وجود

... loading ...

وجود

ذاتی مفادات کو نہیں قومی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا،وائس چانسلرجامعہ کراچی ڈاکٹر محمد اجمل خان

بدھ 11 اپریل 2018 ذاتی مفادات کو نہیں قومی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا،وائس چانسلرجامعہ کراچی ڈاکٹر محمد اجمل خان

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کہا کہ ایک مثبت اور انصاف پسند معاشرہ کی تشکیل کی صورت میںہی ہمارا ملک مہذب اورترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتاہے۔ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا اور فرقہ واریت، دہشت گردی، معاشرتی ناانصافی اور تعصبات کا قلع قمع کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ہم سب اسی معاشرے کا حصہ ہیں ،ہمیں کسی کی شکایت کرنے سے پہلے یہ سوچناچاہیئے کہ ہم خود کیا کررہے ہیں اور ہم چیزوں کو کس تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس طرح کے سیمینارز کا انعقاد وقتاًفوقتاً ہونا چاہیئے تاکہ عوام کو بنیادی حقوق کا تحفظ اور بہتر زندگی گزارنے کے بارے شعور وآگاہی حاصل ہوسکے۔ان خیالاتا کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی ،مینجمنٹ کنسلٹنسی اینڈ ٹریننگ سروسز اور آل پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن(اے پی ایس اے اے) کے اشتراک سے جامعہ کراچی کے کلیہ فنون وسماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ’’ اپنے حقوق سے آگاہی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل ،پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری ،ڈاکٹر محمد زبیراور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔تقریب کے آغاز پر شہداء کشمیر کے لیے اجتماعی دعاکی گئی ۔

سابق آئی جی سندھ نیاز احمدصدیقی نے کہا کہ تبدیلی اقلیت لاتی ہے اکثریت نہیں اکثریت اس کی پیروی کرتی ہے ،ہمیں حق کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی کسی پر الزام لگائے توالزام لگانے والے کا کام ہے کہ وہ اس الزام کو ثابت کرے ملزم کو صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں، المیہ یہ ہے کہ یہاں شکایت موصول ہونے پرتحقیقات شروع ہوجاتی ہیں جو غلط ہے جبکہ شکایت درج کرنے والے کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔کسی بھی مجرم پر آپ زورزبردستی اور جبر نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے خلاف گواہ بنے اور قبول جرم کرے۔آپ دیکھتے ہوں گے ہمارے یہاں جیسے ہی کوئی پکڑاجاتاہے اگلے دن پتہ چلتاہے کہ اس نے اتنے جرم تسلیم کرلیے ہیں ،سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کس کے سامنے کیے ہیں ،اس کے ثبوت کیا ہیں کورٹ میں بات ثبوت کی ہوتی ہے انفارمیشن کی نہیں۔کسی کو ایک جرم کی دومرتبہ سزانہیں دی جاسکتی ،تفتیش تو کئی ایجنسیاں کرسکتی ہیں لیکن سزا ایک ہی ہوگی ڈبل نہیں ہوسکتی ۔کوئی بھی شخص کسی کی بے حرمتی نہیں کرسکتا جس میں تمام ادارے بھی شامل ہیں۔ہر شخص کو پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں جانے کی آزادی ہے لیکن قانون کی پاسداری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ماہر انسانی حقوق فوزیہ طارقنے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اجمل خان اور ڈائریکٹرانسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات میں انسانی حقوق کے متعلق آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا شہری ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف ہمیں اپنے حقوق کا علم ہو بلکہ دوسرے لوگوں کے حقوق کا بھی احترام کریں اور قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔گھریلو تشدد ، غیرت کے نام پر قتل، کم عمری میں شادی، اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قوانین پاکستان کے آئین کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کے لیے سزائیں بھی موجود ہیں۔ ایک انسان ہونے کے ناتے ہم سب کا فرض ہے کہ نہ صرف خود کو اور اپنے گھر والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں بلکہ ان کمزور اور مجبور لوگوں کا سہارا بھی بنیں جنھیں اپنے حقوق کا مکمل طرح سے علم نہیں ہے اور وہ خود اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے۔اس کے لیے ہمیں ہر سطح پر لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا اس معاملے میں بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انھوں نے قصور اور سیالکوٹ جیسے معاملات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سوشل میڈیا کو انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے استعمال کریں تو ایسے گھنائونے جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن ہو جاتا ہے۔ تبدیلی کا عمل ایک انسان سے شروع ہوتا ہے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے اچھے کام جن سے ہم دوسرے انسانوں کے جائز حقوق کی حفاظت کر سکیں بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈی آئی جی سی آئی اے کراچی ڈاکٹر امین یوسفزئی نے کہا کہ 1861 ء میں انگریزوں نے پولیس کے لیے جو قواعد بنائے تھے ،1861 ء میں بھی اس کو انسانی حقوق کے مطابق نہیں سمجھا گیا اور پھر یہی قوانین 1947 ء میں ہمیں ورثے میں مل گئے اور ہمارے مختلف مسائل کی وجہ سے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکی۔بعض اوقات پولیس والے آپ کی بات نہیں سنتے اور ہمیں اکثر یہ شکایات سننے کو ملتی ہیں لیکن آپ اپنی بات پہنچانے کے لیے کوشش جاری رکھیں اور اپنے حقوق کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔چیئر مین آل پاکستان سیکیورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن میجر(ر) منیر احمد نے کہا کہ پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈ مختلف جگہوں پر خدمات انجام دیتے ہیں،وہ بنیادی طورپر آپ کے حقوق کے تحفظ اور جرائم کوروکنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز میں کچھ کمیاں ضرورہیں لیکن ہم اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنی ایک باقاعدہ طریقہ کار کے بعد عمل میں آتی ہے ،ہمارے نوجوان ہی ہمارامستقبل ہیں ان کو معاشرے کی ترقی کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر