وجود

... loading ...

وجود

صحت کا عالمی دن

منگل 10 اپریل 2018 صحت کا عالمی دن

اچھی صحت کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ملک کا صحت کا شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں ترقی کئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہوں پر کامزن نہیں ہوسکتا ہے ۔ صحت کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں مگر غیر معیاری تعلیم ، مستند ڈاکٹرز اور پیرا میڈاکس اسٹاف کی عدم دستیابی اور عوام میں آگاہی اور شعور کی کمی اس کی اہم اور بنیادی وجوہات ہیں ۔

پاکستان میں صحت کے حوالے سے ابھی تک لوگوں میں شعور کی کمی ہے ۔ ہمارے ہاں ابھی تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے یا نا پلانے کی بحث جاری ہے ۔اس وقت دنیا میں تین ممالک میں پولیو کا مرض موجود ہے ، جن میں پاکستان ، افغانستان اور نائیجریا شامل ہیں ۔ پولیو کا خاتمہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑ ا چیلنج ہے ۔پولیو کی بیماری ایک متعدی بیماری ہے جو کہ ایک فرد سے دوسرے فردمیں پھیل سکتی ہے ۔ یہ بیماری متاثرہ شخص کے تھوک اور چھینک سے بھی منتقل ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر پولیو وائرس منہ یا ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ وائرس پانی کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد میں پھیل سکتا ہے ۔اس کے علاوہ متاثرہ شخص کے ساتھ بلا واسطہ رابطے سے بھی پولیو کے وائرس پھیلنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر یہ وائرس متاثرہ شخص کے فضلے (Stool) کے ذریعے بھی پھیلتا ہے اورا گرمتاثرہ فرد نے رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھوں کو ٹھیک طریقے سے نہیں دھویا تو یہ اس کے ہاتھوں کے ذریعے ہر جگہ پھیل جا تے ہیں ۔ ایک تجزیہ کے مطابق پولیو وائرس انفیکشن ہر 25 افراد میں سے تقریباََ ایک میں پایا جاتا ہے ۔ جبکہ فالج پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ ہر 200 لوگوں میں سے ایک میں موجود ہوتا ہے ۔

پولیو کا وائرس جب ایک بار دماغ میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر اسکا علاج ناممکن ہوتا ہے ۔اور پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے OPV )(Oral Polio Vaccine) بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لئے ضروری ہیں اور یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔یہ پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لئے بچوں کے جسم کی مدد کرتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ویکسین کے ذریعے تقریباََ تمام بچوں کو پولیو سے حفاظت یقینی ہو جاتی ہے ۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور حالیہ ریسرچ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین موثر اور محفوظ ہے اور یہی ویکسین ساری دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی جارہی ہے ۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرکاری اور انتظامی سطح پر اس حوالے سے بہت کام ہوا ہے ۔ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پولیو ویکسین کی فراہمی میں گزشتہ برسوں میں متواتر کمی دیکھی گئی ہے ، جو پولیو کو پاکستان میں پھیلنے کے لیے سازگار مواقع فراہم کر رہی ہے ۔

آج بھی پاکستان میں بچوں کی بہت بڑی تعداد اس بیماری میں مبتلا ہو کر نہ صرف موت کے منہ میں جارہی ہے ، بلکہ انہیں عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا ہے ۔ پولیو کے اس وائرس سے بچائو کے لئے کسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹکس یا ادویات موجود نہیں ہیں ۔ صرف پولیو ویکسین ہی اس بیماری کا ایک کامیاب اور موثر حل ہے جس کو اپنا کر ہم پاکستان سے بھی اس موذی مرض کو ہمیشہ کے لئے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطا بق پاکستان ٹی بی کے حوالے سے پانچوں نمبر پر ہے ۔اور ایک رپورٹ کے مطا بق ہر گزرتے سال پاکستان میں ٹی بی میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی کافی زیادہ تعداد پائی جاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ پندرہ ہز ار بچے ٹی بی میں مبتلا ہو تے ہیں، جن میں سے تقر یباً پچیس فیصد اپنی زندگی سے محرو م ہو جاتے ہیں ۔

یہ بیماری مریض کے کھانسنے ، چھیکنے وغیرہ سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ جس کی بنیادی وجوہ میں پرانے اورگنجائش سے زیادہ گنجان آباد علاقے جہاں گھروں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے ، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، کم طبی سہولیات، بہتر رہائش کا نہ ہونا ٹی بی کی اہم وجوہ میں شامل ہے ۔ ٹی بی کے مریضوں کوفوراََ بنا کسی تاخیر کے قریبی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہر ین کے مطابق ٹی بی کے مرض میں کمی نہ ہونے کی ایک وجہ اسکا طویل علاج ہے۔ جس کے باعث مریض علاج مکمل کئے بغیر ہی ادویات کا استعمال ترک کر دیتا ہے ، جس کی وجہ سے اس مرض کے دوبارہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں نیشنل ٹی بی پروگرام ٹی بی جیسے موذی مرض کے تدارک میں اپنا کردار ادا کررہی ہے مگر ٹی بی جیسے مرض کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کو مل کر تیز رفتاری کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا اور کمپین کے ذریعے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مناسب فنڈ بھی اس کو ختم کرنے اور مریضوں کا مفت علاج فراہم کرنے کے لیے مختص کرنا چاہیئے ۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں اس مرض کو ختم کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر پروگرام شروع کرناہوں گے ۔

ملیریا جس کے ساتھ ساتھ آج کل ڈینگی اور چکن گونیا وغیرہ بھی بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔جن کی اہم وجہ گندے اور ٹھہرے پانی کی موجودگی اور ان میں مچھروں کی افزائش ہے ۔WHO کی رپورٹ کے مطابق ملیریا پاکستان میں ہونے والا دوسرا عام مرض ہے اور پاکستان میں 3.5 ملین لوگ سالانہ اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ملیریا کی شرح پاکستان میں خصوصاََ مون سون کے موسم میں یعنی اگست سے نومبر تک زیادہ رہتی ہے ۔ پاکستان کے ملیر یا کنٹرول آرگنائزیشن کے وضع کردہ اسٹریجک پلان کے مطابق 2020 تک پاکستان میں ملیر یا کی شرح 75% تک کم کرناہے ۔ ملیر یا کے ساتھ ساتھ چکن گونیا جو ایڈیس ایجیپٹی (aedes aegypti) نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے جو پاکستان اور خصوصاََ کراچی اور اب تھرپارکر میں بری طرح اپنے پنجے گاڑچکا ہے ، پر قابو کرنا ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق کر اچی میں تقریباََ 40000 کے قریب چکن گونیا کے مریض ملیر ، شاہ فیصل ، کورنگی اور کیماڑی کے علاقے سے شناخت کئے گئے ۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق حالیہ برسوں میں پوری دنیا میں ڈینگی بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد بے حد بڑھ چکی ہے اور تقریباََ دنیا کی چالیس فیصد آبادی ڈینگی میں مبتلا ہے ۔ اور ہر سال تقریباََ 5 کروڑ کیسزسامنے آتے ہیں جس سے پوری دنیا میں سالانہ تقریباََ پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں بھی ڈینگی خیبر بختونخوا، ایبٹ آباد ، پشاور وغیرہ کے علاقوں میں بہت سارے افراد کو متاثر کر چکا ہے ۔ جبکہ کراچی شہر میں بھی ڈینگی سے متاثرہ افراد موجود ہیںاور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس سال کراچی میں ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔ یہ ا مراض قابل علاج بھی ہے اور اس سے باآسانی بچا بھی جاسکتا ہے ۔ان سب کی بنیادی وجہ نا مناسب آگاہی ، ناقص صفائی اورحفاظتی تدابیر کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر تی جا رہی ہے ۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق چھاتی کا سرطان پوری دنیا کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام سرطان ہے اور دنیا کی خواتین کی کل آبادی میں تقریباََ سولہ(16) فیصد خواتین کو چھاتی کے سرطان کامرض لاحق ہے۔ جبکہ بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریباََ پانچ لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں ۔ پاکستان کا شمار ان ا یشیائی ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین میں چھاتی کے سرطان کی شرح بہت زیادہ ہے اور پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے خواتین میں چھاتی کے سرطان کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میںہر سال نوے ہزار (90000) خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہو جاتی ہیں جن میں سے تقریباََ چالیس ہزار خواتین بروقت علاج اور آگاہی کی غیر موجودگی کے باعث کینسر سے زندگی کی جنگ ہار جاتی ہیں ۔ خواتین میں لاعلمی ، آگاہی کی کمی اور بروقت شناخت یا علاج نہ ہونے کی وجہ سے شرح اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔۔ خاص کر ان لوگوں کو اس آگاہی کی زیادہ ضرورت ہے جو کہ گائوں دیہات میں رہتے ہیں اورجہاں پر تعلیم کی کمی ہے ۔ کیونکہ ایسے علاقوں میں ایک تو خواتین اس مرض کو دوسروں سے چھپاتی ہیں اور پھر اس مرض کے بارے میں معلومات اور آگاہی بھی کم ہوتی ہے اور جب یہ بیماری آگے بڑھ کر پھیل جاتی ہے تو ڈر، خوف اور روایتی علاج مریض کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے ۔

نگلیریا فائولیری(Naegleria fowleri) جسے دماغ کھانے والا امیبا (Brain Eating Amoeba) بھی کہتے ہیں ،صرف آلودہ پانی میں پرورش پاتا ہے اور یہ جھیلوں ، تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پائے جاتے ہیں ۔

نگلیریا فائولیری انسانی جسم میں ناک کے راستے انسانی دماغ میں داخل ہو تا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ طفیلی امیبا قوتِ شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے دماغ کے اندر داخل ہو کر دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں ۔ اس کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی کے ذخائر ہیں ۔ حالیہ ریسرچ کے مطابق اس دماغ کھانے والے امیبا کے پھیلائوں میں سوئمنگ پولز ایک نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں ۔ سوئمنگ پولز میں کلورین کی مقدار کا نامناسب استعمال اس انفیکشن کی وجہ بنتا ہے ۔

اس جرثومے کے پھیلنے کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ، گھریلو استعمال والے پانی کا آلودہ ہونا اور فراہمی آب کے نظام میں مختلف خرابیاں ہو سکتی ہیں لہذا ہمیں چاہیئے کہ صاف پانی کے استعمال کو یقینی بنائیں اور جراثیم سے پاک پانی استعمال کریں ۔

ان کے علاوہ مختلف وائرل اور بیکٹیریل بیماریوں میں ہیپا ٹائٹس ، ٹائیفائیڈ، خسرہ ، ریبیز وغیرہ شامل ہیں ۔ ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس پاکستان میں بہت عام ہو تے جا رہے ہیں جو کہ آلودہ پانی اور خراب کھانوں سے پھیلتی ہیں اور جگر کی خرابی کا باعث بنتی ہیں ۔ٹائیفائیڈ بھی ایک بیکٹیریل بیماری ہے جو خراب اور آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتی ہے ۔
2016 ء میں ہسپتالوں کی رینکنگ کے عالمی ادارے رینکنگ ویب آف ہاسپٹلز (Ranking web of Hospitals) کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی سرکاری ہسپتال دنیا کے ساڑھے پانچ ہزار بہترین ہسپتالوں میں شامل نہیں ہے ۔ جبکہ پاکستان کا سی آئی ڈی پی انٹرنیشنل فائونڈیشن(Cidp International Foundation)کو پاکستان کا درجہ اول کا ہسپتال مانا گیا ہے ۔جو عالمی طورپر 1842 ویں نمبر پر ہے ۔جبکہ جناح میموریل ہسپتال 2400 ویں نمبر پر اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی 2736 ویں نمبر پر ہے ۔ اس کے علاو ہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) جو پاکستان کا بہترین ہسپتال مانا جاتا ہے ۔ وہ دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں 5 ہزار 911 نمبر پر موجود ہے ۔ رینکنگ ویب آف ورلڈ ہاسپٹلز (Ranking web of Hospitals) میں ہسپتالوں میں موجود سہولیات ، آلات ، مستند اور ا سپیشلسٹ ڈا کٹر وں کی تعداد، صفائی کے معیار ااور ہسپتال میں ہونے والی تحقیق کرنے کے پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ رینکنگ کی گئی ہے اور اسی رینکنگ کی بنیاد پر ہی عالمی بینک ، عالمی ادارہ صحت اور ایشین ڈولپمنٹ بینک اپنے گرانٹس اور فنڈز جاری کرتے ہیں ۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2 فیصد شعبہ صحت پر خرچ کیا جاتا ہے جن کا بھی شفاف استعمال نہیں کیا جاتا ہے اورکروڑوں کی آبادی کے حامل اس ملک کے لئے چند ہزار سرکاری ہاسپٹلز اور ان میں موجود ناکافی اور غیر میعاری ادویات ، غیر تجربہ کار پیرا میڈیکل اسٹاف اور بہتر مشینری کی کمی سو نے پر سہاگہ کا کام کر رہی ہے ۔پاکستان کے دیہی علاقوں کی صورت حال اس سے بھی بہت ابتر ہے ، جہاں اسپتال تو دور کی بات ایک ڈاکٹر تک کی سہولت موجود نہیں ۔ وہاں بے حد توجہ کی ضرورت ہے اورابتدائی نگہداشت کی اصلاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عطائی اور پیرامیڈکس کے بجائے مستند اور تربیت یافتہ ڈاکٹر متعین کیے جائیں ۔ ڈاکٹر ز کو بھی پروفیشنل اور با خبر ہونا چاہیئے کہ عالمی طور پر صحت میں ریسرچ کے حوالے سے اور مختلف بیماریوں کے حوالے سے جو تبدیلیاں آرہی ہیں ، انہیں بھرپور آگاہی اور دسترس ہونی چاہیئے ۔ کیونکہ صحت کے شعبے میں ریسرچ کے بغیر گزارہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مختلف موضوعات پر اپ ڈیٹ معلوماتی لٹریچرز اور ریسرچ بیس ڈیٹا سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے نت نئے امراض کا علاج جو کہ عالمی طورپر اور خصوصاً پاکستان میں موجود ہے ، ان کا شعو ر اور ان پر عبور لازم ہے ۔ صحت اور تندرستی جیسے اہم شعبے کے لئے ہسپتالوں اور طب سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا نا اشد ضروری ہے ۔ اور سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی لیبارٹریز میں جدید طرز کی مشینوں کا استعمال بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ درست تشخیص کے باعث مریض کی جان کو بچانے کے ساتھ ساتھ علاج بھی با آسانی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ صحت سے متعلق عوام الناس میں شعور آگاہی کے پھیلائو کی بھی اشد ضرورت ہے اور خصوصاََ دیہی علاقوں میں مختلف بیماریوں کے حوالے سے پروگرامز اور سیمینارز منعقد کئے جانے چاہیئے ۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مضامین
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر