وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

انور شعور

اتوار 25 مارچ 2018 انور شعور

بیس ویں صدی کے اُردو ادب میں جن سخن وروں نے اپنی شاعری کی بنیاد عہدِ موجود کے مسائل و افکار پر رکھی، اُن میں عہدِ حاضر کے چند سخن وروں کے بعد انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر، اہم اور سنجیدہ ہے۔ انور شعورؔ کی شاعری تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، شدید جذبات اور نازک احساسات کی آئینہ دار ہے۔ اِن کے شعر عام فہم، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناقدینِ فن و ہنر، ماہرینِ اُردو ادب اور قارئینِ شعر و سخن اِنھیں سہلِ ممتنع کا شاعر ماننے لگے ہیں۔ اِن کے پُرتاثیرا شعارپوری دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر اِن کی شہرت کا سبب یہی عمدہ شاعری ہے۔ اِن کا شمار پاکستان کے نمائندہ سخن وروں میں ہوتا ہے۔ اِن کے اشعار کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ سنتے ہی دل میں اُتر جاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

اچّھا خاصا بیٹھے بیٹھے گُم ہو جاتا ہوں
اب مَیں اکثر مَیں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
٭٭٭
دل کی کلی کِھلے کئی موسم گزر گئے
اُس لب سے لب مِلے کئی موسم گزر گئے
٭٭٭
دُکھ ہے تو آپ سے ہے ، دَوا ہے تو آپ سے
اب زندگی میں کوئی مزا ہے تو آپ سے

انور شعورؔ نے غزل کے پیکر میں نہ صرف اپنے تجربات و مشاہدات کے حسین رنگ بھر دئیے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے جذبات (غصہ، پیار، نفرت، ڈر اور خوف) کی شدت کو بھی غزل کا حصہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے بار بار اپنے آپ کو دریافت کرنے کے عمل سے گزارا ہے۔ ہم ان کی شاعری میں ان کو شدت پسند پاتے ہیں یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں کسی کا انتظار کرنے کا نقشہ کھینچتے ہیں تو خود کو اس قدر مضطرب و بے چین پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کا اضطراب و اضمحلال تصویر بن کر آجاتا ہے۔ اگر انہوں نے کسی کی دید کا ذکر کیا ہے تو اسے عمومی یا سرسری طور پر نہیں لیا بلکہ محب عارفی کا یہ شعر ان کی ہر بار اور ہر نظر کی دید پر صادق آتا ہے:

کل میں نے محب اس کو عجب طور سے دیکھا
آنکھوں نے تو کم دل نے بہت غور سے دیکھا

انور شعورؔ اگر محبوب کی بے وفائی کا ذکر کرتے ہیں تو اس قدر دعویٰ اور دلیل سے کام لیتے ہیں کہ سننے، پڑھنے اور سمجھنے والے لا جواب ہو کر رہ جاتے ہیں، انہیں کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ ملاحظہ ہو:

نہ بیتتی تھی کبھی جس کی چاند رات اُس کی
سہاگ رات ہمارے بغیر بیت گئی

وہ اپنی عاشقی، وابستگی، پیار و محبت کا بیان دیتے ہیں تو خیال کو اس قدر سجا کا پیش کرتے ہیں کہ نیا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں تخیل کی بلند پروازی اور خیال کی ندرت آپ اپنا جواب ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

اِس تعلّق میں کہاں ممکن طلاق
یہ محبت ہے، کوئی شادی نہیں

انسان سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو دریافت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ دریافت مکمل ہو سکے۔ انور شعورؔ کا کلام پڑھ کر ہم انہیں باآسانی دریافت کرلیتے ہیں۔ وہ نرم لہجے کے شاعر ہیں، بات کو بہت سلیس، سادگی اور سہل انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عام فہم بات کرنے کا فن جانتے ہیں، ان کو اپنی بات مؤثر بنانے کا ہنر بھی بہ خوبی آتا ہے۔ وہ عام سی بات کو اس طرح منظوم کرتے ہیں کہ بہت بڑی معلوم ہوتی ہے اور بہت بڑی بات کو اس سادگی اور سہل انداز سے کہہ دیتے ہیں کہ سننے والا اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
تم اک مرتبہ کیا دکھائی دئیے
مرا کام ہی دیکھنا ہو گیا
٭٭٭
جو نہ آیا کبھی دو چار گھڑی کی خاطر
زندگی ہم نے گزاری ہے اُسی کی خاطر
٭٭٭
وہ ہاتھ میرے ہاتھ میں آیا تو دفعتہ
اک سنسنی سی دوڑ گئی جسم و جان میں
انور شعورؔ کو جدید غزل کہنے والوں کی فہرست میں شامل کرنے کا میرا مقصد یہ کہنا نہیں ہے کہ وہ سب سے الگ تھلگ اپنا شعری راستہ چل رہے ہیں، وہ تو انسانوں کے درمیان رہ کر، اس معاشرے و سماج سے وابستہ ہو کر، اپنے اِرد گرد کے ماحول و فضا کا جائزہ لیتے ہوئے انسانی رویوں کو لکھ رہے ہیں۔ زندگی کے اُتار چڑھائو، نشیب و فراز میں پیش آنے والے تلخ و شیریں تجربات کو بیان کرتے ہیں۔ عمیق مشاہدات کو اس عمدگی سے پینٹ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ وہ انسان کے بدلتے ہوئے رویوں اور کردار کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانوں نے اپنے چہروں پر کیسے کیسے چہرے سجا رکھے ہیں، ان کے اشعار انہیں بے نقاب کرتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کرب و الم، تنہائی، زمانے کی بے اعتنائی، یاروں کی بے وفائی، محبوب تک نارسائی، ہجر و فراق کے دکھ، انتظار کے کرب اور حالات کی ستم ظریفی کو اشعار میں ڈھال رہے ہیں۔ انہیں انسانی قدر و قیمت کی ارزانی، اس کی بے وقعت ہوتی زندگی کا دکھ بے چین کیے دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ان تمام محسوسات اور نازک احساسات کو اپنی شاعری میں سمو دیا ہے۔ ان کے اظہار میں بڑی فن کاری، ہنر مندی اور چابک دستی سے کام لیا ہے تبھی قارئینِ شعر و سخن ان کے کلام کے گرویدہ ہیں اور سامعینِ محافلِ مشاعرہ ان کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار برجستہ، پُرمعانی اور مضمون و احساس آفرینی لیے ہوئے ہیں جن کی نثر کی جائے تو شعر ہی کی صورت قائم رہتی ہے۔ اسی کو سہلِ ممتنع کہتے ہیں اور انور شعورؔ کی شاعری کی پہچان یہی ہے، اسی پہچان سے ان کی انفرادیت قائم ہوئی ہے اور اسی طرزِ نگارش نے انہیں صاحب اُسلوب شاعر بنا دیا ہے۔ ان کے اشعار کو ان کے نام کے بغیر بھی پڑھا جائے تو پہچان لیے جاتے ہیں کہ یہ اشعار انور شعورؔ کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے نہیں ہو سکتے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
صرف اُس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
٭٭٭
ایک آواز پہ آ جائوں گا
جیسی حالت میں بیٹھا ہوں
٭٭٭
کچھ بھی مری آنکھوں کو سُجھائی نہیں دیتا
جب سے تجھے دیکھا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
٭٭٭
اب آ گئے ہو تو کچھ دیر دیکھ لینے دو
کبھی کبھی تو یہ چہرہ دِکھائی دیتا ہے
٭٭٭
یہ جانتے ہوئے بھی گزاری ہے زندگی
ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی
پاکستان میں سہلِ ممتنع کہنے والوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہے۔ ناصرؔ کاظمی اور جونؔ ایلیا کے بعد اس میدان میں انور شعورؔ کا نام سب سے زیادہ معتبر اور نمایاں ہے۔ اب تو سہلِ ممتنع اور انور شعورؔ لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔
انور شعورؔ کا شعری سفر اور سہلِ ممتنع کے تجربات روز بہ روز ارتقائی منازل طے کر رہے ہیں۔ ان کے قارئین اور چاہنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی غزل کے چار مجموعے’’ کلیاتِ انور شعورؔ‘‘ میں یک جا شائع ہو گئے ہیں اور پانچ واں شعری مجموعہ’’آتے ہیں غیب سے‘‘حال ہی میں شایع ہواہے ،اس کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار’’ روزنامہ جنگ ‘‘میں حالاتِ حاضرہ پر لکھے گئے ان کے ہزاروں قطعات بھی سہلِ ممتنع کی عمدہ مثالیں ہیں اور ان کے قارئین بھی لاکھوں کی تعداد میں ہیں جو انور شعورؔ کے فین ہیں اور پھر ان کے اشعار پورے دنیا میں سفر کر رہے ہیں۔ اہلِ ادب ان کے نمائندے اشعار کو اپنی تحریروں، تقریروں اور گفتگو میں برمحل استعمال کرتے ہوئے امثال میں پیش کرتے ہیں۔ کوئی شعری انتخاب یا کنزالاشعار ایسا نہیں جس میں انور شعورؔ کے اشعار و غزلیات کو منتخب نہ کیا گیا ہو، ان کو بہترین اور دل موہ لینے والی شاعری کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند کے علاوہ یورپ کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں مدعو کیا جاتا ہے اور وہ اہلِ ادب کی صحبتیں، داد و تحسین کی دولتیں، چاہنے والوں کی محبتیں، ہم عصروں کی رفاقتیں اور عز و شرف کے خزانے سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ گمان یقین میں بدل سکتا ہے کہ انور شعورؔ کی شہرت کا گراف اتنا بڑھ جائے گا کہ یہ سہلِ ممتنع کے نمائندہ شاعر قرار دے دیئے جائیں گے۔ انور شعورؔ جس دیانت و خلوص اور محنت و ریاضت، لگن و جستجو سے شعر کہہ رہے ہیں وہ ناقابلِ فراموش اور قابلِ صد ستائش ہے۔ ان کا لکھا ہوا ایک ایک لفظ پتھر پر لکیر کی مثال ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کی لکیر کو مٹایا نہیں جا سکتا اسی طرح انور شعورؔ کے کلام کی صفات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کے نام اور تخلیقی کام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
انور شعورؔ نے اُردو غزل کو روایت سے بھی جڑے رکھا ہوا ہے اور اس میں نت نئے رنگ بھر کر مختلف زاویوں سے طبع آزمائی اور خیالات کو ندرت سے پیش کر کے جدید بنا دیا ہے۔ وہ گل و بلبل، دشت و گلزار اور لب و رخسار کے قصے بھی بیان کرتے ہیں مگر ان کی شاعری کے آئینے میں یہ تمام تصویریں جوانی اوڑھے نظر آتی ہیں۔ ان کا معنوی حسن جوبن پر ہوتا ہے ۔ وہ عمدہ الفاظ کے استعمال، نئی نئی تراکیب اور عام فہم جملوں کے چنائو سے کلام میں جو روانی اور سلاست پیدا کرتے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہے۔ ان کی عام فہم بول چال کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ ان کے ہاں شعریت ہوتی ہے ،لفّاظی نہیں ملتی، ان کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہی ان کا طرئہ امتیاز ہے جس کا ابلاغ ہر عمر اور ہر ذہن کے قاری تک بہ آسانی ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر کے کلام کی یہ خوبی اسے اس کے ہم عصروں سے منفرد و ممتاز کرتی ہے اور اس کے لیے انفرادیت کا نشانِ عظمت بنتی ہے۔حسرت ؔکا یہ شعر دراصل ان کی شاعری پر صادق آتا ہے:
شعر دراصل وہی ہیں حسرتؔ
جو سنتے ہی دل میں اُتر جائیں
انور شعورؔ شاعری کرتے وقت شعر کی فضا میں کھو جاتے ہیں، اس کے ماحول میں رنگ جاتے ہیں، وہ شعر کی وادیوں میں اُتر کر اس کے حسن کو اپنا لیتے ہیں انور شعورؔ کے کلام کو پڑھ کر خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ اُن شعرا میں سے نہیں ہیں جو شاعری کو اپناتے ہیں بلکہ ان کا تعلق ان سخن وروں سے ہے جن پر شاعری کی دیوی نہایت مہربان ہو جاتی ہے اور شاعری جن کو اپنا لیتی ہے۔ شاعری نے جب سے انور شعورؔ کو اپنا بنا لیا ہے، تب سے وہ بھی شاعری کو اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں۔ اب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش دلی سے جیون بسر کر رہے ہیں۔ چند مثالیں اور ملاحظہ ہوں:
سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
مجھے یقین ہے جب تک کسی کے آنے کا
٭٭٭
میری صورت اُنھیں پسند نہیں
کیا یہ میرا قصور ہے کوئی
٭٭٭
پڑے پڑے مجھے آتا ہے یہ خیال شعورؔ
نہیں ہے کیا مرا کمرہ مکان میں شامل
٭٭٭
اے روشنی کے شہر! ترا وہ مکیں ہُوں میں
جس کے مکاں میں ایک دیا بھی نہ آ سکا
زہے نصیب رنگِ ادب پبلی کیشنز،کراچی نے ایسے عبقری، بڑے اور نمائندہ شاعر کی کلّیات شائع کرنے کا شرف حاصل کیا ہے۔ کلّیاتِ انور شعورؔ میں ان کی غزلوں کے چار مجموعے ’’اندوختہ‘‘، ’’مشقِ سخن‘‘، ’’می رقصم‘‘ اور ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ شامل ہیں جو، نہ صرف زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے بلکہ بہت جلد اُن کے ایڈیشن فروخت بھی ہو گئے۔ خوشی و اطمینان کی بات ہے کہ انور شعورؔ کا شمار اُن شعرا میں ہوتا ہے جن کی کتابیں قارئینِ شعر و ادب خرید کر پڑھتے ہیں۔
میری خواہش تھی کہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لا کربہ حیثیت پبلشرز کلّیاتِ انورشعور کاخوب صورت، دیدہ زیب اور ناقابلِ فراموش ایڈیشن شائع کروں۔ الحمدللہ میں اس کوشش میں بڑی حد تک کام یاب ہوا ہوںجس کے کریڈٹ میں مجھے ان کی غزلوں کا پانچ واں مجموعہ شایع کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔


متعلقہ خبریں


قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

امریکا میں گھر پرنظربند فلسطینی سائنسدان عبدالحلیم الاشقر کو اسرائیل کے حوالے کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ع،بدالحلیم الاشقر کی اہلیہ اسما ء مھنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو امریکا میں گھر پرنظربند کیا گیا ہے ۔ ان کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت امریکا پروفیسر ڈاکٹر الاشقر کو امریکا کے حوالے کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے جاری تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں...

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار