وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 01 اپریل 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

حلقۂ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست 20 مارچ 2018 بروز منگل ، کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف شاعر میر احمد نوید صاحب نے کی جب کہ نشست میں شاعر علی شاعر صاحب نے مہمان ادیب کے طور پر شرکت کی۔ سب سے پہلے عباس ممتاز نے اپنی غزل “کوئی تو ایسی بھی گھڑی ہوگی” تنقید کے لیے پیش کی۔

شبیر نازش نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غزل کے پانچوں اشعار سماعت کو بھلے لگتے ہیں، مصرعوں میں روانی بھی نظر آتی ہے۔ مضامین عمدہ باندھے ہیں۔ تمام اشعار میں اُمید کی کیفیت بھرپور طریقے سے نظر آتی ہے۔ فیصل ضرغام نے کہا کہ شاعر اپنے شعروں میں توجہ کا متقاضی نظر آتا ہے۔ سید کاشف رضا نے کہا کہ اشعار میں نقص نہیں ہے لیکن مضمون آفرینی کی کمی نظر آتی ہے۔ مایوسی کا پہلو نظر نہیں آتا۔ بے عیب اشعار ہیں۔ عفت نوید نے کہا کہ شاعر مایوسی سے گزر رہا ہے لیکن اپنے آپ کو اُمید دلا رہا ہے جو بہترین بات ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ عباس ممتاز کی دیگر غزلوں کی بہ نسبت عمدہ غزل ہے، ان کی شاعری میں نکھار آرہا ہے۔ مضمون آفرینی کی کمی ہے۔ اُمید سے بھرپور غزل ہے۔ شاعر علی شاعر نے کہا کہ غزل کے تمام اشعار میں موجودہ حالات کی عکاسی ملتی ہے۔ اچھی غزل ہے۔ سجاد احمد نے کہا کہ شاعر لوگوں کو اُمید کا سہارا دیتے نظر آتے ہیں، اچھی غزل ہے۔ میر احمد نوید نے کہا کہ یہ غزل بتارہی ہے کہ یہ غزل آج کی غزل ہے، غزل مسلسل نے جدید شاعری میں اپنی مستحکم جگہ بنالی ہے۔ اس غزل کو نظم بھی کہا جاسکتا ہے۔ کامیاب غزل ہے۔ غزل کی کیفیت ایک نظم کی سی مربوط ہونی چاہیے۔ یہاں یہ بات نظر آتی ہے۔ پانچوں شعر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، میں کامیاب غزل پر عباس ممتاز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

نشست کے دوسرے مرحلے پر شیخ نوید نے اپنا افسانہ “بھتہ” تنقید کے لیے پیش کیا۔ فیصل ضرغام نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری جزئیات نگاری ہے، کہانی موجود ہے افسانویت کی کمی ہے، انگریزی الفاظ کثرت سے استعمال کیے گئے۔ بہت اچھی کوشش ہے، زمینی مسئلے کو اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔ عفت نوید نے کہا کہ مشاہدہ اور جزئیات نگاری کمال کی ہے۔ کچھ باتیں غیر عملی نظر آئی۔ جس انجام کی توقع تھی وہی بات سامنے آئی۔ آرٹیکل اور مضمون کی شکل بھی دی جاسکتی تھی۔ رفاقت حیات نے کہا کہ شیخ نوید نئے افسانہ نگار ہے، قریبی چیزوں کو موضوع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسانہ ایک ایسے مسئلے پر ہے جس کا تجربہ کم و بیش ہر شخص پر گزرا ہے۔ سادی کہانی ہے، جزئیات نگاری بھی اچھی کی گئی ہے۔ انگریزی کے الفاظ مناسب ہیں اور موضوع اور کہانی کے مطابق ہیں۔ ادیب جب حقیقت کو بیان کررہا ہے تو اسی لب ولہجہ کو استعمال کرے گا جو رائج ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی افسانہ ٹھیک ہے۔ سید کاشف رضا نے کہا کہ کچھ ادارے ایسے ہیں جو اسلحہ کے بغیر بھتا لیتے ہیں۔ یہ کہانی ہر شخص پر گزری ہے۔ افسر بالا بھی مشنری کا حصہ بن چکا ہے۔ افسانہ اکہرا ہے، زیریں لہر نہیں ہے۔ گھر کے بچوں کا احوال بھی سامنے آجاتا تو مزید پہلو سامنے آجاتے۔ ڈی ہیومینائز سامنے ہے اس کو ہیومینائز کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید کرداروں کو سامنے لانے کی ضرورت تھی۔

رفاقت حیات نے کہا کہ افسانے کو واقعے کی سطح سے بلند ہونا چاہیے، ایمائیت لائی جاسکتی ہے۔ شبیر نازش نے کہا کہ کردار کا کرب نمایاں نہیں ہو سکا۔ بتانے کے بجائے محسوس کروانا اہم ہے۔ شروع سے آخر تک لطف سے خالی ہے۔ جزئیات نگاری بھی مکمل نہیں ہے۔ صفات کا استعمال بے جا ہے۔ عطا الرحمٰن خاکی نے کہا کہ یہ شیخ نوید کی کمزور تحریر ہے۔ زبان و بیان کی فضا میں روانی برقرار نہیں ہے۔ جزئیات ذہن میں تاثر نہیں چھوڑتیں۔ اچھی کوشش تھی۔ شاعر علی شاعر نے کہا کہ یہ افسانہ بھی ہے اور عنوان بھی سوفیصد درست ہے۔ زبان و بیان کی کچھ غلطیاں موجود ہیں۔ میر احمد نوید نے کہا کہ یہ رپورٹ ، افسانہ اور کہانی کے درمیان کی جگہ ہے۔ اسی فیصد افسانہ ہے۔ زبردست کہانی ہے، اچھی کوشش ہے۔ اس کے بعد شاعر علی شاعر نے اپنی شاعری پیش کی۔ نمونۂ کلام درج ذیل ہے۔

ہر کوئی میرے سہارے پہ جیے جاتا ہے
میں رہوں بھی تو رہوں کس کے سہارے گھر میں

ٰمیری تقدیر کی آب و ہوا لے کر نہیں آئے
برائے نام بادل تھے گھٹا لے کر نہیں آئے

دم آخر بھی بچے کی زباں پر بس یہ جملہ تھا
میرے ابو ابھی تک کیوں دوا لے کر نہیں آیا

تقریب کے آخر میں میر احمد نوید سے کلام سنانے کی فرمائش کی گئی جس پر انہوں نے اپنی تازہ غزلیں سنائیں، اس کے ساتھ ہی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام میٹ اے رائٹر نشست کااہتمام کیا گیا جس میں معروف افسانہ نگار ادیب اورماہر تعلیم پروفیسر نوشابہ صدیقی کے ساتھ نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت ملک کے نامور شاعر رفیع الدین رازنے کی مہمان خاص سعید الظفر صدیقی، اعزازی مہمان کینیڈا سے آئے ہوئی صبیحہ خان ،کینیڈا سے آئے ہوئے منیف اشعر اور ہندوستان سے آئے ہوئے ماجد حسین تھے ۔جبکہ اس موقع پر نوشابہ صدیقی کے فن اور شخصیت پر افسانہ نگار شاعر عرفان علی عابدی نے تفصیلی گفتگو کی اس موقع پر رفیع الدین راز نے کہا کہ نوشابہ صدیقی کے ناول نہ صرف یہ کہ اردو ادب میں ایک منفرد تحریر ہیںبلکہ اس لئے بھی ان کے ناولوں کی اہمیت بڑہ جاتی ہے کہ مصنفہ نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیاہے جو کہ ایک اچھوتا موضوع ہوتے ہیں ۔ انہوںنے ماحول سازی کے ساتھ مناظرکو جزویات کے ساتھ اس طرح رقم کیا ہے کہ تمام مناظر آنکھوں کے سامنے سے گزرتے محسوس ہوتے ہیں۔عرفان علی عابدی نے کہا کہ نوشابہ صدیقی افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک گداز دل رکھنے والی حساس پاکستانی بھی ہیں ۔ چناچہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انکی زبان کی انفرادیت واقعات کی جاذ بیت اور طرز بیاںکی خوبصورتی نے ان کی کہانیوں کو ادب کی زندہ دستاویزات میںتبدیل کردیا ہے۔ نوشابہ صدیقی نے کہا کہ قادربخش سومرو کوخراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوںنے ہفتہ وار تقریبات /مشاعروں کا انعقاد کرکے تمام زبانوں کے ادباء شعراء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے۔ جو ادب کے لئے باعث مسرت ہے۔ اس طرح کی تقریبات سے ادب کے فروغ ملکی اور بیرون ملک سے آنے والے ادباء شعراء سے ملنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرونے کہا کہ نوشابہ صدیقی کے افسانے اس پس منظر کی روشنی میں ایک سلجھے ہوئے اور کشادہ نظر کی صورت میں سامنے آتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ابتداہی سے ادب اور زندگی کے رشتے کو بڑے وسیع تناظر میںدیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ادب کی معنویت فرد اور سماج کے توازن میںقائم ہوسکے۔ آخر میں مشاعر ے کا انعقاد کیا گیا جن شعراء نے کلام پیش کیا ان میں ظفرمحمد خان ظفر، ماجد حسین، سعید الظفر صدیقی، محمد یامین عراقی، سید منیف اشعر، شہناز رضوی، نجیب عمر، تاج علی رعنا، عرفان علی عابدی، پروین حیدر، شاہدہ خان عروج، صبیحہ خان، نشاط غوری، فہمیدہ مقبول، محمد رفیق مغل، فرح دیبا، الحاج یوسف اسماعیل، اقبال افسر غوری، محمدعلی زیدی، کاشف علی کاشف، طاہر ہ سلیم سوز، نثار اختر، الطاف احمد، سیدصغیراحمد جعفری، صبیحہ صبا،عارف شیخ عارف، عظمی جون ، شامل تھے آخر میں قادربخش سومرو نے آئے ہوئے مہمانوںکاشکریہ ادا کیا۔

یومِ پاکستان پر کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام ’’صحافی مشاعرہ‘‘ منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت انور شعور نے کی پہلے دور کا مشاعرہ نئی نسل کے نوجوان صحافی شعرا پر مشتمل تھا جس کی نظامت نوجوان شاعر عبدالرحمن مومن نے کی۔ آغاز میں کراچی پریس کلب کے سیکریٹر مقصود یوسفی نے کہا کہ اس سال بھی صحافی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ہے مشاعرہ پاک و ہند کی روایت ہے اشعار میں مطالب کو سمجھا جائے تو اس کی مختلف کیفیت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا اس مشاعرہ میں ترجیح سینئر شعرا کو دی ہے اساتذہ، انور شعور اور عنایت علی خان کا خاص طور پر شکر گزار ہوں۔ صدر کراچی پریس کلب احمد خان ملک نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے صحافی مشاعرہ سن رہا ہوں۔ جسے میں اہمیت کا حامل سمجھتا ہوں۔ یہ شعری اور ادبی محفلیں جذبات کے اظہار، شعور کو اجاگر کرنے کے لیے بری اہمیت رکھتی ہیں۔ ادبی کمیٹی کی ٹیم نے آج ایک خوبصورت پروگرام تشکیل دیا ہے۔ مشاعرہ میں داد و تحسین کا بھی سلسلہ رہا صدر مشاعرہ انور شعور دوران مشاعرہ شعر سنانے پر بضد رہے اور وہ درمیان میں شعر سنا کر پھر صدارتی مسند پر آ بیٹھے درمیان مشاعرہ مہمان شاعر نسیم سید (کینیڈا) نے بھی اپنی خوب صورت نظمیں اور غزلیں سنائیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے صحافی شعرا میں شہر کے خاصے نمایندہ شعرا موجود تھے ایک اچھا اور یادگار مشاعرہ ڈھائی بجے رات تک جاری رہا۔ اے ایچ خانزادہ (ادبی کمیٹی) کے سیکریٹری نے آغاز مشاعرہ پر اظہارِ خیال کیا اور اسے پریس کلب کی ایک عمدہ روایت قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اے ایچ خانزادہ نے ’’صحافی مشاعرہ‘‘ میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث یہ مشاعرہ کامیابی سے ہمکنار ہوا جو شعرا کرام محفل مشاعرہ میں شریک ہوئے ان میں صدر مشاعرہ انور شعور، عنایت علی خان، نسیم سید (کینیڈا)، سرور جاوید، عقیل عباس جعفری، خالد معین، اجمل سراج، اختر سعیدی، اقبال خاور، فاضل جمیلی، قیصر وجدی، نثار احمد نثار، حنیف عابد، عنبریں حسیب عنبر، نعمان جعفری، اے ایچ خانزادہ، عمران شمشاد، سیمان نوید، وجیہہ ثانی، فیض عالم بابر، شبیر نازش، ہدایت سائر، شکیل انجم لاشاری، سحر حسن، عثمان جامعی، افشاں سحر، زاہد عباس، عباس ممتاز اور عبدالرحمن مومن شامل ہیں۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا وجود - اتوار 29 مارچ 2020

طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی وفد کو امن معاہدے سے متضاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔افغان حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے اکیس رکنی وفد کا اعلان کیا تھا جس پر طالبان کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ افغان حکومتی وفد میں تمام فریقوں کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے مخصوص گروہ کی نمائندگی کرنے والے سے مذاکرات طالبان امریکہ امن ڈیل کی خلاف ورزی ہے ۔واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین گذشتہ ماہ امن معاہدہ ہوا تھا جو طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں ...

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث وجود - اتوار 29 مارچ 2020

ترکی کے دوسینئرعہدیداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں استنبول میں قائم ایرانی قونصل خانے میں موجود انٹیلی جنس اہلکاروں نے ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت پر نکتہ چینی کرنے والے ایک نوجوان رہ نما کے قتل کی ترغیب دی تھی۔خیال رہے کہ ایرانی اپوزیشن رہ نما مسعود مولوی وردنجانی کو 14 نومبر 2019 کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ مسعود اپنے قتل سے ایک سال قبل ایران چھوڑ کر ترکی آگئے تھے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک عہدیداروں نے کہاکہ پولیس کی طرف سے ورد نجانی کے قتل ...

ایرانی انٹیلی جنس اہلکار ترکی میں ہم وطن اپوزیشن رہ نما کے قتل میں ملوث

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے وجود - اتوار 29 مارچ 2020

مصری حکام نے کورونا وائرس کے پھیلائوسے بچائوکے لیے ساحلوں کو سیل کرکے وہاں تفریح کیلئے آنے والوں کو روکنے کے احکامات جاری کر دیئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے مقرر کی جانے والی کورونا سے بچائو کی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ عوامی مقامات پر آنے والوں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ کورونا سے زیادہ سے زیادہ حد تک بچاجاسکے ۔کمیٹی کی سفارش پر مصری حکام نے ساحلوں کو بند کرکے وہاں تفریح کے لیے آنے والوں پر پابندی عائد کردی ۔

مصری حکومت نے ساحلی مقامات بند کردیے

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 29 مارچ 2020

کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچز نے (آج)پیر سے پورا ملک بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔غیر ملکی خبر رساں ا دارے کے مطابق بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے بعد اسپین کے وزیر اعطم پیدرو سانچز نے پیر سے پورا ملک مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اشیائے ضروریہ کے علاوہ ہر قسم کی خرید و فروخت بند رہے گی اور کسی بھی شخص کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اسپین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس...

کورونا وائرس، اسپین کو پیرسے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری وجود - اتوار 29 مارچ 2020

امریکی محکمہ موسمیات نے متعدد ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری کردی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق کچھ علاقے اب بھی شدید موسمی مشکلات جھیل رہے ہیں۔ دوسری جانب جونز بورو میں ہوا کے بگولے سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا، جب کہ اس دوران مختلف حادثات میں 6 افراد زخمی بھی ہوئے ۔عینی شاہدین کے مطابق ہوا کے بگولے اتنی شدید نوعیت کے تھے کہ اس سے شاپنگ مال بھی تباہ ہوگیا۔ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بگولے کے بعد تباہی کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں۔امریکی میٹ آفس ک...

امریکا کی مختلف ریاستوں میں شدید طوفان کی وارننگ جاری

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ وجود - هفته 28 مارچ 2020

کورونا وائرس کے امریکی معیشت پر اثرات واضح ہونے شروع ہوگئے ، بیروزگاری الا ئونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 32 لاکھ سے زیادہ ورکرز نے بے روزگاری مراعات کے لیے درخواستیں دیں جس کی وجہ سے امریکا میں ایک دہائی سے جاری روزگار کی منڈی میں ریکارڈ نمو یکدم رک گئی ۔ بڑے امریکی شہروں میں بے روزگاری بہبود کا نظام شدید دبائو کا شکار ہو گیا ہے ، امریکا میں بیروزگاری الائونس کی حالیہ درخواستوں کی تعداد ماضی کے ریکارڈ سے 5 گنا زیاد...

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے وجود - هفته 28 مارچ 2020

انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب نے 20 دیہات کے 40 ہزار شہریوں کو اس وقت قرنطینہ میں ڈال دیا جب وہاں پھیلنے والی کووِڈ-19 کی وبا کا تعلق صرف ایک شخص سے ثابت ہوا۔ان 70 سالہ شخص کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی مگر اس کا پتہ صرف ان کی ہلاکت کے بعد چلا۔حکام نے برطانوی نشریا تی ادارے کو بتایا کہ ہلاک شدہ شخص ایک مبلغ تھے اور انھوں نے اٹلی اور جرمنی سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے مشوروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔انڈیا میں وائرس کے 640 تصدیق شدہ متاثرین ہیں جن میں سے 30 ریا...

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع وجود - هفته 28 مارچ 2020

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے کورونا وائرس کے عالمی کساد بازاری شروع ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیویا کے مطابق کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دنیا بھر میں لاک ڈاون، فیکٹریاں، ائیرلائز، سیاحت، درآمدات اور برآمدات بند ہونے سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کا عمل دوہزار نو جیسا یا اس سے بدتر ہوگا اورعالمی معیشت پراس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔آئی ایم ایف سربراہ نے پیش گوئی کی کہ وا...

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے وجود - هفته 28 مارچ 2020

گروپ آف ٹوئنٹی ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عالمی معیشت میں 50 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جی 20 رہنمائوں نے غیر معمولی سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ۔رہنمائوں نے کہا کہ جرات مندانہ انداز میں بڑے پیمانے پر مالی مدد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے تشخیصی آلات، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تیزتر ترقی، تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔جاپان کے...

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ وجود - جمعه 27 مارچ 2020

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ''کونٹیجن'' نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم 'کونٹیجن' کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری 'ایم ای ویـ1' پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔' وارنر بروس' کی 2011 می...

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ