وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ امن عالم کو تباہ کرنے کے راستہ پر گامزن ہیں

پیر 02 اپریل 2018 ٹرمپ امن عالم کو تباہ کرنے کے راستہ پر گامزن ہیں

ٹرمپ امن عالم کو تباہ کرنے کے راستہ پر گامزن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وہائٹ ہاؤس میں قدم رنجہ کیے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے منصب صدارت 20 جنوری 2017 کو سنبھالا تھا۔ 14 ماہ کے اس مختصر عرصے میں ٹرمپ کی ابتدائی ٹیم تقریبا تبدیل ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، اٹارنی جنرل، میڈیا ٹیم کی انچارج، ایف بی آئی کے سربراہ، چیف اسٹرا ٹیجسٹ سمیت 28 سے زاید اعلیٰ ترین مناصب پر فائز افراد نہ صرف تبدیل ہوچکے ہیں بلکہ بار بار تبدیل ہورہے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد محض چند ہی دن ٹرمپ کے ساتھ رہ پائے جب کہ کچھ نے زیادہ عرصہ بھی گزارا۔ سب سے کم مدت سیلی یاٹس اٹارنی جنرل کے عہدے پر رہیں۔ وہ صرف 11 دن اپنے عہدے پر رہیں اور ٹرمپ کی جانب سے عرب ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے کی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے 30 جون 2017 کو مستعفی ہوگئیں۔ سب سے زیادہ برا سلوک ایف بی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اینڈریو میک کابے کے ساتھ ہوا۔ میک کابے کی ریٹائرمنٹ سے صرف 28 گھنٹے قبل انہیں برطرف کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے فوائد سے بھی محروم کردیے گئے۔ کئی عہدے مثلاً میڈیا ٹیم کے انچارج مسلسل تبدیل ہوتے رہے۔ اسی طرح سیکورٹی سے متعلق ٹرمپ کے مشیر بھی مستقل طور پر تبدیل ہوتے رہے۔ 14 ماہ کے مختصر عرصے میں اتنے اہم عہدے پر تین افراد کی تبدیلی کوئی نظر انداز کرنے والی بات نہیں ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع میٹس کی تبدیلی بھی ہضم کرنے والی چیز نہیں ہے۔ ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اہم ترین عہدوں پر تقرریاں یا تو فوج سے ہورہی ہیں یا پھر سی آئی اے سے۔ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جگہ لینے والے مائک پومپیو بھی سی آئی اے کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ سب سے اہم تقرر ہے سیکورٹی کے مشیر کے منصب پر جان بولٹن کی۔

گو کہ جان بولٹن کے پیش رو میک ماسٹر تھری اسٹار جنرل تھے تاہم ٹرمپ کو ان سے شکایت ہی یہ تھی کہ وہ شدت پسند نہیں تھے۔ جان بولٹن دو وجوہ کی بناء پر مشہور ہیں۔ ایک ان کی اسرائیل کے ساتھ محبت اور دوسری مسلم دشمنی۔ بولٹن کا واضح ایجنڈا امریکا کی بالادستی کے نام پر اسلامی ممالک کو دنیا کے نقشے ہی سے مٹا دینا ہے۔ نائن الیون کے خالق ڈک چینی اور جان بولٹن کے تعلقات کبھی بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ Preemptive war doctroine کے پرزور حامی جان بولٹن کے ایران اور شمالی کوریا پر حملے کی بابت خیالات اور بیانات بھی خفیہ نہیں ہیں۔ 2003 میں جب ٹرمپ عراق پر فوج کشی پر نکتہ چینی کررہے تھے تو اس وقت جان بولٹن عراق پر حملے کی حمایت میں مہم چلارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی امریکی فوج عراق میں داخل ہوگی، عراقی عوام ہار پھول لے کر امریکی فوج کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

کیا بات صرف اتنی ہے کہ ٹرمپ انتہائی آشفتہ مزاج ہیں اور ان کی کسی کے ساتھ بن نہیںپارہی۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کے کاروباری اداروں میں بھی اتنی ہی تیزی کے ساتھ اعلیٰ مناصب پر تبدیلیاں ہورہی ہوتیں۔ مگر وہاں پر تو ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گراؤنڈ میں مطلوبہ پرفارمنس نہ دینے والے کھلاڑی بار بار تبدیل کیے جارہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مطلوب کارکردگی ہے کیا۔ اس سوال کا جواب بوجھنے سے پہلے یہ بات دیکھیں کہ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ شدت پسند کھلاڑی میدان میں اتارا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ کی اسامی پر عمومی طور پر منجھا ہوا سفارت کار موزوں سمجھا جاتا ہے مگر اس پوسٹ پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کا کوئی تو مطلب ہوگا۔ اسی طرح بولٹن کی تعیناتی انتہائی اہم ترین ہے۔ بولٹن کی تعیناتی کا اعلان تو ہوگیا ہے تاہم ابھی تک انہوں نے چارج نہیں سنبھالا۔ ایک ہفتہ قبل 22 مارچ ہی کو وہ اس منصب پر تعینات کیے گئے ہیں تاہم اپنے عہدے کا چارج وہ 9 اپریل کو سنبھالیں گے۔

بولٹن کے آنے کے بعد کیا کچھ ممکن ہے اس کے بارے میں امریکی خود متفکر ہیں۔ بولٹن کے مزاج کو ان کے طبع شدہ آرٹیکل سے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کے مشہور آرٹیکل 147To Stop Iran146s Bomb, Bomb Iran148 ، 147The Legal Case for Striking North Korea First148 اور 147How to Defund the UN148ہیں۔ امریکا میں تحقیقاتی ادارے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پولیٹیکل سائنٹسٹ وپن نارنگ کہتے ہیں کہ بولٹن کی تعیناتی کے ساتھ شمالی کوریا پر حملے کے خطرات چار گنا بڑھ گئے ہیں جب کہ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے پروفیسر مائیکل ہورووٹز کا خیال ہے کہ خطرے میں اضافہ پانچ گنا ہے۔ سی آئی اے اور ڈیفنس ڈپارٹمنٹ میں چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز رہنے والے جیریمی باش نے MSNBC Friday morning میں کہا کہ ٹرمپ ایک جنگی کابینہ تشکیل دے رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پچھلی کابینہ فاختاؤں پر مشتمل تھی۔ اسی پچھلی کابینہ کے ساتھ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی، پیرس کے ماحولی معاہدہ سے دستبرداری اور ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو توڑنے جیسے جارحانہ فیصلے کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسٹیل کی درامد پر بھاری ڈیوٹی جس سے چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں برا فروختہ ہیں، اسی پرانی کابینہ کے ساتھ ہی کیے گئے تھے۔ اسی طرح مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی بھی اسی دور میں لگی۔ قطر ائرویز اور اتحاد ائرویز پر خصوصی پابندیاں بھی پرانی شدت پسند کابینہ ہی نے لگائی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ پرانے کھلاڑی اتنے زیادہ شدت پسند نہیں تھے جتنے ٹرمپ ہیں اور وہ ٹرمپ کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف دبی دبی زبان میں مخالف بھی تھے خاص طور سے ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو مکمل توڑنے کے معاملے میں۔ٹرمپ کی جنگی کابینہ کی تشکیل کی تکمیل کے ساتھ عالمی منظر نامے پر کیا ہونے جارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ وجود - بدھ 01 اپریل 2026

پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگا ہونے کا خدشہ،نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ، اگلے بجٹ کے ٹیکس ہدف میں 16 سو ارب روپے اضافے کی تجویز،ذرائع ایف بی آر اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح صفر،چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے کی ...

آئی ایم ایف نے پاکستان سے مہنگائی کی جنگ چھیڑ دی،پیٹرولیم مصنوعات،سولر سسٹم پر 18 فیصدٹیکس کا مطالبہ

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم وجود - بدھ 01 اپریل 2026

برطانیہ سمیت وہ ممالک جو ایران کیخلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور جیٹ فیول حاصل نہیں کرپارہے آئل امریکا سے خریدیں یا ہمت کرکے آبنائے ہرمز جائیں اور آئل حاصل کرلیں آپ کو اب خود لڑنا سیکھنا ہوگا،ایران کو تباہ کر دیا اور مشکل مرحلہ مکمل ہو چکا ہے،فرانس نے ایران کے قصائی کے حوالے...

اپنا تیل خود حاصل کرو امریکا تمہاری مدد کو نہیں آئے گا،ٹرمپ برطانیہ، فرانس و دیگر ممالک پر برہم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان وجود - بدھ 01 اپریل 2026

جنید اکبر خان کی زیرصدارتخیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم تنظیمی اجلاس سہیل آفریدی نے اجلاس کے شرکاء کو صوبے کو درپیش اہم معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے تنظیمی استحکام، موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی چیٔرمین عمران خان کی رہائی کے لیے جا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی قیادت متحرک،تحریک تیز کرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی وجود - بدھ 01 اپریل 2026

علیمہ کی ہدایت پر فیصل ترکئی، عاقب اللہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر اختلافات کی وجہ بنے مختلف نجی محافل میں ان تقرریوں کے حوالے سے پارٹی کے اندر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت میں چند ماہ قبل تک عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل...

خیبر پختونخوا حکومت سے علیمہ خانم کی بتدریج دوری، اختلافات کی اندرونی کہانی

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

مضامین
تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش وجود بدھ 01 اپریل 2026
کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟ وجود بدھ 01 اپریل 2026
انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر