وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

انور شعور

اتوار 25 مارچ 2018 انور شعور

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اِن کی شہرت کا سبب یہی عمدہ شاعری ہے۔ اِن کا شمار پاکستان کے نمائندہ سخن وروں میں ہوتا ہے۔ اِن کے اشعار کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سنتے ہی دل میں اُتر جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

اچّھا خاصا بیٹھے بیٹھے گُم ہو جاتا ہوں
اب مَیں اکثر مَیں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
٭٭٭
دل کی کلی کِھلے کئی موسم گزر گئے
اُس لب سے لب مِلے کئی موسم گزر گئے
٭٭٭
دُکھ ہے تو آپ سے ہے ، دَوا ہے تو آپ سے
اب زندگی میں کوئی مزا ہے تو آپ سے

انور شعورؔ نے غزل کے پیکر میں نہ صرف اپنے تجربات و مشاہدات کے حسین رنگ بھر دئیے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے جذبات (غصہ، پیار، نفرت، ڈر اور خوف) کی شدت کو بھی غزل کا حصہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے بار بار اپنے آپ کو دریافت کرنے کے عمل سے گزارا ہے۔ ہم ان کی شاعری میں ان کو شدت پسند پاتے ہیں یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں کسی کا انتظار کرنے کا نقشہ کھینچتے ہیں تو خود کو اس قدر مضطرب و بے چین پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کا اضطراب و اضمحلال تصویر بن کر آجاتا ہے۔ اگر انہوں نے کسی کی دید کا ذکر کیا ہے تو اسے عمومی یا سرسری طور پر نہیں لیا بلکہ محب عارفی کا یہ شعر ان کی ہر بار اور ہر نظر کی دید پر صادق آتا ہے:

کل میں نے محب اس کو عجب طور سے دیکھا
آنکھوں نے تو کم دل نے بہت غور سے دیکھا

انور شعورؔ اگر محبوب کی بے وفائی کا ذکر کرتے ہیں تو اس قدر دعویٰ اور دلیل سے کام لیتے ہیں کہ سننے، پڑھنے اور سمجھنے والے لا جواب ہو کر رہ جاتے ہیں، انہیں کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ ملاحظہ ہو:

نہ بیتتی تھی کبھی جس کی چاند رات اُس کی
سہاگ رات ہمارے بغیر بیت گئی

وہ اپنی عاشقی، وابستگی، پیار و محبت کا بیان دیتے ہیں تو خیال کو اس قدر سجا کا پیش کرتے ہیں کہ نیا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں تخیل کی بلند پروازی اور خیال کی ندرت آپ اپنا جواب ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِس تعلّق میں کہاں ممکن طلاق
یہ محبت ہے، کوئی شادی نہیں

انسان سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو دریافت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ دریافت مکمل ہو سکے۔ انور شعورؔ کا کلام پڑھ کر ہم انہیں باآسانی دریافت کرلیتے ہیں۔ وہ نرم لہجے کے شاعر ہیں، بات کو بہت سلیس، سادگی اور سہل انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عام فہم بات کرنے کا فن جانتے ہیں، ان کو اپنی بات مؤثر بنانے کا ہنر بھی بہ خوبی آتا ہے۔ وہ عام سی بات کو اس طرح منظوم کرتے ہیں کہ بہت بڑی معلوم ہوتی ہے اور بہت بڑی بات کو اس سادگی اور سہل انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ سننے والا اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
تم اک مرتبہ کیا دکھائی دئیے
مرا کام ہی دیکھنا ہو گیا
٭٭٭
جو نہ آیا کبھی دو چار گھڑی کی خاطر
زندگی ہم نے گزاری ہے اُسی کی خاطر
٭٭٭
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تو دفعتہ
اک سنسنی سی دوڑ گئی جسم و جان میں
انور شعورؔ کو جدید غزل کہنے والوں کی فہرست میں شامل کرنے کا میرا مقصد یہ کہنا نہیں ہے کہ وہ سب سے الگ تھلگ اپنا شعری راستہ چل رہے ہیں، وہ تو انسانوں کے درمیان رہ کر، اس معاشرے و سماج سے وابستہ ہو کر، اپنے اِرد گرد کے ماحول و فضا کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی رویوں کو لکھ رہے ہیں۔ زندگی کے اُتار چڑھائو، نشیب و فراز میں پیش آنے والے تلخ و شیریں تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ عمیق مشاہدات کو اس عمدگی سے پینٹ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ وہ انسان کے بدلتے ہوئے رویوں اور کردار کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانوں نے اپنے چہروں پر کیسے کیسے چہرے سجا رکھے ہیں، ان کے اشعار انہیں بے نقاب کرتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کرب و الم، تنہائی، زمانے کی بے اعتنائی، یاروں کی بے وفائی، محبوب تک نارسائی، ہجر و فراق کے دکھ، انتظار کے کرب اور حالات کی ستم ظریفی کو اشعار میں ڈھال رہے ہیں۔ انہیں انسانی قدر و قیمت کی ارزانی، اس کی بے وقعت ہوتی زندگی کا دکھ بے چین کیے دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ان تمام محسوسات اور نازک احساسات کو اپنی شاعری میں سمو دیا ہے۔ ان کے اظہار میں بڑی فن کاری، ہنر مندی اور چابک دستی سے کام لیا ہے تبھی قارئینِ شعر و سخن ان کے کلام کے گرویدہ ہیں اور سامعینِ محافلِ مشاعرہ ان کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار برجستہ، پُرمعانی اور مضمون و احساس آفرینی لیے ہوئے ہیں جن کی نثر کی جائے تو شعر ہی کی صورت قائم رہتی ہے۔ اسی کو سہلِ ممتنع کہتے ہیں اور انور شعورؔ کی شاعری کی پہچان یہی ہے، اسی پہچان سے ان کی انفرادیت قائم ہوئی ہے اور اسی طرزِ نگارش نے انہیں صاحب اُسلوب شاعر بنا دیا ہے۔ ان کے اشعار کو ان کے نام کے بغیر بھی پڑھا جائے تو پہچان لیے جاتے ہیں کہ یہ اشعار انور شعورؔ کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے نہیں ہو سکتے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
صرف اُس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
٭٭٭
ایک آواز پہ آ جائوں گا
جیسی حالت میں بیٹھا ہوں
٭٭٭
کچھ بھی مری آنکھوں کو سُجھائی نہیں دیتا
جب سے تجھے دیکھا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
٭٭٭
اب آ گئے ہو تو کچھ دیر دیکھ لینے دو
کبھی کبھی تو یہ چہرہ دِکھائی دیتا ہے
٭٭٭
یہ جانتے ہوئے بھی گزاری ہے زندگی
ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی
پاکستان میں سہلِ ممتنع کہنے والوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہے۔ ناصرؔ کاظمی اور جونؔ ایلیا کے بعد اس میدان میں انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر اور نمایاں ہے۔ اب تو سہلِ ممتنع اور انور شعورؔ لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔
انور شعورؔ کا شعری سفر اور سہلِ ممتنع کے تجربات روز بہ روز ارتقائی منازل طے کر رہے ہیں۔ ان کے قارئین اور چاہنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی غزل کے چار مجموعے’’ کلیاتِ انور شعورؔ‘‘ میں یک جا شائع ہو گئے ہیں اور پانچ واں شعری مجموعہ’’آتے ہیں غیب سے‘‘حال ہی میں شایع ہواہے ،اس کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار’’ روزنامہ جنگ ‘‘میں حالاتِ حاضرہ پر لکھے گئے ان کے ہزاروں قطعات بھی سہلِ ممتنع کی عمدہ مثالیں ہیں اور ان کے قارئین بھی لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو انور شعورؔ کے فین ہیں اور پھر ان کے اشعار پورے دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ اہلِ ادب ان کے نمائندے اشعار کو اپنی تحریروں، تقریروں اور گفتگو میں برمحل استعمال کرتے ہوئے امثال میں پیش کرتے ہیں۔ کوئی شعری انتخاب یا کنزالاشعار ایسا نہیں جس میں انور شعورؔ کے اشعار و غزلیات کو منتخب نہ کیا گیا ہو، ان کو بہترین اور دل موہ لینے والی شاعری کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند کے علاوہ یورپ کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں مدعو کیا جاتا ہے اور وہ اہلِ ادب کی صحبتیں، داد و تحسین کی دولتیں، چاہنے والوں کی محبتیں، ہم عصروں کی رفاقتیں اور عز و شرف کے خزانے سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ گمان یقین میں بدل سکتا ہے کہ انور شعورؔ کی شہرت کا گراف اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ سہلِ ممتنع کے نمائندہ شاعر قرار دے دیئے جائیں گے۔ انور شعورؔ جس دیانت و خلوص اور محنت و ریاضت، لگن و جستجو سے شعر کہہ رہے ہیں وہ ناقابلِ فراموش اور قابلِ صد ستائش ہے۔ ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ پتھر پر لکیر کی مثال ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کی لکیر کو مٹایا نہیں جا سکتا اسی طرح انور شعورؔ کے کلام کی صفات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کے نام اور تخلیقی کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انور شعورؔ نے اُردو غزل کو روایت سے بھی جڑے رکھا ہوا ہے اور اس میں نت نئے رنگ بھر کر مختلف زاویوں سے طبع آزمائی اور خیالات کو ندرت سے پیش کر کے جدید بنا دیا ہے۔ وہ گل و بلبل، دشت و گلزار اور لب و رخسار کے قصے بھی بیان کرتے ہیں مگر ان کی شاعری کے آئینے میں یہ تمام تصویریں جوانی اوڑھے نظر آتی ہیں۔ ان کا معنوی حسن جوبن پر ہوتا ہے ۔ وہ عمدہ الفاظ کے استعمال، نئی نئی تراکیب اور عام فہم جملوں کے چنائو سے کلام میں جو روانی اور سلاست پیدا کرتے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے۔ ان کی عام فہم بول چال کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ ان کے ہاں شعریت ہوتی ہے ،لفّاظی نہیں ملتی، ان کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہی ان کا طرئہ امتیاز ہے جس کا ابلاغ ہر عمر اور ہر ذہن کے قاری تک بہ آسانی ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر کے کلام کی یہ خوبی اسے اس کے ہم عصروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے اور اس کے لیے انفرادیت کا نشانِ عظمت بنتی ہے۔حسرت ؔکا یہ شعر دراصل ان کی شاعری پر صادق آتا ہے:
شعر دراصل وہی ہیں حسرتؔ
جو سنتے ہی دل میں اُتر جائیں
انور شعورؔ شاعری کرتے وقت شعر کی فضا میں کھو جاتے ہیں، اس کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں، وہ شعر کی وادیوں میں اُتر کر اس کے حسن کو اپنا لیتے ہیں انور شعورؔ کے کلام کو پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ اُن شعرا میں سے نہیں ہیں جو شاعری کو اپناتے ہیں بلکہ ان کا تعلق ان سخن وروں سے ہے جن پر شاعری کی دیوی نہایت مہربان ہو جاتی ہے اور شاعری جن کو اپنا لیتی ہے۔ شاعری نے جب سے انور شعورؔ کو اپنا بنا لیا ہے، تب سے وہ بھی شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش دلی سے جیون بسر کر رہے ہیں۔ چند مثالیں اور ملاحظہ ہوں:
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
٭٭٭
میری صورت اُنھیں پسند نہیں
کیا یہ میرا قصور ہے کوئی
٭٭٭
پڑے پڑے مجھے آتا ہے یہ خیال شعورؔ
نہیں ہے کیا مرا کمرہ مکان میں شامل
٭٭٭
اے روشنی کے شہر! ترا وہ مکیں ہُوں میں
جس کے مکاں میں ایک دیا بھی نہ آ سکا
زہے نصیب رنگِ ادب پبلی کیشنز،کراچی نے ایسے عبقری، بڑے اور نمائندہ شاعر کی کلّیات شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔ کلّیاتِ انور شعورؔ میں ان کی غزلوں کے چار مجموعے ’’اندوختہ‘‘، ’’مشقِ سخن‘‘، ’’می رقصم‘‘ اور ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ شامل ہیں جو، نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے بلکہ بہت جلد اُن کے ایڈیشن فروخت بھی ہو گئے۔ خوشی و اطمینان کی بات ہے کہ انور شعورؔ کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جن کی کتابیں قارئینِ شعر و ادب خرید کر پڑھتے ہیں۔
میری خواہش تھی کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لا کربہ حیثیت پبلشرز کلّیاتِ انورشعور کاخوب صورت، دیدہ زیب اور ناقابلِ فراموش ایڈیشن شائع کروں۔ الحمدللہ میں اس کوشش میں بڑی حد تک کام یاب ہوا ہوںجس کے کریڈٹ میں مجھے ان کی غزلوں کا پانچ واں مجموعہ شایع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون وجود - هفته 25 جنوری 2020

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ(ٹی بی آئی)کی تشخیص کی گئی ہے ۔ ایک ترجمان کے مطابق فی الحال 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔لیک...

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی وجود - هفته 25 جنوری 2020

ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں 19افراد ہلاک، 750 سے زائد زخمی جبکہ 30افراد لاپتہ ہوگئے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کے صوبائی گورنر نے کہا کہ مشرقی صوبے الازگ میں زلزلے سے 19افراد ہلاک اور 750سے زائد زخمی ہوگئے ،مزید ...

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران وجود - جمعه 24 جنوری 2020

ایران نے مشرق وسطی کو درپیش مسائل کے حل اور خطہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر وجود - جمعه 24 جنوری 2020

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر26 ہوگئی جبکہ830 افراد متاثر بھی ہوئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوروناوائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے قریب 7شہروں میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی جب کہ شہریوں کو جھیلوں، دریائوں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ۔عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے ۔ حکام نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی وبا ئوقرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلا پر کڑی نظر رکھی جارہی ...

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

ایران کی پیراملٹری فوج بسیج کے کمانڈرعبدالحسین مجدمی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمانڈرعبدالحسین مجدمی کوصوبہ خوزستان کے شہردرخوین میں گھرکے سامنے نقاب پوش افراد نے نشانہ بنایا۔ پیراملٹری فوج کے سربراہ عبدالحسین مجدمی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھی تھے ۔ موٹرسائیکل پر سوار دو بندوق برداروں نے حملہ کیا، حملہ آوروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور چار گولیاں چلائی گئی ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس ...

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ، چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارن...

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کربرہم ہو گئے ۔ ایمانویل میکرون نے انگریزی میں ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے کہا کہ باہر جائوجو تم نے میرے سامنے کیا وہ بالکل پسند نہیں آیا، سب کو رولز معلوم ہیں ناں؟ یہ قواعد صدیوں سے ہیں، میرے ساتھ فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے ، قانون کا احترام کریں ۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے ، 1967 ء میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فران...

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار وجود - بدھ 22 جنوری 2020

بھارتی بزنس مین مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ، 2019 میں ان کی دولت 58.4 ارب ڈالر رہی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت کے 15 ارب پتی شخصیات کی مجموعی دولت 197.8 ارب ڈالر کے برابر ہے ۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 میں متعدد بھارتی ارب پتی شخصیات کی دولت میں کمی ہوئی لیکن مکیش امبانی مسلسل 12 ویں مرتبہ بھارت کے امیر ترین شخص قرار پائے ۔15عشاریہ 3ارب ڈالر کے ساتھ بھارتی صنعت کار شیونادر دوسرے نمبر پر رہے ، جبکہ بھارت کے تیسرے امیر ترین شخص بی...

مکیش امبانی مسلسل 12 ویں بار امیر ترین بھارتی قرار

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران وجود - بدھ 22 جنوری 2020

ایران کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو بزدلانہ حملے میں شہید کرنے والے امریکا پر مردانہ وار کارروائی کرکے جواب دیں گے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ امریکا نے بزدلوں کی طرح حملہ کرکے جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا ہے جس کا ہم مردوں کی طرح بہادری سے جواب دیں گے ۔قدس فورس کے سربراہ نے کہا کہ ایران امریکا کی طرح پیچھے سے بزدلانہ وار نہیں کرتا بلکہ مردوں کی طرح سا...

امریکا کی بزدلانہ کارروائی کا مردانہ وار جواب دیں گے ، ایران

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق وجود - بدھ 22 جنوری 2020

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا ، امریکی حکام کی جانب سے پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق کی گئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چائنا وائرس، یعنی کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی)کی جانب سے کہا گیا کہ چین میں دریافت ہونے والا وائرس امریکی شہر سیاٹل میں ایک ایسے شخص میں پایا گیا جو چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔امریکہ میں پائے جانے والا مریض 30 کی دہ...

کورونا وائرس امریکا پہنچ گیا، پہلے متاثرہ شخص کی تصدیق

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار وجود - منگل 21 جنوری 2020

  وائٹ ہائوس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ دن میں مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے صدی کی ڈیل کے بارے میں حتمی اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ا نہوں نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ صدی کی ڈیل کے حوالے سے صدرٹرمپ خود ہی کوئی فیصلہ کریں گے ۔اس فیصلے کے حوالے سے وقت ایک اہم عنصرہوگا کیونکہ اس معاملے میں تاخیرامریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے اس منصوبے کے مفاد میں نہیں ہوگی۔وائٹ ہائوس نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امن سے خوشحالی کے نام...

ٹرمپ عنقریب صدی کی ڈیل کے حوالے سے حتمی اعلان کرنے والے ہیں، امریکی عہدیدار