وجود

... loading ...

وجود

آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

بدھ 28 مارچ 2018 آسام کے مسلمانوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ

برما میں روہنگیا مسلمانوں کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اور انہیں ان کے آبائی گھروں سے نکال کر دربدر ہونے پر مجبور کیا گیا اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ اب بھارتی ریاست آسام میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہی حربہ آزمانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسام میں سو سال پہلے آباد ہونے والے بنگالی مسلمانوں کو غیر ریاستی باشندے قرار دے کر انہیں آسام سے بے دخل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس پر عنقریب عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس چھانٹی سے آسام میں آباد چونتیس فی صد مسلمان متاثر ہوں گے جن کی تعداد بیس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر غریب، مزدور اور زرعی محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی اتحادی انتہا پسند ہندو جماعتیں اس پر زور دے رہی ہیں کہ آسام میں ’’غیر قانونی‘‘ مقیم بنگالی مسلمانوں کے نام ووٹروں کی فہرست سے خارج کیے جائیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر اِن مسلمانوں کو مشکوک شہری قرار دے رہا ہے، اس کا موقف ہے کہ ان لوگوں کے پاس اپنی شہریت کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے تاہم ان لوگوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کارروائی بھارتی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تیار کردہ فہرست کی روشنی میں مکمل ہوگی اور اس کے بعد انہیں ریاست سے بے دخل کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔ مسلمانوں کو آسام سے بے دخل کرنے اور انہیں آبائی گھروں سے نکالنے کی کارروائی راشٹریہ سیوک سنگھ اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کے وہ مسلح کارکن کریں گے جو اِس وقت پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مصروف عمل ہیں اور جن کا نعرہ یہ ہے کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے یہاں جو لوگ بھی رہنا چاہتے ہیں انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ مسلمانوں کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے اپنا الگ وطن ’’پاکستان‘‘ بنا کر ہندوستان میں رہنے کا حق خود ساقط کرلیا ہے اب انہیں ہندوستان میں رہنے کا حق نہیں ہے، وہ مسلمان کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو پاکستان چلے جائیں اگر ہندوستان میں رہنے کی خواہش ہے تو پھر ہندو بن کر رہیں۔ اس مقصد کے لیے ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شدھی اور گھر واپسی کی تحریک بڑی شدومد سے شروع کر رکھی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے پْرکھے کئی سو سال پہلے ہندو ہی تھے پھر وہ غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کے دباؤ سے اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہوگئے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس آجائیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ہندو بن کر امن سے رہیں۔ مسلمان اس تحریک کا بے جگری سے مقابلہ تو کررہے ہیں اور مسلمانوں میں تبدیلی مذہب کا شاذ و نادر ہی کوئی واقعہ پیش آتا ہے‘ وہ بھی انتہائی غریب اور پسماندہ علاقے میں، البتہ شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے مسلمان اپنی شناخت ضرور چھپانے پر مجبور ہورہے ہیں اور ایسے نام رکھ رہے ہیں جن سے یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ مسلمان ہیں، عیسائی ہیں یا ہندو۔

مسلمان اِس وقت بھارت میں سب سے بڑی غیر ہندو اقلیت ہیں، بھارت کے سیکولر آئین میں انہیں مذہبی آزادی بھی دی گئی ہے اور ان کے جان و مال کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ مذہبی آزادی تو رہی ایک طرف، ہندو

اکثریت تو ان کا محض مسلمان ہونا بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے، جہاں تک جان و مال کے تحفظ کا معاملہ ہے تو بھارت میں آزادی کے بعد سے اب تک پچاس ہزار سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں جن میں لاکھوں مسلمان تہ تیغ کیے گئے ہیں اور ان کی اربوں ڈالر مالیت کی جائداد، صنعتیں، کاروباری مراکز اور مکانات تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

انتہا پسند ہندو تنظیمیں بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے مفلوج بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مانیٹرنگ ٹیمیں بنا رکھی ہیں جو مسلم آبادی والے علاقوں میں ان کے کاروبار، صنعتوں اور کارخانوں کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور جہاں وہ یہ دیکھتی ہیں کہ مسلمانوں کا کاروبار پھول پھل رہا ہے اور وہ معاشی طور پر مستحکم ہورہے ہیں تو وہ فوری طور پر اپنی قیادت کو اس کی رپورٹ دیتی ہیں اور اس رپورٹ کی روشنی میں مخصوص علاقے میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ 2002ء میں ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کو ایسی ہی رپورٹ کی روشنی میں تاراج کیا گیا تھا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کسی زمانے میں مسلم اکثریت والا شہر تھا، برصغیر کی تقسیم کے بعد اس شہر میں ہندوؤں نے بھی پاؤں جمانے شروع کیے اور متعدد علاقوں میں وہ چھا گئے لیکن اس کے باوجود اس شہر پر مسلمانوں کو اجارہ داری حاصل تھی۔ احمد آباد سے ریاستی اسمبلی کا رکن بھی مسلمان تھا اور بعض گھریلو صنعتوں پر بھی مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ چناں چہ شہر میں اچانک فسادات پھوٹ پڑے۔ مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا اور انتہا پسندوں کے جتھے مسلم آبادیوں پر حملہ آور ہو کر ان کا قتل عام کرنے لگے اس وقت نریندر مودی گجرات کا وزیراعلیٰ تھا، اس نے مسلمانوں کے قتل عام میں سرکاری مشینری کا بھرپور استعمال کیا۔ مسلمان رکن اسمبلی نے پولیس حکام اور صوبائی وزیروں سے رابطہ کرکے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے اس کی پکار پر کان نہ دھرا اور اسے نہایت بے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ مودی کو مسلمانوں کے ساتھ اس سفاکی پر گجرات کا قصائی کہا گیا لیکن اس نے کبھی ندامت محسوس نہیں کی، اب یہی شخص گزشتہ چار سال سے بھارت کا وزیراعظم ہے اور اس نے پورے بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

ہم نے ابتدا میں آسام کے مسلمانوں کا ذِکر کیا ہے جنہیں غیر ریاستی باشندے قرار دے کر بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جب کہ اتر پردیش کے مسلم آبادی والے شہروں لکھنؤ، رام پور، مراد آباد اور بجنور وغیرہ پر بھی انتہا پسندوں کی نظر ہے اور وہ یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ ان شہروں کے مسلمان درپردہ ہتھیار جمع کرنے میں مصروف ہیں تا کہ وہ موقع پا کر بغاوت کرسکیں اور مسلم اکثریت والے علاقوں میں ایک اور پاکستان بناسکیں۔ اس پروپیگنڈے کی بنیاد پر اتر پردیش کے مسلمانوں پر بھی کسی دن قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔لیاقت نہرو معاہدے کے تحت دونوں ملک اپنی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کے ذمے دار ہیں لیکن افسوس بھارت نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی اور پاکستان اپنی بزدلانہ پالیسی کے سبب بھارت کو اس معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور نہ کرسکا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ناروا سلوک ہورہا ہے اس میں پاکستان کی غفلت اور بے اعتنائی کا بھی بڑا دخل ہے جب تک پاکستانی حکمران بھارت کے مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں ان کا مستقبل غیر یقینی رہے گا۔


متعلقہ خبریں


کوئٹہ ٹرین دھماکا،ایف سی اہلکاروں سمیت 30 شہادتیں،50 زخمی وجود - پیر 25 مئی 2026

دھماکہ اس قدر شدید تھا ٹرین کی بوگیوں کے پرخچے اڑ گئے، قریبی عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس پارک کی گئی کم و بیش 10 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں ٹرین میں سکیورٹی اہلکار اور ان کے فیملی ممبرز خواتین و بچے سوار تھے، منگل سے شروع ہونیوالی عید الاضحیٰ کی چھٹیاں منا...

کوئٹہ ٹرین دھماکا،ایف سی اہلکاروں سمیت 30 شہادتیں،50 زخمی

اسپین میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان پر پولیس کا بدترین تشدد وجود - پیر 25 مئی 2026

رضاکار اپنے ملک واپس آرہے تھے بلباؤ میں ایئرپورٹ پولیس نے حملہ کیا رضاکاروں پر باسک پولیس کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی غزہ کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے انسانی بنیاد پر فلسطینیوں کو امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کو اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد ...

اسپین میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان پر پولیس کا بدترین تشدد

قرض نہیں سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی چاہیے، شہباز شریف وجود - پیر 25 مئی 2026

پاکستان ترقی میں جلد چین کے ہم قدم ہوگا،چین میں مزدوروں کی لاگت کافی مہنگی ہو چکی ہے اپنے پلانٹس و مشینری پاکستان لائیں، مشترکہ منصوبوں پر کام کریں، وزیراعظم کا تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قرض نہیں سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی چاہیے، پاکستان ترقی میں جلد چین کے...

قرض نہیں سرمایہ کاری و ٹیکنالوجی چاہیے، شہباز شریف

تمام فیصلوں کی آخری منظوری سپریم لیڈر دیں گے، مسعود پزشکیان وجود - پیر 25 مئی 2026

موجودہ حساس صورتحال میں قومی اتحاد اور اجتماعی فیصلوں کی پابندی انتہائی ضروری ہے ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپریم لیڈر کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جائے گا،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سمیت ملک میں کوئی بھی اہم فیصلہ سپ...

تمام فیصلوں کی آخری منظوری سپریم لیڈر دیں گے، مسعود پزشکیان

28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے پی ٹی آئی متحرک، سہیل آفریدی کے نام بلاول کا خصوصی پیغام وجود - اتوار 24 مئی 2026

وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...

28ویں آئینی ترمیم روکنے کیلئے پی ٹی آئی متحرک، سہیل آفریدی کے نام بلاول کا خصوصی پیغام

بنوں میں آپریشن، 15دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار شہید وجود - اتوار 24 مئی 2026

3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...

بنوں میں آپریشن، 15دہشتگرد ہلاک، 2 اہلکار شہید

پنجاب تباہی سے بچ گیا،13 دہشت گرد گرفتار وجود - اتوار 24 مئی 2026

دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...

پنجاب تباہی سے بچ گیا،13 دہشت گرد گرفتار

ایران سے ڈیل یا بمباری ، چانس ففٹی ففٹی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ وجود - اتوار 24 مئی 2026

جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...

ایران سے ڈیل یا بمباری ، چانس ففٹی ففٹی ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ

پی ٹی آئی کی ملک گیراحتجاجی تحریک شروع،عمران خان کو جیل میں خطرہ ہے،شاندانہ گلزار وجود - هفته 23 مئی 2026

سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...

پی ٹی آئی کی ملک گیراحتجاجی تحریک شروع،عمران خان کو جیل میں خطرہ ہے،شاندانہ گلزار

فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع وجود - هفته 23 مئی 2026

ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...

فیلڈمارشل عاصم منیر کی اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں،امریکا ،ایران معاہدے کے قریب پہنچ گئے، جلد اعلان متوقع

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی 18 مقدمات میں جیل منتقل وجود - هفته 23 مئی 2026

سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...

منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی 18 مقدمات میں جیل منتقل

امریکا نے ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود نہیں مانگی، پاکستان وجود - هفته 23 مئی 2026

امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...

امریکا نے ایران پر حملے کیلئے فضائی حدود نہیں مانگی، پاکستان

مضامین
بھارت انسانی اسمگلنگ میں ملوث وجود پیر 25 مئی 2026
بھارت انسانی اسمگلنگ میں ملوث

اگرموت تاریخ بتا کرآئے! وجود پیر 25 مئی 2026
اگرموت تاریخ بتا کرآئے!

ترکیہ کی دفاعی نمائش ساہا 2026:طرز حرب بدلنے والی ٹکنالوجیز وجود پیر 25 مئی 2026
ترکیہ کی دفاعی نمائش ساہا 2026:طرز حرب بدلنے والی ٹکنالوجیز

حُسنِ زبان اور تربیت ِانسان وجود پیر 25 مئی 2026
حُسنِ زبان اور تربیت ِانسان

مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع وجود اتوار 24 مئی 2026
مدھیہ پردیش میں مسجد تنازع

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر