وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کی بربریت کی داستانیں،دنیاخاموش تماشائی

جمعرات 05 اپریل 2018 مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کی بربریت کی داستانیں،دنیاخاموش تماشائی

مقبوضہ کشمیر میں اتوار کے روز بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ شوپیاں، اننت ناگ (اسلام آباد) کے اضلاع میں ’’آزادی، آزادی‘‘ کے نعرے لگانے والوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے سیدھی گولیاں چلائیں۔ گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے چہروں پر فائرنگ کی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں جعلی مقابلوں میں مجموعی طور پر بیس کشمیریوں کو شہید اور ایک سو سے زیادہ کو زخمی کر دیا گیا۔ حالیہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی فوجیوں کا یہ بدترین آپریشن تھا۔ بھارتی حکومت نے بدترین مظالم کو چھپانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں فون، انٹرنیٹ اور ریل سروس کو معطل کر دیا۔ بھارتی فوجیوں کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف حریت قیادت نے شدید مذمت کرتے ہوئے دو روزہ احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی نے اظہار یکجہتی کے لیے ایک روزہ ہڑتال کی بھی اپیل کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے بھارتی فوجیوں کی بدترین وحشیانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے مقبوضہ کشمیر کو لہو لہو کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز بلند کی جائے۔ مظفر آباد اور دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں کے خلاف بدترین مظالم کا ارتکاب کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں، اس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔

بھارتی فوجیوں کی اس بدترین ریاستی دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھایا جائے، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی دوٹوک پالیسی کو یقینی بنایا جائے۔ سابق سفارت کاروں نے مشورہ دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری کے ضمیر کو جگانے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کی جائیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتوار کا دن، خون آشام دن تھا۔ کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیریوں اور بھارتی فوجیوں کے درمیان سوموار کو بھی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ شہیدوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ فضا ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔ پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کرنے کے لیے معمول کے مطابق شہیدوں کے جنازوں کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا ہے۔ بھارتی فوجیوں کے مظالم سے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز مظالم اور بدترین ریاستی دہشت گردی کی یاد تازہ ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ نے کشمیریوں پر اتوار کے روز کیے گئے مظالم کو درست قرار دیتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو شاباش دی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اسرائیل کے مشورے اور شہہ پر مقبوضہ کشمیر میں وحشیانہ مظالم کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے کشمیر اور فلسطین کے مسائل اقوام متحدہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کی بدترین اور مسلسل پامالی مشترکہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان مسائل کو انسانی حقوق کے چارٹر کی روشنی میں حل کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر میں تیسرے بنیادی فریق کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لیے ہر طرح سے اصولی موقف کو سراہا جاتا ہے لیکن عالمی برادری عملی امداد اور حمایت نہیں کرتی، جس کے باعث یہ دونوں مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ وحشیانہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو مظالم سے نہیں دبایا جا سکتا۔ برطانیہ میں کشمیری رہنما لارڈ نذیر احمد نے اس بدترین واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کے انتہائی قابل مذمت اقدامات کی انتہا ہو چکی ہے۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں سفارتی محاذ پر زبردست حکمتِ عملی کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ انسانی حقوق کے تحفظ کا چارٹر مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز پچھلے دو اڑھائی برسوں کے درمیان ہر طرح کے مظالم سے کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے سے دستبردار کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ انتہائی خطرناک ہتھیار پیلٹ گن کے استعمال سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوانوں اور خواتین کو اندھا کیا گیا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ پیلٹ گنوں کے بے تحاشا استعمال پر جب عالمی سطح پر بھارت سے احتجاج کیا گیا اور مختلف تنظیموں نے دباؤ ڈالا تو پچھلے سال کے آخر میں مودی سرکار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بھارتی فوجیوں کو پیلٹ گن کے استعمال سے روکتے ہوئے اس کی جگہ ایک نیا ہتھیار استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود اتوار کے روز بھارتی فوجیوں نے اندھا دھند پیلٹ گنوں کا استعمال کیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ بند کرانے کے لیے عالم اسلام اور عالمی برادری کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار کیا جائے۔ سفارتی محاذ پر نئی کوششوں سے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور سلامتی کونسل میں کشمیریوں کے قتل عام کا معاملہ اٹھا کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک مذاکرات شروع کرائے جائیں۔ اسے اتفاق کہہ لیجئے کہ بھارتی فوجیوں نے مظالم کی انتہا کی ہے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 29 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 94922 کشمیریوں کو شہید کیا، اب تک سات ہزار گمنام قبریں بھی دریافت ہو چکی ہیں۔ اس سے بھارتی فوجیوں کی طرف سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے مظالم کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ افسوس ناک صورت حال ہے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ بار بار پاکستان اور کشمیریوں کی قیادت حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اور وحشیانہ مظالم کے ثبوت بھی اقوام متحدہ میں عالمی برادری کو پیش کیے ہیں لیکن عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے۔ مخصوص مفادات اور پالیسی کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور شدہ قرارداد پر عملدرآمد نہیں کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت بھارت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا باقاعدہ تحریری وعدہ کیا تھا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان اب مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھائے۔ اس کے لیے کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے ملکوں اور دیگر بااثر تنظیموں سے رابطے کرکے حمایت کی جائے۔ اس طرح اقوام متحدہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے دونوں مسائل پر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل ہو سکے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھے گا، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی فلسطینیوں کے خلاف اندھا دھند مظالم سے روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے گا۔ عالمی برادری کا ضمیر جگانے کے لیے زبردست سفارتی مہم شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں سفارتی محاذ پر موثر طریقے سے سرگرم ہونا پڑے گا۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں حالیہ فوجی مظالم کے خلاف مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے،وقت ضائع کیے بغیر تمام حلقوں سے صلاح مشورہ کرتے ہوئے عملی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے کا یہی موثر طریقہ ہے۔


متعلقہ خبریں


انڈیا اور چین کا سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے پر اتفاق وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

چین اور انڈیا نے ہمالیہ کی سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے پر اتفاق کیا ہے ۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران کی ملاقات ہوئی تھی جس دوران انہوں نے سرحد سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 15 جون کو لداخ میں سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ کے دوران 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے ۔نئی دہلی میں چین اورانڈیا کی ج...

انڈیا اور چین کا سرحد پر مزید فوج نہ بھیجنے پر اتفاق

ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہوگی'ماہرین وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

چار برس قبل اْس وقت کے امریکی صدارتی الیکشن کے نامزد ہونے والے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر منتخب ہو گئے تو ایران حکومت کے جوہری معاہدے کو ترک کر دیں گے اور ایک بہتر ڈیل کو عمل میں لائیں گے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف جو بائیڈن کے برعکس ایران کو مسلسل آنکھیں دکھاتے رہتے ہیں۔ ابھی جب کہ امریکی صدارتی انتخابات بہت نزدیک ہیں مبصرین اس امکان کو رد نہیں کر رہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو وہ تہران حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ یا دو طرفہ ...

ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے پر خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہوگی'ماہرین

دنیا بھر سے ڈارک ویب کے 179 کارندے گرفتار وجود - جمعرات 24 ستمبر 2020

دنیا بھر میں ڈارک ویب سے منسلک ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کے دوران 179 کارندے گرفتار، 65 لاکھ ڈالر نقد، 500 کلوگرام منشیات اور 64 خطرناک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوروپول سائبر کرائم سینٹر اور برطانوی محکمہ انصاف کی یورپ میں ڈارک ویب کے کارندوں کے خلاف مشترکہ کارروائی امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر 5 ممالک میں کی گئیں۔کارروائی کے دوران سب سے زیادہ یعنی 119 کارندے امریکا سے پکڑے گئے ، جرمنی سے 42، پالینڈ میں 8، برطانیہ سے 4، 3 آسٹریا، کینیڈا سے ...

دنیا بھر سے ڈارک ویب کے 179 کارندے گرفتار

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بحرین میں ایک دوا کی خریداری کے لیے 400 سے زائد جعلی نسخے دینے پر تین افراد کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جن میں سے دو ایشیائی شہری ہیں جنہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی نے میڈیکل اسٹورز کی معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی دوا حیران کن طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔تحقیقات سے پتا چلا کہ اعصابی درد میں استعمال ہونے والی اس دوا کے نسخے چند ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل...

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

مسجد اقصی کے باہر گذشتہ روز ہزاروں افراد نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے خلاف شدید نعرے بازے کی اور انہیں خائن اور غدارقرار دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے باہر مظاہرے کا اہتمام اسلامک ایکشن محاذ کی طرف سے کیا گیا ۔نماز ظہر کے بعد ہزاروں افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے سات...

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان اور صہیونی ریاست کیساتھ معاہدے کرنے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق منامہ میں حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ منامہ میں ایک مظاہرہ کیاگیا جس میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی شدید مذمت کی۔ادھر سماجی کارکنوں نے منامہ میں اسرائیل ۔ عرب دوستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تفص...

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے مطابق تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گ...

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بھارت میں ہفتے کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک بیان میں کہاگیاکہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ان گرفتاریوں کے لیے مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ گروہ بھارت میں متعدد اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا، جب کہ ان حملوں کا ممکنہ مقصد عام افراد کو ہلاک...

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک میں بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے ''تھائی لینڈ عوام کا ہے '' کے نعرے کے ساتھ دارالحکومت میں مارچ کیا اور ملک میں بادشاہت کے وجود پر سوال اٹھا ئے ۔ گزشتہ دو ماہ سے بنکاک میں قریب روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے ، جس میں نوجوان طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2014 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پرایوت چن اوچا مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہی خاندان ملکی سیا...

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریبا نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیو ریسرچ سینٹرکے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے ۔ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ویکسین سے متعلق تحفظات کی وجہ یہ ہے ک...

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا