وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

بدھ 28 مارچ 2018 آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

برما میں روہنگیا مسلمانوں کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اور انہیں ان کے آبائی گھروں سے نکال کر دربدر ہونے پر مجبور کیا گیا اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ اب بھارتی ریاست آسام میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہی حربہ آزمانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسام میں سو سال پہلے آباد ہونے والے بنگالی مسلمانوں کو غیر ریاستی باشندے قرار دے کر انہیں آسام سے بے دخل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر عنقریب عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس چھانٹی سے آسام میں آباد چونتیس فی صد مسلمان متاثر ہوں گے جن کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر غریب، مزدور اور زرعی محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی اتحادی انتہا پسند ہندو جماعتیں اس پر زور دے رہی ہیں کہ آسام میں ’’غیر قانونی‘‘ مقیم بنگالی مسلمانوں کے نام ووٹروں کی فہرست سے خارج کیے جائیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر اِن مسلمانوں کو مشکوک شہری قرار دے رہا ہے، اس کا موقف ہے کہ ان لوگوں کے پاس اپنی شہریت کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے تاہم ان لوگوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کارروائی بھارتی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تیار کردہ فہرست کی روشنی میں مکمل ہوگی اور اس کے بعد انہیں ریاست سے بے دخل کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ مسلمانوں کو آسام سے بے دخل کرنے اور انہیں آبائی گھروں سے نکالنے کی کارروائی راشٹریہ سیوک سنگھ اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے وہ مسلح کارکن کریں گے جو اِس وقت پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مصروف عمل ہیں اور جن کا نعرہ یہ ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے یہاں جو لوگ بھی رہنا چاہتے ہیں انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ مسلمانوں کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے اپنا الگ وطن ’’پاکستان‘‘ بنا کر ہندوستان میں رہنے کا حق خود ساقط کرلیا ہے اب انہیں ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہے، وہ مسلمان کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو پاکستان چلے جائیں اگر ہندوستان میں رہنے کی خواہش ہے تو پھر ہندو بن کر رہیں۔ اس مقصد کے لیے ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی اور گھر واپسی کی تحریک بڑی شدومد سے شروع کر رکھی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے پْرکھے کئی سو سال پہلے ہندو ہی تھے پھر وہ غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کے دباؤ سے اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہوگئے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس آجائیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ہندو بن کر امن سے رہیں۔ مسلمان اس تحریک کا بے جگری سے مقابلہ تو کررہے ہیں اور مسلمانوں میں تبدیلی مذہب کا شاذ و نادر ہی کوئی واقعہ پیش آتا ہے‘ وہ بھی انتہائی غریب اور پسماندہ علاقے میں، البتہ شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے مسلمان اپنی شناخت ضرور چھپانے پر مجبور ہورہے ہیں اور ایسے نام رکھ رہے ہیں جن سے یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ مسلمان ہیں، عیسائی ہیں یا ہندو۔

مسلمان اِس وقت بھارت میں سب سے بڑی غیر ہندو اقلیت ہیں، بھارت کے سیکولر آئین میں انہیں مذہبی آزادی بھی دی گئی ہے اور ان کے جان و مال کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ مذہبی آزادی تو رہی ایک طرف، ہندو

اکثریت تو ان کا محض مسلمان ہونا بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، جہاں تک جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہے تو بھارت میں آزادی کے بعد سے اب تک پچاس ہزار سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں جن میں لاکھوں مسلمان تہ تیغ کیے گئے ہیں اور ان کی اربوں ڈالر مالیت کی جائداد، صنعتیں، کاروباری مراکز اور مکانات تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

انتہا پسند ہندو تنظیمیں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے مفلوج بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مانیٹرنگ ٹیمیں بنا رکھی ہیں جو مسلم آبادی والے علاقوں میں ان کے کاروبار، صنعتوں اور کارخانوں کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور جہاں وہ یہ دیکھتی ہیں کہ مسلمانوں کا کاروبار پھول پھل رہا ہے اور وہ معاشی طور پر مستحکم ہورہے ہیں تو وہ فوری طور پر اپنی قیادت کو اس کی رپورٹ دیتی ہیں اور اس رپورٹ کی روشنی میں مخصوص علاقے میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ 2002ء میں ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کو ایسی ہی رپورٹ کی روشنی میں تاراج کیا گیا تھا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کسی زمانے میں مسلم اکثریت والا شہر تھا، برصغیر کی تقسیم کے بعد اس شہر میں ہندوؤں نے بھی پاؤں جمانے شروع کیے اور متعدد علاقوں میں وہ چھا گئے لیکن اس کے باوجود اس شہر پر مسلمانوں کو اجارہ داری حاصل تھی۔ احمد آباد سے ریاستی اسمبلی کا رکن بھی مسلمان تھا اور بعض گھریلو صنعتوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ چناں چہ شہر میں اچانک فسادات پھوٹ پڑے۔ مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا اور انتہا پسندوں کے جتھے مسلم آبادیوں پر حملہ آور ہو کر ان کا قتل عام کرنے لگے اس وقت نریندر مودی گجرات کا وزیراعلیٰ تھا، اس نے مسلمانوں کے قتل عام میں سرکاری مشینری کا بھرپور استعمال کیا۔ مسلمان رکن اسمبلی نے پولیس حکام اور صوبائی وزیروں سے رابطہ کرکے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے اس کی پکار پر کان نہ دھرا اور اسے نہایت بے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ مودی کو مسلمانوں کے ساتھ اس سفاکی پر گجرات کا قصائی کہا گیا لیکن اس نے کبھی ندامت محسوس نہیں کی، اب یہی شخص گزشتہ چار سال سے بھارت کا وزیراعظم ہے اور اس نے پورے بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

ہم نے ابتدا میں آسام کے مسلمانوں کا ذِکر کیا ہے جنہیں غیر ریاستی باشندے قرار دے کر بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جب کہ اتر پردیش کے مسلم آبادی والے شہروں لکھنؤ، رام پور، مراد آباد اور بجنور وغیرہ پر بھی انتہا پسندوں کی نظر ہے اور وہ یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ان شہروں کے مسلمان درپردہ ہتھیار جمع کرنے میں مصروف ہیں تا کہ وہ موقع پا کر بغاوت کرسکیں اور مسلم اکثریت والے علاقوں میں ایک اور پاکستان بناسکیں۔ اس پروپیگنڈے کی بنیاد پر اتر پردیش کے مسلمانوں پر بھی کسی دن قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔لیاقت نہرو معاہدے کے تحت دونوں ملک اپنی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کے ذمے دار ہیں لیکن افسوس بھارت نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی اور پاکستان اپنی بزدلانہ پالیسی کے سبب بھارت کو اس معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور نہ کرسکا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہورہا ہے اس میں پاکستان کی غفلت اور بے اعتنائی کا بھی بڑا دخل ہے جب تک پاکستانی حکمران بھارت کے مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں ان کا مستقبل غیر یقینی رہے گا۔


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی