... loading ...
’’پانی پت ضلع کرنال میں ہندو مسلم تعلقات سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس کی فوری وجہ یہ معلوم ہوئی ہے کہ مسلم آبادی نے ہندو بازاروں سے گوشت نہ لے جانے کے معاہدے کو توڑ ڈالا جو کئی سال سے نافذ العمل تھا۔ مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو تمام مقامات سے گوشت لے جانے کا حق حاصل ہے اور موجودہ فساد کے لیے وہ تحریک شدھی کو مورد الزام قرار دیتے ہیں۔‘‘ یہ بھی ہندوئوں کی مذہبی رواداری کی دلیل ہے۔ ہندوئوں کو تو یہ حق حاصل ہے کہ مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر گنیش جی کے جلوس کے باجے بجائیں لیکن مسلمانوں کا یہ حق بھی زائل ہے کہ گوشت لے کر گزریں بھی تو خاص خاص مقامات سے تاہم ہندو بڑے امن پرور ہیں اور مسلمان مفسد پرداز۔اسی کیسری کے صفحہ تین پر ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک اطلاع یوں درج ہے کہ:
’’الہ آباد کے پاس ہندوئوں اورمسلمانوں میںجو لڑائی ہوئی اس کی مزید تفصیل یہ معلوم ہوئی ہے کہ تھانہ نواب گنج کے ایک گائوں میںفساد ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دو گائیں ذبح کی جانی تھیں اور بقر عید کے روز فساد ہوتے ہوتے رہ گیا۔ دوسرے روز طعن آمیز گفتگو سے طرفین جوش میںآ گئے اور بعدمیں جو فساد ہوا اس میںدو مسلمان مارے گئے اور طرفین کے نصف درجن کے قریب آدمی مجروح ہوئے۔ سب ڈویڑنل افسرموقع پر پہنچ گئے۔ گائیں جو باعث فساد تھیں وہ پولیس کی نگرانی میں الہ آباد لائی گئیں‘‘ ۔
اس اطلاع سے کیا ظاہر ہوتا ہے یہی نہیں کہ ہندوئوں نے فساد کیا۔ وہ خواہ مخواہ مسلمانوں کے ایک مذہبی شعار میں دخل انداز ہوئے۔ ہمیں حیرت ہے کہ صبح سے شام تک چھائونیوں میں گوروں کے لیے گائیں ذبح ہوتی ہیں لیکن اس وقت کسی ہندو کے دل میں ’’گئو ماتا‘‘کی حفاظت کاجذبہ موجزن نہیں ہوتا۔ جو فوجی گورے عیدالاضحی کے دن مختلف مقامات میں فسادات کو روکنے کے لیے متعین تھے وہ وہاں بیٹھے بھی یقینا گائے کاگوشت کھا رہے تھے تاہم کسی ہندو کو یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ ’’گئو ماتا‘‘کی توہین ہو رہی ہے۔ جب مسلمانوں کا مذہبی تہوار آتا ہے تو یکایک خواب غفلت سے بیدار ہو جاتے ہیں اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ گئو ماتا کو بچائے۔ پھر وہ ہر مقام پر دراز دستیوں سے کام لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد انہیں دعویٰ ہے کہ ہم بڑے امن پرست ہیں فساد صرف مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔
ابھی کل کا واقعہ ہے کہ لاہور میں ایک باہر سے آیا ہوا ہندو نوجوان بہ طیب خاطر مسلمان ہو گیا۔ جس مسلمان کے ذریعہ وہ مولوی صاحب کے پاس پہنچا وہ ایک ہندو کے پاس غالباً سلائی کا کام کرتاہے۔ جب اس ہندوکو معلوم ہوا تو اس نے مسلمان کو مارا پیٹا، نہایت اشتعال انگیز فحش کلامی کی اور اس کی مشین چھین لی۔ محلہ کے تمام ہندوئوں نے اسے حد سے زیادہ برا بھلا کہا۔ حسن اتفاق سے اس معاملہ کا ذمہ دار اصحاب کو علم ہو گیا اور انہوں نے سمجھا بجھا کر اسے رفع کرا دیا۔
ہم نے عمداً اس محلہ کا نام، مسلمان ہونے والے ہندو کا نام اور ہندو اشخاص کے نام نظرانداز کر دیئے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو انہیںپیش کر دیں گے۔ جس شخص کا جی چاہے آ کر اس واقعہ کی تصدیق کر لے۔ یہ عام ہندوئوں کے خیالات کا ایک معمولی سا خاکہ ہے۔ تاہم وہ اپنے آپ کو بڑے مذہبی روادار، بڑے امن دوست اور بڑے متحمل مزاج سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کومفسد بتلاتے ہیں۔ یہ صرف چند واقعات ہیں اور اس قسم کی صدہا مثالیں روزانہ ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔
انہیں پانچ روز تک اپنے پاس سے کھلاتا پلاتا رہا، مفسدین کو فساد سے روکنے کے لیے ادھر ادھر دوڑا بھاگا پھرتا رہا، مجالس خلافت سے استدعائیں کیں غرضے کہ فساد کو روکنے کے لیے ہر وہ کوشش کی جو اس کے امکان میں تھی، ایسے شخص کو پولیس نے باغی قرار دے کر اس پر مقدمہ چلادیا اور حق و انصاف، شرافت یا انسانیت کا کوئی خفیف سا خفیف جذبہ بھی اسے اس شرمناک دروغ بافی سے روک نہیں سکا۔ محمد حاجی کی یہ خوش قسمتی سمجھئے کہ اسے چند شریف ا?دمی مل گئے جنہوں نے نہایت شد و مد کے ساتھ اس کی تائید میںشہادتیں دیں اور پولیس کے ایک ایک الزام کو غلط ثابت کر دیا۔ کیا معلوم اس وقت کتنے بدنصیب و ستم رسیدہ ماپلے اسی نوع کی غلط بیانیوں اور کذب سرائیوں کا شکار بنے ہوئے قیدخانوں کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔ بلاشبہ ہنگامہ ملی بار میں بعض مفسدین نے قانون شکنی کا ارتکاب کیا بعینہ اسی طرح جس طرح چوری چورا کے مفسدین نے چوری چورا میں یا ہندوئوں کی ایک کثیر جماعت نے ا?رہ، شاہ ا?باد اور اجودھیا وغیرہ میں یا بعض مسلمانوں نے محرم کے روز ملتان میں۔ ہمیں اس سے بھی انکار نہیں کہ ملی بار کا ہنگامہ نہایت افسوسناک تھا لیکن جو مضمون ا?ج کی اشاعت میں درج ہے صرف اسی سے یہ حقیقت آفتاب جہاں تاب کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ اس ہنگامہ کے حقیقی واقعات کو ہر شخص نے اپنی اغراض کی خاطر کچھ کا کچھ بنا دیا۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...