وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

انور شعور

اتوار 25 مارچ 2018 انور شعور

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اِن کی شہرت کا سبب یہی عمدہ شاعری ہے۔ اِن کا شمار پاکستان کے نمائندہ سخن وروں میں ہوتا ہے۔ اِن کے اشعار کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سنتے ہی دل میں اُتر جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

اچّھا خاصا بیٹھے بیٹھے گُم ہو جاتا ہوں
اب مَیں اکثر مَیں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
٭٭٭
دل کی کلی کِھلے کئی موسم گزر گئے
اُس لب سے لب مِلے کئی موسم گزر گئے
٭٭٭
دُکھ ہے تو آپ سے ہے ، دَوا ہے تو آپ سے
اب زندگی میں کوئی مزا ہے تو آپ سے

انور شعورؔ نے غزل کے پیکر میں نہ صرف اپنے تجربات و مشاہدات کے حسین رنگ بھر دئیے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے جذبات (غصہ، پیار، نفرت، ڈر اور خوف) کی شدت کو بھی غزل کا حصہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے بار بار اپنے آپ کو دریافت کرنے کے عمل سے گزارا ہے۔ ہم ان کی شاعری میں ان کو شدت پسند پاتے ہیں یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں کسی کا انتظار کرنے کا نقشہ کھینچتے ہیں تو خود کو اس قدر مضطرب و بے چین پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کا اضطراب و اضمحلال تصویر بن کر آجاتا ہے۔ اگر انہوں نے کسی کی دید کا ذکر کیا ہے تو اسے عمومی یا سرسری طور پر نہیں لیا بلکہ محب عارفی کا یہ شعر ان کی ہر بار اور ہر نظر کی دید پر صادق آتا ہے:

کل میں نے محب اس کو عجب طور سے دیکھا
آنکھوں نے تو کم دل نے بہت غور سے دیکھا

انور شعورؔ اگر محبوب کی بے وفائی کا ذکر کرتے ہیں تو اس قدر دعویٰ اور دلیل سے کام لیتے ہیں کہ سننے، پڑھنے اور سمجھنے والے لا جواب ہو کر رہ جاتے ہیں، انہیں کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ ملاحظہ ہو:

نہ بیتتی تھی کبھی جس کی چاند رات اُس کی
سہاگ رات ہمارے بغیر بیت گئی

وہ اپنی عاشقی، وابستگی، پیار و محبت کا بیان دیتے ہیں تو خیال کو اس قدر سجا کا پیش کرتے ہیں کہ نیا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں تخیل کی بلند پروازی اور خیال کی ندرت آپ اپنا جواب ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِس تعلّق میں کہاں ممکن طلاق
یہ محبت ہے، کوئی شادی نہیں

انسان سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو دریافت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ دریافت مکمل ہو سکے۔ انور شعورؔ کا کلام پڑھ کر ہم انہیں باآسانی دریافت کرلیتے ہیں۔ وہ نرم لہجے کے شاعر ہیں، بات کو بہت سلیس، سادگی اور سہل انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عام فہم بات کرنے کا فن جانتے ہیں، ان کو اپنی بات مؤثر بنانے کا ہنر بھی بہ خوبی آتا ہے۔ وہ عام سی بات کو اس طرح منظوم کرتے ہیں کہ بہت بڑی معلوم ہوتی ہے اور بہت بڑی بات کو اس سادگی اور سہل انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ سننے والا اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
تم اک مرتبہ کیا دکھائی دئیے
مرا کام ہی دیکھنا ہو گیا
٭٭٭
جو نہ آیا کبھی دو چار گھڑی کی خاطر
زندگی ہم نے گزاری ہے اُسی کی خاطر
٭٭٭
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تو دفعتہ
اک سنسنی سی دوڑ گئی جسم و جان میں
انور شعورؔ کو جدید غزل کہنے والوں کی فہرست میں شامل کرنے کا میرا مقصد یہ کہنا نہیں ہے کہ وہ سب سے الگ تھلگ اپنا شعری راستہ چل رہے ہیں، وہ تو انسانوں کے درمیان رہ کر، اس معاشرے و سماج سے وابستہ ہو کر، اپنے اِرد گرد کے ماحول و فضا کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی رویوں کو لکھ رہے ہیں۔ زندگی کے اُتار چڑھائو، نشیب و فراز میں پیش آنے والے تلخ و شیریں تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ عمیق مشاہدات کو اس عمدگی سے پینٹ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ وہ انسان کے بدلتے ہوئے رویوں اور کردار کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانوں نے اپنے چہروں پر کیسے کیسے چہرے سجا رکھے ہیں، ان کے اشعار انہیں بے نقاب کرتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کرب و الم، تنہائی، زمانے کی بے اعتنائی، یاروں کی بے وفائی، محبوب تک نارسائی، ہجر و فراق کے دکھ، انتظار کے کرب اور حالات کی ستم ظریفی کو اشعار میں ڈھال رہے ہیں۔ انہیں انسانی قدر و قیمت کی ارزانی، اس کی بے وقعت ہوتی زندگی کا دکھ بے چین کیے دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ان تمام محسوسات اور نازک احساسات کو اپنی شاعری میں سمو دیا ہے۔ ان کے اظہار میں بڑی فن کاری، ہنر مندی اور چابک دستی سے کام لیا ہے تبھی قارئینِ شعر و سخن ان کے کلام کے گرویدہ ہیں اور سامعینِ محافلِ مشاعرہ ان کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار برجستہ، پُرمعانی اور مضمون و احساس آفرینی لیے ہوئے ہیں جن کی نثر کی جائے تو شعر ہی کی صورت قائم رہتی ہے۔ اسی کو سہلِ ممتنع کہتے ہیں اور انور شعورؔ کی شاعری کی پہچان یہی ہے، اسی پہچان سے ان کی انفرادیت قائم ہوئی ہے اور اسی طرزِ نگارش نے انہیں صاحب اُسلوب شاعر بنا دیا ہے۔ ان کے اشعار کو ان کے نام کے بغیر بھی پڑھا جائے تو پہچان لیے جاتے ہیں کہ یہ اشعار انور شعورؔ کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے نہیں ہو سکتے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
صرف اُس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
٭٭٭
ایک آواز پہ آ جائوں گا
جیسی حالت میں بیٹھا ہوں
٭٭٭
کچھ بھی مری آنکھوں کو سُجھائی نہیں دیتا
جب سے تجھے دیکھا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
٭٭٭
اب آ گئے ہو تو کچھ دیر دیکھ لینے دو
کبھی کبھی تو یہ چہرہ دِکھائی دیتا ہے
٭٭٭
یہ جانتے ہوئے بھی گزاری ہے زندگی
ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی
پاکستان میں سہلِ ممتنع کہنے والوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہے۔ ناصرؔ کاظمی اور جونؔ ایلیا کے بعد اس میدان میں انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر اور نمایاں ہے۔ اب تو سہلِ ممتنع اور انور شعورؔ لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔
انور شعورؔ کا شعری سفر اور سہلِ ممتنع کے تجربات روز بہ روز ارتقائی منازل طے کر رہے ہیں۔ ان کے قارئین اور چاہنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی غزل کے چار مجموعے’’ کلیاتِ انور شعورؔ‘‘ میں یک جا شائع ہو گئے ہیں اور پانچ واں شعری مجموعہ’’آتے ہیں غیب سے‘‘حال ہی میں شایع ہواہے ،اس کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار’’ روزنامہ جنگ ‘‘میں حالاتِ حاضرہ پر لکھے گئے ان کے ہزاروں قطعات بھی سہلِ ممتنع کی عمدہ مثالیں ہیں اور ان کے قارئین بھی لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو انور شعورؔ کے فین ہیں اور پھر ان کے اشعار پورے دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ اہلِ ادب ان کے نمائندے اشعار کو اپنی تحریروں، تقریروں اور گفتگو میں برمحل استعمال کرتے ہوئے امثال میں پیش کرتے ہیں۔ کوئی شعری انتخاب یا کنزالاشعار ایسا نہیں جس میں انور شعورؔ کے اشعار و غزلیات کو منتخب نہ کیا گیا ہو، ان کو بہترین اور دل موہ لینے والی شاعری کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند کے علاوہ یورپ کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں مدعو کیا جاتا ہے اور وہ اہلِ ادب کی صحبتیں، داد و تحسین کی دولتیں، چاہنے والوں کی محبتیں، ہم عصروں کی رفاقتیں اور عز و شرف کے خزانے سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ گمان یقین میں بدل سکتا ہے کہ انور شعورؔ کی شہرت کا گراف اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ سہلِ ممتنع کے نمائندہ شاعر قرار دے دیئے جائیں گے۔ انور شعورؔ جس دیانت و خلوص اور محنت و ریاضت، لگن و جستجو سے شعر کہہ رہے ہیں وہ ناقابلِ فراموش اور قابلِ صد ستائش ہے۔ ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ پتھر پر لکیر کی مثال ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کی لکیر کو مٹایا نہیں جا سکتا اسی طرح انور شعورؔ کے کلام کی صفات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کے نام اور تخلیقی کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انور شعورؔ نے اُردو غزل کو روایت سے بھی جڑے رکھا ہوا ہے اور اس میں نت نئے رنگ بھر کر مختلف زاویوں سے طبع آزمائی اور خیالات کو ندرت سے پیش کر کے جدید بنا دیا ہے۔ وہ گل و بلبل، دشت و گلزار اور لب و رخسار کے قصے بھی بیان کرتے ہیں مگر ان کی شاعری کے آئینے میں یہ تمام تصویریں جوانی اوڑھے نظر آتی ہیں۔ ان کا معنوی حسن جوبن پر ہوتا ہے ۔ وہ عمدہ الفاظ کے استعمال، نئی نئی تراکیب اور عام فہم جملوں کے چنائو سے کلام میں جو روانی اور سلاست پیدا کرتے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے۔ ان کی عام فہم بول چال کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ ان کے ہاں شعریت ہوتی ہے ،لفّاظی نہیں ملتی، ان کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہی ان کا طرئہ امتیاز ہے جس کا ابلاغ ہر عمر اور ہر ذہن کے قاری تک بہ آسانی ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر کے کلام کی یہ خوبی اسے اس کے ہم عصروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے اور اس کے لیے انفرادیت کا نشانِ عظمت بنتی ہے۔حسرت ؔکا یہ شعر دراصل ان کی شاعری پر صادق آتا ہے:
شعر دراصل وہی ہیں حسرتؔ
جو سنتے ہی دل میں اُتر جائیں
انور شعورؔ شاعری کرتے وقت شعر کی فضا میں کھو جاتے ہیں، اس کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں، وہ شعر کی وادیوں میں اُتر کر اس کے حسن کو اپنا لیتے ہیں انور شعورؔ کے کلام کو پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ اُن شعرا میں سے نہیں ہیں جو شاعری کو اپناتے ہیں بلکہ ان کا تعلق ان سخن وروں سے ہے جن پر شاعری کی دیوی نہایت مہربان ہو جاتی ہے اور شاعری جن کو اپنا لیتی ہے۔ شاعری نے جب سے انور شعورؔ کو اپنا بنا لیا ہے، تب سے وہ بھی شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش دلی سے جیون بسر کر رہے ہیں۔ چند مثالیں اور ملاحظہ ہوں:
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
٭٭٭
میری صورت اُنھیں پسند نہیں
کیا یہ میرا قصور ہے کوئی
٭٭٭
پڑے پڑے مجھے آتا ہے یہ خیال شعورؔ
نہیں ہے کیا مرا کمرہ مکان میں شامل
٭٭٭
اے روشنی کے شہر! ترا وہ مکیں ہُوں میں
جس کے مکاں میں ایک دیا بھی نہ آ سکا
زہے نصیب رنگِ ادب پبلی کیشنز،کراچی نے ایسے عبقری، بڑے اور نمائندہ شاعر کی کلّیات شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔ کلّیاتِ انور شعورؔ میں ان کی غزلوں کے چار مجموعے ’’اندوختہ‘‘، ’’مشقِ سخن‘‘، ’’می رقصم‘‘ اور ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ شامل ہیں جو، نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے بلکہ بہت جلد اُن کے ایڈیشن فروخت بھی ہو گئے۔ خوشی و اطمینان کی بات ہے کہ انور شعورؔ کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جن کی کتابیں قارئینِ شعر و ادب خرید کر پڑھتے ہیں۔
میری خواہش تھی کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لا کربہ حیثیت پبلشرز کلّیاتِ انورشعور کاخوب صورت، دیدہ زیب اور ناقابلِ فراموش ایڈیشن شائع کروں۔ الحمدللہ میں اس کوشش میں بڑی حد تک کام یاب ہوا ہوںجس کے کریڈٹ میں مجھے ان کی غزلوں کا پانچ واں مجموعہ شایع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔


متعلقہ خبریں


کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ہاؤس کی عدلیہ کمیٹی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دفعات وضع اور مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیلوسی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو مو...

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں او...

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہْک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک خصوصی گفتگومیں بتایاکہ اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کیا آغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش ا...

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حص...

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شدت پسند گروپ داعش یرغمال بنائے گئے لوگوں کو بے دردی اور بھیانک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے مشہور ہے مگر عراق اور شام میں اس گروپ کی شکست کے بعد لوگوں کو ذبح کرنے یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کے واقعات تقریبا ختم ہوگئے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق داعش نے ایک بارپھر قیدیوں کو ذبح کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک سلسلہ شروع کردیا ۔لیبیا میں داعش سے وابستہ گروپ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سرکاری ملازمین اور دیگر یرغمال بنائے گئے افراد کو بے دردی کے ساتھ موت ...

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شمال مشرقی چین میں ہیشان کاؤنٹی کی رہائشی 15 سالہ نوجوان لڑکی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ دکھنے میں ایک بوڑھی خاتون کی طرح نظر آتی ہے اور اس بیماری نے اس کے روز مرہ معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق 15سالہ چینی لڑکی ایک سال کی عمر سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نام ہٹچنسن گلفورڈ پروگیرہ سینڈروم ہے اور یہ بیماری بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق شیاؤ فینگ نامی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے اس کے چہرے پر جھریاں ...

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

ہواوے کو امریکی آلات اوراپیس کے استعمال سے روک دیا گیا وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

ہواوے کو اپنے فلیگ شپ فون میٹ 30 میں گوگل اینڈرائیڈ سسٹم، گوگل سروسز اور ایپس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کیا جانا ہے (اب وہ اینڈرائیڈ کا اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم استعمال کررہی ہے)، مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ صرف سافٹ وئیر تک ہی محدود نہیں۔درحقیقت میٹ 30 سیریز کے فونز میں کسی بھی قسم کے امریکی ساختہ پرزہ جات کا استعمال نہیں ہوا۔یہ بات امریکی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ،رپورٹ میں یو بی ایس اور جاپانی ٹیکنالو...

ہواوے کو امریکی آلات اوراپیس کے استعمال سے روک دیا گیا

چین کی ایغوروں کے خلاف زیادتی،امریکی کانگریس میں بل منظور وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے چین میں ایغور مسلمانوں کی نظر بندی، جبری سلوک اور ہراسانی کے خلاف ایک قانون کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔اویغور ہیومن رائٹس پالیسی ایکٹ 2019 نامی اس مسودہ قانون کے حق میں 407 جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ ڈالا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق منظور کیے جانے والے اس بل میں چینی حکومت کے ارکان اور خاص طور پر چین کے خودمختار صوبے سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری چین چوانگؤ پر ہدف بنا کر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس مسودہ قانون کو اب امریکی سینیٹ اور...

چین کی ایغوروں کے خلاف زیادتی،امریکی کانگریس میں بل منظور

ناسا نے چاند پر بھارتی لینڈر کا ملبہ تلاش کر لیا،تصاویر بھی جاری وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر ناکام ہو جانے والے بھارتی مشن چندرریان میں استعمال کی گئی چاند گاڑی کا ملبہ ڈھونڈ لیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی مشن میں استعمال ہونے والے لینڈر کا نام وکرم تھا۔ وکرم نامی گاڑی چاند پر اترنے سے کچھ ہی دیر قبل تباہ ہو گئی تھی۔ناسا نے بھارتی لینڈر کے ملبے کی تصاویر جاری کر دیں۔ یہ ملبہ کئی کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی خلائی ادارہ اپنی چاند گاڑی کو ایک ایسے علاقے میں اتارنے کی کوشش میں تھا جو ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔

ناسا نے چاند پر بھارتی لینڈر کا ملبہ تلاش کر لیا،تصاویر بھی جاری

ٹک ٹاک پر صارفین کا ڈیٹا جمع کرکے چین بھیجنے کا الزام وجود - جمعرات 05 دسمبر 2019

چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی زیرملکیت ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرکے چین بھیج رہی ہے۔یہ الزام امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کی فیڈرل کورٹ میں دائر مقدمے میں عائد کیا گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقدمے میں چینی کمپنی پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ صارفین کے مواد جیسے ڈرافٹ ویڈیوز کو بھی اپنے پاس محفوظ کرلیتی ہے جبکہ اس کی پرائیویسی پالیسیاں مبہم ہیں۔درخواست کے مطابق مبہم پرائیویسی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ خدشہ ابھرتا ہے کہ ٹک ٹاک کو امری...

ٹک ٹاک پر صارفین کا ڈیٹا جمع کرکے چین بھیجنے کا الزام