وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 08 اپریل 2018 استقبال کتب

کتاب:تمھارے شہر کا موسم(شعری انتخاب)
شاعر:نذیر قیصر
قیمت:۵۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
نذیر قیصر کا شمار ان شعرامیں ہوتاہے جن کو اللہ رب العزت نے شہرت سے نوازاہے۔
تمھارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں اک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
نذیر قیصر کی مشہورزمانہ غزل ہے۔زیرنظر کتاب ان کی منتخب غزلیات کا انتخاب ہے جسے نوجوان شاعر اسامہ امیر نے ترتیب دیاہے۔اس کتاب کا دیباچہ کراچی کے معروف شاعرو نقاد جناب سرورجاوید نے لکھا ہے جب کہ اقتباسات فیض احمد فیض،احمد ندیم قاسمی، بانو قدسیہ، امرتا پریتم،ظفر اقبال،حسن نثار اور شہر یار کے دیے گئے ہیں۔
دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
یہ زبان زدعام غزل بھی نذیر قیصر کی ہے جو پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے اور اسے متعدد مایہ ناز گلوکاروں نے اپنی آواز میں ریکارڈ بھی کیا ہے۔نذیرقیصر قابل مبارک باد ہیں۔
………
کتاب :روحِ قدیم کی قسم(چالیسواں شعری مجموعہ)
شاعر:صابر ظفر
قیمت:۲۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
صابر ظفر کی شاعری کا چالیسواں مجموعہ’’روح قدیم کی قسم‘‘کے عنوان سے شائع ہواہے۔ اندھیرے میں تیر چلانے والے کم علم لوگ صابر ظفر کے مجموعوں کی تعداد کا سن کر عجلت پسند تحریک کے شعراسے ان کا مقابلہ کرنے لگ جاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ فلاں شاعرکے تو ۸۰ مجموعے شائع ہوچکے ہیں،وہ ناقص عقل لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ صابر ظفر کے اگر چالیس مجموعے شائع ہوئے ہیں تو ان میں موضوعاتی شاعری کے مجموعوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو ناقابل تسخیر ہے اور وہ لوگ صابر ظفر کو چھو کر بھی نہیں گزرتے جن کے مجموعوں کی تعداد ان سے دوگنی ہے اگر وہ تین گنا بھی ہو جائے تو صابر ظفر کا پلہ یوں بھی بھاری رہے گا کہ ان کے مجموعوں میں غزلوں کو دہرانے (Repeatation)کا عمل نہیں ہے۔ صابرظفر کا ہر مجموعہ ایک نیا اور اچھوتا موضوع لیے ہوتاہے جیسے ’’رانجھا تخت ہزارے کا‘‘اس موضوع پر اُردو ادب میں یہ پہلی بار کام ہواہے ہیر وارث شاہ کو اُردو میں منظوم کرنے کا اولین اعزاز صابر ظفر کوحاصل ہواہے۔ ان کی ہر کتاب قابل مطالعہ ہے۔
………
کتاب:تاخیر(۳۱ واں شعری مجموعہ)
شاعر:ظفر اقبال
قیمت:۳۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
جناب ظفر اقبال اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ Discussہونے والے شاعر ہیں۔نہ صرف ان کے حلیف ان کی غزلیات پر بات کر رہے ہیں بلکہ ان کے حریف بھی ان کی شاعری پر کھل کر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ان کیے کلیات ’’اب تک‘‘ کی آج تک پانچ جلدیں شائع ہوچکی ہیں ہر ایک جلد میں 6+6مجموعہ ہائے کلام شامل ہیں لہٰذاان کے تیس مجموعے شائع ہوچکے ہیں ’’تاخیر ‘‘ان کا ۳۱واں مجموعہ کلام ہے۔جس پر ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنی مثبت رائے کا اظہار کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ظفرؔ اقبال اُردو شاعری میں تخلیقی وفور کی غیر معمولی مثال ہی نہیں… اگرچہ یوں بھی ہے اور ان کے مسلسل زیرِ تعمیر اور ہنوز زیر تحریر کلیات کا حجم اب میرؔ و مصحفیؔ کے کارنامے سے بڑھ کر حجم اختیار کر چکا ہوگا اور ظاہر ہے کہ اپنی جگہ یہ بھی کوئی کم اہم بات نہیں۔ اس شعری کائنات کا پھیلائو اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ اندازے میں نہیں آتا۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر جو بات حیران کن ہے، وہ ان کی دنیائے غزل کا تنوع، رنگوں کی افراط ہے، کیفیت کا بہائو ہے، ایک موج کسی انداز میں بہتی چلی آتی ہے اور دوسری کا رنگ بالکل فرق۔ غزل کی مخصوص دھیمی دھیمی حزن و ملال کی کیفیت، دنیا کی ناپائیداری پر افسوس جیسے انداز سے لے کر، جو اس صنف کا خاص مزاج معلوم ہوتا ہے، ایک مختلف ہی انداز میں چٹاخ پٹاخ باتیں جن میں کہیں شوخی کا مزہ آتا ہے اور کہیں معاملہ بندی کا گماں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ تو دھول دھپّے پر اُتر آنے کے لیے بھی آستینیں چڑھائے تیار معلوم ہوتے ہیں۔ اس بات کی پروا کیے بغیر کہ یہ غزل کی سی سراپا ناز صنف کا شیوہ کہاں ہے۔ اتنے بہت سے رنگ، ایسی کیفیتوں کی بھرمار کسی اور شاعر کے ہاں بھلا کہاں نظر آتی ہے۔
ہزاروں بار دُہرائی جانے والی باتوں کو بھی ظفرؔ اقبال اپنے تخلیقی انداز کی وجہ سے غیر معمولی بنا دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ خود تو اچھے شاعر ہیں اور اس میں بھلا اب کیا شُبہ رہ گیا ہے مگر اُردو شاعری کی پوری روایت کے پس منظر میں دیکھیے تو یہ انتہائی منفرد شاعر اپنی اختیار کردہ غزل کی صنف اور پوری اُردو شاعری پر ایمان تازہ کر دیتے ہیں۔ غزل کے کتنے ہی امکانات پیدا ہونے لگتے ہیں اور کتنے ہی خُفتہ گوشے قیامت ڈھانے کے لیے انگڑائیاں لے کر بیدار ہونے لگتے ہیں۔
چھوٹی سے چھوٹی سمٹی سُکڑتی ہوئی، اختصاص کی منحنی، محدود اور پابند زندگی ہمارے دور کا مزاج بن گئی ہے۔ ایسے میں ظفرؔاقبال کے کارنامے کی تحسین بھی ناممکن سی معلوم ہوتی ہے۔ دنیا کی چادر سے پائوں پھیلا کر باہر جھانکیں تب اندازہ ہوگا کہ یہ غزل گو کیا کارنامہ سر انجام دے رہا ہے جس کے آگے امکانات کا دائرہ بھی چھوٹا پڑنے لگتا ہے۔ ایک کے بعد ایک نئی کائنات دو مصرعوں میں ڈھلنے لگتی ہے اور وہ بھی ہر بار۔‘‘
………
کتاب:توفیق(۳۲واں شعری مجموعہ)
شاعر:ظفر اقبال
قیمت:۳۰۰؍روپے
ناشر:رنگ ادب پبلی کیشنز،اُردو بازار،کراچی
جناب ظفر اقبال کے ۳۱ویں مجموعہ کلام ’’تاخیر‘‘کے بعد ’’توفیق‘‘۳۲واں شعری مجموعہ ہے جو’’ تاخیر‘‘ کی طرح ان کے غیر مطبوعہ کلام پر مشتمل ہے۔تاخیر کا انتساب معروف ڈراما نگار جناب اصغر ندیم سید اور توفیق کا انتساب معروف شاعر جناب محمد اظہارالحق کے نام کیا گیاہے۔بیک ٹائٹل پر شمس الرحمن فاروقی کی Latestرائے شائع کی گئی ہے ملاحظہ ہو:
’’ظفر اقبال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف اپنی شاعری کو بلکہ بہت سے دوسرے شاعروں کو، حتیٰ کہ پوری جدید شاعری کو گم راہ کیا ہے۔
اگر یہ صحیح ہے تو یہ بہت بڑا اعزاز ہے کیوں کہ ایک پوری شاعری کو گم راہ کرنے کا مطلب ہے، شاعری کا پورا رُخ بدل دینا ہے۔‘‘


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

حملہ اور ابہام وجود جمعرات 30 اپریل 2026
حملہ اور ابہام

مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات وجود جمعرات 30 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر