... loading ...
موجودہ حکومت کے ختم ہونے میں ٹھیک ایک ماہ باقی ہے ایسے میں یہ حکومت ملک کے لیے معاشی مسائل کا ایک انبار چھوڑ کر جارہی ہے۔ ملکی معیشت کی کوئی کل اٹھا کر دیکھ لیں ہر سمت معاشی مشکلات منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں۔ بیرونی قرضے کا حجم دیکھیں تو یہ 90 ارب ڈالر کی حد عبور کرچکا ہے۔ عوام اور مجموعی ملکی معیشت اس کا کس طرح بوجھ اْٹھائے گی۔ اس کا پتا نہیں، زرمبادلہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ برآمدات ہیں، وہ 22 ارب ڈالر سے آگے نہیں جاسکیں اور اس طرح تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر متوقع ہے، یہ خسارہ کس طرح پورا ہوگا اس کا جواب حکومتی حلقوں کے پاس نہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا خسارہ 500 ارب روپے ہوچکا ہے، کب تک ملکی معیشت اس خسارے کو برداشت کرے گی، سیاسی پارٹیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں، سماجی خدمات کی فراہمی مثلاً تعلیم و صحت کے معاملے میں سرکاری بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، چناں چہ غریب آدمی کی حالت کیسے بہتر ہوگی اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ لیکن آج کے کالم میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 20 مارچ کے اس اقدام کی بات ہوگی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی کردی گئی اور اس طرح امریکی ڈالر جو 19 مارچ تک 110 روپے کا مل رہا تھا اب اس کی قیمت 115 روپے ہوگئی، یعنی قدر میں 4 فی صد کمی۔ اسی طرح کا ایک اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے 8 دسمبر کو کیا جاچکا ہے جب روپے کی قدر میں 4.3 فی صد کمی کردی گئی تھی اور ڈالر کی قیمت 104 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہوگئی تھی۔ اس طرح گویا صرف چار ماہ میں روپے کی قدر میں 8 سے 9 فی صد کمی ہوگئی اور ڈالر 115 روپے تک چلا گیا۔
ڈالر کی بے قدری کی جو وجوہ بتائی جارہی ہیں ان میں یہ کہا جارہا ہے کہ روپے کی قدر پر بہت دباؤ تھا، زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے کم ہو کر 11 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ جولائی 2017ء سے لے کر فروری 2018ء تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8 ارب ڈالر ہوگیا ہے، کمزور روپے کی قدر برآمدات کو بڑھانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ڈالر پر دباؤ کم ہوگا لیکن جن امیدوں پر یہ اقدام کیا گیا ہے وہ شاید پوری نہ ہوں مگر ملکی معیشت اور عام آدمی پر جو برا اثر پڑے گا وہ یقینی ہے۔ مثلاً ڈالر مہنگا ہونے سے ملک میں آنے والی درآمدات مہنگی ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں خشک دودھ، چائے، ادویات، کاسمیٹکس، صنعتوں میں استعمال ہونے والا خام مال، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی۔ روزمرہ کی بعض اشیا کی قیمتوں کے بڑھ جانے سے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھ جانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا کمشنر کراچی نے اعلان کردیا ہے جو اب 94 روپے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہوگا۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تجارتی سرگرمیوں کے بار برداری کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی۔ اسی طرح درآمدی خام مال، کیمیکل اور مشنری کے مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا تو ملکی مصنوعات کے علاوہ برآمدات بھی مہنگی ہوجائیں گی۔ اس طرح حکومت کا برآمدات میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ اسی سلسلے میں پاکستان کا گزشتہ بیس پچیس سال کا ماضی گواہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود پاکستان میں برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔
برآمدات میں اضافے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، کوالٹی میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن سرمایہ کاری اداروں میں کرپشن اور بدانتظامی میں کمی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کردی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ اس طرح پیداواری لاگت بڑھ گئی اور برآمدات کے معاملے میں پاکستان، انڈیا، چین اور ویت نام سے پیچھے رہ گیا۔ جب کہ مشینری، آٹو موبائل اور خام مال کی درآمدات میں اضافے سے برآمد و درآمد کا فرق بہت بڑھ گیا جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ چناں چہ موجودہ حکومت یا آنے والی نگراں حکومت اگر واقعی تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتی ہے تو روپے کی قدر میں کمی کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پیداواری لاگت میں کمی ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات باآسانی اپنی جگہ بنا سکیں، اسی طرح تجارتی خسارہ کم ہوگا اور ڈالر پر دباؤ میں کمی آئے گی، ورنہ روپے کی بے قدری سے سوائے مہنگائی میں اضافے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...