وجود

... loading ...

وجود

مارچ.... تجدید عہد کا دن

جمعه 23 مارچ 2018 مارچ.... تجدید عہد کا دن

یوم قرار داد پاکستان کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہے، اس دن پاکستان کے تصور نے ایک ایسی حقیقت کا روپ دھار ا کہ مسلمان اپنے نظریہ اور عقائید کے مطابق زندگی گذارنے کا جمہوری حق رکھتے ہیں ، پاکستان کا قیام ایک طویل جدوجہد کا ثمر ہے جس کے سفر کا آغاز بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ نے کیا، ایک پالش Polish مفکر سٹینز لا Stainslawنے چھٹی دھائی میں کہا تھا کہ آپ حقائق سے تو آنکھیں بند کر سکتے ہیں لیکن یادیں نہیں مٹا سکتے، ہماری تاریخ بھی تحریک پاکستان کے شہیدوں اور جاں نثاروں کی طرف سے کبھی آنکھیں بند نہیں کر سکتی، ہمارا وطن پاکستان ایک ایسا اچھا اور خوبصورت ملک ہے جسے اللہ تبارک تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہے لیکن افسوس کہ جو حالات یہاں پیدا ہوتے جا رہے ہیں اس سے چاند ستاروں کی چمک ماند تو پڑی ہم اپنی پہچان بھی کھوتے جا رہے ہیں حالانکہ پاکستان ہی ہماری پہچان اور اساس ہے۔ قائد اعظم پاکستان کو دنیائے اسلام کی جدید ترین فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں ہر پاکستانی بلا تفریق آزادی کی فضا میں سانس لے سکے اور ملک و قوم کی ترقی میں خود کو برابر کا شریک سمجھے، نہ کسی کو قکت تعداد کا احساس ہو اور نہ ہی کثرت تعداد پر گھمنڈ، یہ ارشادات قائد اعظم اور قرار داد پاکستان سے انحراف ہی کا نتیجہ ہیں کہ جمہور کے ووٹ سے بننے والے ملک میں جمہوریت کے نام پر ملک میں کرپشن کا بازار گرم کرکے اسے بے دریغ لوٹا جا رہا ہے۔

اگر ہم یتاریخ کے اوراق پلٹ کر مسلمانوں کے شاندار ماضی پر ایک نظر ڈالیں تو تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم جو اسلام اور کلمہ کے نام پر لیئے گئے ملک میں آزادی سے سانس لے رہے ہیں اور پھر اسی ملک کو اقتدار کی ہوس کے نام پر توڑنے کی باتیں کرتے ہیں تو ہم سے تو وہ لاکھ درجے اچھی قوم ہے جس نے مسلمانوں کے فن و ہنر کو سنبھال رکھا ہے، اسپین پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے ادوار میں جتنی بھی تعمیرات ہوئیں انہوں نے ان کو آج تک حفاظت سے رکھا ہوا ہے، چاہے وہ قصر الحمر ہو یا جامع مسجد قرطبہ، ہم ہیں کہ اپنا ملک ہوتے ہوئے بھی اس کی سلامتی کے منافی باتیں کرتے رہتے ہیں ، جمہوریت کے نام پر ملک جس دلدل میں پھنس چکا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، پیسے کی طاقت سے اقتدار پر براجمان رہنے کی روش ملک کے قیام کے اصل مقاصد کو کمزور کررہی ہے۔ پاکستان کو نمائشی اور فرمائشی قیادت کی نہیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس کی نشاندہی قائد اعظم نے پیش کی تھی کہ کہ ہمارا یہ ملک ، ہمارا گھر بار، مال و دولت اور عزت و وقار ہے، کون ہے جو یہ کہ سکے کہ میرا اپنا گھر تو سلامت رہے وطن کی پرواہ نہیں ، ہمیشہ آزاد وطن ہی عزت کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔

ہمارا ملک ایک عظیم ملک ، ہماری پہچان، ہماری اساس، ہماری محبت، عزت، اور ہمارا سب کچھ ہے، اس لیئے ضروری ہے کہ اس کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جائے، ووٹ دیتے وقت ووٹ لینے والے کی پہچان کی جائے۔ ہمارے حکمران بھارت دوستی میں جسطرح دو قومی نظریہ کی نفی کررہے ہیں وہ خطرناک ہے، اس بات میں کوئی شق نہیں کہ قوموں کی برادری میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا از بس ضروری ہے لیکن یہ تعلقات دو طرفہ ہونے چاہیئں ، یک طرفہ دوستی کی پینگیں بڑھانا نقصان دہ ہوتا ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج بھارت دوستی میں ہمارے حکمران ہندوئں کے ساتھ مشترکہ تہذیب، ثاقفت کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں ہمارے نوجوان اردو تک سے نا بلد ہو رہے ہیں ڈراموں اور پروگراموں میں ہندی رسوم و رواج پیش کیئے جا رہے ہیں ، اردو ذبان کو بگاڑ کر ہمارے ٹی وی کے کئی اینکر خاص کو کھاس بولتے ہیں جب کہ میڈیا، اشتہاری کمپنیاں رومن اردو میں پبلسٹی کررہے ہیں جو کہ انڈیا میں استعمال ہوتی ہے۔

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ دنیا بھر میں قومیں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ سائینس، ٹیکنالوجی، تعلیمی، صحت عامہ، کا مقابلہ کر تی ہیں لیکن ہم بھارتی فلمیں دیکھ دیکھ کر پھکڑ پن، بازاری انداز گفتگو، ناچ گانے، اور کھانوں کے مقابلوں میں کھوتے جا رہے ہیں ، کسقدر افسوس کی بات ہے کہ آج مشترکہ تہذیب اور ثقافت کے نام پر امن کی آشا کا پرچار ہو رہا ہے ، لیکن ایک جانب بھارت ہمیں فلموں، گانوں، لافٹر، اور اپنے کھانوں کے مقابلوں اور اپنی بیاہ شادیوں کی رسومات کو تبدیل کروا رہا ہے تو دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے، کشمیر کے دریائوں پر ڈیم بنا رہا ہے، اور یہ ڈیم پاکستان کے لیئے تباہی کے باعث ہیں کیونکہ جب چاہے گا ہمارا پانی روک لے گا، اور جب چاہے گا بغیر اطلاع کے ہمارے دریائوں میں پانی چھوڑ کر سیلاب کی کیفیت پیدا کر دے گا۔
23 مارچ کا یہ آج کا دن ہمیں باور رواتا ہے کہ ہم قرار داد پاکستان کے اصل مقاصد کو سامنے رکھیں ، اور ان مقاصد کی روشنی میں تعمیر پاکستان کا کام کریں، یہ کام میں نے، آپ نے مل جل کر کرنا ہے ، اور ہم نے خود ہی وطن کو سنوارنا ہے، ہمیں یہ عہد کر لینا چاہیئے کہ عروج ترقی اور خیر و فلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہو تو باعث برکت بنتا ہے، تنقید کرنے سے ملک ترقی نہیں کرتے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر