وجود

... loading ...

وجود

آج ہوگاکراچی میں کرکٹ کادھمال

اتوار 25 مارچ 2018 آج ہوگاکراچی میں کرکٹ کادھمال

کراچی میں نوسال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل چکے ہیں آج پاکستان سپرلیگ تھری کے فائنل کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔سندھ حکومت اوربلدیہ عظمی کراچی نے شبانہ روزمحنت سے نیشنل اسٹیڈیم اوراس کی اطراف کی سڑکو ں کودلہن کی طرح سجادیاہے ۔سڑکوں پربرقی قمقموں کی بہارنظرآرہی ہے جبکہ پاکستان سپرلیگ میں شامل کھلاڑیوں کے قدآد م ہورڈنگ اورسائن بورڈبھی آویزاں کیے گئے ہیں ۔اسٹیڈیم کی مرکزی عمارت جوپہلے سفید رنگ کی تھی اب اسے زردرنگ میں رنگ دیاگیاہے۔کراچی میں پی ایس ایل فائنل کے دھمال کے لیے پشاورزلمی اوراسلام آبادیونائیٹڈنے ہفتے کے روزجم کرپریکٹس کی ۔دوسری جانب اہالیان کراچی بھی فائنل کے حوالے سے خاصے پرجوش ہیں ۔شہرمیں دونوں فائنلسٹ ٹیموں کے رنگوں سے مزین ٹی شرٹیں ریکارڈتعدادمیں فروخت ہورہی ہیں ۔اس کے علاوہ کراچی کنگزکی شکست کے باوجودلوگ کراچی کنگزکی ٹی شرٹیں بھی خرید رہے ہیں۔

دودن قبل پی ایس ایل کے میچوں کی بدولت لاہور میں کرکٹ کا جنون عروج پر رہا۔ لاہوریئے ا سٹیڈیم کے اندر اور باہر میچوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوتے رہے، دوسرے میچ میں تیز بارش کی وجہ سے گراؤنڈ میں پانی بھر گیا تھا جسے ہنگامی طور پر نکال کر گراؤنڈ کو کھیل کے قابل بنایا گیا اور میچ16، 16 اوورز تک محدود کرنا پڑا۔ شہری طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے کہ پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان کے اندر ہی کرائے جائیں لیکن اس میں کلّی نہیں جزوی کامیابی ہوئی، دو پلے آف میچ لاہور میں ہوئے اور فائنل کراچی میں ہوگا تاہم سالِ رواں کے تجربے کے بعد امید کرنی چاہئے کہ پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن میں اگر تمام نہیں تو زیادہ سے زیادہ میچ پاکستان میں کرائے جائیں گے، یہ اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ ہے لیکن ٹیموں کے اندر چونکہ غیر ملکی کھلاڑی بھی ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس لیے میچ یو اے ای میں کرانے پڑتے ہیں۔ وہاں بھی چونکہ پاکستانی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس لیے شارجہ ہو یا دبئی، گراؤنڈ پاکستانی شائقین سے بھرے رہتے ہیں۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی، ان کے ساتھیوں، پی ایس ایل اور شریک کھلاڑیوں کو یہ کریڈٹ بہرحال جاتا ہے کہ ان کی مساعی کی بدولت پاکستان میں کرکٹ واپس آ گئی ہے، غیر ملکی ٹیموں کے خدشات بھی دور ہو رہے ہیں، ورلڈ الیون گزشتہ برس لاہور میں میچ کھیل چکی ہے، اس سے پہلے زمبابوے کی ٹیم بھی پاکستان میں کھیل کر جا چکی ہے تاہم جو ٹیمیں کسی وجہ سے اب بھی تحفظات رکھتی ہیں۔ پی ایس ایل کے موجودہ میچوں کے بعد ان کے تحفظات بھی دور ہو جانے چاہئیں۔ وہ غیر ملکی کھلاڑی اور کرکٹ پر رواں تبصرہ کرنے والے مبصرین جو لاہور میں شہریوں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے، ان کے چشم دید مشاہدات نے انہیں باور کرایا کہ پاکستان پرامن ملک اور پاکستانی امن پسند شہری ہیں، اگر چند دہشت گرد کسی شہر میں دہشت گردی کرتے ہیں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دہشت گردی نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، یہ اِکا دْکا واقعات نہ تو پاکستانیوں کی معمول کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور نہ ہی شہروں کی مجموعی فضا ان واقعات سے مکدّر ہوتی ہے، زندگی کا پہیہ بالکل اسی طرح رواں دواں رہتا ہے جس طرح دنیا کے دوسرے ملکوں میں ہے۔

ا گر دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں کوئی دہشت گرد یا سر پھرا کسی کلب میں گھس کر یا بچوں کے کسی ا سکول میں اندھا دھند فائرنگ کرکے درجنوں لوگوں کو خون میں نہلا دیتا ہے یا کسی دوسری جگہ کوئی ایک یا چند لوگ کوئی ایسی واردات کر دیتے ہیں جو دہشت گردی کی ذیل میں آتی ہو تو کیا اس ملک میں کھیلوں کی ساری سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں اور زندگی کے معمولات کو بریک لگ جاتی ہے، اگر کسی سکول میں پچاس لوگوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا یا کسی نائٹ کلب میں بیٹھے بے فکروں پر کسی ابنارمل شخص نے فائر کھول دیا تو اس کے بعد جس طرح زندگی وہاں رواں دواں رہتی ہے اسی طرح پاکستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں پاکستانیوں کے حوصلے نہیں توڑ سکتیں۔ بعض غیر ملکی کھلاڑی اگر اس طرح کی وارداتوں سے یہ تاثر لیتے ہیں کہ وہ یہاں غیر محفوظ ہیں، اس لیے انہیں یہاں آ کر نہیں کھیلنا چاہتے تو وہ درست نتیجے پر نہیں پہنچتے۔ اس کی گواہی پی ایس ایل کے دو روزہ میچ دیتے ہیں جن کا انعقاد پرامن ہوا اور اہلِ لاہور نے نہ صرف ان میں بھرپور شرکت کی بلکہ کھلاڑیوں کو دل کھول کر داد بھی دی۔

یہی صورت حال اب کراچی میں بھی نظرآرہی ہے ۔شہرقائد کے باسی کرکٹ کے اس تاریخی میچ سے لطف اندوزہونے کے لیے پوری طرح تیارہے ۔ ہرجانب جوش پایاجارہاہے اہم مقامات پربڑ ی اسکرینیں بھی لگادی گئیں تاکہ جولوگ ٹکٹ کے حصول سے محروم ر ہ گئے وہ میچ دیکھ سکیں ۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر