وجود

... loading ...

وجود

انور شعور

اتوار 25 مارچ 2018 انور شعور

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اِن کی شہرت کا سبب یہی عمدہ شاعری ہے۔ اِن کا شمار پاکستان کے نمائندہ سخن وروں میں ہوتا ہے۔ اِن کے اشعار کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سنتے ہی دل میں اُتر جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

اچّھا خاصا بیٹھے بیٹھے گُم ہو جاتا ہوں
اب مَیں اکثر مَیں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
٭٭٭
دل کی کلی کِھلے کئی موسم گزر گئے
اُس لب سے لب مِلے کئی موسم گزر گئے
٭٭٭
دُکھ ہے تو آپ سے ہے ، دَوا ہے تو آپ سے
اب زندگی میں کوئی مزا ہے تو آپ سے

انور شعورؔ نے غزل کے پیکر میں نہ صرف اپنے تجربات و مشاہدات کے حسین رنگ بھر دئیے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے جذبات (غصہ، پیار، نفرت، ڈر اور خوف) کی شدت کو بھی غزل کا حصہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے بار بار اپنے آپ کو دریافت کرنے کے عمل سے گزارا ہے۔ ہم ان کی شاعری میں ان کو شدت پسند پاتے ہیں یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں کسی کا انتظار کرنے کا نقشہ کھینچتے ہیں تو خود کو اس قدر مضطرب و بے چین پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کا اضطراب و اضمحلال تصویر بن کر آجاتا ہے۔ اگر انہوں نے کسی کی دید کا ذکر کیا ہے تو اسے عمومی یا سرسری طور پر نہیں لیا بلکہ محب عارفی کا یہ شعر ان کی ہر بار اور ہر نظر کی دید پر صادق آتا ہے:

کل میں نے محب اس کو عجب طور سے دیکھا
آنکھوں نے تو کم دل نے بہت غور سے دیکھا

انور شعورؔ اگر محبوب کی بے وفائی کا ذکر کرتے ہیں تو اس قدر دعویٰ اور دلیل سے کام لیتے ہیں کہ سننے، پڑھنے اور سمجھنے والے لا جواب ہو کر رہ جاتے ہیں، انہیں کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ ملاحظہ ہو:

نہ بیتتی تھی کبھی جس کی چاند رات اُس کی
سہاگ رات ہمارے بغیر بیت گئی

وہ اپنی عاشقی، وابستگی، پیار و محبت کا بیان دیتے ہیں تو خیال کو اس قدر سجا کا پیش کرتے ہیں کہ نیا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں تخیل کی بلند پروازی اور خیال کی ندرت آپ اپنا جواب ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِس تعلّق میں کہاں ممکن طلاق
یہ محبت ہے، کوئی شادی نہیں

انسان سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو دریافت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ دریافت مکمل ہو سکے۔ انور شعورؔ کا کلام پڑھ کر ہم انہیں باآسانی دریافت کرلیتے ہیں۔ وہ نرم لہجے کے شاعر ہیں، بات کو بہت سلیس، سادگی اور سہل انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عام فہم بات کرنے کا فن جانتے ہیں، ان کو اپنی بات مؤثر بنانے کا ہنر بھی بہ خوبی آتا ہے۔ وہ عام سی بات کو اس طرح منظوم کرتے ہیں کہ بہت بڑی معلوم ہوتی ہے اور بہت بڑی بات کو اس سادگی اور سہل انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ سننے والا اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
تم اک مرتبہ کیا دکھائی دئیے
مرا کام ہی دیکھنا ہو گیا
٭٭٭
جو نہ آیا کبھی دو چار گھڑی کی خاطر
زندگی ہم نے گزاری ہے اُسی کی خاطر
٭٭٭
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تو دفعتہ
اک سنسنی سی دوڑ گئی جسم و جان میں
انور شعورؔ کو جدید غزل کہنے والوں کی فہرست میں شامل کرنے کا میرا مقصد یہ کہنا نہیں ہے کہ وہ سب سے الگ تھلگ اپنا شعری راستہ چل رہے ہیں، وہ تو انسانوں کے درمیان رہ کر، اس معاشرے و سماج سے وابستہ ہو کر، اپنے اِرد گرد کے ماحول و فضا کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی رویوں کو لکھ رہے ہیں۔ زندگی کے اُتار چڑھائو، نشیب و فراز میں پیش آنے والے تلخ و شیریں تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ عمیق مشاہدات کو اس عمدگی سے پینٹ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ وہ انسان کے بدلتے ہوئے رویوں اور کردار کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانوں نے اپنے چہروں پر کیسے کیسے چہرے سجا رکھے ہیں، ان کے اشعار انہیں بے نقاب کرتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کرب و الم، تنہائی، زمانے کی بے اعتنائی، یاروں کی بے وفائی، محبوب تک نارسائی، ہجر و فراق کے دکھ، انتظار کے کرب اور حالات کی ستم ظریفی کو اشعار میں ڈھال رہے ہیں۔ انہیں انسانی قدر و قیمت کی ارزانی، اس کی بے وقعت ہوتی زندگی کا دکھ بے چین کیے دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ان تمام محسوسات اور نازک احساسات کو اپنی شاعری میں سمو دیا ہے۔ ان کے اظہار میں بڑی فن کاری، ہنر مندی اور چابک دستی سے کام لیا ہے تبھی قارئینِ شعر و سخن ان کے کلام کے گرویدہ ہیں اور سامعینِ محافلِ مشاعرہ ان کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار برجستہ، پُرمعانی اور مضمون و احساس آفرینی لیے ہوئے ہیں جن کی نثر کی جائے تو شعر ہی کی صورت قائم رہتی ہے۔ اسی کو سہلِ ممتنع کہتے ہیں اور انور شعورؔ کی شاعری کی پہچان یہی ہے، اسی پہچان سے ان کی انفرادیت قائم ہوئی ہے اور اسی طرزِ نگارش نے انہیں صاحب اُسلوب شاعر بنا دیا ہے۔ ان کے اشعار کو ان کے نام کے بغیر بھی پڑھا جائے تو پہچان لیے جاتے ہیں کہ یہ اشعار انور شعورؔ کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے نہیں ہو سکتے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
صرف اُس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
٭٭٭
ایک آواز پہ آ جائوں گا
جیسی حالت میں بیٹھا ہوں
٭٭٭
کچھ بھی مری آنکھوں کو سُجھائی نہیں دیتا
جب سے تجھے دیکھا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
٭٭٭
اب آ گئے ہو تو کچھ دیر دیکھ لینے دو
کبھی کبھی تو یہ چہرہ دِکھائی دیتا ہے
٭٭٭
یہ جانتے ہوئے بھی گزاری ہے زندگی
ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی
پاکستان میں سہلِ ممتنع کہنے والوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہے۔ ناصرؔ کاظمی اور جونؔ ایلیا کے بعد اس میدان میں انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر اور نمایاں ہے۔ اب تو سہلِ ممتنع اور انور شعورؔ لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔
انور شعورؔ کا شعری سفر اور سہلِ ممتنع کے تجربات روز بہ روز ارتقائی منازل طے کر رہے ہیں۔ ان کے قارئین اور چاہنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی غزل کے چار مجموعے’’ کلیاتِ انور شعورؔ‘‘ میں یک جا شائع ہو گئے ہیں اور پانچ واں شعری مجموعہ’’آتے ہیں غیب سے‘‘حال ہی میں شایع ہواہے ،اس کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار’’ روزنامہ جنگ ‘‘میں حالاتِ حاضرہ پر لکھے گئے ان کے ہزاروں قطعات بھی سہلِ ممتنع کی عمدہ مثالیں ہیں اور ان کے قارئین بھی لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو انور شعورؔ کے فین ہیں اور پھر ان کے اشعار پورے دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ اہلِ ادب ان کے نمائندے اشعار کو اپنی تحریروں، تقریروں اور گفتگو میں برمحل استعمال کرتے ہوئے امثال میں پیش کرتے ہیں۔ کوئی شعری انتخاب یا کنزالاشعار ایسا نہیں جس میں انور شعورؔ کے اشعار و غزلیات کو منتخب نہ کیا گیا ہو، ان کو بہترین اور دل موہ لینے والی شاعری کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند کے علاوہ یورپ کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں مدعو کیا جاتا ہے اور وہ اہلِ ادب کی صحبتیں، داد و تحسین کی دولتیں، چاہنے والوں کی محبتیں، ہم عصروں کی رفاقتیں اور عز و شرف کے خزانے سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ گمان یقین میں بدل سکتا ہے کہ انور شعورؔ کی شہرت کا گراف اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ سہلِ ممتنع کے نمائندہ شاعر قرار دے دیئے جائیں گے۔ انور شعورؔ جس دیانت و خلوص اور محنت و ریاضت، لگن و جستجو سے شعر کہہ رہے ہیں وہ ناقابلِ فراموش اور قابلِ صد ستائش ہے۔ ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ پتھر پر لکیر کی مثال ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کی لکیر کو مٹایا نہیں جا سکتا اسی طرح انور شعورؔ کے کلام کی صفات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کے نام اور تخلیقی کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انور شعورؔ نے اُردو غزل کو روایت سے بھی جڑے رکھا ہوا ہے اور اس میں نت نئے رنگ بھر کر مختلف زاویوں سے طبع آزمائی اور خیالات کو ندرت سے پیش کر کے جدید بنا دیا ہے۔ وہ گل و بلبل، دشت و گلزار اور لب و رخسار کے قصے بھی بیان کرتے ہیں مگر ان کی شاعری کے آئینے میں یہ تمام تصویریں جوانی اوڑھے نظر آتی ہیں۔ ان کا معنوی حسن جوبن پر ہوتا ہے ۔ وہ عمدہ الفاظ کے استعمال، نئی نئی تراکیب اور عام فہم جملوں کے چنائو سے کلام میں جو روانی اور سلاست پیدا کرتے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے۔ ان کی عام فہم بول چال کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ ان کے ہاں شعریت ہوتی ہے ،لفّاظی نہیں ملتی، ان کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہی ان کا طرئہ امتیاز ہے جس کا ابلاغ ہر عمر اور ہر ذہن کے قاری تک بہ آسانی ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر کے کلام کی یہ خوبی اسے اس کے ہم عصروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے اور اس کے لیے انفرادیت کا نشانِ عظمت بنتی ہے۔حسرت ؔکا یہ شعر دراصل ان کی شاعری پر صادق آتا ہے:
شعر دراصل وہی ہیں حسرتؔ
جو سنتے ہی دل میں اُتر جائیں
انور شعورؔ شاعری کرتے وقت شعر کی فضا میں کھو جاتے ہیں، اس کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں، وہ شعر کی وادیوں میں اُتر کر اس کے حسن کو اپنا لیتے ہیں انور شعورؔ کے کلام کو پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ اُن شعرا میں سے نہیں ہیں جو شاعری کو اپناتے ہیں بلکہ ان کا تعلق ان سخن وروں سے ہے جن پر شاعری کی دیوی نہایت مہربان ہو جاتی ہے اور شاعری جن کو اپنا لیتی ہے۔ شاعری نے جب سے انور شعورؔ کو اپنا بنا لیا ہے، تب سے وہ بھی شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش دلی سے جیون بسر کر رہے ہیں۔ چند مثالیں اور ملاحظہ ہوں:
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
٭٭٭
میری صورت اُنھیں پسند نہیں
کیا یہ میرا قصور ہے کوئی
٭٭٭
پڑے پڑے مجھے آتا ہے یہ خیال شعورؔ
نہیں ہے کیا مرا کمرہ مکان میں شامل
٭٭٭
اے روشنی کے شہر! ترا وہ مکیں ہُوں میں
جس کے مکاں میں ایک دیا بھی نہ آ سکا
زہے نصیب رنگِ ادب پبلی کیشنز،کراچی نے ایسے عبقری، بڑے اور نمائندہ شاعر کی کلّیات شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔ کلّیاتِ انور شعورؔ میں ان کی غزلوں کے چار مجموعے ’’اندوختہ‘‘، ’’مشقِ سخن‘‘، ’’می رقصم‘‘ اور ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ شامل ہیں جو، نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے بلکہ بہت جلد اُن کے ایڈیشن فروخت بھی ہو گئے۔ خوشی و اطمینان کی بات ہے کہ انور شعورؔ کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جن کی کتابیں قارئینِ شعر و ادب خرید کر پڑھتے ہیں۔
میری خواہش تھی کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لا کربہ حیثیت پبلشرز کلّیاتِ انورشعور کاخوب صورت، دیدہ زیب اور ناقابلِ فراموش ایڈیشن شائع کروں۔ الحمدللہ میں اس کوشش میں بڑی حد تک کام یاب ہوا ہوںجس کے کریڈٹ میں مجھے ان کی غزلوں کا پانچ واں مجموعہ شایع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔


متعلقہ خبریں


کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

مضامین
وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر