وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کیاسرد جنگ کا دور واپس آنے لگا ہے

جمعه 30 مارچ 2018 کیاسرد جنگ کا دور واپس آنے لگا ہے

برطانیا میں سابق روسی جاسوس کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کے بعد امریکا اور یورپی یونین سمیت کئی اتحادی ممالک نے روس کے110 سفارت کاروں کو اپنے مْلک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے ان ممالک میں سب سے زیادہ سفارت کار نکالنے والا مْلک امریکا ہے، جس نے ساٹھ سفارت کاروں کو مْلک سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ ان ساٹھ میں سے48 واشنگٹن میں روسی سفارت خانے میں تعینات ہیں،جبکہ باقی بارہ نیو یارک میں اقوام متحدہ میں تعینات ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے الزام عائد کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مشن سے مْلک بدر کئے جانے والے یہ تمام افراد جاسوس تھے اور اقوام متحدہ کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔امریکا نے ریاست واشنگٹن کے دارالحکومت سیاٹل میں روسی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔یوکرائن نے تیرہ روسی سفارت کاروں کو اپنے مْلک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے، جبکہ کینیڈا، جرمنی، فرانس اور پولینڈ نے بھی چار چار سفارت کاروں کو اپنے اپنے مْلک سے چلے جانے کو کہا ہے۔لتھوانیا اور چیک ریپبلک نے بھی تین تین سفارت کاروں کو نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔ ہالینڈ، اٹلی، سویڈن، سپین اور ڈنمارک نے دو دو سفارت کاروں کو نکال دیا ہے۔ مجموعی طور پر امریکا، کینیڈا سمیت 18یورپی ممالک نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔

سفارتی تعلقات کی تاریخ کا یہ منفرد واقعہ ہے کہ اتنے زیادہ ممالک نے بیک وقت 110 سفارت کاروں کو اپنے اپنے ممالک سے نکال دیا ہو، امریکا سے تو سب سے زیادہ سفارت کار نکالے گئے ہیں اِس اقدام کا مقصد برطانیا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے، برطانیا اور روس کے درمیان سفارتی جنگ کا آغاز کوئی ایک ماہ پہلے ہوا تھا اور اب تک کسی دوسرے مْلک نے اِس ضمن میں برطانیا کے ساتھ مل کر روسی سفارت کاروں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا تھا،لیکن اب جبکہ دْنیا کی واحد سپر پاور نے اپنے مْلک سے بیک وقت ساٹھ سفارت کار نکالنے اور ایک ریاست میں روسی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا تو یکایک سارا یورپ امریکا کی پیروی کرتے ہوئے اِس جنگ میں روس کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا، ابھی تک روس نے کوئی جوابی اقدام نہیں کیا،لیکن یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ ان ممالک کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران روس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اْس نے امریکی صدارتی انتخابات میں ایسی مداخلت کی تھی،جس کا فائدہ صدر ٹرمپ کو پہنچا۔ایک امریکی مشیر نے روس کے ساتھ روابط اور اِس سلسلے میں جھوٹ بولنے کا اعتراف بھی کیا تھا ،جس کی وجہ سے اْنہیں مستعفی ہونا پڑا۔ اب تک ایف بی آئی اِس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور بہت سی مشکوک کہانیاں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں، خود صدر ٹرمپ کے بیٹے پر بھی روس کے ساتھ روابط کے سلسلے میں بعض الزامات لگ رہے ہیں،جب ریکس ٹلرسن کو وزیر خارجہ بنایا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ اْن کے تقرر میں یہ پہلو بھی مدنظر رکھا گیا ہے کہ اْن کے روسی صدر پیوٹن سے قریبی روابط ہیں انہی روابط کی بنا پر ٹلرسن کی تیل کمپنی اْن ایام میں بھی روس میں کام کرتی رہی تھی، جب امریکا نے روس پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں چند روز قبل ٹلرسن کو وزارتِ خارجہ سے ہٹا دیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پالیسی امور پر اْن کے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت سے اختلافات تھے اور وہ برسر عام اِن خیالات کے اظہار سے چوکتے نہیں تھے،بلکہ ایک دو مواقع پر تو انہوں نے صدر ٹرمپ کے بارے میں غیر شائستہ باتیں بھی کہہ دی تھیں ممکن ہے اْن کی علیحدگی میں ’’روسی روابط‘‘کا بھی کوئی کردار ہو، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جن روسی سفارت کاروں کو نکالا گیا ہے وہ واقعی جاسوس تھے یا اْنہیں نکالنے کے لئے یہ آزمودہ نسخہ استعمال کیا گیا ہے،کیونکہ سفارتی لڑائیوں میں جب بھی کوئی مْلک کسی دوسرے مْلک کے سفارت کاروں کو نکالتا ہے تو اْن پر یہی گھڑا گھڑایا الزام دھرا جاتا ہے۔حیرت ہے کہ یکایک اتنے جاسوس کیسے دریافت ہو گئے جو اتنے عرصے سے چھپے بیٹھے تھے۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں روس کے بارہ کے بارہ سفارت کار جاسوس نکلے، اِسی طرح واشنگٹن کا روسی سفارت خانہ بھی جاسوسوں سے بھرا ہوا تھا تو اب تک ان کی جانب امریکا کا دھیان کیوں نہیں گیا تھا اور اگر ان کی جاسوسی کی کارروائیاں یکایک ’’دریافت‘‘ ہوئی ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دْنیا پر حکمرانی کرنے والے مْلک کا اپنا اطلاعات کا نظام کس قدر کمزور اور بْودا ہے کہ اْسے سالہا سال معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ اْس کے مْلک میں جاسوسی کا جال پھیلا ہوا ہے اور سفارت کاری کے پردے میں کام کرنے والے تمام لوگ سوائے جاسوسی کے کوئی دوسرا کام ہی نہیں کرتے۔

اب اگر روس جوابی کارروائی شروع کرے گا تو وہ بھی کم از کم18ممالک کے سفارت کاروں کو تو دیس نکالا دے گا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا سرد جنگ کا دور واپس آ جائے گا، جب روسی اور امریکی بلاک کے درمیان بداعتمادی کی فضا عروج پر تھی اور آئے دن سفارت کاروں پر جاسوس ہونے کے شبے میں کارروائیاں کی جاتی تھیں،روس کا تو آہنی پردے کا نظام ایسا تھا کہ امریکا اور مغربی ممالک کو روس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں بڑی مشکلات درپیش تھیں۔البتہ خود روس کے کئی باشندوں پر امریکا اور یورپ کے خفیہ کام کرنے کے الزامات لگائے جاتے تھے اور آئے روز ایسے اقدامات کئے جاتے تھے جو اب ایک ہی ریلے میں کر دیئے گئے ہیں۔ جاسوسی کے اس نیٹ ورک کے ڈانڈے معلوم نہیں کہاں کہاں جا کر ملیں گے،لیکن اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی جو کہانیاں ڈیڑھ سال پہلے سامنے آنا شروع ہوئی تھیں اور جن کی روس نے ہمیشہ تردید کی ہے اب اْن کے کئی نئے پہلو بھی سامنے آئیں گے اور اگر یہ سب کچھ غیر حقیقی تھا تو بھی اس فسانے میں رنگ آمیزی کی کافی گنجائش ہے،کیونکہ اگر امریکا سے تقریباً سارے ہی روسی سفارت کار جاسوسی کے الزام میں نکالے جا رہے ہیں تو اس اقدام کو درست ثابت کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی قصہ تو گھڑنا پڑے گا، امریکا نے روسی سفارت کاروں کو نکالنے کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس سروسز جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں، جنہیں روکنا بہت ضروری ہے یہ اقدام بظاہر روس کی طرف سے کیمیائی معاہدوں اور عالمی قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر اٹھایا گیا ہے۔امریکا نے یہ اقدام اپنے اتحادی نیٹو ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر کیا تاکہ برطانوی سرزمین پر فوجی سطح کے کیمیائی ہتھیار رکھنے کی پاداش میں روس کو مناسب جواب دیا جا سکے، روس اس حربے پر عمل پیرا ہو ا کر دْنیا بھر میں عدم استحکام کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ سلسلہ ابھی رْکا نہیں ہے، روس کی طرف سے جواب تو آئے گا،لیکن یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ تسک نسک نے کہا کہ آئندہ دِنوں میں یورپی یونین کے مشترکہ فریم ورک میں رہتے ہوئے مزید روسی سفارت کاروں کو بھی بے دخل کیا جا سکتا ہے تمام ممالک کا ایک ہی موقف ہے کہ یہ اقدام برطانیا کے ساتھ اْن کے موقف کی حمایت میں کھڑا ہو کر اٹھایا گیا ہے اس سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب سرد جنگ کاوہ دور پوری آب و تاب سے واپس آ رہا ہے جو دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ان اتحادیوں میں شروع ہو گیا تھا جو جنگ میں تو جرمنی کے خلاف اتحادی تھے،لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد جونہی سْکھ کا سانس لیا ایک دوسرے کے خلاف سرد جنگ میں شریک ہو گئے جو کئی عشروں تک جاری رہی اور بمشکل ختم ہوئی تھی کہ اب نئی شروعات ہیں دیکھیں اِس جنگ کا اختتام کس شکل میں ہوتا ہے؟


متعلقہ خبریں


پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

پاکستان بحریہ نے بھارتی آبدوز کا سراغ لگاتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔افواج پاکستان نے بھارت کی ایک اور چال کو ناکام بنا کر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مرتبہ یہ کارنامہ پاک بحریہ نے انجام دیا ہے جس نے جاسوسی اور جنگی مقاصد سے چوری چھپے پاکستان کی حدود میں گھسنے کی کوشش کرنے والی بھارتی آبدوز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ بھارتی آبدوز کی حقیقی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔ 16/ اکتوبر کو بھارتی آبدوز پاکستانی سمندری حدود کے قریب موجود تھی اور پاک...

پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو پاکستانی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان وجود - بدھ 20 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں قومی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا وہ اوپر آجاتا تھا۔ وہاں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے، کیونکہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلا...

ریاست مدینہ میں جو جنرل اچھا کام کرتا تھا اوپر جاتا تھا،عمران خان

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے ایک بار پھر انتخابی اصلاحات کیلئے مجوزہ ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھاندلی کے ذریعے آنے والی حکومت کو شفاف انتخابات کیلئے فارمولا یا قانون دینے کا کوئی حق نہیں،نیب کا ادارہ ہی آمریت کی باقیات میں سے ہے ،یہ ہمیشہ مخالفین اور حزب اختلاف کے خلاف سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہوا ہے ،اس ادارے سے احتساب کی کوئی توقع نہیں ، ہم نئے الیکشن چاہتے ہیں ، اسمبلی کے اندر تبدیلی کی بات ہوتی تو پیپلز پارٹی کی بات مان لیتے،...

پی ڈی ایم ملک گیر احتجاج پر کمربستہ، 20اکتوبر سے مظاہرے

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق گوجرانوالا کینٹ میں کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کور کمانڈر گوجرانوالا تعینات کردیے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد کی۔ واضح رہے کہ پاک فوج میں 6 اکتوبر کو اہم تقرر وتبادلے کیے گئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا ...

پاک فوج کے 6 اکتوبر کے فیصلوں پر عمل درآمد شروع، گوجرانوالا کور کی کمان لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے سپرد

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار کیا ہے ۔ پیر کو آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے استقبال کیا، اس موقع پر آرمی چیف کو داخلی سیکیورٹی امور اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

آرمی چیف کا آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرزکا دورہ ، ادارے کی تیاریوں پر اطمیان کا اظہار

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق کولن پاول کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کا انتقال کورونا کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں سے ہوا۔خیال رہے کہ کولن پاول سابق امریکی صدر جارج بش جونیئر کے دور میں 2001 سے لیکر 2005 تک امریکا کے سیکرٹری خارجہ رہے۔افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے دوران کولن پاول ہی وزیر خارجہ تھے اور انہیں پہلے افریقی نژاد امریکی وزیرخارجہ ہونیکا اعزاز حاصل ہے۔سیاست میں آنے سے قبل کولن پاول امریکی فوج ک...

سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 19 اکتوبر 2021

وفاقی حکومت نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مہنگائی اور معاشی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں انہیں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر ٹیکسز کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزراء اپنے...

اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں، کچھ لوگ چاہتے ہیں میں سیاست اور ملک میں واپس نہ آؤں کیونکہ میرے آنے سے انکی دکانیں بند ہوجائیں گی۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ کراچی اور پاکستان میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہوں اور مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مسائل کے مستقل حل کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ چاہتا ہوں کہ سیاسی استحکام ہو، ملک...

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ایک بار پھر سیاست میں آنے کا عندیہ

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

انٹربینک میں ڈالر 173.24 روپے کا ہو گیا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے سے درآمدی بل اور مہنگائی میں مزید اضافے جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کی اونچی اڑان کے نتیجے میں انٹربینک نرخ 173 روپے سے بھی تجاوز کرگئے اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 2.06 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے قیمت 173.24 روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر خام تی...

انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

شوکت ترین کو ایک مرتبہ پھر مشیر خزانہ وریونیو تعینات کردیا گیا۔ شوکت ترین کی تقرری کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردیا گیا ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی ایڈوائس پر شوکت ترین کی تقرری کی منظوری دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت ترین کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہو گا۔ شوکت ترین کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی کی چھ ماہ کی مدت 16اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی۔ آئین کے مطابق کوئی بھی شخص رکن قومی اسمبلی یا رکن سینیٹ بنے بغیر چھ ماہ تک وفاقی و...

شوکت ترین وزیراعظم کے مشیر خزانہ و ریونیو مقرر، نوٹیفکیشن جاری

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق ممتاز دانشور ،شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی 75برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ اجمل نیازی 1947 میں موسیٰ خیل میانوالی میں پیدا ہوئے، گورڈن کالج راولپنڈی، گورنمنٹ کالج میانوالی، گورنمنٹ کالج لاہور اور ایف سی کالج میں لیکچرر رہے۔ڈاکٹر اجمل نیازی ایک قومی اخبار میں بے نیازیاں کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ۔ اجمل نیازی نے 45 سال ادب کی خدمت میں گزارے، انہوں نے اردو اور پنجابی زبان میں شاعری کی۔ اجمل نیازی...

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا وجود - پیر 18 اکتوبر 2021

ملک کے تیل کی درآمد کا بل رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 97 فیصد سے بڑھ کر 4.59 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 2.32 ارب ڈالر تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی اضافے کی وجہ بنی ہے۔تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافہ تجارتی خسارے کو فعال کر رہا ہے اور حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔گھریلو صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں دیکھا گیا۔پاکستا...

حکومت کی نئی پریشانی، تیل کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے سے تجارتی خسارے کا سامنا

مضامین
یہ رات کب لپٹے گی؟ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
یہ رات کب لپٹے گی؟

تماشا اور تماشائی وجود پیر 18 اکتوبر 2021
تماشا اور تماشائی

’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ وجود پیر 18 اکتوبر 2021
’’مصنوعی ذہانت ‘‘ پر غلبے کی حقیقی جنگ

محنت رائیگاں نہیں جاتی وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
محنت رائیگاں نہیں جاتی

بیس کی چائے وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
بیس کی چائے

امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت وجود اتوار 17 اکتوبر 2021
امریکی تعلیمی ادارے اور جمہوریت

روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی