وجود

... loading ...

وجود

روپے کی بے قدری سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا

بدھ 11 اپریل 2018 روپے کی بے قدری سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا

موجودہ حکومت کے ختم ہونے میں ٹھیک ایک ماہ باقی ہے ایسے میں یہ حکومت ملک کے لیے معاشی مسائل کا ایک انبار چھوڑ کر جارہی ہے۔ ملکی معیشت کی کوئی کل اٹھا کر دیکھ لیں ہر سمت معاشی مشکلات منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں۔ بیرونی قرضے کا حجم دیکھیں تو یہ 90 ارب ڈالر کی حد عبور کرچکا ہے۔ عوام اور مجموعی ملکی معیشت اس کا کس طرح بوجھ اْٹھائے گی۔ اس کا پتا نہیں، زرمبادلہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ برآمدات ہیں، وہ 22 ارب ڈالر سے آگے نہیں جاسکیں اور اس طرح تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر متوقع ہے، یہ خسارہ کس طرح پورا ہوگا اس کا جواب حکومتی حلقوں کے پاس نہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا خسارہ 500 ارب روپے ہوچکا ہے، کب تک ملکی معیشت اس خسارے کو برداشت کرے گی، سیاسی پارٹیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں، سماجی خدمات کی فراہمی مثلاً تعلیم و صحت کے معاملے میں سرکاری بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، چناں چہ غریب آدمی کی حالت کیسے بہتر ہوگی اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ لیکن آج کے کالم میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 20 مارچ کے اس اقدام کی بات ہوگی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی کردی گئی اور اس طرح امریکی ڈالر جو 19 مارچ تک 110 روپے کا مل رہا تھا اب اس کی قیمت 115 روپے ہوگئی، یعنی قدر میں 4 فی صد کمی۔ اسی طرح کا ایک اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے 8 دسمبر کو کیا جاچکا ہے جب روپے کی قدر میں 4.3 فی صد کمی کردی گئی تھی اور ڈالر کی قیمت 104 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہوگئی تھی۔ اس طرح گویا صرف چار ماہ میں روپے کی قدر میں 8 سے 9 فی صد کمی ہوگئی اور ڈالر 115 روپے تک چلا گیا۔

ڈالر کی بے قدری کی جو وجوہ بتائی جارہی ہیں ان میں یہ کہا جارہا ہے کہ روپے کی قدر پر بہت دباؤ تھا، زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے کم ہو کر 11 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ جولائی 2017ء سے لے کر فروری 2018ء تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8 ارب ڈالر ہوگیا ہے، کمزور روپے کی قدر برآمدات کو بڑھانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ڈالر پر دباؤ کم ہوگا لیکن جن امیدوں پر یہ اقدام کیا گیا ہے وہ شاید پوری نہ ہوں مگر ملکی معیشت اور عام آدمی پر جو برا اثر پڑے گا وہ یقینی ہے۔ مثلاً ڈالر مہنگا ہونے سے ملک میں آنے والی درآمدات مہنگی ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں خشک دودھ، چائے، ادویات، کاسمیٹکس، صنعتوں میں استعمال ہونے والا خام مال، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی۔ روزمرہ کی بعض اشیا کی قیمتوں کے بڑھ جانے سے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھ جانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا کمشنر کراچی نے اعلان کردیا ہے جو اب 94 روپے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہوگا۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تجارتی سرگرمیوں کے بار برداری کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی۔ اسی طرح درآمدی خام مال، کیمیکل اور مشنری کے مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا تو ملکی مصنوعات کے علاوہ برآمدات بھی مہنگی ہوجائیں گی۔ اس طرح حکومت کا برآمدات میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ اسی سلسلے میں پاکستان کا گزشتہ بیس پچیس سال کا ماضی گواہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود پاکستان میں برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

برآمدات میں اضافے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، کوالٹی میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن سرمایہ کاری اداروں میں کرپشن اور بدانتظامی میں کمی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کردی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ اس طرح پیداواری لاگت بڑھ گئی اور برآمدات کے معاملے میں پاکستان، انڈیا، چین اور ویت نام سے پیچھے رہ گیا۔ جب کہ مشینری، آٹو موبائل اور خام مال کی درآمدات میں اضافے سے برآمد و درآمد کا فرق بہت بڑھ گیا جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ چناں چہ موجودہ حکومت یا آنے والی نگراں حکومت اگر واقعی تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتی ہے تو روپے کی قدر میں کمی کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پیداواری لاگت میں کمی ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات باآسانی اپنی جگہ بنا سکیں، اسی طرح تجارتی خسارہ کم ہوگا اور ڈالر پر دباؤ میں کمی آئے گی، ورنہ روپے کی بے قدری سے سوائے مہنگائی میں اضافے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر