... loading ...
اچھی صحت کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ملک کا صحت کا شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں ترقی کئے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی راہوں پر کامزن نہیں ہوسکتا ہے ۔ صحت کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں مگر غیر معیاری تعلیم ، مستند ڈاکٹرز اور پیرا میڈاکس اسٹاف کی عدم دستیابی اور عوام میں آگاہی اور شعور کی کمی اس کی اہم اور بنیادی وجوہات ہیں ۔
پاکستان میں صحت کے حوالے سے ابھی تک لوگوں میں شعور کی کمی ہے ۔ ہمارے ہاں ابھی تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے یا نا پلانے کی بحث جاری ہے ۔اس وقت دنیا میں تین ممالک میں پولیو کا مرض موجود ہے ، جن میں پاکستان ، افغانستان اور نائیجریا شامل ہیں ۔ پولیو کا خاتمہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑ ا چیلنج ہے ۔پولیو کی بیماری ایک متعدی بیماری ہے جو کہ ایک فرد سے دوسرے فردمیں پھیل سکتی ہے ۔ یہ بیماری متاثرہ شخص کے تھوک اور چھینک سے بھی منتقل ہو سکتی ہے ۔ عام طور پر پولیو وائرس منہ یا ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ وائرس پانی کے استعمال سے بھی ایک فرد سے دوسرے فرد میں پھیل سکتا ہے ۔اس کے علاوہ متاثرہ شخص کے ساتھ بلا واسطہ رابطے سے بھی پولیو کے وائرس پھیلنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔عام طور پر یہ وائرس متاثرہ شخص کے فضلے (Stool) کے ذریعے بھی پھیلتا ہے اورا گرمتاثرہ فرد نے رفع حاجت کے بعد اپنے ہاتھوں کو ٹھیک طریقے سے نہیں دھویا تو یہ اس کے ہاتھوں کے ذریعے ہر جگہ پھیل جا تے ہیں ۔ ایک تجزیہ کے مطابق پولیو وائرس انفیکشن ہر 25 افراد میں سے تقریباََ ایک میں پایا جاتا ہے ۔ جبکہ فالج پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ ہر 200 لوگوں میں سے ایک میں موجود ہوتا ہے ۔
پولیو کا وائرس جب ایک بار دماغ میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر اسکا علاج ناممکن ہوتا ہے ۔اور پولیو کو صرف حفاظتی قطروں کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ منہ کے ذریعے پلائے جانے والے پولیو کے قطرے OPV )(Oral Polio Vaccine) بچوں کو پولیو کے خلاف تحفظ دینے کے لئے ضروری ہیں اور یہ بچے کو عمر بھر کا تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔یہ پولیو ویکسین پولیو وائرس سے لڑنے کے لئے بچوں کے جسم کی مدد کرتا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ویکسین کے ذریعے تقریباََ تمام بچوں کو پولیو سے حفاظت یقینی ہو جاتی ہے ۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور حالیہ ریسرچ کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین موثر اور محفوظ ہے اور یہی ویکسین ساری دنیا میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی جارہی ہے ۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرکاری اور انتظامی سطح پر اس حوالے سے بہت کام ہوا ہے ۔ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پولیو ویکسین کی فراہمی میں گزشتہ برسوں میں متواتر کمی دیکھی گئی ہے ، جو پولیو کو پاکستان میں پھیلنے کے لیے سازگار مواقع فراہم کر رہی ہے ۔
آج بھی پاکستان میں بچوں کی بہت بڑی تعداد اس بیماری میں مبتلا ہو کر نہ صرف موت کے منہ میں جارہی ہے ، بلکہ انہیں عمر بھر کی معذوری کا بھی سامنا ہے ۔ پولیو کے اس وائرس سے بچائو کے لئے کسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹکس یا ادویات موجود نہیں ہیں ۔ صرف پولیو ویکسین ہی اس بیماری کا ایک کامیاب اور موثر حل ہے جس کو اپنا کر ہم پاکستان سے بھی اس موذی مرض کو ہمیشہ کے لئے جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطا بق پاکستان ٹی بی کے حوالے سے پانچوں نمبر پر ہے ۔اور ایک رپورٹ کے مطا بق ہر گزرتے سال پاکستان میں ٹی بی میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹی بی کے مریضوں کی کافی زیادہ تعداد پائی جاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ پندرہ ہز ار بچے ٹی بی میں مبتلا ہو تے ہیں، جن میں سے تقر یباً پچیس فیصد اپنی زندگی سے محرو م ہو جاتے ہیں ۔
یہ بیماری مریض کے کھانسنے ، چھیکنے وغیرہ سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ جس کی بنیادی وجوہ میں پرانے اورگنجائش سے زیادہ گنجان آباد علاقے جہاں گھروں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے ، حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، کم طبی سہولیات، بہتر رہائش کا نہ ہونا ٹی بی کی اہم وجوہ میں شامل ہے ۔ ٹی بی کے مریضوں کوفوراََ بنا کسی تاخیر کے قریبی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہر ین کے مطابق ٹی بی کے مرض میں کمی نہ ہونے کی ایک وجہ اسکا طویل علاج ہے۔ جس کے باعث مریض علاج مکمل کئے بغیر ہی ادویات کا استعمال ترک کر دیتا ہے ، جس کی وجہ سے اس مرض کے دوبارہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں نیشنل ٹی بی پروگرام ٹی بی جیسے موذی مرض کے تدارک میں اپنا کردار ادا کررہی ہے مگر ٹی بی جیسے مرض کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور پرائیوٹ سیکٹر کو مل کر تیز رفتاری کے ساتھ اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا اور کمپین کے ذریعے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مناسب فنڈ بھی اس کو ختم کرنے اور مریضوں کا مفت علاج فراہم کرنے کے لیے مختص کرنا چاہیئے ۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں اس مرض کو ختم کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر پروگرام شروع کرناہوں گے ۔
ملیریا جس کے ساتھ ساتھ آج کل ڈینگی اور چکن گونیا وغیرہ بھی بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔جن کی اہم وجہ گندے اور ٹھہرے پانی کی موجودگی اور ان میں مچھروں کی افزائش ہے ۔WHO کی رپورٹ کے مطابق ملیریا پاکستان میں ہونے والا دوسرا عام مرض ہے اور پاکستان میں 3.5 ملین لوگ سالانہ اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ملیریا کی شرح پاکستان میں خصوصاََ مون سون کے موسم میں یعنی اگست سے نومبر تک زیادہ رہتی ہے ۔ پاکستان کے ملیر یا کنٹرول آرگنائزیشن کے وضع کردہ اسٹریجک پلان کے مطابق 2020 تک پاکستان میں ملیر یا کی شرح 75% تک کم کرناہے ۔ ملیر یا کے ساتھ ساتھ چکن گونیا جو ایڈیس ایجیپٹی (aedes aegypti) نامی مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے جو پاکستان اور خصوصاََ کراچی اور اب تھرپارکر میں بری طرح اپنے پنجے گاڑچکا ہے ، پر قابو کرنا ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق کر اچی میں تقریباََ 40000 کے قریب چکن گونیا کے مریض ملیر ، شاہ فیصل ، کورنگی اور کیماڑی کے علاقے سے شناخت کئے گئے ۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق حالیہ برسوں میں پوری دنیا میں ڈینگی بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد بے حد بڑھ چکی ہے اور تقریباََ دنیا کی چالیس فیصد آبادی ڈینگی میں مبتلا ہے ۔ اور ہر سال تقریباََ 5 کروڑ کیسزسامنے آتے ہیں جس سے پوری دنیا میں سالانہ تقریباََ پندرہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں بھی ڈینگی خیبر بختونخوا، ایبٹ آباد ، پشاور وغیرہ کے علاقوں میں بہت سارے افراد کو متاثر کر چکا ہے ۔ جبکہ کراچی شہر میں بھی ڈینگی سے متاثرہ افراد موجود ہیںاور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس سال کراچی میں ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔ یہ ا مراض قابل علاج بھی ہے اور اس سے باآسانی بچا بھی جاسکتا ہے ۔ان سب کی بنیادی وجہ نا مناسب آگاہی ، ناقص صفائی اورحفاظتی تدابیر کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر تی جا رہی ہے ۔
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق چھاتی کا سرطان پوری دنیا کی خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام سرطان ہے اور دنیا کی خواتین کی کل آبادی میں تقریباََ سولہ(16) فیصد خواتین کو چھاتی کے سرطان کامرض لاحق ہے۔ جبکہ بریسٹ کینسر سے پوری دنیا میں ہر سال تقریباََ پانچ لاکھ خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں ۔ پاکستان کا شمار ان ا یشیائی ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین میں چھاتی کے سرطان کی شرح بہت زیادہ ہے اور پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے خواتین میں چھاتی کے سرطان کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میںہر سال نوے ہزار (90000) خواتین چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہو جاتی ہیں جن میں سے تقریباََ چالیس ہزار خواتین بروقت علاج اور آگاہی کی غیر موجودگی کے باعث کینسر سے زندگی کی جنگ ہار جاتی ہیں ۔ خواتین میں لاعلمی ، آگاہی کی کمی اور بروقت شناخت یا علاج نہ ہونے کی وجہ سے شرح اموات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔۔ خاص کر ان لوگوں کو اس آگاہی کی زیادہ ضرورت ہے جو کہ گائوں دیہات میں رہتے ہیں اورجہاں پر تعلیم کی کمی ہے ۔ کیونکہ ایسے علاقوں میں ایک تو خواتین اس مرض کو دوسروں سے چھپاتی ہیں اور پھر اس مرض کے بارے میں معلومات اور آگاہی بھی کم ہوتی ہے اور جب یہ بیماری آگے بڑھ کر پھیل جاتی ہے تو ڈر، خوف اور روایتی علاج مریض کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے ۔
نگلیریا فائولیری(Naegleria fowleri) جسے دماغ کھانے والا امیبا (Brain Eating Amoeba) بھی کہتے ہیں ،صرف آلودہ پانی میں پرورش پاتا ہے اور یہ جھیلوں ، تالابوں ، چشموں ، سوئمنگ پولز اور نلکوں کے پانی میں پائے جاتے ہیں ۔
نگلیریا فائولیری انسانی جسم میں ناک کے راستے انسانی دماغ میں داخل ہو تا ہے اور ناک کی جھلی سے گزر کر یہ طفیلی امیبا قوتِ شامہ سے منسلک اعصاب کو نقصان پہنچاتے ہوئے دماغ کے اندر داخل ہو کر دماغی خلیات کو اپنی غذا بناتے ہیں ۔ اس کے پھیلنے کی وجہ آلودہ پانی کے ذخائر ہیں ۔ حالیہ ریسرچ کے مطابق اس دماغ کھانے والے امیبا کے پھیلائوں میں سوئمنگ پولز ایک نمایا ں کردار ادا کرتے ہیں ۔ سوئمنگ پولز میں کلورین کی مقدار کا نامناسب استعمال اس انفیکشن کی وجہ بنتا ہے ۔
اس جرثومے کے پھیلنے کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ، گھریلو استعمال والے پانی کا آلودہ ہونا اور فراہمی آب کے نظام میں مختلف خرابیاں ہو سکتی ہیں لہذا ہمیں چاہیئے کہ صاف پانی کے استعمال کو یقینی بنائیں اور جراثیم سے پاک پانی استعمال کریں ۔
ان کے علاوہ مختلف وائرل اور بیکٹیریل بیماریوں میں ہیپا ٹائٹس ، ٹائیفائیڈ، خسرہ ، ریبیز وغیرہ شامل ہیں ۔ ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس پاکستان میں بہت عام ہو تے جا رہے ہیں جو کہ آلودہ پانی اور خراب کھانوں سے پھیلتی ہیں اور جگر کی خرابی کا باعث بنتی ہیں ۔ٹائیفائیڈ بھی ایک بیکٹیریل بیماری ہے جو خراب اور آلودہ پانی اور خوراک سے پھیلتی ہے ۔
2016 ء میں ہسپتالوں کی رینکنگ کے عالمی ادارے رینکنگ ویب آف ہاسپٹلز (Ranking web of Hospitals) کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی سرکاری ہسپتال دنیا کے ساڑھے پانچ ہزار بہترین ہسپتالوں میں شامل نہیں ہے ۔ جبکہ پاکستان کا سی آئی ڈی پی انٹرنیشنل فائونڈیشن(Cidp International Foundation)کو پاکستان کا درجہ اول کا ہسپتال مانا گیا ہے ۔جو عالمی طورپر 1842 ویں نمبر پر ہے ۔جبکہ جناح میموریل ہسپتال 2400 ویں نمبر پر اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی 2736 ویں نمبر پر ہے ۔ اس کے علاو ہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) جو پاکستان کا بہترین ہسپتال مانا جاتا ہے ۔ وہ دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں 5 ہزار 911 نمبر پر موجود ہے ۔ رینکنگ ویب آف ورلڈ ہاسپٹلز (Ranking web of Hospitals) میں ہسپتالوں میں موجود سہولیات ، آلات ، مستند اور ا سپیشلسٹ ڈا کٹر وں کی تعداد، صفائی کے معیار ااور ہسپتال میں ہونے والی تحقیق کرنے کے پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ رینکنگ کی گئی ہے اور اسی رینکنگ کی بنیاد پر ہی عالمی بینک ، عالمی ادارہ صحت اور ایشین ڈولپمنٹ بینک اپنے گرانٹس اور فنڈز جاری کرتے ہیں ۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کا صرف 2 فیصد شعبہ صحت پر خرچ کیا جاتا ہے جن کا بھی شفاف استعمال نہیں کیا جاتا ہے اورکروڑوں کی آبادی کے حامل اس ملک کے لئے چند ہزار سرکاری ہاسپٹلز اور ان میں موجود ناکافی اور غیر میعاری ادویات ، غیر تجربہ کار پیرا میڈیکل اسٹاف اور بہتر مشینری کی کمی سو نے پر سہاگہ کا کام کر رہی ہے ۔پاکستان کے دیہی علاقوں کی صورت حال اس سے بھی بہت ابتر ہے ، جہاں اسپتال تو دور کی بات ایک ڈاکٹر تک کی سہولت موجود نہیں ۔ وہاں بے حد توجہ کی ضرورت ہے اورابتدائی نگہداشت کی اصلاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عطائی اور پیرامیڈکس کے بجائے مستند اور تربیت یافتہ ڈاکٹر متعین کیے جائیں ۔ ڈاکٹر ز کو بھی پروفیشنل اور با خبر ہونا چاہیئے کہ عالمی طور پر صحت میں ریسرچ کے حوالے سے اور مختلف بیماریوں کے حوالے سے جو تبدیلیاں آرہی ہیں ، انہیں بھرپور آگاہی اور دسترس ہونی چاہیئے ۔ کیونکہ صحت کے شعبے میں ریسرچ کے بغیر گزارہ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مختلف موضوعات پر اپ ڈیٹ معلوماتی لٹریچرز اور ریسرچ بیس ڈیٹا سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے نت نئے امراض کا علاج جو کہ عالمی طورپر اور خصوصاً پاکستان میں موجود ہے ، ان کا شعو ر اور ان پر عبور لازم ہے ۔ صحت اور تندرستی جیسے اہم شعبے کے لئے ہسپتالوں اور طب سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا نا اشد ضروری ہے ۔ اور سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی لیبارٹریز میں جدید طرز کی مشینوں کا استعمال بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ درست تشخیص کے باعث مریض کی جان کو بچانے کے ساتھ ساتھ علاج بھی با آسانی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ صحت سے متعلق عوام الناس میں شعور آگاہی کے پھیلائو کی بھی اشد ضرورت ہے اور خصوصاََ دیہی علاقوں میں مختلف بیماریوں کے حوالے سے پروگرامز اور سیمینارز منعقد کئے جانے چاہیئے ۔
کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...
پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...
ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...
مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...
محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...
میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...
اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...
اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...
شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...
جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...