وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 01 اپریل 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

حلقۂ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست 20 مارچ 2018 بروز منگل ، کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر میر احمد نوید صاحب نے کی جب کہ نشست میں شاعر علی شاعر صاحب نے مہمان ادیب کے طور پر شرکت کی۔ سب سے پہلے عباس ممتاز نے اپنی غزل “کوئی تو ایسی بھی گھڑی ہوگی” تنقید کے لیے پیش کی۔

شبیر نازش نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غزل کے پانچوں اشعار سماعت کو بھلے لگتے ہیں، مصرعوں میں روانی بھی نظر آتی ہے۔ مضامین عمدہ باندھے ہیں۔ تمام اشعار میں اُمید کی کیفیت بھرپور طریقے سے نظر آتی ہے۔ فیصل ضرغام نے کہا کہ شاعر اپنے شعروں میں توجہ کا متقاضی نظر آتا ہے۔ سید کاشف رضا نے کہا کہ اشعار میں نقص نہیں ہے لیکن مضمون آفرینی کی کمی نظر آتی ہے۔ مایوسی کا پہلو نظر نہیں آتا۔ بے عیب اشعار ہیں۔ عفت نوید نے کہا کہ شاعر مایوسی سے گزر رہا ہے لیکن اپنے آپ کو اُمید دلا رہا ہے جو بہترین بات ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ عباس ممتاز کی دیگر غزلوں کی بہ نسبت عمدہ غزل ہے، ان کی شاعری میں نکھار آرہا ہے۔ مضمون آفرینی کی کمی ہے۔ اُمید سے بھرپور غزل ہے۔ شاعر علی شاعر نے کہا کہ غزل کے تمام اشعار میں موجودہ حالات کی عکاسی ملتی ہے۔ اچھی غزل ہے۔ سجاد احمد نے کہا کہ شاعر لوگوں کو اُمید کا سہارا دیتے نظر آتے ہیں، اچھی غزل ہے۔ میر احمد نوید نے کہا کہ یہ غزل بتارہی ہے کہ یہ غزل آج کی غزل ہے، غزل مسلسل نے جدید شاعری میں اپنی مستحکم جگہ بنالی ہے۔ اس غزل کو نظم بھی کہا جاسکتا ہے۔ کامیاب غزل ہے۔ غزل کی کیفیت ایک نظم کی سی مربوط ہونی چاہیے۔ یہاں یہ بات نظر آتی ہے۔ پانچوں شعر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، میں کامیاب غزل پر عباس ممتاز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

نشست کے دوسرے مرحلے پر شیخ نوید نے اپنا افسانہ “بھتہ” تنقید کے لیے پیش کیا۔ فیصل ضرغام نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری جزئیات نگاری ہے، کہانی موجود ہے افسانویت کی کمی ہے، انگریزی الفاظ کثرت سے استعمال کیے گئے۔ بہت اچھی کوشش ہے، زمینی مسئلے کو اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔ عفت نوید نے کہا کہ مشاہدہ اور جزئیات نگاری کمال کی ہے۔ کچھ باتیں غیر عملی نظر آئی۔ جس انجام کی توقع تھی وہی بات سامنے آئی۔ آرٹیکل اور مضمون کی شکل بھی دی جاسکتی تھی۔ رفاقت حیات نے کہا کہ شیخ نوید نئے افسانہ نگار ہے، قریبی چیزوں کو موضوع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسانہ ایک ایسے مسئلے پر ہے جس کا تجربہ کم و بیش ہر شخص پر گزرا ہے۔ سادی کہانی ہے، جزئیات نگاری بھی اچھی کی گئی ہے۔ انگریزی کے الفاظ مناسب ہیں اور موضوع اور کہانی کے مطابق ہیں۔ ادیب جب حقیقت کو بیان کررہا ہے تو اسی لب ولہجہ کو استعمال کرے گا جو رائج ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ ٹھیک ہے۔ سید کاشف رضا نے کہا کہ کچھ ادارے ایسے ہیں جو اسلحہ کے بغیر بھتا لیتے ہیں۔ یہ کہانی ہر شخص پر گزری ہے۔ افسر بالا بھی مشنری کا حصہ بن چکا ہے۔ افسانہ اکہرا ہے، زیریں لہر نہیں ہے۔ گھر کے بچوں کا احوال بھی سامنے آجاتا تو مزید پہلو سامنے آجاتے۔ ڈی ہیومینائز سامنے ہے اس کو ہیومینائز کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید کرداروں کو سامنے لانے کی ضرورت تھی۔

رفاقت حیات نے کہا کہ افسانے کو واقعے کی سطح سے بلند ہونا چاہیے، ایمائیت لائی جاسکتی ہے۔ شبیر نازش نے کہا کہ کردار کا کرب نمایاں نہیں ہو سکا۔ بتانے کے بجائے محسوس کروانا اہم ہے۔ شروع سے آخر تک لطف سے خالی ہے۔ جزئیات نگاری بھی مکمل نہیں ہے۔ صفات کا استعمال بے جا ہے۔ عطا الرحمٰن خاکی نے کہا کہ یہ شیخ نوید کی کمزور تحریر ہے۔ زبان و بیان کی فضا میں روانی برقرار نہیں ہے۔ جزئیات ذہن میں تاثر نہیں چھوڑتیں۔ اچھی کوشش تھی۔ شاعر علی شاعر نے کہا کہ یہ افسانہ بھی ہے اور عنوان بھی سوفیصد درست ہے۔ زبان و بیان کی کچھ غلطیاں موجود ہیں۔ میر احمد نوید نے کہا کہ یہ رپورٹ ، افسانہ اور کہانی کے درمیان کی جگہ ہے۔ اسی فیصد افسانہ ہے۔ زبردست کہانی ہے، اچھی کوشش ہے۔ اس کے بعد شاعر علی شاعر نے اپنی شاعری پیش کی۔ نمونۂ کلام درج ذیل ہے۔

ہر کوئی میرے سہارے پہ جیے جاتا ہے
میں رہوں بھی تو رہوں کس کے سہارے گھر میں

ٰمیری تقدیر کی آب و ہوا لے کر نہیں آئے
برائے نام بادل تھے گھٹا لے کر نہیں آئے

دم آخر بھی بچے کی زباں پر بس یہ جملہ تھا
میرے ابو ابھی تک کیوں دوا لے کر نہیں آیا

تقریب کے آخر میں میر احمد نوید سے کلام سنانے کی فرمائش کی گئی جس پر انہوں نے اپنی تازہ غزلیں سنائیں، اس کے ساتھ ہی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام میٹ اے رائٹر نشست کااہتمام کیا گیا جس میں معروف افسانہ نگار ادیب اورماہر تعلیم پروفیسر نوشابہ صدیقی کے ساتھ نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر رفیع الدین رازنے کی مہمان خاص سعید الظفر صدیقی، اعزازی مہمان کینیڈا سے آئے ہوئی صبیحہ خان ،کینیڈا سے آئے ہوئے منیف اشعر اور ہندوستان سے آئے ہوئے ماجد حسین تھے ۔جبکہ اس موقع پر نوشابہ صدیقی کے فن اور شخصیت پر افسانہ نگار شاعر عرفان علی عابدی نے تفصیلی گفتگو کی اس موقع پر رفیع الدین راز نے کہا کہ نوشابہ صدیقی کے ناول نہ صرف یہ کہ اردو ادب میں ایک منفرد تحریر ہیںبلکہ اس لئے بھی ان کے ناولوں کی اہمیت بڑہ جاتی ہے کہ مصنفہ نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیاہے جو کہ ایک اچھوتا موضوع ہوتے ہیں ۔ انہوںنے ماحول سازی کے ساتھ مناظرکو جزویات کے ساتھ اس طرح رقم کیا ہے کہ تمام مناظر آنکھوں کے سامنے سے گزرتے محسوس ہوتے ہیں۔عرفان علی عابدی نے کہا کہ نوشابہ صدیقی افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک گداز دل رکھنے والی حساس پاکستانی بھی ہیں ۔ چناچہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انکی زبان کی انفرادیت واقعات کی جاذ بیت اور طرز بیاںکی خوبصورتی نے ان کی کہانیوں کو ادب کی زندہ دستاویزات میںتبدیل کردیا ہے۔ نوشابہ صدیقی نے کہا کہ قادربخش سومرو کوخراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوںنے ہفتہ وار تقریبات /مشاعروں کا انعقاد کرکے تمام زبانوں کے ادباء شعراء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے۔ جو ادب کے لئے باعث مسرت ہے۔ اس طرح کی تقریبات سے ادب کے فروغ ملکی اور بیرون ملک سے آنے والے ادباء شعراء سے ملنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرونے کہا کہ نوشابہ صدیقی کے افسانے اس پس منظر کی روشنی میں ایک سلجھے ہوئے اور کشادہ نظر کی صورت میں سامنے آتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ابتداہی سے ادب اور زندگی کے رشتے کو بڑے وسیع تناظر میںدیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ادب کی معنویت فرد اور سماج کے توازن میںقائم ہوسکے۔ آخر میں مشاعر ے کا انعقاد کیا گیا جن شعراء نے کلام پیش کیا ان میں ظفرمحمد خان ظفر، ماجد حسین، سعید الظفر صدیقی، محمد یامین عراقی، سید منیف اشعر، شہناز رضوی، نجیب عمر، تاج علی رعنا، عرفان علی عابدی، پروین حیدر، شاہدہ خان عروج، صبیحہ خان، نشاط غوری، فہمیدہ مقبول، محمد رفیق مغل، فرح دیبا، الحاج یوسف اسماعیل، اقبال افسر غوری، محمدعلی زیدی، کاشف علی کاشف، طاہر ہ سلیم سوز، نثار اختر، الطاف احمد، سیدصغیراحمد جعفری، صبیحہ صبا،عارف شیخ عارف، عظمی جون ، شامل تھے آخر میں قادربخش سومرو نے آئے ہوئے مہمانوںکاشکریہ ادا کیا۔

یومِ پاکستان پر کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ’’صحافی مشاعرہ‘‘ منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت انور شعور نے کی پہلے دور کا مشاعرہ نئی نسل کے نوجوان صحافی شعرا پر مشتمل تھا جس کی نظامت نوجوان شاعر عبدالرحمن مومن نے کی۔ آغاز میں کراچی پریس کلب کے سیکریٹر مقصود یوسفی نے کہا کہ اس سال بھی صحافی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے مشاعرہ پاک و ہند کی روایت ہے اشعار میں مطالب کو سمجھا جائے تو اس کی مختلف کیفیت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا اس مشاعرہ میں ترجیح سینئر شعرا کو دی ہے اساتذہ، انور شعور اور عنایت علی خان کا خاص طور پر شکر گزار ہوں۔ صدر کراچی پریس کلب احمد خان ملک نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے صحافی مشاعرہ سن رہا ہوں۔ جسے میں اہمیت کا حامل سمجھتا ہوں۔ یہ شعری اور ادبی محفلیں جذبات کے اظہار، شعور کو اجاگر کرنے کے لیے بری اہمیت رکھتی ہیں۔ ادبی کمیٹی کی ٹیم نے آج ایک خوبصورت پروگرام تشکیل دیا ہے۔ مشاعرہ میں داد و تحسین کا بھی سلسلہ رہا صدر مشاعرہ انور شعور دوران مشاعرہ شعر سنانے پر بضد رہے اور وہ درمیان میں شعر سنا کر پھر صدارتی مسند پر آ بیٹھے درمیان مشاعرہ مہمان شاعر نسیم سید (کینیڈا) نے بھی اپنی خوب صورت نظمیں اور غزلیں سنائیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے صحافی شعرا میں شہر کے خاصے نمایندہ شعرا موجود تھے ایک اچھا اور یادگار مشاعرہ ڈھائی بجے رات تک جاری رہا۔ اے ایچ خانزادہ (ادبی کمیٹی) کے سیکریٹری نے آغاز مشاعرہ پر اظہارِ خیال کیا اور اسے پریس کلب کی ایک عمدہ روایت قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اے ایچ خانزادہ نے ’’صحافی مشاعرہ‘‘ میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث یہ مشاعرہ کامیابی سے ہمکنار ہوا جو شعرا کرام محفل مشاعرہ میں شریک ہوئے ان میں صدر مشاعرہ انور شعور، عنایت علی خان، نسیم سید (کینیڈا)، سرور جاوید، عقیل عباس جعفری، خالد معین، اجمل سراج، اختر سعیدی، اقبال خاور، فاضل جمیلی، قیصر وجدی، نثار احمد نثار، حنیف عابد، عنبریں حسیب عنبر، نعمان جعفری، اے ایچ خانزادہ، عمران شمشاد، سیمان نوید، وجیہہ ثانی، فیض عالم بابر، شبیر نازش، ہدایت سائر، شکیل انجم لاشاری، سحر حسن، عثمان جامعی، افشاں سحر، زاہد عباس، عباس ممتاز اور عبدالرحمن مومن شامل ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

متحدہ قومی موومنٹ پراپرٹیز کیس میں مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا نے عدالت میں گواہی ریکارڈ کرا دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل نے مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا سے کمپیوٹرز اور ریکارڈنگ سسٹم کے بارے میں سوالات کیے۔ وکیل نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے کی سماعت سے قبل جان بوجھ کر اہم ش...

ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار الیکشن کے مطالبے اور موجودہ حکومت کی طرف سے مطالبے کو نظر انداز کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ...

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

سرکاری حکام نے ایران میں جاری مظاہروں میں 200 افراد بشمول سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جبکہ صدر ابراہیم رئیسی نے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہوئے ایران کو انسانی حقوق اور آزادی کا ضامن قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ...

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کو استعفے جمع کرانے سے یروک دیا۔تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی کی قیادت میں سندھ کی پارلیمانی پارٹی نے لاہور میں چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف حلیم عادل شیخ اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خرم...

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، آئندہ سال مارچ یا اس مہینے کے آخر تک الیکشن کیلئے تیار ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے ن...

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اتحادی حکومت انتخابات کی بات پر آئی تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔ پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے...

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی وجود - هفته 03 دسمبر 2022

راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں عبد اللہ اور امام الحق کے بعد بابر اعظم نے بھی سنچری بنا دی۔ تفصیلات کے مطابق پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 181 رنز بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے کیا، ...

پنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے بھی رنز کا انبار، بابر نے بھی سنچری داغ دی

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

چین اور بھارت سے بھی آگے نکلتے ہوئے اب پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن چکا ہے جبکہ ہر دس میں سے ایک فرد ہیپاٹائٹس کی کسی نہ کسی کیفیت میں گرفتار ہے۔ڈاکٹروں اور عوامی صحت کے ماہرین نے زور دے کر کہا کہ اس ضمن میں پی سی آر ٹیسٹ کو فروغ دیا جائے تاکہ ہیپاٹائٹس ...

پاکستان ہیپا ٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریضوں والا ملک بن گیا

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا، وزیراعلیٰ  سندھ نے لیڈرشپ سے بات کرکے جواب دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات میں اہم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے محمد وسیم کا نام دے دیا۔ ایم کیوایم نے مطالبہ...

ایم کیو ایم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کے لیے عبدالوسیم کا نام دے دیا

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے وجود - هفته 03 دسمبر 2022

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وقار مہدی کے مقابلے میں اپنے امیدوار کے کاغذات واپس لے لیے۔ کراچی میں الیکشن کمیشن کے باہر سعید غنی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر شاہ نے کہا کہ وقار مہدی بلامقابلہ منتخب سینیٹ...

پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پی ای ڈبلیو ریسرچ کی رپورٹ نے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسے سوشل ہاسٹیلٹی انڈیکس میں شام، افغانستان اور مالی سے بھی بدتر قرار دے دیا۔ ریسرچ کے مطابق گورنمنٹ ریسٹرکشن انڈیکس میں بھارت کا اسکور 10 میں سے 9.4 ہے، بھارت نے اقلیتوں پر سنگین مظالم ڈھائے۔ رپورٹ کے مطابق مودی را...

مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ وجود - هفته 03 دسمبر 2022

رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ جولائی تا نومبر 2023 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے پانچ ماہ میں مجموعی طور پر77 لاکھ ٹن پیٹرول، فرنس آئل اور ڈیزل فروخت ہوا جو 2022 کے96 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے، آئل کمپن...

پانچ ماہ میں پیٹرول، ڈیزل کی فروخت 20 فیصد گر گئی، رپورٹ

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار