وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پی ایس ایل میلہ اسلام آبادیونائیٹڈاوردل کراچی نے جیت لیا

جمعرات 29 مارچ 2018 پی ایس ایل میلہ اسلام آبادیونائیٹڈاوردل کراچی نے جیت لیا

کراچی میں نوسا ل بعدانٹرنیشنل میچ کھیلاگیاجسے دیکھنے کے لیے ہزاروں شائقین امڈپڑے عالمی کھلاڑیوں کاجیسافقیدالمثال استقبال ہواوہ انھیں ساری زندگی یادرہے گا۔میچ سے ایک دن قبل راستوں کی بندش سخت سیکیورٹی کے باوجودلوگ جوق درجوق نیشنل اسٹیڈیم کی اطراف کی سڑکوں پرجمع نظرآئے ایک میلے کاسماں رہا۔ کیاخواتین‘ کیابچے ‘کیاجوان بوڑھے میں ان جانی خوشی میں ڈوبے ہوئے نظرآئے ۔اورمقابلہ بھی ایساتھاجیسی امیدتھی۔ وہی سنسنی خیزی جوکسی بھی انٹرنیشنل مقابلے میں دیکھنے کی توقع ہوتی ہے ۔اس مقابلے میں بہترین بلے بازی بھی تھی، خوبصورت باؤلنگ بھی، ناقابلِ یقین کیچز بھی بلکہ ایک ’کیچ ڈراپ‘ بھی، وہ بھی ایسا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔

ایک ایسے موقع پر جب اسلام آباد یونائیٹڈ صرف 20 رنز کے اضافے پر 6 وکٹیں گنوا بیٹھا تھا اور آصف علی پشاور زلمی کی راہ میں آخری چٹان ہوسکتے تھے، تب وکٹ کیپر کامران اکمل نے ان کا ایسا کیچ چھوڑا، جسے ہر حال میں پکڑا جانا چاہیے تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پھر اگلے ہی اوور میں آصف علی نے مسلسل 3 چھکے لگا دیے اور میچ کا فیصلہ ہی کردیا۔

بالکل پچھلے سال کی طرح فائنل میں پشاور زلمی کو ایک مرتبہ پھر 149 رنز کا ہی دفاع کرنا تھا، لیکن یہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی دوسرے درجے کی ٹیم نہ تھی کہ جو پچھلے سال اپنے اہم ترین کھلاڑیوں کے لاہور آنے سے انکار کی وجہ سے زلمی کا مقابلہ نہ کرپائی، بلکہ یہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ کراچی پہنچنے والا اسلام آباد یونائیٹڈ کا اسکواڈ تھا۔ان کے پاس ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹسمین لیوک رونکی بھی تھا اور بہترین باؤلر فہیم اشرف بھی۔ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد صرف 9ویں اوور میں ہی 96 رنز تک پہنچ چکا تھا، وہ بھی بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے۔ لگتا تھا ایک مرتبہ پھر پی ایس ایل کا فائنل مکمل طور پر یکطرفہ ہوگا۔

مگر پھر پشاور زلمی کو امید کی ایک کرن تب نظر آئی جب لیوک رونکی 26 گیندوں پر 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور پھر صرف 20 رنز کے اضافے پر اسلام آباد کی کل 6 وکٹیں گئیں۔ رونکی کے بعد چیڈوِک والٹن، جے پی ڈومنی، صاحبزادہ فرحان، سمیت پٹیل اور شاداب خان، یہ سب یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوئے، جس میں کرس جارڈن کی باؤلنگ کا بھی کمال تھا اور فیلڈنگ کا بھی۔ جب ان کے خوبصورت کیچ کے نتیجے میں چھٹی وکٹ گری تو گویا مقابلہ برابری کی سطح پر آگیا۔ اسلام آباد کو ضرورت تھی 6 اوورز میں 33 رنز کی اور وکٹیں باقی تھیں صرف 4۔پھر آصف علی نے عمید آصف کی ایک باہر جاتی ہوئی گیند کو پْل کردیا، گیند ان کے بلّے پر نہیں آئی اور ہوا میں تن گئی۔ تب وکٹ کیپر کامران اکمل نے فیصلہ کیا کہ وہ تھرڈ مین کی طرف جاتی ہوئی گیند کو خود پکڑیں گے۔ بلاشبہ ذہن میں یہی ہوگا کہ ان کے ہاتھوں میں دستانے ہیں تو ان کے لیے کیچ پکڑنا آسان ہوگا اور فائن لیگ پر کھڑے فیلڈر کے لیے یہ پریشر کیچ لینا مشکل ہوسکتا ہے۔

وہ بھاگے اور گیند کے نیچے آنے کی کوشش کی مگر اس میں بْری طرح ناکام ہوئے۔ جب گیند کا درست اندازہ ہوا اور اسے پکڑنے کی کوشش کی تو گیند ان کے دستانوں کو آنے کے بجائے چھوئے بغیر زمین پر گر گئی۔ یہی وہ موقع تھا، جسے ہم وہ لمحہ کہیں گے جب پشاور زلمی مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوگیا کیونکہ اگلے ہی اوور میں آصف علی نے حسن علی کو مسلسل 3 گیندوں پر 3 کرارے چھکے رسید کردیے۔ اسلام آباد جیت کے بالکل قریب پہنچ گیا اور 17 ویں اوور کی 5 ویں گیند پر فہیم اشرف کے چھکے کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر پی ایس ایل چیمپیئن بن گیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ اگر دوسرے سیزن میں انہیں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو بلاشبہ تب بھی نتیجہ مختلف ہوتا۔ پہلے اور تیسرے سیزن کی جاندار کارکردگی کے بعد یونائیٹڈ پی ایس ایل تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم بن چکی ہے۔ بہرحال، سوال یہ ہے کہ کیا پشاور کی شکست کا واحد سبب کامران اکمل کا کیچ ڈراپ کرنا تھا؟بالکل نہیں۔

پشاور نے فائنل میں جو پہلی غلطی کی وہ تھی ٹاس جیت کر ایک آسان وکٹ پر اتنا اسکور نہ کرنا جتنا بنانا چاہیے تھا، اس لیے شکست کی پہلی ذمہ داری تو براہِ راست بیٹسمینوں پر عائد ہوتی ہے۔ 38 رنز پر 3 وکٹیں گر جانے کے بعد اگر کرس جارڈن 36، لیام ڈاسن 33 اور آخر میں وہاب ریاض 14 گیندوں پر 28 رنز نہ بناتے تو اسکور 148 رنز تک پہنچنا بھی ممکن نہ تھا۔

پھر دوسری غلطی یہ کی کہ ایسی وکٹ پر اسپنرز کے بغیر اترے اور جو میسر تھے ان کا بھی درست استعمال نہیں کیا۔ کچھ دیر قبل ہی اسلام آباد جھلک دکھا چکا تھا کہ اس نے پہلا اوور سمیت پٹیل کو دیا، جنہوں نے 2 اوور میں 2 کامیابیاں سمیٹ کر ابتداء میں ہی پشاور کے قدم روک دیے۔ یہ وکٹیں بھی معمولی نہیں تھیں بلکہ کامران اکمل اور محمد حفیظ جیسے کھلاڑیوں کی تھیں۔یہی نہیں بلکہ جب پشاور کے لوئر مڈل آرڈر کے رنز لوٹنے کی باری آئی تب بھی اسلام آباد کو اسپنر ہی کام آئے اور شاداب خان نے ایک ہی اوور میں ڈیرن سیمی اور عمید آصف کو آؤٹ کرکے کسی بھی بڑے ٹوٹل کی راہ مسدود کردی۔ اسلام آباد کے ان دونوں اسپنرز نے اپنے 8 اوورز میں صرف 51 رنز دیے اور 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اسی حکمت عملی کو خود اسلام آباد پر پلٹایا جا سکتا تھا، ابتداء ہی لیام ڈاسن کے اوور سے کروا کر اور اگر ضرورت پڑتی تو ان کا ساتھ دینے کے لیے سعد نسیم کو بھی گیند تھمائی جا سکتی تھی۔ لیکن پشاور نے ابتدائی 3 اوورز میں 40 رنز کھانے کے بعد ہوش پکڑا، لیکن تب تک اسلام آباد کے کھلاڑی مومینٹم حاصل کرچکے تھے اور تب ڈاسن کو دیا گیا اوور بھی خاص فرق نہ لا سکا۔ یہاں تک کہ اوپنرز کی 96 رنز کی طوفانی شراکت داری مقابلے کے جھکاؤ کا فیصلہ کرگئی۔بلاشبہ پشاور زلمی کے باؤلرز نے اس موقع پر بہت اہم کردار ادا کیا اور مقابلے کو آخری بار اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی لیکن ان کو دفاع کے لیے اتنا ٹوٹل دیا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ کچھ کر پاتے۔ جب 11 اوورز میں صرف 52 رنز کی ضرورت ہو اور 9 وکٹیں باقی ہوں تو باؤلر بیچارا کر بھی کیا سکتا ہے؟ پھر بھی انہوں نے اپنی پوری جان لڑائی اور پھر قسمت کے ہاتھوں مار کھائی۔

اگر اس شکست کے ذمہ دار کامران اکمل ہی ہیں تو جتنا الزام دیا جا رہا ہے تو اتنا ہی اْن کو کریڈٹ بھی دیں کیونکہ پشاور کو فائنل تک پہنچانے والے بھی وہی ہیں۔ جب پشاور زلمی کو پے در پے ناکامیوں کے بعد ٹورنامنٹ سے اخراج کا سامنا تھا، جب ہر مقابلہ ناک آؤٹ تھا، تب ’کامی‘ نے لاہور قلندرز کے خلاف 107 رنز کی اننگز کھیلی جسے بلاشبہ پورے سیزن میں بیٹنگ کا سب سے جاندار مظاہرہ کہا جا سکتا ہے۔

173 رنز کے تعاقب میں جب دوسرے اینڈ سے وکٹیں گر رہی تھیں، تب کامران اکمل نے صرف 61 گیندیں کھیلیں، 7 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 107 رنز بنائے اور پچھلے سیزن کی یادیں تازہ کردیں۔ یہی نہیں بلکہ کراچی کنگز کے خلاف دوسرے ایلی منیٹر میں صرف 27 گیندوں پر 77 رنز بنائے۔ آندرے فلیچر کے ساتھ پہلی وکٹ پر صرف 9 اوورز میں 107 رنز بنائے اور کراچی کو ابتداء￿ ہی میں مقابلے کی دوڑ سے باہر کردیا۔پورے سیزن میں کامران اکمل کی کارکردگی دیکھی جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ 13 میچز، 38 سے زیادہ کا اوسط، 153 سے زیادہ کا اسٹرائیک ریٹ، 41 چوکے، سب سے زیادہ 28 چھکے، ایک سنچری، 4 نصف سنچریاں اور 425 رنز۔ پشاور کا کوئی بیٹسمین کارکردگی میں دْور دْور تک اْن کا مقابل نہیں۔ صرف بیٹسمین کی حیثیت سے نہیں بلکہ یہ بھی یاد رکھیے کہ کامران نے پورے سیزن میں ایک کیچ بھی نہیں چھوڑا تھا، یہاں تک کہ فائنل میں، کھیل کے نازک ترین مرحلے پر، ان سے یہ قیمتی کیچ چھوٹ گیا۔ جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر کامران اکمل کے خلاف ایک طوفان برپا ہے۔

یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم کسی ایک غلطی کو لے کر باقی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ 2007ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل میں پاکستان ہندوستان کے ہاتھوں صرف 5 رنز سے ہارا تھا۔ 158 رنز کے تعاقب میں پاکستان 77 رنز پر 6 وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا جب مصباح الحق نے 38 گیندوں پر 43 رنز کی اننگز کھیلی۔یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ آخری شاٹ کیچ ہوگیا، ورنہ وہ تو پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنا گئے تھے۔ لیکن کیونکہ نتیجہ 5 رنز کی شکست کی صورت میں نکلا، اس لیے آج تک قصوروار مصباح الحق ہیں کہ انہوں نے جتوایا کیوں نہیں؟اگر پاکستان 50 رنز سے ہار جاتا تو زیادہ بہتر تھا، کم از کم مصباح کو ساری زندگی کے طعنے تو سننے کو نہ ملتے۔ شاید یہی غلطی کامران اکمل سے بھی سرزد ہوگئی ہے، ایک اہم ترین مرحلے پر یہ کیچ چھوڑ دینا، ان کی ایسی غلطی بن گئی ہے جس پر شاید انہیں کبھی معاف نہ کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ وجود - هفته 28 مارچ 2020

کورونا وائرس کے امریکی معیشت پر اثرات واضح ہونے شروع ہوگئے ، بیروزگاری الا ئونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 32 لاکھ سے زیادہ ورکرز نے بے روزگاری مراعات کے لیے درخواستیں دیں جس کی وجہ سے امریکا میں ایک دہائی سے جاری روزگار کی منڈی میں ریکارڈ نمو یکدم رک گئی ۔ بڑے امریکی شہروں میں بے روزگاری بہبود کا نظام شدید دبائو کا شکار ہو گیا ہے ، امریکا میں بیروزگاری الائونس کی حالیہ درخواستوں کی تعداد ماضی کے ریکارڈ سے 5 گنا زیاد...

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے وجود - هفته 28 مارچ 2020

انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب نے 20 دیہات کے 40 ہزار شہریوں کو اس وقت قرنطینہ میں ڈال دیا جب وہاں پھیلنے والی کووِڈ-19 کی وبا کا تعلق صرف ایک شخص سے ثابت ہوا۔ان 70 سالہ شخص کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی مگر اس کا پتہ صرف ان کی ہلاکت کے بعد چلا۔حکام نے برطانوی نشریا تی ادارے کو بتایا کہ ہلاک شدہ شخص ایک مبلغ تھے اور انھوں نے اٹلی اور جرمنی سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے مشوروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔انڈیا میں وائرس کے 640 تصدیق شدہ متاثرین ہیں جن میں سے 30 ریا...

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع وجود - هفته 28 مارچ 2020

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے کورونا وائرس کے عالمی کساد بازاری شروع ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیویا کے مطابق کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دنیا بھر میں لاک ڈاون، فیکٹریاں، ائیرلائز، سیاحت، درآمدات اور برآمدات بند ہونے سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کا عمل دوہزار نو جیسا یا اس سے بدتر ہوگا اورعالمی معیشت پراس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔آئی ایم ایف سربراہ نے پیش گوئی کی کہ وا...

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے وجود - هفته 28 مارچ 2020

گروپ آف ٹوئنٹی ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عالمی معیشت میں 50 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جی 20 رہنمائوں نے غیر معمولی سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ۔رہنمائوں نے کہا کہ جرات مندانہ انداز میں بڑے پیمانے پر مالی مدد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے تشخیصی آلات، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تیزتر ترقی، تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔جاپان کے...

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ وجود - جمعه 27 مارچ 2020

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ''کونٹیجن'' نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم 'کونٹیجن' کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری 'ایم ای ویـ1' پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔' وارنر بروس' کی 2011 می...

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی وجود - جمعه 27 مارچ 2020

دنیا بھر میں کرونا کا خوف، 199 ممالک میں 24 ہزار 87 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی وبا نے پانچ لاکھ بتیس ہزار 224 افراد کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 326 ہے ، امریکا میں کرونا سے متاثرین افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی وبا سے امریکا میں 1300 افراد ہلاک اور 85 ہزار 594 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ چین میں کرونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 292 ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 81 ہزار 340 ہے ۔ اٹلی میں کرونا سے آٹھ ہ...

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار وجود - جمعه 27 مارچ 2020

نئے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ اس میں تغیر یا تبدیلی کی رفتار دیگر وائرسز جیسے فلو کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ وائرس کے پھیلائو پر نظر رکھنے والے ماہرین نے کیا اور وائرس میں تبدیلی کی سست رفتار 2 مثبت اثرات کو ظاہر کرتی ہے ۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ وائرس اپنی موجودہ حالت میں مستحکم ہے اور آگے پھیلنے پر بھی اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین طویل المعیاد بنیادوں پر موثر ثا...

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات وجود - جمعه 27 مارچ 2020

اٹلی میں کورونا وائرس آج بھی 662 زندگیاں لے گیا، اموات 8 ہزار سے اوپر چلی گئیں جبکہ اسپین میں 458 زندگیاں گئیں، تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی۔ادھر امریکا میں مریضوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ برطانیہ میں مزید 320 افراد میں کورونا مرض کی تشخیص ہوئی، مجموعی تعداد 9 ہزار 800 سے زائد ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایران میں 2200 افراد جان سے جاچکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کرگئی۔دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے اوپر چلی گئی،...

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل وجود - جمعه 27 مارچ 2020

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر نبرد آزما ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈکس کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اٹلی میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی آئی سی یو سے شیئر کی گئیں تصاویر نے دنیا بھر میں لوگوں کو ان کا گرویدہ کر لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ آئی سی یو میں مریضوں کے علاج کے لئے کئی گھنٹے حفاظتی کٹس اور سامان پہنے رکھنے کے باعث ڈاکٹرز اور نرسوں کے چہر...

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں وجود - جمعه 27 مارچ 2020

برطانیا میں کورونا وائرس سے مزید 115 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مجموعی تعداد 578 ہو گئی جبکہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 11 ہزار سے زائد ہو گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا بھی جرم قرار دیدیا گیا، خود کو کورونا کا مریض ظاہر کر کے طبی عملے پر کھانسنے والے کو دو سال قید ہوگی۔عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے پولیس کو نئے اختیارات مل گئے ، لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے پر 60 پاونڈ جرمانہ ہوسکے گا۔ ہر مرتبہ جرمانہ دوگنا بڑھتا جائے گا۔ اپنا کام کر...

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں