وجود

... loading ...

وجود

محکمہ صحت میں جے آئی ٹی بنانے کی بازگشت

منگل 03 اپریل 2018 محکمہ صحت میں جے آئی ٹی بنانے کی بازگشت

ویسے تو18ویں آئینی ترمیم کےبعد کوئی بھی صوبائی حکومت اپنے آپ کو کرپشن اور کمیشن سے بالکل بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی لیکن وفاقی حکومت اور سندھ کی حکومت اس کرپشن اور کمیشن کے معاملے میں ایک دوسرے سے قریب قریب محسوس ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے گزشتہ روز تھر پار کر میں بچوں کی ہلاکت کی سرکاری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے نہ صرف سیکرٹری صحت سندھ پر برہمی کا اظہار کیا تھا بلکہ آغاخان اسپتال کے چیف ایگزیکٹو کو ایک ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی اور ساتھ ہی یہ ریمارکس بھی دیئے کہ رپورٹ دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ تو بےقصور ہیں۔لیکن چیف جسٹس صاحب اس سے قبل آپ نے سندھ کے سابق وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن کی بیماری کی سرکاری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایک آزاد بورڈ تشکیل دیاتھا جس بورڈ نے عدالت عظمیٰ کویہ توبتادیاہے کہ شرجیل میمن کی سرکاری بورڈ کی رپورٹ تضادات پرمبنی ہے لیکن بورڈ نے شرجیل میمن کا معائنہ کرکے اپنی نئی طبی رپورٹ پیش نہیں کی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سرکاری بورڈ بھی سیاسی دبائو میں ہے لیکن آپ کا تشکیل کردہ بورڈ بھی آزاد نہیں ہے اس صورتحال میں جب انصاف کے حصول میں سپریم کورٹ جیسی اعلیٰ عدلیہ کی راہ میں رکاوٹیں ہوں توان رکاوٹوں کورکاوٹ ڈالنے والے تودور نہیں کریں گے لہٰذا اس معاملے پربھی عدالت عظمیٰ کو مناسب حل تلاش کرناہوگا۔ اس بار ڈاکٹروں کی ترقیوں اورتقرریوں کا معاملہ بھی زیر سماعت آیا جناب چیف جسٹس آف پاکستان ڈاکٹروں کی ترقیوں کیلئے معاملہ کتنے سالوں سے لٹکا ہوا ہے اس کی تفصیل کا آپ کواچھی طرح سے علم ہے لیکن آپ کی جانب سے ایک سے زائد بار ڈاکٹروں کی ترقیوں میں سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹرفضل اﷲ پیچوہو کومہلت دینے کا معاملہ بھی طبی حلقوں میں ہی نہیں عوام کے سامنے اب مذاق بن چکا ہے گزشتہ رمضان المبارک کے مہینے میں سیکریٹری صحت نے ڈاکٹروں کی ترقیوں کے حوالے سے سیکریٹریٹ کی ہفتہ واری دونوں تعطیلات ختم کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا اس کے باوجود اس سماعت پربھی 300ڈاکٹروں کی ترقی کوجلدپورا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صوبائی رہنما اورمذکورہ کیس کوسپریم کورٹ تک لانے والے ڈاکٹر عثمان ماکوٹھوس ثبوت کے ساتھ ڈاکٹروں کی ترقیوں کی شفافیت کوچیلنج کررہے ہیں لیکن یہ تو عدالت عظمیٰ محکمہ صحت کی سنگین بے قاعدگیوں کا کوئی نوٹس لے رہی ہے اورنہ ہی تاخیری حربوں پرسیکریٹری صحت کے سروس رولز کے مطابق انہیں ڈی گریڈ کرنے جیسی کسی انظباطی کارروائی سے گزار رہی ہے جبکہ خود چیف جسٹس صاحب آپ کوشاید یاد نہیں کہ آپ نے ڈاکٹروں کی ترقی کے عمل کے بغیر ان کے کسی اورمحکمے میں تبادلے پرپابندی عائد کی ہے اورپھر آپ خود ی بغیر کسی سزا کے انہیں دوسرے محکمے میں خدمات انجام دینے کا مشورہ دے رہے ہیں جناب چیف جسٹس صاحب یہ آپ کے علم میں ہوگا کہ سیکریٹری صحت کامنصب نبھانے سے قبل ڈاکٹر فضل اﷲ پیچوہو سیکریٹری تعلیم تھے ۔جہاں کے وزرائے تعلیم نے نامزدگی کے باوجود ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا تھا اوریہ وہاں سے نیب کے مقدمے کے اعزازکے ساتھ محکمہ صحت میں آئے ہیں جہاں محکمہ تعلیم کی طرح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایمرجنسی نافذ کررکھی ہے جہاں5400ڈاکٹروں کی بھرتی یہ کہہ کرکی گئی ہے کہ یہ ڈاکٹرز بھرتی نہ ہوئے تو محکمہ صحت سندھ میں تالا لگ جائے گا لیکن5400ڈاکٹروں کے انٹرویو کیلئے سیکریٹری صحت نے گریڈ20کے سینئر اورایمان دار افسران کو پبلک سروس کمیشن میں بھیجنے کے بجائے گریڈ19کے جونیئر ڈاکٹروں ڈاکٹر محمود قریشی ،ڈاکٹر خلیل پٹھان کونامزد کیا جودونوں سکریٹری صحت کے کلاس فیلو ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اورڈاکٹرخلیل پٹھان محکمہ صحت میں کرپشن کا مجسمہ ہیں جولیاری جنرل اسپتال میں واٹرکمیشن کے چیئرمین جناب جسٹس (ر)امیرمسلم ہانی کے ہاتھوں کرپشن کے مبینہ ثبوت کے ساتھ پکڑے گئے ہیں5400نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کی تقرریاں محکمہ ریونیو کے فہیم چاچڑ کو سیکشن افسر بناکرکروڑوں روپے کمائے گئے 5400ڈاکٹروں کا میڈیکل فٹنس ان کے اضلاع کے بجائے کراچی میں کرایاگیا ان ڈاکٹروں میں خواتین ہندو ڈاکٹروں کی اکثریت ہے جن کا تعلق ضلع تھرپارکر سے ہے۔ پھرعدالت عظمیٰ میں تھر کے اسپتالوں میں سینکڑوں اسامیاں خالی ہیں کی رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے جناب چیف جسٹس صاحب بتانے کو ابھی اوربھی بہت کچھ ہے لیکن محکمہ صحت کوایمرجنسی میں بچانے کے لئے جے آئی ٹی بنانا اب بہت ضروری ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر