وجود

... loading ...

وجود

22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

جمعه 06 اپریل 2018 22رجب یوم وفات جرنیل اسلام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان

نام و نسب:آپ کا نام نامی اسم گرامی معاویہ ، کنیت ابو عبد الرحمان، والد کا نام ابو سفیان ؓ ، دادا کا نام حرب اور والدہ کا نام ہندؓ ہے ۔ حافظ ابن حزمؒ نے والد کی طرف سے آپؓ کا سلسلہ نسب یوں تحریر فرمایا ہے : ’’ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی…الخ۔ ( جمہرۃ الانساب:۱/۱۱)

ولادت باسعادت:حضرت معاویہؓ کی ولادت بعثت نبویؐ سے پانچ سال قبل ۶۰۸ ؁ء میں ہوئی ،ماں باپ نے اُس وقت کے عرب کے دستور کے مطابق مختلف علوم و فنون سے آپؓ کو آراستہ کیا اور آپ کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حلقہ بگوشِ اسلام:ویسے تو حضرت معاویہ ؓصلح حدیبیہ کے بعد سنہ ۷ ہجری میں عمرۃ القضاء سے پہلے ہی ایمان لے آئے تھے ، لیکن کچھ والدہ کے ڈر اور کچھ دیگر معقول اعذار کی بناء پر آپ ؓ نے اپناقبولِ اسلام مخفی رکھا، پھر عین فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد بزرگوار حضرت ابو سفیانؓ کے ہم راہ واشگاف الفاظ میں آپؓ نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا ۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ : ۳/۴۱۲)

حسن صورت اور حسن سیرت:حضرت معاویہ ؓ کو قدرتِ الٰہیہ نے جہاں ظاہری حسن صورت کے لحاظ سے گلابی رنگ ، کتابی چہرہ ، سرو قد ، جاذب نظر اور پُرکشش بانکپن جیسی خوب صورت شکل و وجاہت سے نواز رکھا تھا تو وہیں حسن سیرت کے لحاظ سے بھی آپؓ کو اپنی خشیت و للہیت ، اطاعت پیمبری ، حلم و بردباری ، عفو درگزر ، نرم خوئی ، عمدگیٔ اخلاق ، بلندیٔ کردار ، فقر و استغنا عاجزی ، انکساری ، سادگی اور ظرافت طبع جیسی عمدہ صفات اور اعلیٰ صلاحیتوں سے بھی وافر حصہ عطا فرمارکھا تھا۔

خدمت نبوی اور کتابت وحی:چوں کہ آنحضرتؐ کے زمانہ میں ’’کتابت وحی‘‘ ایک نازک ترین مگر عظیم ترین کام تھا اور اس کے لیے جس احساسِ ذمہ داری ، امانت داری و دیانت داری اور جس علم و فہم کی ضرورت تھی وہ محتاجِ بیاں نہیں اور حضرت معاویہؓ میں یہ تمام تر باتیں بوجہ اتم موجود تھیں اس لیے حضرت معاویہؓ کے حلقہ بگوشِ اسلام ہوجانے کے بعد حضورِ اقدسؐ کی نظر دور شناس نے آپؓ کی علمی پختگی اور عملی شیفتگی کو فوراً بھانپ لیا اور آپؓ کو ’’ وحی‘‘ جیسے نازک مگر عظیم کام پر مامور فرمادیا ، جسے نہایت عمدگی اور بہتر انداز میں آپؓ ادا فرماتے رہے تاآں کہ آپؓ کا شمار کاتبین وحی کے کبار اور جلیل القدر صحابہؓ میں ہونے لگا ۔چنانچہ علامہ ابن حزمؒ کی تحقیق کے مطابق کتابت وحی کے سلسلہ میں آنحضرتؐ کی خدمت میںسب سے زیادہ رہنے کا شرف پہلے نمبر پر اگر حضرت زید بن ثابتؓ کو حاصل ہے تو دوسرے نمبر پر بلا شرکت غیرے حضرت معاویہ ؓ کو حاصل ہے ۔ ( جوامع السیرۃ : ص ۲۷)

علاوہ ازیں آنحضرت ؐ نے اپنے باہر اور دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارات اور ان کے قیام و طعام کا بند و بست اور انتظام و اہتمام حضرت معاویہؓ کے ہی سپرد فرمارکھا تھا ۔ ( تاریخ اسلام : ۲/۷)

اور مکہ مکرمہ سے آجانے کے بعد تو حضرت معاویہؓ نے مستقل طور پر اپنے آپ کو حضورِ اقدس ؐ کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ ( سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۳۹ ، ۴۰ )

مختلف غزوات میں شرکت:اور آپؓ مستقل طور پر آنحضرتؐ کے ساتھ رہنے لگ گئے تھے اور تمام غزوات بالخصوص غزوۂ حنین ، غزوۂ طائف ، غزوۂ یمامہ اور چھوٹی بڑی کئی گشتی اور جنگی مہموں میں شرکت فرمائی۔ (سیرت ابن ہشامؒ : ۲/۲۹۲)

حضرت معاویہ ؓ آنحضرتؐ کی نظر میں:حضرت معاویہؓ کی آنحضرت ؐ کی خدمت میں مسلسل حاضری ، کتابت وحی ، امانت داری و دیانت داری اور دیگر صفات محمودہ سے متاثر ہوکر حضورنبی پاکؐ نے متعدد بار کئی مواقع پر آپؓ کے حق میں دُعائیں فرمائی ۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے : ’’ اے اللہ ! معاویہؓ کو سیدھا راستہ دکھانے ولا اور ہدایت یافتہ بنادیجئے ! اور اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت عطا فرمادیجئے ! ۔‘‘ (ترمذی: ۲/۲۴۷، اسد الغابہ :۴/۳۸۶، کنز العمال : ۷ /۸۷)

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کو حساب و کتاب کا علم سکھلادیجئے ! اور اسے جہنم کے عذاب سے بچادیجئے ! ۔‘‘ الاستیعاب تحت الاصابہ : ۳/۳۸۱ ، مجمع الزوائد : ۹/۳۵۶ ، کنز العمال : ۷/۸۷)

ایک اور جگہ ارشاد ہے : ’’اے اللہ! معاویہؓ کا سینہ ( علم و حکمت سے) لبریز فرمادیجئے! ۔‘‘ ( تاریخ اسلام للذہبیؒ : ۲/۳۱۹)

حضرت معاویہؓ عہد صدیقی میں:آنحضرتؐ کی وفات کے بعد حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت کے اوّل ایام ہی میں آپؓ روایت حدیث کی طرف متوجہ ہوگئے اور کئی ایک احادیث حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عثمانؓ اور اپنی ہم شیرہ حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت کیں ، جن کی تعداد علامہ ابن حجر ہیتمی مکیؒ کی تحقیق کے مطابق ۱۲۳ ہے ۔ ( اعلام الاسلام وغیرہ : ص ۲۲۶)

جہادِ شام کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کے حقیقی بھائی حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کو امیر لشکر بناکر جب کہ آپؓ کو اس لشکر کا علم بردار بناکر روانہ فرمایا۔ (محاضرات تاریخ الامم الاسلامیہ : ۴/۴۷۱، فتوح البلدان : ص۴۸)

حضرت معاویہؓ عہدفاروقی میں:عہد فاروقی میں جوعلاقے رومیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے ، حضرت معاویہ ؓ نے اُن کے ہاتھ سے چھین کر وہاں اسلامی شوکت و حشمت کا پھریررا لہرا دیا نیز اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ’’قلعہ عرفہ‘‘ کو فتح کیا جس سے حضرت عمر فاروق ؓ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور آپؓ کو اُردن کا گورنر مقرر فرمادیا ۔ (تاریخ اُمت: ۳/۸)

عہد عثمانی میں پہلے بحری بیڑے کا قیام:عہد عثمانی میں حضرت معاویہ ؓ نے پہلا اسلامی بحری بیڑا ایجاد کیا جو سنہ ۲۸ ہجری میں بحیرۂ روم میں اُتراچنانچہ کچھ ہی دنوں بعد یورپ و افریقہ کی وسیع و عریض زمین پر اسلامی جھنڈا لہراتا ہوا نظر آنے لگا۔(سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ : ۴۵ ، ۴۶)

حضرت معاویہؓ عہد مرتضوی میں:حضرت عثمانؓ کی الم ناک شہادت کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد ہوئے ، لیکن افسوس کہ آپؓ کا انتخاب ایک انتہائی پُر آشوب اور ہنگامی دور میں ہوا اور سوئے اتفاق کہ انہی لوگوں کے ہاتھوں ہوا کہ جن کا دامن دم عثمان کے داغ سے داغ دار تھا ، اس لیے صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو دم عثمان کے قصاص کے حصول کی شرط کے ساتھ مشروط کردیا اور قصاصِ دم عثمان کے حصول کے لیے آمادۂ بغاوت ہوگئے ۔

جنگ جمل:یہاں تک کہ پہلے ’’جنگ جمل ‘‘ کی صورت میں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں باہم سخت ٹکراؤ ہوا اور آن کی آن میں فریقین کی بھاری اکثریت خاک و خون میں لت پت ہوگئی ، اور لڑائی کی آگ ٹھنڈی ہوگئی لیکن بعد میںاگرچہ مختلف قسم کی باہمی مصلحانہ کوششوں کی تگ و دو جاری رہی تاہم وہ کسی طرح بھی اپنے اندر دم نہ بھرنے پائیں ،اورکچھ عرصہ تک تو یہ جنگ ٹھنڈی رہی لیکن جب اس کی خاکستر میں دبی چنگاری مسلمانوں کی ہر قسم کی باہمی مصالحانہ کوششوں کے باوجود بھی کسی طرح ختم نہ ہوسکی تو وہ دبی چنگاری دوبارہ بھڑک اُٹھی ۔

جنگ صفین:اور مسلمانوں کی دو بڑی جماعتیں ایک بار پھر ایک دوسرے کے مدمقابل آگئیں اور جنگ صفین کی صورت میں ان کا باہمی ٹکراؤ ہوا ، لیکن یہ جنگ پہلی جنگ کے مقابلہ میں خاصی سرد رہی ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ فریقین میں سے بعض عاقبت اندیش اور دُور رس نگاہ رکھنے والے حضرات نے جب یہ محسوس کیا کہ اگر مسلمانوں کی یہ باہمی خون ریز جنگ یوں ہی باقی رہی تو مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت و طاقت مکمل طور پر تباہ و برباد ہوجائے گی اور ان کا تمام جمع شدہ شیرازہ بکھر جائے گا اس لیے انہوں نے فوراً جنگ بندی کا اعلان کردیا ۔

اس کے بعد طرفین سے دو حکم مقرر ہوئے تاکہ مسلمانوں کی ان جنگی منفی حالات کا رُخ کسی مثبت اور سیدھے راستہ کی طرف پھیرا جاسکے ، لیکن یہ صورت بھی کسی طرح کارگر ثابت نہ ہوسکی اور حالات نے پہلی کی سی صورت دوبارہ اختیار کرلی اور قریب تھا کہ مسلمانوں میںایک تیسری جنگ بھڑک اٹھتی ، اُس وقت حضرت معاویہ ؓ نے خود حضرت علیؓ کی طرف ایک معقول صلح نامہ لکھا کہ چوں کہ مسلمانوں کے درمیان خون ریزی بہت زیادہ ہوچکی ہے اور باہمی اختلافات کی اُلجھی ہوئی ڈور کا سرا کسی بھی طرح نہیں مل رہا ، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اب ہم بہرصورت آپس میں اس بات پر صلح کرلیں کہ شام اور مصر کے علاقے میرے پاس رہیں گے اور حجاز و یمن اور عراق و فارس اور کرمان کے علاقے آپؓ کے پاس رہیں گے ۔ حضرت علی ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی یہ معقول تجویز بسر و چشم اس کی تمام شرائط سمیت قبول فرمالی اور دونوں فریقین اپنے گھروں میں جابیٹھے۔ ( ابن اثیر : ۳/۳۲۴)اس طرح معاہدۂ امن و صلح لکھنے کی بنیاد پڑی اور یوں رنجش و رقابت کا دور ختم ہوکر محبت و مودت کا دور دورہ شروع ہوگیا اور مسلمان آپس میں دوبارہ ایک بار پھرشیر و شکر ہوگئے۔

حضرت علی ؓ حضرت معاویہؓ کی نظر میں:ایک بار کسی شخص نے حضرت معاویہؓ کے سامنے حضرت علیؓ کی شان میں کچھ گستاخی کے الفاظ کہے تو حضرت معاویہ ؓ آپے سے باہر ہوگئے اور فرمایا کہ تو ایسے شخص سے نفرت کرتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ؐ فرمایا کہ علیؓ میرے لیے ایسے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کے لیے حضرت ہارون ، الا یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے اُس شخص کو اپنے دربار سے چلتا کیا اور حکم جاری کیاکہ اس کا وظیفہ بند کردیا جائے۔( الاستیعاب : :۴۵۳، البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۰)

حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کی نظر میں:ـحضرت علی المرتضیٰ ؓ کی رحلت کا وقت جب قریب آیا تو آپؓ نے اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو اپنے پاس بلایا اور اُن کو وصیت فرمائی کہ : ’’بیٹا! حضرت معاویہؓ کی امارت قبول کرنے سے ہرگز نفرت نہ کرنا! ورنہ باہم کشت و خون ریزی دیکھوگے۔‘‘( البدایہ والنہایہ : ۸/۱۳۱)

حضرت حسن ؓ سے مصالحت:چنانچہ معاہدۂ صلح کے ایک سال بعد جب حضرت علی ؓ کاانتقال ہوگیا اور آپؓ کی جگہ آپؓ کے بیٹے حضرت حسنؓ جانشین خلافت ہوگئے تو شیعانِ علیؓ نے حضرت حسنؓ کو حضرت معاویہؓ سے لڑنے پر آمادہ کیا اور زُور دیا تو اُس وقت حضرت حسن ؓ کو اپنے والد گرامی حضرت علیؓ کی مذکورہ بالا وصیت یاد آگئی ، اس لیے آپؓ نے تنگ آکر یہ فیصلہ فرمالیا کہ اب حضرت معاویہؓ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے ۔

حسن اتفاق دیکھئے کہ ابھی حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہ ؓ سے صلح کرنے کا دل میں سوچا ہی تھا کہ حضرت معاویہؓ نے آپؓ سے صلح کرنے میں پیش قدمی کرلی ، جس کے بعد حضرت حسنؓ نے اپنی دلی رضاء و رغبت کے ساتھ منصب خلافت حضرت معاویہؓ کو سونپ دیا اور حضرت معاویہ ؓ کو اپنا خلیفہ تسلیم فرماکر خلافت جیسے عظیم عہدے سے سبک دوش ہوگئے۔(تاریخ اسلام: جلد اوّل ص ۵۴۴)

فتوحاتِ معاویہؓ پر ایک نظر:سنہ ۹ ہجری میں حضرت معاویہؓ نے نے قیساریہ کو فتح کیا ۔ ۲۷ہجری میں بحری بیڑہ لے کر قبرص کی جانب بڑھے اور تاریخ اسلام کی پہلی بحری جنگ لڑی ۔ ۲۸ ہجری میں قبرص کا عظیم الشان جزیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا ۔ ۳۲ ہجری میںآپؓ نے قسطنطنیہ کے قریبی علاقوں میں جہاد جاری رکھا ۔ ۳۳ہجری میں افرنطہ ، ملطیہ اور رُوم کے کچھ قلعے فتح کیے ۔ ۳۵ہجری میں آپؓ کی قیادت میں غزوۂ ذی خشب پیش آیا ۔ ۴۲ہجری میں غزوۂ سجستان پیش آیا اور سندھ کا کچھ حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۳ہجری میں سوڈان کا ملک فتح ہوا اور سجستان کا مزید علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۴ہجری میں افغانستان کا مشہور شہر کابل فتح ہوا اور مسلمان ہندوستان میں قندابیل کے مقام تک پہنچ گئے۔ ۴۵ہجری میں افریقہ پر لشکر کشی کی گئی اور ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے زیر نگین آیا ۔ ۴۶ہجری میں صقلیہ (سسلی) پر پہلی بار حملہ کیا گیا اور کثیر تعداد میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ۔ ۴۷ہجری میں افریقہ کے مزید علاقوں میں غزوات جاری رہے ۔ ۵۰ /۵۱ ہجری میں غزوۂ قسطنطنیہ پیش آیا جہاں پہلی بار مسلمانوں نے حملہ کیا تھا ۔ ۵۴ہجری میں مسلمان نہر جیحون کو عبور کرتے ہوئے بخارا تک پہنچے تھے ۔ اور ۵۶ہجری میں غزوۂ سمرقند پیش آیا۔( العبر فی خبر من غبر للذہبیؒ)
وفات حسرت آیات:سنہ ۶۰ ہجری میں جب کہ حضرت معاویہؓ اپنی عمر عزیز کی اٹھہترویں بہار سے گزر رہے تھے تو اچانک ایک دن آپؓ کی طبیعت کچھ ناساز سی ہوگئی اور پھر آئے دن خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی تاآں کہ دمشق کے مقام پر مؤرخہ ۲۲/ رجب المرجب ۶۰ ؁ھ میں اسی مرض کی حالت میں آپؓ نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا اور اس طرح علم و حلم ، زہد و تقویٰ اورتدبر و سیاست کا یہ آفتاب جہان تاب اور ماہتاب عالم تاب عالم دُنیا کے اُفق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔ آپؓ کی نمازِ جنازہ حضرت ضحاک بن قیسؓ نے پڑھائی اور باب الصغیر دمشق میں آپؓکو محو استراحت کردیا گیا ۔
(الاستیعاب تحت
الاصابہ : ۳/۳۷۸ )


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان وجود - پیر 06 اپریل 2026

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی حافظ نعیم الرحمان ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تواس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی، گفتگو امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے ...

حافظ نعیم کا عدالتی کارروائی میں ام رباب سے تعاون کا اعلان

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 06 اپریل 2026

پاکستان کو پختونوں نے اپنی مرضی سے قبول کیا،غلط پالیسیوں سے پٹرول،ڈیزل مہنگا ہوا عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ پختونخوا کاامن جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ میں منعقدہ امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پختون "ڈالر...

پختون ڈالر کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے،سہیل آفریدی

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا وجود - پیر 06 اپریل 2026

جارحیت جاری رہی تو خطے کو امریکا، اسرائیل کیلئے دوزخ بنادیں گے،ایران کا دوٹوک جواب مزید جارحیت کا جواب خطے میں شدید رد عمل کی صورت میں دیا جائیگا، ترجمان ابراہیم ذوالفقاری ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا،ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ...

ایران نے ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مضامین
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار وجود پیر 06 اپریل 2026
نثری نظم کے فروغ میں ڈاکٹر محسن خالد محسن کا تخلیقی و فکری کردار

مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں وجود پیر 06 اپریل 2026
مودی کی کمزور معاشی پالیسیاں

ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے! وجود پیر 06 اپریل 2026
ہم نے ملک میں سچ کو منجمد کر دیا ہے!

مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر