... loading ...
دنیا بھر میں ہونے والے سائبر حملے کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رینسم ویئر کے مزید کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور تنظیم، ادارے، کمپنیوں اور عام لوگ کس طرح ان حملوں سے اپنے کمپیوٹروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ رینسم ویئر ایک ایسا پروگرام ہے جو کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دیتا ہے اور پھر بغیر تاوان ادا کیے صارف کی مشکل دور نہیں ہوتی۔ یورپی یونین کی پولیس کے مطابق رینسم ویئر کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن وانا کرائی وائرس کا یہ حملہ اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس وائرس نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔ رینسم ویئر وائرس کی کئی اقسام ہیں اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انھیں بھی نئی زندگی ملتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ برطانیا میں نیشنل ہیلتھ سروس کو یہ حملہ جھیلنا پڑا تھا لیکن اختتام ہفتہ پر برطانیا میں صحت کے شعبے سے منسلک ٹرسٹ کی مشینیں دوبارہ کام کرنے لگیں تاہم این ایچ ایس نے اب تک یہ معلومات نہیں دی ہیں کہ انہیں کیسے دوبارہ کارآمد بنایا گیا۔ تاوان طلب کرنے والا یہ وائرس بنانے والے افراد کے لیے بہت زیادہ منافع بخش ثابت نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے ہر متاثرہ مشین تک رسائی دینے کے لیے 300 بِٹ کوائنز کا مطالبہ کیا تھا اور جب بی بی سی نے ان کے ورچوئل بٹوے پر نظر ڈالی تو اس میں 30 ہزار بٹ کوائنز ہی جمع کروائے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تر متاثرین نے ہیکرز کو رقم ادا نہیں کی۔ وانا کرائی وائرس صرف ان کمپیوٹرز کو اپنا شکار بناتا ہے جو ونڈوز آپریٹنگ نظام استعمال کرتے ہیں۔
اگر آپ اپنی ونڈوز اپ ڈیٹ نہیں کرتے، ای میل کھولتے یا پڑھتے وقت احتیاط نہیں برتتے تو آپ کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ گھریلو صارفین کے کمپیوٹرز کے اس حملے کا شکار ہونے کے امکانات نسبتاً کم بتائے جاتے ہیں۔ آپ اپنا آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ کر کے، فائر والز اور اینٹی وائرس کا استعمال کر کے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آپ اپنے ڈیٹا کو باقاعدگی سے بیک اپ کریں تاکہ متاثر ہونے کی صورت میں آپ بغیر تاوان ادا کیے اپنے سسٹم کو اس کی مدد سے بحال کر سکیں۔ رینسم ویئر کا شکار ہونے والے افراد کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تاوان کی رقم دینے پر بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ آپ کی فائلز ان لاک ہو جائیں گی۔ اس رینسم ویئر کا نام وانا کرائی ہے۔ بظاہر اسے وارم نامی ایک کمپیوٹر وائرس کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے۔ دوسرے کمپیوٹر وائرسز کے برعکس وانا کرائی خود بخود ایک نیٹ ورک میں پھیل جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دیگر وائرس پھیلائو کے معاملے میں انسانوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ان میں کسی ای میل کے ذریعے لوگوں کو ایک لنک پر کلک کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔ ایک بار وانا کرائی آپ کے نیٹ ورک میں داخل ہو گیا تو وہ ایسی مشینوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے جنہیں شکار بنایا جا سکتا ہے۔ مارچ میں مائیکروسافٹ نے اپنے ونڈوز آپریٹنگ نظام کی وہ کمزوریاں دور کرنے کے لیے ایک مفت پیچ جاری کیا تھا جن سے رینسم ویئر فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
وانا کرائی ایسی ہی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کمزوری کی نشاندہی امریکا کی قومی سلامتی ایجنسی نے کی تھی۔ جب اس کمزوری کی تفصیلات افشا ہوئیں تو بہت سے سائبر ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ اس کا نتیجہ ایک نئے رینسم ویئر کی تیاری کی شکل میں نکل سکتا ہے اور ان کی یہ پیشنگوئی دو ماہ میں ہی درست ثابت ہوگئی۔ ابتدا میں خیال تھا کہ اس کا نشانہ بننے والے ونڈوز ایکس پی استعمال کر رہے تھے جو کہ ونڈوز کا پرانا آپریٹنگ نظام ہے تاہم سرے یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی کے ماہر ایل وڈورڈ نے کہا ہے کہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ایسے صارفین کی تعداد بہت کم ہے۔ بڑی تنظیمیں اپنے آپریٹنگ نظام میں کوئی بھی سکیورٹی پیچ انسٹال کرنے سے قبل اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ وہ ان کے موجودہ نیٹ ورک سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں اور یہی ان کے انسٹال کیے جانے میں تاخیر کی وجہ بنتی ہے۔ فی الحال اس بارے میں مصدقہ معلومات موجود نہیں لیکن کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ کوئی انتہائی پیچیدہ سافٹ ویئر نہیں ہے۔ وہ کِل سوئچ جس سے اس کا پھیلائو روکا گیا، اسے سائبر سکیورٹی کے ایک محقق نے اچانک ہی دریافت کیا اور ممکنہ طور پر اس کا مقصد پکڑے جانے پر وائرس کا کام بند کر دینا تھا۔ سائبر مجرموں کے لیے رینسم ویئر ایک پسندیدہ ہتھیار ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ تیزی سے رقم کما سکتے ہیں اور بٹ کوائن جیسی ورچوئل کرنسی کی وجہ سے سکیورٹی ایجنسیوں کا ان تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے. اگرچہ یہ بات تھوڑی غیر معمولی ضرور لگتی ہے کہ مجرموں کا ایک گینگ تاوان جمع کرنے کے لیے بٹ کوائن کے بٹو ے استعمال کر رہا ہے تاہم جتنے زیادہ بٹو ے استعمال کیے جائیں گے اتنا ہی اس گروپ کو ڈھونڈنا مشکل ہوتا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...