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...