وجود

... loading ...

وجود

صلاۃتسبیح کی فضیلت،اہمیت اور طریقہ

جمعه 30 مارچ 2018 صلاۃتسبیح کی فضیلت،اہمیت اور طریقہ

ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں وہ ’’صلوۃ التسبیح‘‘ہے ۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں، اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صلاۃ التسبیح اگر ممکن ہوتو روزانہ ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ نہیں کرسکتے تو ہر جمعہ میں ایک مرتبہ پڑھو ،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو ہر مہینے میں ایک دفعہ پڑھو،اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہر سال میں ایک مرتبہ پڑھواور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو اپنی پوری زندگی میں ہی ایک دفعہ پڑھو۔ صلاۃ التسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ بکثرت گناہ معاف کرتے ہیں ، احادیث میں اِس کثرت کی کئی مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عباس میرے چچا میں تمہیں ایک عطیہ کروں ،ایک بخشش کروں ،ایک خاص چیز بتاوں ،تمہیں دس چیزوں کا مالک بناؤں، جب تم اس کام کو کرو گے تو اللہ جل شانہ تمہارے سب گنا ہ پہلے اور پچھلے پرانے اور نئے ،غلطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے، چھوٹے اور بڑے ،چھپ کر کیے ہو یا کھلم کھلا کیے ہو،سب ہی معاف فرما دیں گے وہ کام یہ ہے کہ چار رکعت نفل صلاۃ التسبیح کی نیت باندھ کر پڑھ اور پھر با قی نماز کا طریقہ سکھایا۔

طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا ریت کے ذرات کے برابر ہو تو اللہ تعالی سب کو معاف کر دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ نماز ہے، جس کے پڑھنے کی برکت سے دس قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔٭ اگلے گناہ ٭پچھلے گناہ ٭ قدیم گناہ ٭جدید گناہ ٭غلطی سے کیے ہوئے گناہ ٭جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہ ٭صغیرہ گناہ ٭کبیرہ گناہ ٭چھپ چھپ کر کیے ہوئے گناہ٭کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ۔

حاکم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ذاد بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو حبشہ بھیج دیا تھا جب وہاں سے واپس مدینہ پہنچے تو رسول اللہ نے ان کو گلے سے لگا یا اور پیشانی پر بوسہ دیا پھر فرمایا میں تمیں ایک چیز دوں ،ایک خوشخبری سناؤں، ایک تحفہ دوں، پھر پوری تفصیل نماز کی بتلائی جواوپرذکر کیا گیا ۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ التسبیح کتنی اہمیت اور فضلیت رکھتی ہے ،حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کتنی محبت اور شفقت سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو اس کی ترغیب دے رہے ہیں ،اس آسان عمل کے ذریعے اللہ تعالی تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ا گر تم ساری دنیا کے لوگوں سے بھی زیادہ گناہ گار ہو تو معاف ہو جائیں گے ۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گناہ ریت سے بھی زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گناہ آسمان کے ستارے ، قطروں کی تعداد ،ریت کے تعداد یا زمانے بھر کے ایّام کے برابر بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ اُن سب کو معاف کردیں گے ۔

صلاۃ التسبیح کے بارے میں اَسلاف کے چند اقوال:
حضرت عبد العزیز بن ابی روّاد رحمۃاللہ علیہ جو حضرت عبد اللہ بن مُبارک رحمۃاللہ علیہ کے استاذ ہیں،فرماتے ہیں :جس کا جنت میں جانے کا ارادہ ہو اُس کے لیے ضروری ہے کہ صلاۃ التسبیح کو مضبوطی سے پکڑے ۔

حضرت ابو عثمان حیری رحمۃاللہ علیہ جوکہ ایک بڑے زاہد ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصیبتوں اور غموں کے ازالے کے لیے صلاۃ التسبیح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔(فضائل ذکر)
علّامہ تقی الدین سبکی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اِس نمازکی فضیلت و اہمیت کو سُن کر بھی غفلت اختیار کرے ،وہ دین کے بارے میں سستی کرنے والا ہے ، صلحاء کے کاموں سے دور ہے ، اس کو پکا(یعنی دین میں چست)آدمی نہ سمجھنا چاہیے ۔(فضائل ذکر)

صلاۃ تسبیح پڑھنے کا طریقہ:
اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ جو حضرت عبداللّٰہ بن مبارک سے ترمذی شریف میں مذکور ہے یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا یعنی سبحانک اللھم… الخ پڑھے پھر کلمات تسبیح یعنیسُبحَانَ اللّٰہِ وَاَلحَمدُ للّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکبَر پندرہ مرتبہ پڑھے پھر حسب دستور اعوذ باللّٰہ و بسم اللّٰہ و الحمد شریف اور سورۃ پڑھے پھر قیام میں ہی یعنی سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے وہی کلمات تسبیح دس مرتبہ پڑھے ،پھر رکوع کرے اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات دس بار کہے، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں سمع اللّٰہ لمن حمدہ اور ربنالک الحمد کے بعد دس بار اور دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد دس دس بار اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں یعنی جلسہ میں دس بار وہی کلماتِ تسبیح کہے ، اس طرح ہر رکعت میں الحمد سے پہلے پندرہ مرتبہ اور سورۃملانے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے قیام ہی میں دس مرتبہ اور رکوع و قومہ اور دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیانی جلسے میں دس دس بار وہی کلمات کہے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ یہ کلماتِ تسبیح ہو جائیں اور اگر ان کلمات کے بعدوَلَا حُولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ العَلِیَّ العَظِیمِ بھی ملا لے تو بہتر ہے، کیونکہ اس سے بہت ثواب ملتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ آئے بھی ہیں۔

دوسرا طریقہ:
جو حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے ترمذی شریف میں آیا ہے اس طرح ہے کہ سورۃ فاتحہ اور سورۃ پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ تسبیحات پڑھے، پھر رکوع میں دس مرتبہ پڑھے ،پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کے بعد دس مرتبہ پڑھے، پھر سجدہ میں دس مرتبہ پڑھے اور جب دوسرے سجدے سے اٹھے تو اللہ اکبر پڑھے اور بجائے کھڑے ہونے کے بیٹھ جائے اور بغیر اللہ اکبر پڑھے کھڑا ہو جائے اور دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں قعدہ کرتے وقت پہلے دس بارے پڑھے پھر التحیات پڑھے ۔

صلاۃ التسبیح کا مستحب وقت:
کسی بھی غیر مکروہ وقت میں صلاۃ التسبیح پڑھنا جائز ہے ،البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زوال کے بعد یعنی جب ظہر کا وقت داخل ہوجائے ،تو اس وقت پڑھنا چاہیے کیونکہ ابوداؤدشریف کی روایت میں ہے کہ جب زوال ہوجائے تواس چاررکعتوں کو پڑھا کرو لیکن یہ وقت ضروری نہیں ،کیونکہ اسی حدیث کے آخر میں ہے کہ عبداللہ ابن عمرؓ نے پوچھا کہ اگر میں اس وقت میں نہ پڑھ سکو تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دن رات میں جس وقت بھی پڑھ سکو ۔

صلاۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا:
جس طرح صلاۃ التسبیح کی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے ،اسی طرح دو سلاموں کے ساتھ ادا کرنا بھی درست اور جائز ہے، بعض علماء فرماتے ہے کہ دن کو چار کعت اور رات کو دو رکعت بہتر ہے اور بعض علماء کرام فرماتے ہے کہ ایک دفعہ چارکعت اورایک دفعہ دورکعت پڑھنی چاہیے، تاھم بہتر یہی ہے کہ ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھیں ،تاکہ تسبیح کی مقررہ تعداد تین سو پوری ہوجائے اور اگردورکعت کرکے پڑھے پھربھی مذکورہ مقدارکا لحاظ کرنا چاہیے۔( فتاوی دارالعلوم دیوبند )
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صلاۃ یسبیح پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔(آمین بجاہ سید المرسلین)


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر