وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کی بربریت کی داستانیں،دنیاخاموش تماشائی

جمعرات 05 اپریل 2018 مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج کی بربریت کی داستانیں،دنیاخاموش تماشائی

مقبوضہ کشمیر میں اتوار کے روز بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ شوپیاں، اننت ناگ (اسلام آباد) کے اضلاع میں ’’آزادی، آزادی‘‘ کے نعرے لگانے والوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے سیدھی گولیاں چلائیں۔ گھر گھر تلاشی کے دوران کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گنوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے چہروں پر فائرنگ کی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں جعلی مقابلوں میں مجموعی طور پر بیس کشمیریوں کو شہید اور ایک سو سے زیادہ کو زخمی کر دیا گیا۔ حالیہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی فوجیوں کا یہ بدترین آپریشن تھا۔ بھارتی حکومت نے بدترین مظالم کو چھپانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں فون، انٹرنیٹ اور ریل سروس کو معطل کر دیا۔ بھارتی فوجیوں کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف حریت قیادت نے شدید مذمت کرتے ہوئے دو روزہ احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ دخترانِ ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی نے اظہار یکجہتی کے لیے ایک روزہ ہڑتال کی بھی اپیل کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کی طرف سے بھارتی فوجیوں کی بدترین وحشیانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے مقبوضہ کشمیر کو لہو لہو کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز بلند کی جائے۔ مظفر آباد اور دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں کے خلاف بدترین مظالم کا ارتکاب کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں، اس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔

بھارتی فوجیوں کی اس بدترین ریاستی دہشت گردی کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھایا جائے، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی دوٹوک پالیسی کو یقینی بنایا جائے۔ سابق سفارت کاروں نے مشورہ دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر عالمی برادری کے ضمیر کو جگانے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کی جائیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتوار کا دن، خون آشام دن تھا۔ کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کرنے والے کشمیریوں اور بھارتی فوجیوں کے درمیان سوموار کو بھی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ شہیدوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ فضا ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔ پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کرنے کے لیے معمول کے مطابق شہیدوں کے جنازوں کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا ہے۔ بھارتی فوجیوں کے مظالم سے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز مظالم اور بدترین ریاستی دہشت گردی کی یاد تازہ ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ نے کشمیریوں پر اتوار کے روز کیے گئے مظالم کو درست قرار دیتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو شاباش دی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اسرائیل کے مشورے اور شہہ پر مقبوضہ کشمیر میں وحشیانہ مظالم کیے جا رہے ہیں۔ پچھلے 70 سال سے کشمیر اور فلسطین کے مسائل اقوام متحدہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کی بدترین اور مسلسل پامالی مشترکہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے انصاف کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان مسائل کو انسانی حقوق کے چارٹر کی روشنی میں حل کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر میں تیسرے بنیادی فریق کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لیے ہر طرح سے اصولی موقف کو سراہا جاتا ہے لیکن عالمی برادری عملی امداد اور حمایت نہیں کرتی، جس کے باعث یہ دونوں مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ وحشیانہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو مظالم سے نہیں دبایا جا سکتا۔ برطانیہ میں کشمیری رہنما لارڈ نذیر احمد نے اس بدترین واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کے انتہائی قابل مذمت اقدامات کی انتہا ہو چکی ہے۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں سفارتی محاذ پر زبردست حکمتِ عملی کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلاشبہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ انسانی حقوق کے تحفظ کا چارٹر مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز پچھلے دو اڑھائی برسوں کے درمیان ہر طرح کے مظالم سے کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے سے دستبردار کرانے میں ناکام رہی ہیں۔ انتہائی خطرناک ہتھیار پیلٹ گن کے استعمال سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوانوں اور خواتین کو اندھا کیا گیا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ پیلٹ گنوں کے بے تحاشا استعمال پر جب عالمی سطح پر بھارت سے احتجاج کیا گیا اور مختلف تنظیموں نے دباؤ ڈالا تو پچھلے سال کے آخر میں مودی سرکار نے موقف اختیار کیا تھا کہ بھارتی فوجیوں کو پیلٹ گن کے استعمال سے روکتے ہوئے اس کی جگہ ایک نیا ہتھیار استعمال کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے باوجود اتوار کے روز بھارتی فوجیوں نے اندھا دھند پیلٹ گنوں کا استعمال کیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی خون کی ہولی کھیلنے کا سلسلہ بند کرانے کے لیے عالم اسلام اور عالمی برادری کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار کیا جائے۔ سفارتی محاذ پر نئی کوششوں سے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور سلامتی کونسل میں کشمیریوں کے قتل عام کا معاملہ اٹھا کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک مذاکرات شروع کرائے جائیں۔ اسے اتفاق کہہ لیجئے کہ بھارتی فوجیوں نے مظالم کی انتہا کی ہے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 29 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 94922 کشمیریوں کو شہید کیا، اب تک سات ہزار گمنام قبریں بھی دریافت ہو چکی ہیں۔ اس سے بھارتی فوجیوں کی طرف سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے مظالم کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ افسوس ناک صورت حال ہے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ بار بار پاکستان اور کشمیریوں کی قیادت حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اور وحشیانہ مظالم کے ثبوت بھی اقوام متحدہ میں عالمی برادری کو پیش کیے ہیں لیکن عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے۔ مخصوص مفادات اور پالیسی کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور شدہ قرارداد پر عملدرآمد نہیں کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت بھارت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا باقاعدہ تحریری وعدہ کیا تھا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان اب مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھائے۔ اس کے لیے کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے ملکوں اور دیگر بااثر تنظیموں سے رابطے کرکے حمایت کی جائے۔ اس طرح اقوام متحدہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے دونوں مسائل پر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل ہو سکے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھے گا، اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی فلسطینیوں کے خلاف اندھا دھند مظالم سے روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے گا۔ عالمی برادری کا ضمیر جگانے کے لیے زبردست سفارتی مہم شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہمیں سفارتی محاذ پر موثر طریقے سے سرگرم ہونا پڑے گا۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں حالیہ فوجی مظالم کے خلاف مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے،وقت ضائع کیے بغیر تمام حلقوں سے صلاح مشورہ کرتے ہوئے عملی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے کا یہی موثر طریقہ ہے۔


متعلقہ خبریں


اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

مضامین
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر