... loading ...
نومولود بچوں کے لئے اپنی ماں کے دودھ سے بڑھ کر مکمل اور بھرپور غذا کوئی نہیں ہو سکتی ہے ۔ ماں اور بچے کے درمیا ن جو ایک مضبوط تعلق اور رشتہ ہوتا ہے اس میں مزید اضافہ ماں کے دودھ سے ہوتا ہے ۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہتر ین غذا ہوتی ہے پیدائش کے ابتدائی چند دنوں میں فراہم ہونے والے اس قدرتی دودھ یا غذا اس لحاظ سے بھی منفرد اور فائدہ مند ہوتی ہے کہ اس میں مدافتی سفید خلیات ) White Blood Cells ( بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور اس بھر پور غذا میں پروٹین کی مقدار نارمل دودھ سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ جس سے بچے کے ہونے والی جسمانی نشوونما اور ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ بچے کی بھر پور نشوونما کے لئے جو ضروری امائنو ایسڈ درکار ہوتے ہیں وہ سب مناسب مقدار میں ماں کے دودھ میں موجود ہوتے ہیں ۔ ماں کے دودھ میں چکنائی زیادہ تر غیر سیرشدہ فیٹی ایسڈز پر مشتمل ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہو کر جزوبدن بن جاتی ہیں ۔ ماں کے دودھ میں موجود وٹامن A بچے کی آنکھوں کے لئے اور وٹامن D اس کی ہڈیوں کی نشوونما کے لئے بے حد ضروری ہوتے ہیں ۔
ماں کا دودھ جو کہ بچے کی بہترین غذا ہوتی ہے اس میں قدرتی غذائیت مناسب مقدار میں موجود ہوتی ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو ٹھیک طریقے سے پروان چڑھانے میں بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ماں کے دودھ ہر طرح کے جراثیم سے پاک غذا ہوتی ہے اس میں وہ تمام اجزاء مثلاََ پروٹین ، چکنائی اور نمکیات وغیرہ اس ترتیب سے موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق ماں کا دودھ بچوں کو مستقبل میں امراض قلب سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ تین ماہ یا اس سے زائد عرصے تک ماں کے دودھ پر پلنے والے بچوں میں درمیانی عمر میں ذیابطیس اور دیگر میٹابولزم سے متعلق امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ماں کے دودھ سے بچے کے خون میںسی ری ایکٹو (C-Reactive) پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے جو شریانوں کو نقصان پہچانے کا سبب بنتا ہے ۔
ماں کا دودھ پینے والے نومولود بچوں میں الرجی کے امکانات دوسرے بچوں کی بہ نسبت سات گنا کم ہوتے ہیں ۔کیونکہ ماں کے دودھ میں الرجی کی مخصوص اینٹی باڈیز بہت زیادہ موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ بچے دمہ، اور دیگر الرجی کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ دودھ کا ایک مخصوص جزو آنتوں میں Lactive Acid پیدا کرتا ہے جو جراثیم کش ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے کے مقعد Anus ) ( کے اردگرد جلد کی خارش جسے Nappy Rash کہتے ہیں ، سے بچے محفوظ رہتے ہیں ۔
ماں کے دودھ میں موجود ڈ ا ئی سیکرائیڈ (Disacchride) فیکٹر کی خصوصیات کی وجہ سے دودھ نہ صرف منہ سے نہیں چپکتا ہے بلکہ جراثیم کی افزائش بھی نہیں ہونے دیتا ۔لہذا یہ بچے دانتوں ، گردن ، ناک اور کان کی بہت سے بیماریوں اور انفیکشن سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ایک ریسرچ کے مطابق ماں کے دودھ میں ایسے نشاستے موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بچے عمونیا، خون کے انفیکشن اور گردن توڑ بخار سے محفوظ رہتے ہیں ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ماں کے دودھ میں شوگر کے 200 اجزاء پائے جاتے ہیں جو بچے کی صحت کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں ۔ ماں کے دودھ میں موجود شوگر کے یہ اجزاء وقت اور دودھ پیتے بچے کی عمر کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی دودھ پینے کی عمر کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں ۔
ایک ریسرچ کے مطابق ماں کے دودھ پر پرورش پانے والے بچے ذہین اور پر اعتماد ہوتے ہیں ۔ میڈیکل ریسرچ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچے اپنے لڑکپن میں تعلیمی امتحانات میں د یگر دودھ استعمال کرنے والے اپنے سا تھیوں کے مقابلے میں زیادہ نمبر لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ ماں کی آ غوش میں نومولود بچے کو نہ صرف ذہنی آ سودگی اور سکون حاصل نہیں ہوتا ہے بلکہ ماں کے مثبت ہارمونز بھی اس کی صحت پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ اور یہ ماں اور بچے کے درمیان ایک مضبوط اور گہرے تعلق اور رشتے کی بنیاد بنتا ہے ۔
دورِ جدید کی اکثر ماڈرن مائوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ دودھ پلانے سے ان کی جسمانی خوبصورتی ماند پڑجاتی ہے جس کے باعث وہ نومولود بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کرتی ہیں ۔ جبکہ طبی و سائنسی تحقیق کے مطابق معاملہ اس کے با لکل برعکس ہے ۔ لہذا ایسا سوچنے سے بھی گریز کریں کیونکہ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کیلئے بے حد ضروری اور فائدہ مند ہے بلکہ مائوں کے جسم میں موجود زائد چربی اور کیلوریز بھی بچے میں منتقل کرنے کا باعث بنتا ہے اور مائوں کا وزن قدرتی طور پر برقرار رہتا ہے۔ جوخواتین چھ ماہ تک بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں ہر قسم کے کینسر سے موت کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ۔ جبکہ ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی 17 فیصد تک گھٹ جاتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق دودھ پلانے والی مائوں میں چھاتی کے سرطان کے ساتھ ساتھ بچہ دانی کے کینسر اور خون کی کمی جیسے امراض کا خطرہ بھی بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے دودھ پلانے کے دوران اچھے اور مثبت ہارمونز خارج ہوتے ہیں جس سے مائوں میں ڈپریشن ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ مائیں جواپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ان میں مینو پاز(Meno Pause) کے بعد او سیٹو پو رو سس کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اس دوران اس کے جسم میں کیلشیم زیادہ مناسب طریقے سے جذ ب ہو رہا ہوتا ہے ۔ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں اچانک موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق دودھ پینے والے بچوں میں ویکسین کے لئے ایک بہتر اینٹی باڈی ر سپا نس موجود ہوتا ہے ۔
ماں کے دودھ پر پلنے والے بچوں میں دیگر بچوں کے مقابلے میں موٹاپے کی شرح کم ہوتی ہے ۔ریسرچ کے مطابق ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں موٹاپے کی شرح 15 سے 30 فیصد کم ہوتی ہے ۔جس کی وجہ مختلف فائدہ مند بیکٹیریا ہو سکتے ہیں جو چربی کو اسٹور نہیں ہونے دیتے ہیں ۔
پاکستان میں ہر سال تقریباََ پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کا ایک تہائی حصہ بلواسطہ یا بلاواسطہ غذائی قلت کے باعث انتقال پا جاتا ہے جس میں سے تقریباََ دو تہائی بچے ماں کے دودھ کے نامناسب طریقوں کی بناء پر یا غیر فراہمی کی وجہ سے پیدائش کے ابتدائی سال میں ہی موت کی آغوش میں سو جاتے ہیں ۔ پاکستان میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح تقریباََ 38 فیصد ہے جو انتہائی تشویشناک صوتحال ہے ۔ مناسب اور موزوں ماں کا دودھ ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی زندگی کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے جس میں تمام غذائی ضروریات جو
ا ن کی نشوونما کے لئے لازم ہیں ایک خاص مقدار میں موجود ہوتے ہیں ۔اور یہ انہیں مختلف بیماریوں سے بھی بچانے کے ساتھ ساتھ ماں اور بچے کے درمیان محبت کے رشتے کو بھی تقویت دیتا ہے ۔
اپنے بچے کوایک بہتر مستقبل ، اس کی بہتر نشوونما اور بیماریوں سے بچائوں کے لئے ہر بچے کو دنیا میں آنے کے بعد ایک صحت مند ماحول میں پروان چڑھنے کے تمام تر مواقع فراہم کریں تاکہ وہ ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ احسن طریقے سے سرانجام دے سکے اور ایک صحت مند زندگی کی طرف چلیں کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک صحت مند قوم کی بنیادہوتا ہے ۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...