... loading ...
نبی پاکﷺؒ کی محبت نے جناب اقبالؒ کو راست بینی عطا فرمادی تھی اور وہ سمجھتے تھے رب پاک کا عطا کرد ہ قانون تما م دُکھوں کا علاج ہے۔ اِس لیے حضرت اقبالؒ نے مرد مومن کی شان اِس طرح بیان کی ہے کہ مرد مومن کو شاہین قرار دئے دیا۔ چونکہ شاہین نہ تو کسی کا کیا ہوا شکار کھاتا ہے اور نہ اپنا گھونسلہ بناتا ہے ۔ موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمان عمل کے لحاظ سے شاہین کی مماثلت سے عاری نظر آتے ہیں کیونکہ جب علم و عمل کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر رسوائی مقدر بن جاتی ہے۔حضرت ِاقبالؒ جاوید نامہ میں فرماتے ہیں کہ کیا تو لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے ؟ اگر کہتا ہے تو پھر روح میں ڈوب کر کہ تاکہ تیرے جسم سے جان (روح) کی خوشبو آئے۔سورج اور چاند کی گردش لا الا کے سوز سے ہے میں نے یہ سوز پہاڑ اور تنکے میں ہر چھوٹی بڑی شے میں دیکھا ہے۔لاالا کے سوز میں جینا قہاری ہے لاالا ایک ضرب ہے اور کاری ضرب ہے ۔جناب اقبالؒ فرماتے ہیں کہ آج کے مسلمان نے دین وملت کو ایک کوڑی کے بدلے بیچ ڈالا ہے اس نے اپنے گھر کا سامان اور اپنا گھر بھی جلادیا ہے۔ کبھی اس کی نماز میں پہلے توحید کا رنگ تھا اب نہیں رہا اس کی نیاز میں کبھی ناز تھا اب نہیں رہا۔اقبا ل فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان جس کی زندگی کا سازوسامان خدا پاک تھا اب اس کا فتنہ مال کی محبت اور موت کا خوف ہے۔اور اس میں ذوق و سرور کی وہ مستی نہیں رہی اس کا دین بس کتاب یعنی قران پاک میں ہے اور خود وہ قبر میں ہے۔اقبال فرماتے ہیں کہ جب نماز اور روزے سے روح جاتی رہی تو فرد بے لگام ہوگیا اور ملت میں کوئی تنظیم نہ رہی۔آج کے مسلمان کے سینے قران کی حرارت سے خالی ہو گئے ایسے لوگوں سے بہتری یا بھلائی کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔آج کا مسلمان خودی کو بھول گیا ہے ۔
اقبال کے خیالات کے تنا ظر میں اگر ہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہیں کہ اگر ہم اپنے تعلیمی ادارروں کی موجودہ صورتحال کا جا ئز ہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں ہے ڈیو ڈ کیمبل کی کتا ب بزنس فارنان بزنس ا سٹوڈ نٹس کو ایم بی اے کوپڑھا نے کا راقم کو موقع ملا ۔اُس کتاب میں سب سے زیا دہ کا روبا ری شخص کی جس خصو یت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ہے دیانت داری یعنی کا روبا ر کی وسعت ،کا میا بی دیا نت داری کی مرہو ن منت ہے ۔انسانی تمدن میں زما نے کے ساتھ جو بھی تبدیلیا ں آئیں اور انسانی معاشرے جس طرح جہالت کے اندھیروں سے کا میابیو ں کی طرف گامزن ہوئے ۔ یہ سب کچھ نبی پا ک ﷺنے جو سبق انسانوں کو دیا اُس سے ہی انسا ن کی سوچ کا ارتقائی عمل مکمل ہوا ۔ ارتقائی عمل کے مکمل ہونے کی سب سے بڑی وجہ یا دلیل آج سے تقریبا سواچودہ سو سال پہلے نبی پا ک ﷺکا دینِ الہی کو مکمل فرما دینا اور اپنی سُنت کے ساتھ ضا بطہ حیا ت قرآن مجید فرقان ِمجید کا انسانوں کی راہنما ئی کا ذریعہ قرار دینا ایک ایسی روشن دلیل ہے کہ نبی پا کﷺ نے معاشرے کے تما م پسے ہو ئے طبقوں کو عزت سے جینا مرنا سکھا یا اورگورے کو کا لے اور عربی کو عجمی پر کسی قسم کے تفاخر سے منع فرمایاکہ تما م مسلما ن بھا ئی بھا ئی ہیں ۔ اِ س کے مثال مہاجرین کے ساتھ انصار کا لازوال محبت بھرا سلوک ہے ۔زند گی اچھے انداز میں بسر کرنے کے حوالے سے نبی پاک ﷺکاا ُسوہ حسنہ اور نبی پا کﷺ ُپر نا زل کردہ قرآن ِ پا ک انسانیت کے لیے قیا مت تک مستقل راہ ہدایت ہے ،خا نگی معا ملا ت کا روباری معاملا ت، سیا سی معا ملا ت ،دینی ،دُنیا وی معاملا ت، ریا ست اور حکومت کے نظم ونسق کے حوالے سے مکمل رہنما ئی ۔جنگ اور امن میں مسلما ن کا کردار لین دین ، اُٹھنے ، بیٹھنے ،سونے ،جاگنے ،عمرانی ، نفسیاتی حوالوں سے غرض یہ کہ دُ نیا کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق قرآن پا ک نے راہنما ئی نہ فرما ئی ہو ، اگر معا شرے میں اِ س وقت قتل وغارت ، بے ایما نی ، لو ٹ ما ر عروج پر ہے تو اِ سکی وجہ اللہ پا ک ، نبی پا کﷺاور قرآن مجید کے احکا ما ت پر انفرادی اور اجتمائی طو ر پر عمل نہ کرنا ہے ۔قانون ، قاعدہ ،انداز ،سلیقہ ، ترتیب سب کچھ فطری تقاضے اگر پورے کردیئے ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا اور آخرت کے تما م معا ملا ت احسن طریقے سے انجا م نہ پاسکیں ۔
میڈیا کی تیزی مو با ئل فون اور انٹر نیٹ کے غلط ا ستعما ل نے معا شرے کی بنیا دیں ہلا دیں ہیں ۔ قنا عت ،عزت واحترام بھائی چا رہ کا جنا زہ نکل چکا ہے ۔میڈیا نے عوام النا س کو CONSUMER ORIENTED بنادیا ہے ۔ اب جب کہ ہر وقت مہنگا ئی کا رونا بھی رویا جا رہا ہے اور بازار میں پہنچنے وا لی ہر شے کی طلب بھی برقرار ہے اور ہر شے جو مارکیٹ میں آتی ہے وہ سے لاء آف ما رکیٹ کے مطا بق کہsuply createn it own demands ہے کہ مطا بق فروخت ہو جا تی ہے سڑ کو ں پر رش اتنا کہ گا ڑ یو ں کی بھر ما ر اور مو ٹر سا ئیکل سوار تو چینٹیو ں کی ما نند ہیں ۔ دولت کی اتنی زیا دہ ریل پیل بنکو ں کی جانب سے لیزکی سہولت کریڈ ٹ کا رڈ ،پو ری قوم کو سُو د خو د بنا ڈالا گیا ہے ۔ اِ س لیے پھر اللہ پا ک کا کرم بھی نہیں ہے ۔افراتفری اور نفسا نقسی کا عا لم ہے امیر ، غریب دو نو ں طبقا ت کھا تے پیتے رو رہے ہیں ۔مڈل کلا س طبقہ بہت کم رہ گیا ہے دولت کی منحوس تقسیم نے اپر کلا ساور لوئر کلا س تقسیم کردی ہے ،مڈل کلا س سفید پوشی کا بھرم رکھتے رکھتے ذہنی ، نفسیا تی جسما نی بیما ریو ں کا شکا رہوتی چلی جا رہی ہے، ٹی وی چینلزپر چلنے والے ڈرامو ں نے سما ج کو ایک ایسی راہ پر گا مز ن کر دیا ہے جہا ں اب have not اور have کے درمیا ن چو مکمی لڑ ائی ہو رہی ہے بردا شت نا پید ہے ۔ ازدو اجی زند گی تبا ہ ہو رہی ہے ۔ امراء کے ہا ں طلا ق کی شرح انتہا ئی کم ہے ۔ جبکہ لو ئر کلا س طبقہ اس حوالے سے بہت آگے ہے ۔ نہ پو ری ہو نے والی خو اہشا ت کی بد ولت خو اتین کے ہا ں خُلع لینے کی شرح خطر نا ک حد تک بڑ ھ چکی ہے، اس طرح با پ اور ما ں کے لا لچ اور بے حسی کی سزا اولاد کو بھگتنا پڑ رہی ہے ۔جو معا شرے خوف خدا اور عشق رسول ﷺ سے عا ری ہو ں جہا ں ما دیت اتنی سرا یت کر گئی ہو کہ رشتے دا ریا ں کا غذ ی پھو ل بن کر رہ گئی ہو ں ۔ ایسے معا شروں میں پھر حسرت ،یا سیت ، بے سکو نی ڈیڑ ے ڈ ال دیتی ہے روحا نی سکو ن جو کہ اسلا م کا طُرہ امتیا ز ہے جس کی وجہ سے اسلا م پھیلا اور اسلا م میں داخل ہو نے کی بنیا دی وجہ امن وآ شتی ، سکو ن اور رو حا نی اقرا ر تھا ۔جس طرح کا رو پ ایک قوم کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے یہ کسی طو ربھی مصطفا ئی معا شرہ نہیں ہے ۔دہشت گردی ،مسا جد ،اما م با رگاہوںمزارو ں سکو لو ں میں بم دھما کے کیا اِ س واسطے یہ وطن بنا تھا ۔اقبا لؒ وقا ئد ؒ کی رو حیں تڑپ رہی ہوں گی ۔ اِ س میں قصور قائد ؒ و اقبا ل ؒ کا نہیں اُن کا ہے جن کے حصے میں اِ س ملک کی حکمر انی آتی رہی اور ملک دن بدن پستی کی جا نب گرتا چلا گیا ۔
اخلا قی گڑ اوٹ عدم برداشت ، شرم وحیا ، ایمانداری سکو ن نا م کی کو ئی قدر بھی تو نہیں بچی ہما رے معا شرے میں، بلوچستان میں قتل عام ،خیبر پختوں میں لگی آگ نے ملک کو ایک دوراہے پر لا کھڑ ا کیا ہے ۔شراب ،جو اء عام ہے یہا ں کالبرل فا شٹ طبقہ یہ ہی کچھ چا ہتا ہے کہ کو ئی روک ٹوک نہ ہو ۔اُن کے من کی مرادیں پو رے معاشرے کو کھوکھلا اور بربا دکر رہی ہیں ۔پس جو جو بھی اللہ پاک کے دیے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر معاشرئے کا نظام درہم برہم کردیتا ہے جس سے اُس کے ساتھ ساتھ دیگر لوگ بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔زندگی کو اِس طرح گزارناکہ جس طرح شاہین ہوتا ہے حضرت اقبالؒ کا محبوب پرندہ شاہین ہے اِس میں مردِ مومن کی بعض خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اپنے ایک خط میں جو اقبالؒ نے پروفیسر ظفر احمد صدیقی کو لکھا تھا اِس میں اس بات کی وضاحت فرمائی تھی کہ شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے اس میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں(1) خود دار اور غیرت مند ہے کہ اور کسی کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا (2بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا (3) بلند پرواز ہے ) (4 خلوت پسند ہے اور تیز نگا ہ ہے۔ کیا ہمارے معاشرئے میں ان خصوصیات کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں۔ اتنی محبت خواہشات کے ساتھ کہ بد سے بد تر جانور بھی مقابلے کی تاب نہیں لا سکتا۔ اقبالؒ تو شاہیں کو کہتے ہیں کہ تو ایسا بن کہ اپنا نوالا کسی کے ہاتھ سے نہ لے نیک بن اور اچھوں کی نصیحت سن۔اقبالؒ فرماتے ہیں کہ اے مسلمان تو نیک اطوار بن اور پختہ تدبر والابن۔درحقیقت اقبالؒ کا شاہین کا جو تصور ہے وہ اپنا کر مسلمان رب پاک کے قوانین پر عمل کرسکتا ہے ا ور فلاح و کامیابی اُسکا مقدر بن سکتی ہے۔ علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد،فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ
بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...
سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...
موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...
اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...
حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...
بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...
رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...
ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...
پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...
تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...
وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...
کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...