وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

جمعه 06 اپریل 2018 22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

نام و نسب:آپ کا نام نامی اسم گرامی معاویہ ، کنیت ابو عبد الرحمان، والد کا نام ابو سفیان ؓ ، دادا کا نام حرب اور والدہ کا نام ہندؓ ہے ۔ حافظ ابن حزمؒ نے والد کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب یوں تحریر فرمایا ہے : ’’ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی…الخ۔ ( جمہرۃ الانساب:۱/۱۱)

ولادت باسعادت:حضرت معاویہؓ کی ولادت بعثت نبویؐ سے پانچ سال قبل ۶۰۸ ؁ء میں ہوئی ،ماں باپ نے اُس وقت کے عرب کے دستور کے مطابق مختلف علوم و فنون سے آپؓ کو آراستہ کیا اور آپ کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حلقہ بگوشِ اسلام:ویسے تو حضرت معاویہ ؓصلح حدیبیہ کے بعد سنہ ۷ ہجری میں عمرۃ القضاء سے پہلے ہی ایمان لے آئے تھے ، لیکن کچھ والدہ کے ڈر اور کچھ دیگر معقول اعذار کی بناء پر آپ ؓ نے اپناقبولِ اسلام مخفی رکھا، پھر عین فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد بزرگوار حضرت ابو سفیانؓ کے ہم راہ واشگاف الفاظ میں آپؓ نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا ۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حسن صورت اور حسن سیرت:حضرت معاویہ ؓ کو قدرتِ الٰہیہ نے جہاں ظاہری حسن صورت کے لحاظ سے گلابی رنگ ، کتابی چہرہ ، سرو قد ، جاذب نظر اور پُرکشش بانکپن جیسی خوب صورت شکل و وجاہت سے نواز رکھا تھا تو وہیں حسن سیرت کے لحاظ سے بھی آپؓ کو اپنی خشیت و للہیت ، اطاعت پیمبری ، حلم و بردباری ، عفو درگزر ، نرم خوئی ، عمدگیٔ اخلاق ، بلندیٔ کردار ، فقر و استغنا عاجزی ، انکساری ، سادگی اور ظرافت طبع جیسی عمدہ صفات اور اعلیٰ صلاحیتوں سے بھی وافر حصہ عطا فرمارکھا تھا۔

خدمت نبوی اور کتابت وحی:چوں کہ آنحضرتؐ کے زمانہ میں ’’کتابت وحی‘‘ ایک نازک ترین مگر عظیم ترین کام تھا اور اس کے لیے جس احساسِ ذمہ داری ، امانت داری و دیانت داری اور جس علم و فہم کی ضرورت تھی وہ محتاجِ بیاں نہیں اور حضرت معاویہؓ میں یہ تمام تر باتیں بوجہ اتم موجود تھیں اس لیے حضرت معاویہؓ کے حلقہ بگوشِ اسلام ہوجانے کے بعد حضورِ اقدسؐ کی نظر دور شناس نے آپؓ کی علمی پختگی اور عملی شیفتگی کو فوراً بھانپ لیا اور آپؓ کو ’’ وحی‘‘ جیسے نازک مگر عظیم کام پر مامور فرمادیا ، جسے نہایت عمدگی اور بہتر انداز میں آپؓ ادا فرماتے رہے تاآں کہ آپؓ کا شمار کاتبین وحی کے کبار اور جلیل القدر صحابہؓ میں ہونے لگا ۔چنانچہ علامہ ابن حزمؒ کی تحقیق کے مطابق کتابت وحی کے سلسلہ میں آنحضرتؐ کی خدمت میںسب سے زیادہ رہنے کا شرف پہلے نمبر پر اگر حضرت زید بن ثابتؓ کو حاصل ہے تو دوسرے نمبر پر بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ ؓ کو حاصل ہے ۔ ( جوامع السیرۃ : ص ۲۷)

علاوہ ازیں آنحضرت ؐ نے اپنے باہر اور دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات اور ان کے قیام و طعام کا بند و بست اور انتظام و اہتمام حضرت معاویہؓ کے ہی سپرد فرمارکھا تھا ۔ ( تاریخ اسلام : ۲/۷)

اور مکہ مکرمہ سے آجانے کے بعد تو حضرت معاویہؓ نے مستقل طور پر اپنے آپ کو حضورِ اقدس ؐ کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ ( سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۳۹ ، ۴۰ )

مختلف غزوات میں شرکت:اور آپؓ مستقل طور پر آنحضرتؐ کے ساتھ رہنے لگ گئے تھے اور تمام غزوات بالخصوص غزوۂ حنین ، غزوۂ طائف ، غزوۂ یمامہ اور چھوٹی بڑی کئی گشتی اور جنگی مہموں میں شرکت فرمائی۔ (سیرت ابن ہشامؒ : ۲/۲۹۲)

حضرت معاویہ ؓ آنحضرتؐ کی نظر میں:حضرت معاویہؓ کی آنحضرت ؐ کی خدمت میں مسلسل حاضری ، کتابت وحی ، امانت داری و دیانت داری اور دیگر صفات محمودہ سے متاثر ہوکر حضورنبی پاکؐ نے متعدد بار کئی مواقع پر آپؓ کے حق میں دُعائیں فرمائی ۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے : ’’ اے اللہ ! معاویہؓ کو سیدھا راستہ دکھانے ولا اور ہدایت یافتہ بنادیجئے ! اور اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت عطا فرمادیجئے ! ۔‘‘ (ترمذی: ۲/۲۴۷، اسد الغابہ :۴/۳۸۶، کنز العمال : ۷ /۸۷)

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کو حساب و کتاب کا علم سکھلادیجئے ! اور اسے جہنم کے عذاب سے بچادیجئے ! ۔‘‘ الاستیعاب تحت الاصابہ : ۳/۳۸۱ ، مجمع الزوائد : ۹/۳۵۶ ، کنز العمال : ۷/۸۷)

ایک اور جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کا سینہ ( علم و حکمت سے) لبریز فرمادیجئے! ۔‘‘ ( تاریخ اسلام للذہبیؒ : ۲/۳۱۹)

حضرت معاویہؓ عہد صدیقی میں:آنحضرتؐ کی وفات کے بعد حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت کے اوّل ایام ہی میں آپؓ روایت حدیث کی طرف متوجہ ہوگئے اور کئی ایک احادیث حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عثمانؓ اور اپنی ہم شیرہ حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت کیں ، جن کی تعداد علامہ ابن حجر ہیتمی مکیؒ کی تحقیق کے مطابق ۱۲۳ ہے ۔ ( اعلام الاسلام وغیرہ : ص ۲۲۶)

جہادِ شام کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کے حقیقی بھائی حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کو امیر لشکر بناکر جب کہ آپؓ کو اس لشکر کا علم بردار بناکر روانہ فرمایا۔ (محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ : ۴/۴۷۱، فتوح البلدان : ص۴۸)

حضرت معاویہؓ عہدفاروقی میں:عہد فاروقی میں جوعلاقے رومیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے ، حضرت معاویہ ؓ نے اُن کے ہاتھ سے چھین کر وہاں اسلامی شوکت و حشمت کا پھریررا لہرا دیا نیز اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ’’قلعہ عرفہ‘‘ کو فتح کیا جس سے حضرت عمر فاروق ؓ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور آپؓ کو اُردن کا گورنر مقرر فرمادیا ۔ (تاریخ اُمت: ۳/۸)

عہد عثمانی میں پہلے بحری بیڑے کا قیام:عہد عثمانی میں حضرت معاویہ ؓ نے پہلا اسلامی بحری بیڑا ایجاد کیا جو سنہ ۲۸ ہجری میں بحیرۂ روم میں اُتراچنانچہ کچھ ہی دنوں بعد یورپ و افریقہ کی وسیع و عریض زمین پر اسلامی جھنڈا لہراتا ہوا نظر آنے لگا۔(سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۴۵ ، ۴۶)

حضرت معاویہؓ عہد مرتضوی میں:حضرت عثمانؓ کی الم ناک شہادت کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد ہوئے ، لیکن افسوس کہ آپؓ کا انتخاب ایک انتہائی پُر آشوب اور ہنگامی دور میں ہوا اور سوئے اتفاق کہ انہی لوگوں کے ہاتھوں ہوا کہ جن کا دامن دم عثمان کے داغ سے داغ دار تھا ، اس لیے صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو دم عثمان کے قصاص کے حصول کی شرط کے ساتھ مشروط کردیا اور قصاصِ دم عثمان کے حصول کے لیے آمادۂ بغاوت ہوگئے ۔

جنگ جمل:یہاں تک کہ پہلے ’’جنگ جمل ‘‘ کی صورت میں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں باہم سخت ٹکراؤ ہوا اور آن کی آن میں فریقین کی بھاری اکثریت خاک و خون میں لت پت ہوگئی ، اور لڑائی کی آگ ٹھنڈی ہوگئی لیکن بعد میںاگرچہ مختلف قسم کی باہمی مصلحانہ کوششوں کی تگ و دو جاری رہی تاہم وہ کسی طرح بھی اپنے اندر دم نہ بھرنے پائیں ،اورکچھ عرصہ تک تو یہ جنگ ٹھنڈی رہی لیکن جب اس کی خاکستر میں دبی چنگاری مسلمانوں کی ہر قسم کی باہمی مصالحانہ کوششوں کے باوجود بھی کسی طرح ختم نہ ہوسکی تو وہ دبی چنگاری دوبارہ بھڑک اُٹھی ۔

جنگ صفین:اور مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں ایک بار پھر ایک دوسرے کے مدمقابل آگئیں اور جنگ صفین کی صورت میں ان کا باہمی ٹکراؤ ہوا ، لیکن یہ جنگ پہلی جنگ کے مقابلہ میں خاصی سرد رہی ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ فریقین میں سے بعض عاقبت اندیش اور دُور رس نگاہ رکھنے والے حضرات نے جب یہ محسوس کیا کہ اگر مسلمانوں کی یہ باہمی خون ریز جنگ یوں ہی باقی رہی تو مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت و طاقت مکمل طور پر تباہ و برباد ہوجائے گی اور ان کا تمام جمع شدہ شیرازہ بکھر جائے گا اس لیے انہوں نے فوراً جنگ بندی کا اعلان کردیا ۔

اس کے بعد طرفین سے دو حکم مقرر ہوئے تاکہ مسلمانوں کی ان جنگی منفی حالات کا رُخ کسی مثبت اور سیدھے راستہ کی طرف پھیرا جاسکے ، لیکن یہ صورت بھی کسی طرح کارگر ثابت نہ ہوسکی اور حالات نے پہلی کی سی صورت دوبارہ اختیار کرلی اور قریب تھا کہ مسلمانوں میںایک تیسری جنگ بھڑک اٹھتی ، اُس وقت حضرت معاویہ ؓ نے خود حضرت علیؓ کی طرف ایک معقول صلح نامہ لکھا کہ چوں کہ مسلمانوں کے درمیان خون ریزی بہت زیادہ ہوچکی ہے اور باہمی اختلافات کی اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا کسی بھی طرح نہیں مل رہا ، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اب ہم بہرصورت آپس میں اس بات پر صلح کرلیں کہ شام اور مصر کے علاقے میرے پاس رہیں گے اور حجاز و یمن اور عراق و فارس اور کرمان کے علاقے آپؓ کے پاس رہیں گے ۔ حضرت علی ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی یہ معقول تجویز بسر و چشم اس کی تمام شرائط سمیت قبول فرمالی اور دونوں فریقین اپنے گھروں میں جابیٹھے۔ ( ابن اثیر : ۳/۳۲۴)اس طرح معاہدۂ امن و صلح لکھنے کی بنیاد پڑی اور یوں رنجش و رقابت کا دور ختم ہوکر محبت و مودت کا دور دورہ شروع ہوگیا اور مسلمان آپس میں دوبارہ ایک بار پھرشیر و شکر ہوگئے۔

حضرت علی ؓ حضرت معاویہؓ کی نظر میں:ایک بار کسی شخص نے حضرت معاویہؓ کے سامنے حضرت علیؓ کی شان میں کچھ گستاخی کے الفاظ کہے تو حضرت معاویہ ؓ آپے سے باہر ہوگئے اور فرمایا کہ تو ایسے شخص سے نفرت کرتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ؐ فرمایا کہ علیؓ میرے لیے ایسے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کے لیے حضرت ہارون ، الا یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے اُس شخص کو اپنے دربار سے چلتا کیا اور حکم جاری کیاکہ اس کا وظیفہ بند کردیا جائے۔( الاستیعاب : :۴۵۳، البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۰)

حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کی نظر میں:ـحضرت علی المرتضیٰ ؓ کی رحلت کا وقت جب قریب آیا تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو اپنے پاس بلایا اور اُن کو وصیت فرمائی کہ : ’’بیٹا! حضرت معاویہؓ کی امارت قبول کرنے سے ہرگز نفرت نہ کرنا! ورنہ باہم کشت و خون ریزی دیکھوگے۔‘‘( البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۱)

حضرت حسن ؓ سے مصالحت:چنانچہ معاہدۂ صلح کے ایک سال بعد جب حضرت علی ؓ کاانتقال ہوگیا اور آپؓ کی جگہ آپؓ کے بیٹے حضرت حسنؓ جانشین خلافت ہوگئے تو شیعانِ علیؓ نے حضرت حسنؓ کو حضرت معاویہؓ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور زُور دیا تو اُس وقت حضرت حسن ؓ کو اپنے والد گرامی حضرت علیؓ کی مذکورہ بالا وصیت یاد آگئی ، اس لیے آپؓ نے تنگ آکر یہ فیصلہ فرمالیا کہ اب حضرت معاویہؓ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے ۔

حسن اتفاق دیکھئے کہ ابھی حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرنے کا دل میں سوچا ہی تھا کہ حضرت معاویہؓ نے آپؓ سے صلح کرنے میں پیش قدمی کرلی ، جس کے بعد حضرت حسنؓ نے اپنی دلی رضاء و رغبت کے ساتھ منصب خلافت حضرت معاویہؓ کو سونپ دیا اور حضرت معاویہ ؓ کو اپنا خلیفہ تسلیم فرماکر خلافت جیسے عظیم عہدے سے سبک دوش ہوگئے۔(تاریخ اسلام: جلد اوّل ص ۵۴۴)

فتوحاتِ معاویہؓ پر ایک نظر:سنہ ۹ ہجری میں حضرت معاویہؓ نے نے قیساریہ کو فتح کیا ۔ ۲۷ہجری میں بحری بیڑہ لے کر قبرص کی جانب بڑھے اور تاریخ اسلام کی پہلی بحری جنگ لڑی ۔ ۲۸ ہجری میں قبرص کا عظیم الشان جزیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ۔ ۳۲ ہجری میںآپؓ نے قسطنطنیہ کے قریبی علاقوں میں جہاد جاری رکھا ۔ ۳۳ہجری میں افرنطہ ، ملطیہ اور رُوم کے کچھ قلعے فتح کیے ۔ ۳۵ہجری میں آپؓ کی قیادت میں غزوۂ ذی خشب پیش آیا ۔ ۴۲ہجری میں غزوۂ سجستان پیش آیا اور سندھ کا کچھ حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۳ہجری میں سوڈان کا ملک فتح ہوا اور سجستان کا مزید علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۴ہجری میں افغانستان کا مشہور شہر کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قندابیل کے مقام تک پہنچ گئے۔ ۴۵ہجری میں افریقہ پر لشکر کشی کی گئی اور ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۶ہجری میں صقلیہ (سسلی) پر پہلی بار حملہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۷ہجری میں افریقہ کے مزید علاقوں میں غزوات جاری رہے ۔ ۵۰ /۵۱ ہجری میں غزوۂ قسطنطنیہ پیش آیا جہاں پہلی بار مسلمانوں نے حملہ کیا تھا ۔ ۵۴ہجری میں مسلمان نہر جیحون کو عبور کرتے ہوئے بخارا تک پہنچے تھے ۔ اور ۵۶ہجری میں غزوۂ سمرقند پیش آیا۔( العبر فی خبر من غبر للذہبیؒ)
وفات حسرت آیات:سنہ ۶۰ ہجری میں جب کہ حضرت معاویہؓ اپنی عمر عزیز کی اٹھہترویں بہار سے گزر رہے تھے تو اچانک ایک دن آپؓ کی طبیعت کچھ ناساز سی ہوگئی اور پھر آئے دن خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی تاآں کہ دمشق کے مقام پر مؤرخہ ۲۲/ رجب المرجب ۶۰ ؁ھ میں اسی مرض کی حالت میں آپؓ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اس طرح علم و حلم ، زہد و تقویٰ اورتدبر و سیاست کا یہ آفتاب جہان تاب اور ماہتاب عالم تاب عالم دُنیا کے اُفق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپؓ کی نمازِ جنازہ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے پڑھائی اور باب الصغیر دمشق میں آپؓکو محو استراحت کردیا گیا ۔
(الاستیعاب تحت
الاصابہ : ۳/۳۷۸ )


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان